آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لاہور ہائی کورٹ میں عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست خارج، میری نظر میں ان کی گرفتاری ہونی چاہیے: رانا ثنا اللہ

لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی تھانہ سنگ جانی اسلام آباد میں درج مقدمے میں حفاظتی ضمانت کی درخواست عدم پیروی پر خارج کر دی ہے جبکہ پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ان کی نظر میں عمران خان کی گرفتاری ہونی چاہیے کیونکہ عمران خان عدلیہ کا مذاق اڑا رہے ہیں اور اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

لائیو کوریج

  1. سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 2019 کے بعد سے اب تک کی کم ترین سطح پر آ گئے

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر 78 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کمی کے ساتھ 6 ارب 72 کروڑ ڈالر پر آ گئے ہیں جو کہ تقریباً چار سال کی کم ترین سطح ہے۔

    اپریل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے نئی حکومت کا اولین ایجنڈا زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ رہا ہے تاہم سٹیٹ بینک کے ذخائر میں اس وقت سے اب تک تقریباً چار ارب ڈالر کی کمی آ چکی ہے جو کہ اس وقت 10 ارب 90 کروڑ ڈالر تھے۔

    ادھر گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ رقوم کی تمام ادائیگیاں معمول کے مطابق ہوں گی اور توقع ہے کہ رواں مالی سال کی دوسری ششماہی میں زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ جائیں گے۔

    صحافی تنویر ملک کے مطابق سٹیٹ بینک پوڈ کاسٹ سیریز کی تازہ ترین قسط میں گورنر سٹیٹ بینک نے بین الاقوامی مالی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی ملکی صلاحیت پر اظہار خیال اور بیرونی کھاتے کی کمزوریوں کے متعلق خدشات زائل کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح کے اہم چیلنجوں میں یوکرین جنگ، اجناس کی بین الاقوامی قیمتوں میں تاریخی اضافہ اور مرکزی بینکوں کی جانب سے سخت زری پالیسی اہم چیلنجز ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’اس کے نتیجے میں پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کو بین الاقوامی مالی منڈیوں سے فنڈز جمع کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ملکی محاذ پر معیشت سیلاب سے متاثر ہوئی ہے جس نے پاکستان کے لیے خاصے چیلنجز پیدا کیے۔‘

  2. جھوٹی خبروں کی عمر کم ہوتی ہے، شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جھوٹی خبروں کی عمر کم ہوتی ہے اور یہ چیز ڈیلی میل کی خبر سے ثابت ہو گئی ہے۔

    واضح رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات مریم اوررنگزیب نے کہا ہے کہ برطانوی اخبار ڈیلی میل نے وزیر اعظم شہباز شریف کے خلاف مبینہ کرپشن کی خبر پر ان سے معافی مانگ لی ہے۔

    ٹؤٹر پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’تین سال تک عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے میری کردارکشی کے لیے ہر حد پار کی اور اس مہم کے دوران ان کو اس بات کی پرواہ نہیں تھی کہ ایک دوست ملک سے تعلقات خراب ہوئے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’آخر کار سچ کی فتح ہوتی ہے۔‘

  3. ڈیلی میل نے وزیراعظم شہباز شریف سے غیرمشروط معافی مانگی ہے: وزیراطلاعات مریم اورنگزیب

    پاکستان کی وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کو بتایا ہے کہ برطانیہ کی اخبار ڈیلی میل نے وزیراعظم شہباز شریف سے معافی مانگی ہے۔

    ان کے مطابق سارا کیس ٹرائل کے مراحل سے گزرا مگر تحریک انصاف والے شہباز شریف کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔ ان کے مطابق معافی ڈیلی میل کو نہیں بلکہ سابق وزیراعظم عمران خان کے سابق مشیر شہزاد اکبر کو مانگتی چاہیے۔

    واضح رہے کہ ڈیلی میل نے 2019 میں ایک مضمون شائع کیا تھا جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ شہباز شریف نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب برطانوی حکومت کی امدادی رقم کی چوری اور لانڈرنگ کی۔

  4. بریکنگ, ارشد شریف قتل کی تحقیقات کے لیے آئی ایس آئی، آئی بی، ایف آئی اے اور پولیس نمائندوں پر مشتمل نئی جے آئی ٹی تشکیل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ میں ارشد شریف قتل سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا ہے کہ ارشد شریف قتل کیس کی تحقیقات کے لیے سپیشل جے آئی ٹی آئی قائم کر دی گئی ہے اور وفاقی حکومت نے نئی خصوصی جے آئی ٹی کی تشکیل کا نوٹیفیکیشن سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا ہے۔

    نئی سپیشل جے آئی ٹی میں اسلام آباد پولیس اور آئی ایس آئی کے نمائندوں کے علاوہ آئی بی اور ایف آئی اے کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ ارشد شریف کی والدہ کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے گذشتہ روز رابطہ کیا گیا لیکن انھوں نے ناسازی طبعیت کےسبب بیان ریکارڈ نہیں کروایا۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی میں ڈی آئی جی ساجد کیانی، آئی بی کے وقار الدین سید، ایف آئی اے کے اویس احمد ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر مرتضی افضال، ایم آئی جبکہ محمد اسلم آئی ایس آئی کے شامل ہیں۔ انھوں کے کہا کہ تمام افسران گریڈ بیس کے ہیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وزارت خارجہ نے اپنی رپورٹ میں اچھی تجاویز دی ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑی تو ملزمان کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔

