عمران خان نے 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کی کال دے دی

سابق وزیراعظم عمران خان نے پاکستان بھر سے کارکنان کو 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کی کال دے دی ہے۔ عمران خان نے کہا وہ اگلے ہفتے خود بھی اس مارچ کا حصہ بن جائیں گے۔ چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ حقیقی آزادی کے حصول تک یہ احتجاج جاری رہے گا۔

لائیو کوریج

  1. ملک میں صاف شفاف الیکشن سے ہی سیاسی و معاشی استحکام آئے گا: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اس ملک میں الیکشن ہوں گے تو سیاسی اور معاشی استحکام آئے گ، مگر جب تک اسے کھینچتے جائیں گے تو ملک اور مستقبل داؤ پر لگا رہے گا۔

    کھاریاں میں لانگ مارچ کے شرکا سے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں صاف اور شفاف الیکشن چاہییں اور انصاف چاہیے۔ میں عدلیہ اور چیف جسٹس سے کہنا چاہتا ہوں کہ قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ارشد شریف لوگوں کے دلوں میں بس گیا ہے، پوری قوم نے دیکھا کہ ہر طرح کے کارروائی کے باوجود وہ اپنے موقف پر کھڑا رہا، اسے دھمکیاں ملیں، صحافی برادری جانتی ہے کہ اس کی جان خطرے میں تھی۔ اسے باہر جانے پر مجبور کیا گیا، اس لیے چیف صاحب آپ کو ارشد شریف اور اعظم سواتی کو انصاف دینا پڑے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں اپنے اوپر حملے کی ایف آئی آر درج نہیں کروا سکتا، مگر میں بطور سابق وزیر اعظم بھی اپنی ایف آئی آر نہیں کٹوا سکتا، آپ سوچیے باقی عوام کا کیا حال ہو گا۔‘

  2. میں آزاد خارجہ پالیسی چاہتا تھا: عمران خان

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کے دور حکومت میں پاکستان کا وقار نیچے گیا ہے، مگر ان کے دور حکومت میں صورتحال مختلف تھی کیونکہ وہ پاکستان کے لیے آزاد خارجہ پالیسی چاہتے تھے۔

    ’ہم امریکہ سے ویسے ہی تعلقات چاہتے ہیں جیسے ان کے انڈیا سے تعلقات ہیں ناکہ غلاموں والے۔

    موجودہ حکمرانوں کے مطابق میں نے پاکستان کو عالمی دنیا میں تنہا کیا، تو میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ گذشتہ سات ماہ میں بوٹ پالش کر کے آپ نے کیا فائدہ پاکستان کے لیے حاصل کر لیا۔‘

  3. راولپنڈی پہنچنے والوں کا ایک ہی پیغام ہو گا، صاف اور شفاف الیکشن: عمران خان

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لوگ کہہ رہے کہ مارچ کی رفتار کافی آہستہ ہے۔ ’مارچ کو آہستہ تو ہونا ہی تھا چونکہ میرے اوپر وزیر آباد میں حملہ ہوا جس کی اب تک ایف آئی آر ہی درج نہیں ہو رہی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میرے دور حکومت میں اپوزیشن نے تین لانگ مارچ کیے اور میری حکومت گرانے کی کوشش کی گئی۔ ہمارا لانگ مارچ اس لیے نہیں کہ میرے اوپر کرپشن کے کیسز ہیں جن سے میں نجات حاصل کرنا چاہتا ہوں، ہمارا بنیادی اور واحد مقصد صرف صاف اور شفاف الیکشن ہیں۔‘

    سابق وزیر اعظم نے اپنے دور کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت میں ملک معاشی ترقی کر رہا تھا اور اس وقت ہم نے ہینڈلرز کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ایسا مت کریں۔

    انھوں نے کہا کہ ’نوجوان سب سوشل میڈیا پر ہیں اور اب ان میں شعور آ چکا ہے۔ آپ شکر کریں کے تحریک انصاف ان نوجوانوں کو لانگ مارچ کے ذریعے پرامن احتجاج کا راستہ دکھا رہی ہے ورنہ یہ سری لنکا جیسے معاملہ بھی ہو سکتا تھا۔‘

    عمران خان نے کہا کہ پورے ملک سے لوگ راولپنڈی پہنچے گی جن کا ایک ہی پیغام ہو گا کہ ہمیں بھیڑ بکریاں نہ سمجھیں بلکہ ہم ہی فیصلہ کریں گے کہ اس ملک کی قیادت کس کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔

