آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لاہور ہائی کورٹ میں عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست خارج، میری نظر میں ان کی گرفتاری ہونی چاہیے: رانا ثنا اللہ

لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی تھانہ سنگ جانی اسلام آباد میں درج مقدمے میں حفاظتی ضمانت کی درخواست عدم پیروی پر خارج کر دی ہے جبکہ پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ان کی نظر میں عمران خان کی گرفتاری ہونی چاہیے کیونکہ عمران خان عدلیہ کا مذاق اڑا رہے ہیں اور اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

لائیو کوریج

  1. نئے آرمی چیف حافظ قرآن ہیں، امید ہے امربالمعروف پر چلیں گے: عمران خان

    چیئرمین تحری انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف حافظ قرآن ہیں، امید ہے امربالمعروف پر چلیں گے۔ ایک صحافی کے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ابھی تک کوئی چینج نظر نہیں آیا مگر نئے آرمی چیف کو وقت دینا چاہیے۔

    ان کے مطابق نئے آرمی چیف حافظ قرآن ہیں، امید ہے امربالمعروف پر چلیں گے۔

    عمران خان نے کہا کہ ’نئی رجیم خدا کے واسطے ملک کا سوچے۔‘ انھوں نے کہا کہ ہمارے نیشنل سکیورٹی کے ادارے دیکھیں کہ یہ سب ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ سب پر قائم مقدمات ختم کیے جا رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اب نئے آرمی چیف ہیں، فوج اور عوام ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ فوج مضبوط ہی تب ہوتی ہے جب لوگ اس کے ساتھ چلتے ہیں۔

  2. نواز شریف اور آصف زرداری انتخابات میں تاخیر چاہتے ہیں، ہم اپنے پلان کے مطابق اسمبلیوں سے باہر نکل آئیں گے: عمران خان

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف اور آصف زرداری بھی جلد انتخابات نہیں چاہتے اور وہ اس عمل میں مزید تاخیر چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق ہم اپنے پلان کے تحت دسمبر تک اسمبلیوں سے باہر نکل آئیں گے۔

    ان کے مطابق جب تک ملک میں یہ حکومت رہے گی تو ملک میں معاشی بحران رہے گا۔ ان کے مطابق سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام نہیں آئے گا۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت انتخابات میں تاخیر کرنا چاہتی ہے تا کہ عمران خان کو نااہل قرار دیا جائے اور کسی طرح اس کے خلاف کیسز ڈھونڈے جائیں۔

    ان کے مطابق نیب میں انھوں نے اپنا بندہ لا کر بٹھا دیا ہے اور ایف آئی اے اور الیکشن کمیشن میں بھی اپنے بندے بٹھائے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں ایک بددیانت شخص ہے جو ہمارے خلاف فیصلے سناتا ہے۔

    ان کے مطابق جب الیکشن نہیں ہو گا تو پھر عمران خان کا نہیں بلکہ ملک کا نقصان ہوگا۔ ’ہم سب جانتے ہیں کہ این آر او ون پرویز مشرف نے دیا۔ این آر او ٹو ادھر جو طاقت میں تھا اس نے دیا ہے۔‘

    ان کے مطابق سب وہ کیسز ہیں جو ان کے اپنے دور کے بنے ہوئے ہیں۔ عمران خان کے مطابق شہباز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کا کیس ہمارے دور میں بنا تھا باقی سب پہلے کے ادوار کے ہیں۔

  3. میری ذاتی گھڑی ہے، اس کے پیچھے پڑے ہیں، بیچوں یا کچھ بھی کروں: عمران خان

    سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی ہے اور ملک کی معیشیت دگرگوں ہے مگر سب میری گھڑی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ میری ذاتی گھڑی ہے، بیچوں یا کچھ بھی کروں۔

    انھوں نے سوال کیا کہ آج کیوں نہیں کوئی اس پر بات کر رہا ہے جبکہ قرضے بڑھتے جا رہے ہیں، ڈالر کم ہوتے جا رہے ہیں تو پھر ہم پیسے کیسے ادا کریں گے۔

    انھوں نے کا کہ جب ملک میں ’ایکسپورٹس نہیں بڑھیں گی تو ملک ترقی کیسے کرے گا۔‘

  4. دباؤ میں تحریک انصاف کے ارکان کے استعفے منظور نہیں کیے جائیں گے: راجہ پرویز اشرف