    بینچ میں موجود جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی کتنے عرصے میں تفتیش مکمل کرے گی؟

    جس پر ایڈشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ تفتیش کینیا پولیس کے تعاون پر منحصر ہوگی۔

    انھوں نے کہا کہ ’تفتیشی ٹیم اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کرے گی کہ جلد کام مکمل ہو۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ ملزمان خود پیش ہو جائیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’اگر ملزمان پیش نہ ہوں تو قانونی طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔‘

    سپریم کورٹ نے نئی سپیشل جے آئی ٹی سے ہر دو ہفتے بعد پیشرفت رپورٹ طلب کر لی اور اس کے ساتھ یہ بھی حکم دیا ہے کہ اسلام آباد پولیس اس ٹیم کے ساتھ تعاون کرے گی۔

    عدالت نے حکم دیا ہے کہ ’جے آئی ٹی عبوری پیشرفت رپورٹس ججز کو جائزے کے لیے چیمبرز میں پیش کرے۔‘

    ارشد شریف قتل سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی اور اس کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ارشد شریف قتل کیس پر جے آئی ٹی کو دو ہفتوں کا وقت دیتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اگر جے آئی ٹی کو کسی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑے تو فوری درخواست دے، ارشد شریف قتل پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی۔

  5. اسلام آباد ہائیکورٹ: منظور پشتین کی بلوچستان میں داخلے پر پابندی کے خلاف درخواست سماعت کے لیے منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی عدالت نے منظور احمد پشتین کے بلوچستان میں داخلے پر پابندی کے خلاف دائر درخواست میں اعتراضات ختم کرتے ہوئے درخواست کو جوڈیشل سائیڈ پر سماعت کی استدعا منظور کر لی۔

    درخواست گزار کی جانب سے شیر افضل مروت ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کی استدعا کیا ہے۔

    جس پر وکیل نے کہا کہ منظور احمد کے بلوچستان میں داخلہ پر پابندی عائد ہے۔ رجسٹرار آفس کا اعتراض ہے کہ اس عدالت کا دائرہ اختیار نہیں بنتا۔

    استدعا ہے کہ اس کو جوڈیشل سائیڈ پر سن لیں، عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے کیس جوڈیشل سائیڈ پر سماعت کے لیے منظور کر لیا اور رجسٹرار آفس کو ایک ہفتے میں کیس کو نمبر لگانے کی ہدایت کر دی۔

  6. ارشد شریف کیس: دفتر خارجہ کا تفتیش کے لیے دیگر قانونی آپشن، ملزمان کی پاکستان منتقلی پر غور

    وزارت خارجہ نے تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا ہے اس جواب میں کہا گیا ہے کہ وزارتِ خارجہ کینیا و متحدہ عرب امارات میں موجود پاکستانی مشن سے مسلسل رابطے میں ہے۔

    اس جواب میں کہا گیا کہ ’دفتر خارجہ کینیا اور متحدہ عرب امارات کی اتھارٹیز سے کیس کی تفتیش اور شواہد کے حصول کے لیے رابطے میں ہے۔‘

    جواب میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے بھی کینیا کے صدر سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے تفتیش میں معاونت کی درخواست کی ہے اور اس امید کا اظہار کیا گیا کہ کینیا کے حکام کے ساتھ روابط کے جلد مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

    جواب میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان میں کینیا ہائی کمیشن نے یقین دہانی کروائی ہے کہ شواہد جمع کرنے اور تفتیش کا عمل جاری ہے اور کینیا ہائی کمیشن جلد حتمی نتائج پاکستان کے ساتھ شیئر کرے گا۔‘

    جواب میں کہا گیا ہے کہ ’دفتر خارجہ تفتیش کو آگے بڑھانے کے لیے بین الاقوامی اداروں سے معاونت کے لیے طریقہ کار کا جائزہ لے رہا ہے۔‘

    جواب میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ ’دفتر خارجہ کینیا کے حکام کے سامنے معاملہ اٹھانے کے لیے خصوصی وفد بھیجنے پر غور کر رہا ہے اور کینیا کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ قائم کرنے پر بھی غور جاری ہے۔‘

    جواب میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ’کینیا میں پاکستانی ہائی کمیشن کو کیس کی تفتیش میں تیزی لانے کے لیے ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔‘

    جواب میں یہ بھی کہا گیا کہ دفتر خارجہ شواہد اور تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے دیگر قانونی آپشن پر بھی غور کر رہا ہے۔ ارشد شریف قتل میں ملوث ملزمان کی کینیا سے پاکستان منتقلی کی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’متحدہ عرب امارات سے شواہد جمع کرنے اور قانونی معاونت کے لیے وزارت داخلہ کو درخواست بھیج دی گئی ہے۔ دفتر خارجہ سپیشل جے آئی ٹی کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گا۔‘