  4. پاکستانی عدالتوں سے سزا یافتہ شخص لندن بیٹھ کر آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ کر رہا ہے: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ کرپشن زدہ اور پاکستانی عدالتوں سے سزا یافتہ ایک شخص لندن میں بیٹھ کر پاکستان کے آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ کر رہا ہے۔

    کھاریاں میں لانگ مارچ کے شرکا سے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ صاف اور شفاف الیکشن کے بغیر اس ملک کو دلدل سے نہیں نکالا جا سکتا مگر ’مسئلہ لندن میں ہے۔۔۔ وہاں بیٹھا شخص چاہ رہا ہے کہ الیکشن نہیں کروانے کیونکہ ان کی شکست نظر آ رہی ہے۔ کرپشن زدہ لوگ لندن بیٹھ کر فیصلہ کر رہے ہیں کہ ملک کا آرمی چیف کون ہو گا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایک ایسا خاندان جس نے آج تک کوئی فیصلہ میرٹ پر نہیں کیا اور ہمیشہ ہر معاملے میں اپنے خاندان کو مقدم رکھا اور جو ہمیشہ ایسے لوگوں کو اوپر لے کر آئے جنھیں وہ رشوت دے سکیں، جن کے منھ بند کروا سکیں، وہ اہم فیصلے کر رہے ہیں۔‘

    عمران خان نے الزام عائد کیا کہ ’جن لوگوں نے میرٹ پر کبھی کوئی کام نہیں کیا۔۔۔ اور مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ ہمارا چوری کا پیسہ کیسے بچے گا، وہ لندن میں بیٹھ کر آرمی چیف کا فیصلہ کر رہا ہے۔‘

  5. پاکستان کا فاسٹ بولنگ اٹیک دنیا میں بہترین ہے: عمران خان

    شاہین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے کھاریاں میں موجود لانگ مارچ کے شرکا سے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ شاہین شاہ آفریدی کی انجری ایسے وقت میں ہوئی جب ان کی ضرورت تھی اور اُن کی موجودگی نتائج کو بدل سکتی تھی۔

    ’ہمارا فاسٹ بولنگ اٹیک دنیا کا بہترین فاسٹ بولنگ اٹیک ہے۔ بابر اعظم ایک ورلڈ کلاس بلے باز ہیں جو جلد ہی پوری دنیا کو پیچھے چھوڑ جائے گا۔‘

  6. عمران خان آئینی اور جمہوری راستہ نکالنے کی کوشش کررہے ہیں: شاہ محمود قریشی

    کھاریاں میں تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ غیر یقینی صورتحال کیا پاکستان کے مفاد میں ہے ، مسلم لیگ نون اہم تعیناتی پر ملک کو بحرانوں میں کیوں دھکیل رہی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا اہم دورہ کا بھی کینسل ہو چکا ہے، سعودی ولی عہد کے آنے سے ملک کی جو معاشی صورتحال میں بہتری ہونی تھی وہ کھٹائی میں پڑ گئی ہے۔‘

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’عمران خان آئینی اور جمہوری راستہ نکالنے کی کوشش کررہے ہیں، ساری صورتحال بے یقینی کی ہے جس پر پوری قوم پریشان ہے، ملک کو بحران سے نکالنے کا واحد راستہ عام انتخابات ہیں۔‘

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا ’لانگ مارچ کا آرمی چیف کی تعیناتی سے کوئی تعلق نہیں، پنڈی اور لندن میں تعیناتی پر فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ ہمیں تعیناتی پر فاصلے بڑھنے سے خوشی نہیں تشویش لاحق ہے، نواز شریف کے سابقہ ادوار کا موازنہ کیا جائے تو سینارٹی لسٹ تعیناتیوں پر کچھ اور ہی کہتی ہے، نواز شریف تعیناتی کے معاملے میں ہمیشہ جونئیر کو سینئر پر ترجیح دیتے رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’الیکشن نئی اصلاحات کے مطابق ہی ہونا چاہیں، حکومت الیکشن اصلاحات پر بہانے تلاش نہ کرے۔‘

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’گجرات ، ایف آئی آر کا مطالبہ ہمارا آج بھی قائم یےگ‘

    ٹی ٹوئٹنر ورلڈ کپ کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ’آج دعا گو ہیں کہ پاکستانی ٹیم کو رب کریم کامیاب کرے، عوام کیساتھ آج کا میچ کھاریاں میں دیکھیں گے جس کے بعد عمران خان خطاب کریں گے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’لانگ مارچ کا کھاریاں کے بعد اگلا پڑاؤ منڈی بہائوالدین ہوگا۔‘