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ وہ تحریک انصاف کے ارکان کے استعفے اس وقت تک منظور نہیں کریں گے جب تک یہ یقینی نہیں بنایا جاتا کہ انھوں نے کسی دباؤ کے بغیر یہ فیصلہ کیا ہے۔

    اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’استعفے منظور کرنے کے قواعد و ضوابط موجود ہیں۔ قانون کہتا ہے کہ اگر کوئی رکن دباؤ میں استعفیٰ دے تو اسے قبول نہ کیا جائے۔‘

    سپیکر نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی استعفوں کے باوجود پارلیمنٹ لاجز میں قیام اور مراعات حاصل کر رہے ہیں۔ ’مجھے پیغام بھیجے جاتے ہیں کہ استعفے منظور نہ کیے جائیں۔ جب تک میں مطمئن نہیں ہوتا اس وقت تک کسی رکن کو ڈی سیٹ نہیں کرسکتا۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اِن ارکان کے استعفے منظور کیے جنھوں نے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر استعفوں کی تصدیق کی اور اپنی مرضی سے نشستیں خالی کیں۔

  5. عمران خان آج اسمبلیوں کی تحلیل کے حوالے سے پریس کانفرنس کریں گے

    نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق چئیرمیں پاکستان تحریک انصاف عمران خان آج اسمبلیوں کی تحلیل کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس کریں گے۔

    اس دوران فیصلوں سے متعلق بریف کیا جائے گا اور ملک میں جاری معاشی اور سیاسی حالات پر گفتگو ہوگی۔

  6. ’عمران خان اسمبلیاں تحلیل کر دیں، ہم الیکشن کے لیے تیار ہیں‘

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم کی قیادت غیر مشروط مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم ’عمران خان اسمبلیاں تحلیل کر دیں تو ہم الیکشن کے لیے تیار ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’سابق دور میں انتقامی کارروائیاں کی گئیں۔ اگر کیس ختم ہو رہے ہیں تو ہمارے ساتھ انصاف ہو رہا ہے۔ توشہ خانہ کیس میں اس کی رسیدیں بھی جعلی ثابت ہوئی۔‘

  7. ’پنجاب، خیبر پختونخوا میں 20 مارچ سے پہلے عام انتخابات کا عمل مکمل ہو گا‘

    رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ’اگر پی ڈی ایم 20 دسمبر تک ملک بھر میں عام انتخابات کا کوئی حتمی فارمولا سامنے نہیں لاتی تو پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیاں تحلیل کر دی جائیں گی۔

    ’پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں 20 مارچ سے پہلے عام انتخابات کا عمل مکمل ہو گا۔ اس ضمن میں اتحادیوں کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے اور یہ مستحکم حکومت کے بغیر ممکن نہیں۔‘

  8. اسمبلیاں دسمبر میں تحلیل ہوں گی، نگراں حکومت کے لیے مذاکرات ہوں گے: عمران خان

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسمبلیاں دسمبر میں تحلیل کی جائیں گی اور ایسا کرنے کے 48 گھنٹوں بعد نگراں حکومت آجائے گی یا اس کے لیے مذاکرات شروع ہوجائیں گے۔

    وہ بول ٹی وی کو دیے انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ ’آرمی چیف وزیر اعظم کے نیچے ہے مگر اسے کہے کہ وزیر اعلیٰ کو ہٹاؤ یہ کہاں ہوتا ہے۔ ’پہلے وہ علیم خان کا کہتے تھے۔ مجھے ایل ڈی اے والوں نے بتایا کہ علیم خان نے اربوں کی زمین پر قبضے کیے۔ ایسے شخص کو وزیر اعلیٰ تو نہیں بنایا جاسکتا۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’جب علیم خان کا نام لیا گیا تو پرویز الہی نے کہا میں انھیں سپورٹ نہیں کرتا۔‘