  7. بریکنگ, اسلام آباد ہائی کورٹ نے سلیمان شہباز کو وطن واپسی پر گرفتار کرنے سے روک دیا، 13 دسمبر تک سرینڈر کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم شہباز شریف کے بیٹے سلیمان شہباز کو وطن واپسی پر ایئرپورٹ سے گرفتار کرنے سے روکتے ہوئے انھیں 13 دسمبر تک عدالت میں سرینڈر کرنے کا حکم دیا ہے۔

    بدھ کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے سلیمان شہباز کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔

    سلیمان شہباز کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے سماعت کے دوران کہا کہ سلیمان شہباز اکتوبر 2018 سے بیرون ملک ہیں اس کے بعد ایف آئی آر ہوئی، جس پر عدالت نے کہا کہ پٹیشنر کی عدم موجودگی میں حفاظتی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

    درخواست گزار کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ 11 دسمبر کو سلیمان شہباز پاکستان واپس آئیں گے، استدعا ہے کہ ائیرپورٹ سے عدالت آنے تک حکام کو سلیمان شہباز کی گرفتاری سے روک دیا جائے۔

    اس موقع پر وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے سلیمان شہباز کا ائیر ٹکٹ بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے پیش کیا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سلیمان شہباز کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے انھیں وطن واپسی پر ائیرپورٹ پر گرفتار کرنے سے روک دیا اور سلیمان شہباز کو 13 دسمبر تک عدالت میں سرینڈر کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ہے۔

  8. بریکنگ, اسحاق ڈار سے قبل از وقت انتخابات سے متعلق بات ہوئی ہے، کوشش ہے حکومت اور پی ٹی آئی میں بات چیت کا عمل جلد شروع ہو: صدر عارف علوی

    پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں ہیجانی کیفیت ہے اور یہ اس وقت ہوتی ہے جب سیاسی لوگ بات نہ کریں۔

    پاکستان کے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے ایک پروگرام میں انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک میں حکومت عوامی مینڈیٹ کی ہونی چاہیے اس لیے اس ضمن میں مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ’ملک میں قبل از وقت انتخابات کروانے کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے اگر ان کی پارٹی اس بات پر آمادہ ہو جائے تو ممکن ہے کہ وہ کوئی بات کریں۔‘

    صدر عارف علوی کا مزید کہنا تھا کہ کوشش ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی میں بات چیت کا عمل جلد شروع ہو، اس کے لیے کوشش جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت زیادہ اختلاف اس بات پر ہے کہ کیا کہا جائے اور کیا کہہ کر ملاقات کی جائے۔ جبکہ میں کہتا ہوں کہ پاکستان کے عوام سیاستدانوں کے الفاظ میں پھنسے سے زیادہ بہتر حاصل کرنے کا حق رکھتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اگر دونوں سیاسی جماعتوں میں بات چیت شروع ہو جائے تو سیاسی درجہ حرارت بھی نیچے آ جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار میں مذاکرات کے عمل کا آغاز کرنے کی اہلیت ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار سے یہ بھی بات ہوئی کہ فوج کی نئی قیادت سیاست سے دور رہنے کے لیے پر عزم ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اب سویلینز پر بہت ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے قدم اٹھائیں جائیں اور کوئی مسائل نہ پیدا کیے جائیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں کو یہ ایک موقع ملا ہے جہاں سیاسی قیادت کو کردار ادا کرنا ہو گا۔

    انھوں نے ایک سوال میں کہا کہ اگر پی ٹی آئی کے اسلام آباد میں آنے سے اختلافات بڑھ سکتے تھے تو میری رائے تھی کہ اس وقت اس سے بچا جائے مگر اس دانشمندانہ فیصلے پر یو ٹرن کے طعنے سننے کو ملے۔

    پاکستان کی فوج کے سربراہ کی تعیناتی کے سوال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک کی ہیجانی سیاسی صورتحال میں آرمی چیف کی تعیناتی سے کچھ ٹھہراؤ آیا ہے اور نئے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات کے بڑی خوشی ہے کہ پاکستان کی فوج مضبوط ہاتھوں میں ہے۔

    آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ احسن طریقے سے نمٹ گیا اور اب معاملہ معیشت کا ہے۔ لوگوں کو حکومت پر اعتماد ہونا چاہیے اور عوامی مینڈیٹ کی حکومت ہونی چاہیے۔ عوامی مینڈیٹ کی حکومت سے قومی یکجہتی ہوتی ہے۔

    اے آر وائی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے صدر پاکستان عارف علوی کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کے ساتھ دو ملاقاتیں ہو چکی ہے۔

    انھوں نے انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ روز ہونے والی ملاقات میں معیشت اور معاشی اعتبار کے مسائل پر بات ہوئی۔ اسحاق ڈار پر توانائی کی بچت کے حوالے سے بھی بات ہوئی اور درآمدی پابندیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

