وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی کے بیٹے مونس الہی کے بیان نے فوج کے سیاست میں مداخلت نہ کرنے کے مؤقف پر ’شبہہ اٹھایا ہے۔‘
انھوں نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’یہ بات انھیں کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اگر اس بات سے باجوہ صاحب کو کوئی نقصان پہنچا بھی ہے تو وہ بھرپور زندگی اور ملازمت گزار کر اب جاچکے ہیں۔
’ادارے نے قوم کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ پچھلے سال انھوں نے یہ فیصلہ کیا جس کے بعد سے انھوں نے سیاست میں دخل نہیں دیا۔ اب چوہدری مونس الہی کے اس بیان نے ادارے کے مؤقف پر شبہہ اٹھایا ہے۔ اس کی وضاحت ہونی چاہیے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ عسکری قیادت عوام سے کیے گئے وعدہ پر قائم ہے۔
خیال رہے کہ مونس الہی نے کہا تھا کہ گذشتہ ماہ ریٹائر ہونے والے آرمی چیف جنرل باجوہ نے انھیں تحریک عدم اعتماد سے قبل عمران خان کا ساتھ دینے کا پیغام دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’اگر وہ بندہ (جنرل باجوہ) بُرا ہوتا تو کبھی یہ نہ کہتا کہ آپ عمران خان کا ساتھ دیں۔‘
’عمران خان کی مذاکرات کی پیشکش پر وزیر اعظم مشاورت کریں گے‘
دریں اثنا وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ عمران خان کی مذاکرات کی پیشکش پر وزیر اعظم اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کریں گے۔ ’عمران خان نے بات کرنے کا کہا ہے تو وزیراعظم محمد شہباز شریف اس سلسلے میں اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کریں گے۔۔۔ پنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنی ہے یا نہیں اس پر تاحال فیصلہ نہیں ہوا۔‘
’مذاکرات سے انکار پارلیمانی جمہوریت کے خلاف ہے لیکن بدقسمتی سے ایک شخص کہتا ہے کہ سیاسی مخالفین کو چھوڑوں گا نہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں توڑی گئیں تو وفاقی حکومت برقرار رہے گی اور اگر پنجاب میں ضمنی یا عام انتخابات ہوئے تو ہم بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔‘
رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اگر پنجاب اسمبلی توڑی گئی تو صوبے کے الیکشن میں مسلم لیگ ن اکثریت حاصل کرے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ ضمنی یا عام انتخابات دونوں صورتوں میں انتخابی مہم کی قیادت نواز شریف کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ پرویز الٰہی سے کوئی بیک ڈور رابطے نہیں ہو رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی بات ہوئی تو عوام کے سامنے ہوگی۔