    جب عمران خان سے پوچھا گیا کہ کیا انھیں لگتا ہے پرویز الہیٰ تحریک انصاف کے ساتھ 100 فیصد وفادار ہیں تو ان کا جواب تھا کہ ’پرویز الہی ہمارے ساتھ کھڑے ہیں، ان کا خیال ہے کہ حکومت تھوڑی دیر اور چلنی چاہیے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ وہ آئی ایس آئی کی سربراہی جنرل فیض کے پاس رکھنا چاہتے تھے ’جن کے افغانستان میں سارے تعلقات ہیں۔ میں نے کبھی نہیں کہا کہ میرا آرمی چیف ہونا چاہیے۔‘

    جنرل فیض کی ریٹائرمنٹ سے متعلق سوال پر عمران خان نے کہا کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے۔

  9. حقوق انسانی کے عالمی دن پر بلوچستان میں اپنے حقوق کے حصول کے لیے خواتین کی ریلی, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں حق دو تحریک کے زیر اہتمام خواتین کی ریلی نکالی گئی۔ حقوق انسانی کے عالمی دن کی مناسبت سے اس ریلی میں خواتین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    ریلی کے شرکا کے ہاتھ میں ایک بڑا بینر تھا جس پر یہ نعرہ درج تھا کہ ’ہمارے وسائل پر ہمارا حق تسلیم کیا جائے‘۔

    ریلی کے شرکا نے شہر کے مختلف شاہراہوں کا گشت کیا اور انسانی حقوق کی پامالی روکنے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

    ریلی کے شرکا سے حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان، حسین واڈیلہ اورخواتین رہنماﺅں نے خطاب کیا۔

    ریلی کے شرکا نے مطالبہ کیا کہ سنہ 1973 کے آئین کے مطابق حقوق انسانی کا احترام کیا جائے اور تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔

    ریلی کے شرکا نے بلوچستان کے سمندری حدود میں غیرقانونی ماہی گیری کے خاتمے ایران سے متصل سرحدی علاقوں کے لوگوں کو سرحدی تجارت میں زیادہ سے زیادہ رعایتیں دینے کا بھی مطالبہ دہرایا۔

    ریلی میں شریک گوادر سے لاپتہ شخص عظیم دوست محمد کی بہن نے کہا کہ ان کے بھائی کو 2015 میں لاپتہ کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آٹھ برس سے وہ بھائی کے لیے دربدر پھر رہے ہیں اور اگر ان کے بھائی نے کوئی جرم کیا ہے تو ان کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

    حق دو تحریک وومن ونگ کی صدر زرگل بلوچ نے کہا کہ جو حقوق ہمیں آئین نے دیے ہیں وہ کیوں نہیں دیے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے بھائیوں کو لاپتہ کیا جاتا ہے اوران کو منظر عام پر نہیں لایا جاتا ہے۔ زرگل بلوچ نے استفسار کیا کہ ’ہمارے بھائیوں کو کیوں عدالتوں میں کیوں پیش نہیں کیا جاتا ہے۔ کیا یہ آئین بلوچوں کے لیے نہیں ہے‘؟

    نفیسہ بلوچ نے کہا کہ آج پوری دنیا میں حقوق انسانی دن کا دن منایا جارہا ہے لیکن اس دن بھی ہم اپنے حقوق انسانی کے لیے سڑکوں پر ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس بات کی خوشی ہے کہ آج خواتین بڑی تعداد میں اپنے حقوق کے لیے نکلی ہوئی ہیں۔

    ماہ نور افضل نے کہا کہ آج خواتین بھی بلوچستان کے لوگوں کے حقوق کے لیے اپنے بھائیوں کے لیے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منشیات سے ہمارے بھائی متائثر ہورہے ہیں۔

    ہم چاہتی ہیں کہ منشیات کا خاتمہ کیا جائے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل حقوق انسانی کے عالمی دن کی مناسبت سے کوئٹہ میں بھی لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کے شرکا نے لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔

  10. ’میرے خلاف مقدمہ تحریک انصاف دور کی سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کی مہم کا حصہ تھا‘: وزیرداخلہ

    رانا ثناللہ نے اپنی بریت کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے انھیں ایک جعلی مقدمے میں انصاف دلوایا۔

    ان کے مطابق یہ مقدمہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کی مہم کا حصہ تھا۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ وہ ان تمام لوگوں کے مشکور ہیں جنھوں نے ظلم کے اس وقت اپنی آواز بلند کی اور میرا ساتھ دیا۔