  9. اسلم خان رئیسانی حامی قبائلی رہنماﺅں سمیت جمیعت العلمائےاسلام میں شامل

    بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اور چیف آف ساراوان نواب اسلم خان رئیسانی نے اپنے حامی قبائلی رہنماﺅں اور سیاسی کارکنوں کے ہمراہ جمیعت العلماءاسلام میں شمولیت اختیار کرلی۔

    شمولیت کا اعلان انھوں نے بدھ کے روز اپنی رہائش گاہ ساراوان ہاﺅس میں ایک تقریب میں کیا جس کے مہمان خاص مولانا فضل الرحمان تھے۔ تقریب میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔

    نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ گذشتہ سات آٹھ ماہ سے جے یو آئی سے شمولیت کے لیے بات چیت چل رہی تھی اور بالآخر آج وہ لمحہ آگیا کہ ہم جے یو ائی میں شامل ہورہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا ہم اسلام کے اصولوں اور جے یو ائی کے منشور کے مطابق بلوچستان اور ملک کے عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے ۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق نواب اسلم رئیسانی کی جے یو آئی میں شمولیت سے انھیں اور جے یوآئی دونوں کو فائدہ ہوگا۔

    نواب اسلم رئیسانی کا حلقہ انتخاب ضلع مستونگ ہے جہاں سے وہ رکن بلوچستان اسمبلی منتخب ہوتے رہے ہیں۔

    مبصرین کے مطابق اس حلقے میں جمیعت العلماءاسلام کا اچھا خاصاووٹ بینک ہے اور جمیعت العلماءاسلام میں شمولیت سے آئندہ انتخابات میں ان کی مشکلات میں کمی آئے گی۔

    مبصرین کا کہنا ہے کہ جہاں جے یو آئی میں جانے سے نواب اسلم رئیسانی کی مشکلات میں کمی آسکتی ہے وہاں مستونگ سے جے یو آئی کی بلوچستان اسمبلی میں ایک نشست یقینی ہوسکتی ہے جبکہ نواب اسلم رئیسانی کے ووٹوں سے یہاں سے جے یو آئی کے قومی اسمبلی کے امیدوار کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

    مولانا فضل الرحمان نے نواب اسلم رئیسانی کو جماعت میں شمولیت پرخوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ آج جمعیت علماءاسلام کیلئے خوشی کے لمحات ہیں کہ بلوچستان کی ایک ممتاز شخصیت اپنے رفقاءکے ہمراہ جمعیت میں شمولیت اختیار کررہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمیشہ کوشش رہی کہ نواب اسلم کیسے ہمارے ہاتھوں میں آئیں ۔ آج بالآخر ہم ان کو قابو کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

    انہوں نے کہا کہ نواب اسلم رئیسانی کو ہم وہی عزت و مقام دیں گے جو ان کو بلوچستان میں حاصل ہے ۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بلوچستان میں مسائل کے انبار ہیں مگر وسائل بہت کم ہیں اورجو وسائل ہیں ان پر یہاں کے لوگوں کی دسترس نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ امریکہ اور یورپ کو کہتے ہیں کہ دوستی قبول ہے مگر غلامی کسی صورت قبول نہیں۔

  10. بریکنگ, ’ارادہ ہے کہ رمضان سے پہلے نئی حکومتیں وجود میں آ چکی ہوں‘

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے پارٹی رہنماؤں کے اجلاس کے بعد میڈیاسے گفتگو میں کہا عمران خان کے خیال میں ملک کی صورتحال کا واحد حل انتخابات ہیں۔

    انھوں نے کہا ’آج پارٹی کی قیادت نے عمران خان کو اختیار دیا اور انھوں نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیوں کی تحلیل اگلے چند روز میں کرنے کا اردہ رکھتے ہیں۔‘

    ’ارادہ ہے کہ رمضان سے پہلے انتخابات کا عمل ہو چکا ہو نئی حکومتیں وجود میں آ چکی ہوں۔‘

    ’عمران خان کی خواہش ہے کہ اسمبلیوں کی تحلیل میں تاخیر نہ کی جائے۔‘

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’حکومت کے پاس کوئی منصوبہ نہیں تاجر طبقے کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ کسان پریشان ہیں۔ ملک مںی سرمایہ کاری نہیں ہو رہی۔ معیشت جہاں ہم چھوڑ کر گئے تھے وہ بھی تنزلی کی طرف آ رہا ہے۔ ہر انڈیکیٹر بتا رہا ہے کہ معیشت بگڑتی جا رہی ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ بقول ڈار صاحب کے معاملات بگڑ چکے ہیں۔ `

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کا اضطراب تھا اور مطالبہ تھا کہ چیف جسٹس صاحب ارشد شریف کے قتل کا نوٹس لیں۔ اور ان کے خاندان کو انصاف مہیا کیا جائے۔ پارٹی نے عدالت کے از خود نوٹس کو خوش آئیند قرار دیا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ارشد شریف کی والد ا نکتہ نظر سامنے آ چکا ہے اور ہمارے خیال میں انصاف ہونا چاہیے۔ ‘

    اعظم سواتی کی پوری روداد آپ کےسامنے ہے۔ ان پر جو کیسز بنائے گئے۔ وہ بھی آپ کے سامنے ہیں۔

