سپریم کورٹ کا ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ آج ہی درج کرنے کا حکم
سپریم کورٹ میں ارشد شریف قتل سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو آج ہی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ ہیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ کئی روز سے تحقیقاتی کمیٹی وطن واپس آچکی ہے لیکن اس کی رپورٹ جمع نہیں کروائی گئی۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ آج ہی درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
عدالت نے ایف آئی اے کے سربراہ کو آج ہی مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔
’ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ درج کیوں نہیں ہوا؟‘
سماعت کے دوران بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الااحسن نے استفسار کیا کہ ’کیا یہ درست ہے کہ قتل کا مقدمہ نہ کینیا میں درج ہوا نہ پاکستان میں؟
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ہماری معلومات کے مطابق کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا۔‘
سکریٹری خارجہ نے عدالت کو بتایا کہ ’پاکستان کا علم نہیں، کینیا سے معلومات لے کر آگاہ کریں گے۔‘ جس پر عدالت نے دفتر خارجہ سے کینیا میں تحقیقات اور مقدمہ درج ہونے سے متعلق کل تک جواب مانگ لیا ہے۔
بینچ کے سربراہ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ درج کیوں نہیں ہوا؟‘
اس پر سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کا جائزہ لے کر مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ ہوگا۔
جسٹس مظاہر نقوی نے سوال کیا کہ ’کیا مقدمہ درج کرنے کا یہ قانونی طریقہ ہے؟‘
جسٹس اعجاز الااحسن کا کہنا تھا ’مقدمہ درج کیے بغیر تحقیقات کیسے ہوسکتی ہیں؟‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’صحافی سچائی کی آواز ہیں۔ یہ انسانی زندگی کا معاملہ ہے، ارشد شریف نامور صحافی تھے۔‘ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’صحافی ہی معلومات کا ذریعہ ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’قتل سے متعلق عوام کو بہت خدشات ہیں۔‘
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ارشد شریف قتل کے تمام حقائق کو سامنے لانا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ’ارشد شریف کے قتل پر کس کس پر انگلی نہیں اٹھائی گئیں؟‘