  11. سمت درست ہے، ڈیفالٹ نہیں کریں گے: وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار

    پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہا کہ سمت درست ہے، ڈیفالٹ نہیں کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ اپوزیشن کے کہنے سے پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق سنہ 2013 میں بھی دنیا کہتی تھی کی ملک ڈیفالٹ کرے جائے گا ہم نے محنت کی پانچ دن میں بجٹ دیا اور ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا۔

    ان کے مطابق سابقہ دور معیشت کے حوالے سے ملک کا سیاہ ترین دور تھا۔ معیشت پر اور تجربے نہیں کر سکتے۔ ہم نے سنہ 2013 سے 16 تک اپنا پروگرام مکمل کیا جو ملک کی تاریخ میں ایک بار ہی ہوا یے۔

    ان کے مطابق ہمیں میکرو اکنامک انڈیکیٹرز کو بہتر بنانا ہو گا۔ یہاں امیر افراد قرضے معاف کروا لیتے ہیں جبکہ غریب بیوہ خواتین کے چند ہزار کی عدم ادائیگی پر اثاثے منجمند ہو جاتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ انھوں نے مالی انتظام بہتر کرنے کی پاداش میں پانچ سال جلا وطنی گزاری۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ ’میرے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا گیا جس رفتار سے ہم پہلے چل رہے تھے، ہمیں جی 20 کا حصہ ہونا چاہیے تھا، آج ہماری معیشت 46 ویں نمبر پر جا پہنچی ہے، ہم نے روپے کو بغیر سوچے سمجھے ڈی ویلیو کیا۔‘

  12. وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ 15 کلو منشیات برآمدگی کیس میں بری

    لاہور کی ایک خصوصی عدالت نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کو 15 کلو ہیروئن برآمدگی کیس میں بری کر دیا ہے۔

    یاد رہے کہ یہ کیس پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں اس وقت بنایا گیا تھا جب مسلم لیگ ن اپوزیشن میں تھی اور اس سلسلے میں رانا ثنا اللہ کو جولائی 2019 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعدازاں 23 دسمبر کو لاہور ہائیکورٹ نے انھیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اپنے تحریری حکمنامے میں لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا تھا کہ اس کیس میں ’انتقامی کارروائی کا پہلو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘

    مقامی عدالت میں سنیچر کے روز ہونے والی سماعت کے دوران اینٹی نارکوٹکس فورس کے دو اہلکاروں، جو اس کیس میں گواہ بھی تھے، نے عدالت کے روبرو بیان حلفی جمع کروائے جن میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کے وقت موقع پر موجود تھے تاہم ان کی گاڑی یا قبضے سے منشیات برآمد نہیں ہوئی تھی۔ گواہان کے منحرف ہونے کے بعد عدالت نے وزیر داخلہ کی بریت کے احکامات جاری کیے۔

    یاد رہے کہ اُس وقت کے وزیر داخلہ شہریار آفریدی نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس اس حوالے سے ویڈیوز اور دیگر ٹھوس ثبوت موجود ہیں جو کہ عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔

    بریت کا فیصلہ آنے کے بعد مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کو اسے سچ کی فتح قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ ان پر منشیات کا کیس تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی ایما پر بنایا گیا تھا۔

  13. ’اعظم سواتی کا فارم ہاؤس بلڈنگ پلان کے مطابق تعمیر نہیں کیا گیا‘

    اعظم سواتی کی رہائش گاہ کے باہر لگے نوٹس پر درج ہے کہ اس عمارت کو سی ڈی اے کے بلڈنگ کنٹرول ڈائریکٹر کے حکم پر سیل کیا گیا ہے کیونکہ اس کی تعمیر غیر قانونی ہے۔

    سی ڈی اے کے بیان کے مطابق اس گھر کو تحریک انصاف کے سینیٹر کی اہلیہ کے نام پر منتقل کیا گیا مگر اس کے تہہ خانے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔ سی ڈی اے کے مطابق اعظم سواتی کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیے جاچکے تھے جس پر انھوں نے جواب نہیں دیا تھا۔

    سی ڈی اے کے مطابق رہائش گاہ کے عقب میں قائم گارڈ روم غیرقانونی تعمیرات میں شامل ہے۔