    شامہ محمود قریشی نے کہا کہ ’عمران خان پر حملہ ہوتا ہے اور وہ اپنی مدعیت میں پرچہ بھی نہیں کٹوا سکتے۔ یہ سنجیدہ بات ہے جس پر قوم، سول سوسائٹی اور عدلیہ کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔‘

    اس موقعے پر شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ ارشد شریف کی والدہ نے جو نام لیے ہیں ان کا حق بنتا ہے کہ ان کی شکایت کے مطابق ایف آئی آر کٹے۔

  11. شہباز شریف کے بیٹے سلمان شہباز کا حفاظتی ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

    وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کے بیٹے سلمان شہباز نے حفاظتی ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔

    محمد امجد پرویز ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر درخواست میں ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے، ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور اور سپیشل جج سنٹرل لاہور کی عدالت کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’پاکستان واپس آ کر اپنے خلاف مقدمے میں متعلقہ عدالت کے سامنے پیش ہونا چاہتا ہوں،خدشہ ہے کہ گرفتار کرلیاجائے گا۔ ‘

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ حفاظتی ضمانت منظور کرکے متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کا موقع دے۔‘

    سلمان شہباز ان دنوں لندن میں ہیں اور انھیں پاکستانی عدالتوں نے اشتہاری بھی قرار دیا ہوا ہے۔

  12. منظور پشتین کے بلوچستان داخلے پر پابندی کا حکم نامہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج

    پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتین نے بلوچستان داخلے پر پابندی سے متعلق بلوچستان حکومت کا 27 اکتوبر 2022 کا حکم نامہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔

    درخواست میں چیف سیکرٹری بلوچستان اور سٹیٹ فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بلوچستان حکومت کے حکم کو بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کرنا ہے۔

    بلوچستان داخلے کے لیے بذریعہ سڑک یا ہوائی جہاز داخلے کی اجازت دی جائے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کے لیے کوئٹہ داخلے سے نہ روکا جائے۔

  13. ارشد شریف قتل کیس: حکومتی جے آئی ٹی مسترد، سپریم کورٹ کا نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ نے صحافی ارشد شریف کے قتل پر حکومت کی طرف سے اس مقدمے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی سپیشل جے آئی ٹی مسترد کر دی اور عدالت عظمٰی نے تحقیقات کے لیے نئی سپیشل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔

    ارشد شریف کے قتل سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ اس واقعے کی تفتیش سینیئر اور آزاد افسران سے کرائی جائے جو معاملہ فہم اور دوسرے ملک سے شواہد لانے کے ماہر ہوں۔‘

    عدالت نے یہ آبزرویشن بھی دی ہے کہ اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں سے بھی معاونت ضروری ہو تو وزارت خارجہ معاونت کرے۔

    خیال رہے کہ وفاقی کابینہ نے حال ہی میں ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی تھی جس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق آئی ایس آئی، آئی بی اور ایف آئی اے افسران شامل کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔

    ’فائرنگ کرنے والے اہلکاروں کے نام تک رپورٹ میں نہیں‘

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی زیر صدارت پانچ رکنی لارجر بینچ نے ارشد شریف ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کینیا کے حکام سے تحقیقاتی ٹیم نے معلومات حاصل کیں، فائرنگ کرنے والے تین اہلکاروں سے ملاقات کرائی گئی، چوتھے اہلکار کے زخمی ہونے کے باعث ملاقات نہیں کرائی گئی۔

    انھوں نے کہا کہ کینیا میں متعلقہ وزیر اور سیکریٹری کابینہ سے ملاقات کی کوشش کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’بہیمانہ قتل کے اصل شواہد کینیا میں ہیں، کینیا کے حکام کے ساتھ معاملہ اٹھانا ہوگا۔‘

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پولیس نے جے آئی ٹی تشکیل دے دی ہے جس پر جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ فائرنگ کرنے والے اہلکاروں کے نام تک رپورٹ میں نہیں لکھے گئے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ’مقدمے میں کس بنیاد پر تین لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے؟‘ جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ ’فائرنگ کرنے والے اہلکاروں کے خلاف مقدمہ کیوں درج نہیں کیا گیا؟‘

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جائزہ لینا ہوگا غیر ملکیوں کے خلاف مقدمہ درج ہو سکتا ہے یا نہیں۔ جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیے کہ ’انتہائی سنگین معاملہ ہے، تنبیہ کر رہا ہوں کہ حکومت بھی اسے سنجیدگی سے لے۔ عدالت صرف آپ کو سننے کے لیے نہیں بیٹھی ہوئی۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’ارشد شریف کی والدہ دو شہدا کی ماں ہیں۔ شہید کی والدہ کا مؤقف صبر اور تحمل سے سنا جائے۔‘

    ارشد شریف کی والدہ نے عدالت کو بتایا کہ جس طرح پاکستان سے ارشد کو نکالا گیا وہ رپورٹ میں لکھا ہے۔ ’دبئی سے جیسے ارشد کو نکالا گیا وہ بھی رپورٹ میں ہے۔ مجھے صرف اپنے بیٹے کے لیے انصاف چاہیے۔‘

    جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ ’آپ کو تحقیقاتی ٹیم کو بیان ریکارڈ کرانا ہوگا۔‘ جس پر ارشد شریف کی والدہ نے کہا کہ ’تحقیقاتی ٹیم کو بیان پہلے بھی ریکارڈ کروا چکی ہوں۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ارشد شریف کی والدہ نے کئی لوگوں کے نام دیے ہیں۔ ’حکومت قانون کے مطابق تمام زاویوں سے تفتیش کرے۔ فوجداری مقدمہ ہے اس لیے عدالت نے کمیشن قائم نہیں کیا۔

    ’کیس شروع ہی خرم اور وقار سے ہوتا ہے۔ جے آئی ٹی میں ایسا افسر نہیں چاہتے جو ان کے ماتحت ہو جن کا نام آ رہا ہے۔‘

    بینچ میں شامل جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کینیڈا میں پاکستانی خاتون کے قتل پر اقدامات کرتے تو شاید یہ واقعہ نہ ہوتا۔ ’ان کا بیٹا تو جا چکا اب دوسروں کے بچے بچانا چاہتی ہیں، واقعہ کے بعد شور کرنے کے بجائے پہلے کچھ نہیں کیا جاتا۔‘

    عدالت نے کہا کہ ایف آئی آر مختصر ہے کیونکہ تفتیش ہوئی نہ ہی کوئی چشم دید گواہ ہے۔ ’بتایا گیا تفتیش کے لیے سپیشل جے آئی ٹی بنائی جا رہی ہے۔ کل تک جے آئی ٹی کے تمام ناموں سے آگاہ کیا جائے۔ تفتیش سینیئر اور آزاد افسران سے تحقیقات کرائی جائے۔

    ’جے آئی ٹی ارکان معاملہ فہم اور دوسرے ملک سے شواہد لانے کے ماہر ہوں۔ وزارت خارجہ شواہد جمع کرنے میں جے آئی ٹی کی مکمل معاونت کرے۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں سے بھی معاونت ضروری ہو تو وزارت خارجہ معاونت کرے۔‘

    بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ارشد شریف کی والدہ خود آنا چاہیں تو آ سکتی ہیں۔

    وکیل اہلیہ ارشد شریف نے عدالت کو بتایا کہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کی کاپی فراہم کی جائے جس پر جسٹس مظاہر نقوی کا کہنا تھا کہ فیکٹ فاینڈنگ رپورٹ پبلک ہے۔

  14. بریکنگ, ارشد شریف قتل سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت شروع۔۔۔

    ارشد شریف قتل کیس میں سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس پر سماعت شروع ہوگئی ہے۔

    کیس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ کر رہا ہے۔

    ارشد شریف کی والدہ اور بیوہ کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ڈی جی ایف آئی اے، سکریٹری اطلاعات، آئی جی اسلام آباد و دیگر متعلقہ افسران بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔

  15. ’گو باجوہ گو‘ کے نعرے لگانے پر گلوکار سلمان احمد کے خلاف مقدمہ درج

    بلوچستان کے ضلع کیچ میں معروف گلوکار سلمان احمد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں مدعی کا الزام ہے کہ انھوں نے 26 نومبر کو راولپنڈی میں جلسے کے دوران سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ کے خلاف نعرے لگوائے اور فوج مخالف تقریر کی ہے۔

    یہ مقدمہ شعیب علی نامی شخص کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی پانچ دفعات کے تحت سٹی پولیس سٹیشن تربت میں درج کرایا گیا ہے۔

    مدعی مقدمہ کے مطابق گلوکار سلمان احمد، جو کہ تحریک انصاف کے کارکن بھی ہیں، نے راولپنڈی میں تحریک انصاف کے جلسہ عام میں ’گو باجوہ گو‘ کے نعرے لگوائے اور پاکستانی فوج کے خلاف بھی باتیں کیں۔

    اب تک بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تحریک انصاف کے تین رہنماﺅں اور کارکنوں کے خلاف اس نوعیت کے مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ دیگر دو رہنماﺅں میں اعظم سواتی اور شہباز گل شامل ہیں۔

    شہباز گل کے خلاف مقدمہ قلعہ عبد اللہ میں درج کیا گیا ہے جبکہ اعظم سواتی کے خلاف جو پانچ مقدمات قائم کیے گئے ہیں ان میں سے کوئٹہ میں قائم مقدمے میں ان کو گرفتار کر کے کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔

    اعظم سواتی کے خلاف پانچ مقدمات دائر کیے گئے ہیں جبکہ ہائیکورٹ میں ان کے بیٹے کی ایک درخواست پر بلوچستان ہائیکورٹ نے یہ حکم دیا ہے کہ اعظم سواتی کو دیگر چار علاقوں کے پولیس کے حوالے نہیں کیا جائے۔

    ہائیکورٹ نے ایک اور درخواست پر اعظم سواتی کے خلاف ان الزامات کے تحت بلوچستان کے کسی اور علاقے میں درخواست کی اگلی سماعت تک مقدمہ درج نہ کرانے کا بھی حکم صادر کیا ہے۔