    خیال رہے کہ بلوچستان ہائیکورٹ نے صوبے میں اعظم سواتی پر تمام مقدمات ختم کر دیے تھے تاہم ان کے وکیل نے دعویٰ کیا تھا کہ سندھ پولیس اپنے صوبے میں دائر ایف آئی آرز کا حوالہ دے کر انھیں اپنی حراست میں لے گئی تھی۔

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سیل کرنے کے علاوہ فارم ہاؤس کا کچھ حصہ مسمار بھی کیا گیا ہے۔

  14. ’اعظم سواتی کے گھر چھاپہ مار کر اسے سیل کیا گیا‘

    مقامی ذرائع ابلاغ اور تحریک انصاف کے مطابق سینیٹر اعظم سواتی کی اسلام آباد میں رہائش گاہ کو سیل کر دیا گیا ہے۔

    وفاقی دارالحکومت میں سی ڈی اے نے چک شہزاد میں واقع اس فارم ہاؤس کے حوالے سے نوٹس جاری کیا تھا کہ اس کی تعمیر غیر قانونی ہے۔

    رہنما تحریک انصاف شیریں مزاری نے کہا ہے کہ گذشتہ شب اعظم سواتی کی رہائش گاہ پر سی ڈی اے اور پولیس نے چھاپہ مارا اور اسے سیل کر دیا۔ انھوں نے اسے سیاسی انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔

    خیال رہے کہ اعظم سواتی کو سندھ پولیس کے حوالے کیا گیا تھا۔

  15. دنیا کا پاکستان پر دباؤ ہونا ضروری، دہشت گردی کو فروغ دینا کسی ملک کا حق نہیں: انڈین وزیر خارجہ

    انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پاکستان کے بارے میں کہا ہے کہ دہشت گردی کو فروغ دینا کسی بھی ملک کا حق نہیں ہے۔

    انھوں نے یہ بات انڈیا کے معروف نیوز چینل ’آج تک‘ کے ایک پروگرام کے دوران کہی۔

    انڈیا پاکستان کے درمیان کرکٹ کے ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ ’حکومت اس بارے میں سوچتی رہتی ہے کیونکہ ٹورنامنٹ آتے رہتے ہیں، اب تک آپ کو معلوم ہوگا کہ ہماری سوچ کیا ہے، آئیے (آگے) دیکھتے ہیں (کہ کیا ہوگا)۔‘

    ان سے دراصل یہ سوال کیا گیا تھا کہ پڑوسی ممالک سے تجارت کے معاملات اور بات چیت کے معاملات سے علیحدہ کرکٹ کا معاملہ ہے کیونکہ اسے دونوں ممالک میں شدت کے ساتھ پسند کیا جاتا ہے اور ورلڈ کپ یا ایشیا کپ کے انعقاد دونوں ممالک میں ہوتے رہتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں دونوں ممالک کی ٹیموں کا ایک دوسرے ملک میں کھیلنے کے بارے میں بی سی سی آئی (انڈین کرکٹ بورڈ) کہتی ہے کہ اس کے بارے میں حکومت فیصلہ کرے گی تو کیا حکومت اس کے بارے میں کچھ سوچتی ہے۔

    وزیر خارجہ جے شنکر نے مزید کہا: ’میں اس بات کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں کبھی یہ نہیں ماننا چاہیے کہ کسی بھی ملک کو دہشت گردی پھیلانے کا حق حاصل ہے۔ جب تک ہم دہشت گردی کو غیر ڈی لیجیٹیمائز (ناجائز) نہیں کرتے اس وقت تک یہ جاری رہے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ دنیا کا پاکستان پر دباؤ ہونا ضروری ہے۔ جے شنکر نے کہا کہ ’ان (پاکستان) پر دباؤ اسی وقت ہو ہوگا جب دہشت گردی کا شکار ہونے والے اس پر شور نہیں مچاتے، دنیا کا دباؤ کیسے ہوگا۔‘

    انھوں کہ کہا کہ ’اس معاملے میں انڈیا کو قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ اس میں جو خون بہتا ہے وہ ہمارا خون بہتا ہے۔‘