    سلمان احمد نے ٹوئٹر پر یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اظہار رائے کی آزادی کو روکنے کے لیے ایف آئی آر کون درج کر سکتا ہے؟‘ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ان کے خلاف ایک مشکوک ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔

  16. بریکنگ, ’صحافی ارشد شریف کا قتل سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا‘ سپریم کورٹ میں فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جمع

    سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں دو رکنی تحقیقاتی ٹیم کی رائے ہے کہ کینیا میں صحافی ارشد شریف کی موت شناخت کی غلطی سے نہیں ہوئی بلکہ یہ قتل کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا جس میں بیرون ملک کردار بھی ملوث ہوسکتے ہیں۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ ارشد شریف کے خلاف پاکستان میں مقدمات درج تھے جس کی وجہ سے انھیں ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور متحدہ عرب امارات کے حکام نے انھیں دبئی سے جانے کا کہا۔

    اس رپورٹ کے مطابق اس قتل میں کینیا، دبئی اور پاکستان میں ’ٹرانز نیشنل کرداروں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔‘

    تاہم ’اس کے ٹھوس شواہد نہیں کہ ارشد شریف پر قتل سے قبل تشدد کیا گیا تھا۔‘

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کینیا کی جی ایس یو پولیس کے بیان میں تضاد ہیں اور اس پر یقین نہیں کیا جاسکتا۔

    تحقیقاتی ٹیم نے تجویز دی ہے کہ ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ تعزیرات پاکستان اور انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعات کے تحت وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے درج کیا جائے۔

  17. بریکنگ, توہین عدالت کا مقدمہ: تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اسد عمر نے غیر مشروط معافی مانگ لی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اسد عمر نے لاہور ہائی کورٹ سے اپنے بیان پر معافی مانگ لی ہے۔

    لاہور ہائی کورٹ پنڈی بنچ کی جانب سے سیکریٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف اسد عمر کو جاری توہین عدالت نوٹس پر سماعت جسٹس جواد حسن نے کی۔ اسد عمر نے اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔

    دوران سماعت جج کے استفسار پر پی ٹی آئی رہنما اسد عمر نے روسٹم پر آکر عدالت سے اپنی تقریر پر غیر مشروط معافی مانگ لی۔

    انھوں نے کہا کہ میرا مقصد کسی بھی جج یا عدلیہ کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اگر میری تقریر سے کوئی لائن کراس ہوئی ہے تو میں عدالت سے معافی مانگتا ہوں

    جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دیے کہ عدالتوں نے آپ کو لانگ مارچ کی اجازت دی اور آپ نے عدالتوں پر ہی الزامات لگائے۔

    جسٹس جواد حسن کا کہنا تھا کہ مسئلہ توہین عدالت کا نہیں اداروں اور ان کی شخصیات کے اوپر الزامات کا ہے۔

    اسد عمر کا کہنا تھا کہ میری تقریر میں کسی جج کا نام نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ عدالت کے پاس آپ کا وڈیو بیان موجود ہے جس پر بینچ کے سربراہ نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو معلوم ہے آپ نے تقریر میں کیا کہا؟

  18. ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا

    سپریم کورٹ کے حکم پر ارشد شریف قتل کیس کی ایف آئی آر درج کر دی گئی ہے، ایف آئی آر اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں درج کی گئی۔

    ایف آئی ار میں تین افراد خرم ،وقاراحمد ، طارق احمد کو نامزد کیا گیا ہے۔

    عدالت نے یہ حکم ارشد شریف کے قتل کے معاملے میں از خود نوٹس کی سماعت کے دوران دیا تھا۔

    عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ آج ہی جمع کرانے کی ہدایت کی اور کہا سیکریٹری داخلہ آج ہی ایف آئی آر درج کریں۔

    اعلامیے کے مطابق سیکریٹری خارجہ کینیا میں کی جانے والی تحقیقات پر رپورٹ کل تک جمع کرائیں، ‏سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں5 رکنی لارجر بنچ نے کی۔

    سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر از خود نوٹس لیا۔

    چیف جسٹس نے ڈی جی ایچ آر سیل کی رپورٹ 2 ججز کو بھیجی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس محمد علی مظہر کو رپورٹ بھیجی گئی، ‏دونوں مذکورہ ججز نے معاملے پر از خود نوٹس لینے کی رائے دی، کیس کی مزید سماعت کل دوپہر ساڑھے 12 بجے ہوگی۔

  19. سندھ یونیورسٹی کی ایک طالبہ اور تین سو تیرہ طلبا کے خلاف بغاوت کا مقدمہ

    سندھ یونیورسٹی کی ایک طالبہ اور تین سو تیرہ طلبا کے خلاف پولیس نے بغاوت کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    سندھ یونیورسٹی کے طلبا کے خلاف بغاوت کے الزام میں درج مقدمہ کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے حکم پر حیدرآباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

    عدالت نے ملزمان کو دو روز کے لیے پولیس ریمانڈ میں دے دی پے۔ پولیس نے تین سو تیرہ طلبا کے خلاف یکم دسمبر کو ثقافت کے سلسلے میں یونیورسٹی میں جلوس نکالنے اور پولیس رپورٹ کے مطابق ریاست کے خلاف نعرے بازی پر مقدمہ درج کیا تھا۔