    اس کے علاوہ وزیر خارجہ نے دوسرے امور جیسے انڈین وزیر اعظم کے بیرون ممالک کے دوروں اور وہاں منعقد ہونے والے پروگرامز، وادی گلوان کے حالات جہاں چین کے ساتھ کشیدگی کے واقعات رونما ہوئے اور یوکرین میں جاری جنگ کے دوران روس سے تیل کی خریداری جیسے امور پر بھی بات کی۔

  16. رانا ثنا اللہ: ’آپ کو پنجاب میں شکست سے دوچار کریں گے‘

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت صوبے میں آئندہ الیکشن میں تحریک انصاف کو شکست دے گی۔

    انھوں نے ٹوئٹر پر پیغام میں مزید کہا ہے کہ ’معیشت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس کا حل صرف اور صرف متفقہ ’چارٹر آف اکانومی‘ ہے، قبل از وقت الیکشن نہیں۔‘

    جمعے کو ایک پریس کانفرنس کے دوران رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اسمبلیاں تحلیل کی گئیں تو وہاں 90 روز میں الیکشن کرائے جائیں گے۔

  17. بلوچستان ہائی کورٹ کا اعظم سواتی کے خلاف تمام مقدمات ختم کرنے کا حکم، رہائی پھر بھی ممکن نہ ہو سکی, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    سندھ میں 13اور بلوچستان میں دو مقدمات کے باعث بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر اعظم سواتی کی رہائی ممکن نہیں ہوسکی۔

    سینیٹر اعظم سواتی کے وکیل اقبال اشاہ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ سندھ میں قائم مقدمات کے حوالے سے سندھ پولیس انھیں گرفتار کرکے سندھ لے گئی ہے۔

    اقبال شاہ نے بتایا کہ اعظم سواتی کے خلاف بلوچستان میں پانچ مقدمات کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی اور ہائی کورٹ نے اعظم سواتی کے بیٹے کی درخواست پر ان مقدمات کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور یہ کہا تھا کہ اگر وہ کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو ان کو رہا کیا جائے۔

    انھوں نے بتایا کہ جب ہم ان کی رہائی کے احکامات لے کر گئے تو ہمیں بتایا گیا کہ ان کو رہا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں ان کے خلاف دو مقدمات کے علاوہ سندھ میں بھی ان کے خلاف 13مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ سندھ میں قائم مقدمات کے سلسلے میں سندھ پولیس کی ایک ٹیم آئی تھی جو انھیں گرفتار کرکے سندھ لے گئی۔

    اقبال شاہ ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ اعظم سواتی کے خلاف یہ اقدامات آئین اور قانون کے برعکس ہیں اور ان کو رہا کرنے کے بجائے غیر قانونی مقدمات میں ان کو دوبارہ گرفتار کرنے کا اقدام صاف نظر آرہا ہے کہ انھیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

  18. عمران خان کو چیلنج ہے کہ اسمبلیاں توڑیں اور الیکشن کروائیں: رانا ثنااللہ

    وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے اور اس کے لیے بھرپور تیاری کا فیصلہ کیا ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ فیصلے کے مطابق نو ڈویژنز کو تین حصوں میں تقسیم کر کے ضلعی کمیٹیاں تشکیل دی ہیں جو دو ہفتے کے اندر امیدواروں کے معاملے پر اتفاقِ رائے پیدا کریں گے اور ہر حلقے سے دو امیدواروں کی نامزدگی کی سفارش کریں گے۔

    اُنھوں نے کہا کہ وہ عمران خان کو چیلنج کرتے ہیں کہ اسمبلی توڑ دیں۔ ’25 مئی سے 26 نومبر تک یہ سات ماہ آپ نے ملک کو سیاسی عدم استحکام سے دو چار کرنے کی بھرپور کوشش کی۔‘

    رانا ثنااللہ نے کہا کہ آپ نے راولپنڈی جلسے میں جو مایوسی کے عالم میں اعلان کیا ہے اسے پورا کریں اور اسمبلی توڑیں اور الیکشن کروائیں۔

    رانا ثنااللہ نے کہا کہ وہ آئین و قانون کے تحت اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کے حق میں ہے تاہم اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اگر مگر چھوڑیں، اسمبلیاں توڑیں۔‘

    وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ میاں نواز شریف کے استقبال کی تیاریاں آج سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ’جب الیکشن کا اعلان ہو گا تو نواز شریف اس الیکشن میں پارٹی کی قیادت کے لیے آئیں گے۔‘

    ایک سوال کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ عام انتخابات اکتوبر (2023) میں ہوں گے پر اگر پنجاب یا خیبر پختونخوا یا دونوں اسمبلیاں ٹوٹتی ہیں تو آئین کے مطابق ان کے انتخابات 90 دن میں ہوں گے۔

  19. سپریم کورٹ نے نیا ریکوڈک معاہدہ قانونی قرار دے دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ نے نئے ریکوڈک معاہدے کو قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں کوئی غیر قانونی بات نہیں اور یہ معاہدہ سپریم کورٹ کے 2013 کے فیصلے سے متصادم نہیں ہے۔

    سپریم کورٹ نے اکتوبر 2022 میں بھیجے گئے صدارتی ریفرینس پر اپنا محفوظ فیصلہ سنایا۔

    عدالتی فیصلے کے مطابق ماہرین کی رائے لے کر ہی وفاقی و صوبائی حکومت نے معاہدہ کیا۔

    فیصلے کے مطابق بلوچستان اسمبلی کو معاہدے پر اعتماد میں لیا گیا تھا اور منتخب عوامی نمائندوں نے معاہدے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ عدالت نے کہا کہ کمپنی نے یقین دلایا کہ مزدوروں کے حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے گا اور ریکوڈک منصوبے سے سوشل منصوبوں پر سرمایہ کاری کی جائے گی۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ معدنی وسائل کی ترقی کے لیے سندھ اور خیبرپختونخوا کی حکومتیں قانون بنا چکی ہیں اور صوبے معدنیات سے متعلق قوانین میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔

    عدالت نے کہا کہ ریکوڈک معاہدہ ماحولیاتی حوالے سے بھی درست ہے۔

    واضح رہے کہ مارچ 2022 میں ہی کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کے ساتھ حکومت بلوچستان کا معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت کمپنی نے پاکستان پر واجب الادا 11 ارب ڈالر جرمانے کی تلافی کے ساتھ 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر اتفاق کیا تھا۔

  20. بریکنگ, بلوچستان ہائی کورٹ کا سینیٹر اعظم سواتی کے خلاف صوبے میں تمام مقدمات ختم کرنے کا حکم, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان ہائی کورٹ نےسینیٹر اعظم سواتی کو ریلیف دیتے ہوئے صوبے بھر میں ان کے خلاف درج مقدمات ختم کرنے کے ساتھ انھیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

    اس حوالے سے جسٹس ہاشم کاکڑ نے درخواست پر سماعت کی اور اعظم سواتی کے خلاف کیسز ختم کرنے کا حکم دیا اور عدالت کا پولیس کو اعظم سواتی کو رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے پولیس کو انھیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

    خیال رہے کہ اعظم سواتی کے بیٹے نے اپنے والد کے خلاف مقدمات ختم کرنے کی درخواست دائر کی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان کے خلاف بلوچستان میں درج پانچ مقدمات ختم کیے جائیں۔

    اعظم سواتی کے بیٹے عثمان سواتی کے وکیل نصیب اللہ ترین نے بی بی سی کو بتایا کہ ہائی کورٹ نے یہ قرار دیا ہے کہ اعظم سواتی کے خلاف درج پانچ ایف آئ آر زکا کوئ قانون جواز نہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ ’عدالت نے کہا کہ چونکہ اعظم سواتی کے خلاف ان کے ٹویٹس کے حوالے سے ایف آئی اے نے راولپنڈی میں ایف آئی آر درج کی ہے جس کے بعد قانون کے مطانق کسی دوسرے علاقے میں اس کیس سے متعلق ایف آئی آر درج کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

    نصیب اللہ ترین نے کہا کہ ’ہائیکورٹ کے جج نے کہا کہ اگر اعظم سواتی کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں ہیں تو ان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔‘

    بلوچستان پولیس نے اعظم سواتی کو اسلام آباد سے تحویل ضلع کوئٹہ کے علاقے کچلاک میں ایک مقدمے کے حوالے سے کوئٹہ منتقل کیا تھا۔

    کچلاک کے علاوہ اعظم سواتی کے خلاف چار دیگر علاقوں میں ادی نوعیت کے مقدمات درج کرائے گئے تھے۔