    پولیس نے بتایا ہے کہ مقدمے میں نامزد تین سو طلبا نا معلوم ہیں۔

    جام شورو کے ایک صحافی کا کہنا ہے کہ ’ایک طالبہ سمیت تیرہ افراد کی شناخت کی گئی پے۔ شناخت شدہ طلبا میں سے پانچ کو پولیس نے حراست میں لیا تھا لیکن ان کی گرفتاری ظاہرنہیں کی گئی تھی۔‘

    انھوں نے مزید بتایاکہ ’طلبا کے احتجاج کے بعد پولیس نے تین سو تیرہ طلبا کے خلاف مقدمہ درج کر کے پہلے سے گرفتار طءبا کوظاہر کردیا گیا تھا۔‘

  20. پتا نہیں کس کس پر ارشد شریف کے قتل سے متعلق انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں: چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ نے صحافی ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ آج شام تک درج کرنے کا حکم دیا ہے اور کل تک ایف آئی آر کی کاپی پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ارشد شریف کے قتل کی انکواٸری رپورٹ طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ارشد شریف ایک لیڈنگ جرنلسٹ تھے اور ارشد شریف کی میڈیکل رپورٹ بھی نہیں مل رہی۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے ارشد شریف قتل کے ازخود نوٹس کی سماعت کی۔

    سکریٹری خارجہ اسد مجید اور سکریٹری داخلہ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

    چیف جسٹس نے سکریٹری خارجہ اسد مجید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کا نام اسد مجید ہے، آپ کا نام پہلے ہی مشہور ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ارشد شریف کے قتل سے متعلق سوشل میڈیا پر شور ہے۔ پتا نہیں کس کس پر اس قتل سے متعلق انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں۔‘

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ چیف ایگزیکٹو یعنی وزیر اعظم نے رپورٹ دیکھنی ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پاکستان میں پہلا کام یہ ہونا چاہیے تھا کہ اس قتل کا مقدمہ درج کرنا تھا لیکن نہیں ہوا اور اس کے ساتھ ساتھ کینیا میں بھی اس حوالے سے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کو واپس آئے کافی عرصہ ہوگیا ہے، انھوں نے کہا کہ ارشد شریف کی والدہ کے خط پر انسانی حقوق سیل کام کر رہا ہے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ ’حکومتی کمیشن کی حتمی رپورٹ تاحال سپریم کورٹ کو کیوں نہیں ملی؟‘

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وزیرِداخلہ فیصل آباد میں تھے جب رپورٹ آئی۔ ’رانا ثنا اللہ کے دیکھنے کے بعد رپورٹ سپریم کورٹ کو دی جائے گی۔‘ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’کیا وزیرِداخلہ نے رپورٹ تبدیل کرنی ہے؟‘

    انھوں نے کہا کہ ’وزیرِ داخلہ کو ابھی بلا لیتے ہیں۔‘ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’تحقیقات کرنا حکومت کا کام ہے۔ عدالت کا نہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کینیا میں حکومت پاکستان کو رسائی حاصل ہے، تحقیقاتی رپورٹ تک رسائی سب کا حق ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’صحافی قتل ہوگیا، سامنے آنا چاہیے کہ کس نے قتل کیا۔‘

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ’کل تک رپورٹ سپریم کورٹ کو جمع کروا دیں گے۔‘ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’آج جمع کرائیں تاکہ کل اس پر سماعت ہوسکے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’چھ ہفتے سے رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔‘

    جسٹس اعجاز الااحسن کا کہنا تھا کہ ارشد شریف کی میڈیکل رپورٹ غیر تسلی بخش ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پانچ رکنی بینچ حالات کی سنگینی کی وجہ سے ہی تشکیل دیا ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ صحافیوں کے ساتھ کسی بھی صورت بدسلوکی برداشت نہیں کی جائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ کوئی غلط خبر دیتا ہے تو اس حوالے سے قانون سازی کریں۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تئیس اکتوبر سے آج تک صرف عدالت کو میڈیکل رپورٹ ہی مل سکی ہے۔ ’سینیئر ڈاکٹرز نے میڈیکل کیا لیکن رپورٹ تسلی بخش نہیں۔‘

    بینچ میں موجود جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ ’کیا کینیا میں تحقیقات ہو رہی ہیں؟‘ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ’مشکوک انداز میں صحافی کا کینیا میں قتل ہوا۔ وزارت خارجہ نے اب تک کیا کارروئی کی ہے؟‘

    سکریٹری خارجہ نے عدالت کو بتایا کہ ’وزیراعظم کی بھی کینیا کے صدر سے گفتگو ہوئی ہے۔ کینیا میں پاکستانی ہائی کمشنر متعلقہ حکام سے رابطے میں ہیں۔‘

    دفتر خارجہ کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ ’ابھی تک کیا پیشرفت ہوئی کچھ علم نہیں ہے۔‘

    اس اب ازخود نوٹس کی سماعت بدھ کو ہو گی۔