  7. تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران آج جلسہ کھاریاں میں ہو گا

    کھاریاں کے ڈنگا چوک میں جلسے کی تیاریاں جاری ہیں ، شاہ محمود قریشی کا کنٹینر بھی جلسہ گاہ کے قریب پہنچ چکا ہے۔

    شاہ محمود قریشی اور دوسرے قائدین یہاں پہنچ کر ہی کنٹینر میں سوار ہوں گے تاہم جلسہ گاہ میں کارکنوں سے عمران خان ویڈیو لنک پر خطاب کریں گے۔

    کھاریاں میں پی ٹی آئی کے مارچ کے دوران جلسہ گاہ میں آج کرکٹ میچ دکھانے کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ جلسہ گاہ میں بڑی سکرین پر کارکنوں کو پہلے کرکٹ میچ دکھایا جائےگا

    کرکٹ میچ کے فوری بعد عمران خان کا ویڈیو لنک خطاب ہو گا۔

    انتظامیہ جلسہ گاہ کا اعلان کھاریاں جلسہ گاہ کی طرف آنے والے راستے پولیس نے سکیورٹی کے پیش نظر بند کردیے جی ٹی روڈ کی لاہور سے راولپنڈی جانے والی ایک سائیڈ کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔

    جی ٹی روڈ کے دوسری طرف دو طرفہ ٹریفک چلائی جارہی ہے۔ جی ٹی روڈ کی ایک سائیڈ اور دوسرے راستے بند ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    پولیس نے جلسہ گاہ کے اطراف میں بھی دکانیں اور بازار بھی بند کروا دیے ہیں۔

  8. دھرنے کے اعلان سے سعودی ولی عہد کا دورۂ پاکستان ملتوی ہوا: خواجہ آصف

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور دھرنے کے اعلان کی وجہ سے سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان کا دورۂ پاکستان ملتوی ہوا ہے۔

    وہ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہتے ہیں کہ ’عمران خان نے پہلے دھرنے پہ 7 سال قبل چینی صدر کا دورہ کینسل کروایا تھا۔ اب 21 نومبر والے دھرنے کے اعلان سے سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم کا دورہ ملتوی۔

    ’عمران خان سوائے اپنے مفادات کے علاوہ کوئی سوچ نہیں رکھتا۔ ملک و قوم کے مفادات کے کوئی معنی نہیں۔ یہ شخص ملک کے خلاف ایجنڈا پہ کام کر رہا ہے۔‘

    پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان ری شیڈول کر دیا گیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ ’سعودی ولی عہد کے پاکستان کے دورے کی نئی تاریخ دونوں ملک طے کریں گے۔‘

    واضح رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا رواں ماہ 21 نومبر کو دورہ پاکستان شیڈول تھا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    ادھر تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کہتی ہیں کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی وجہ سے یہ دورہ منسوخ نہیں ہوا۔ ’ہم نے کسی کو تھریٹ نہیں دیا۔ ہر جمہوریت میں احتجاج ہوتا ہے۔۔۔ یہ بہانہ احمقانہ ہے۔ عمران خان کے محمد بن سلمان سے بہت اچھے تعلقات ہیں۔‘

    سابق سفیر عبدالباسط نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ بظاہر یہ اندرونی صورتحال کی وجہ سے بیرون ملک تعلقات متاثر ہونے کا کیس ہے۔ ’یہ دورہ انتہائی اہم تھا۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ اسے دوبارہ جلد ری شیڈول کیا جاسکے گا۔ یہ اچھی پیشرفت نہیں۔‘

  9. بریکنگ, آرمی چیف کی تعیناتی پر مشاورت کی آئینی اجازت تو نہیں لیکن اس میں کوئی مضائقہ بھی نہیں: صدر عارف علوی

    Arif Alvi

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف کی تعیناتی پر آئین مشاورت کی اجازت نہیں دیتا لیکن تعیناتی پر مشاورت ہوجائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے لاہور میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاملات بہتر کرنے میں جو ادارے موثر ہیں ان سے گفتگو چل رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اداروں کے درمیان اختلافات دور کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔ الیکشن جلد ہو جائیں تو بہتر ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ فیڈریشن کے حوالے سے کوشش ہے کہ یکجہتی اور معاملات خراب نہ ہوں۔ عمران خان سے مشورہ کر کے کام نہیں کرتا۔

    صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے بات چیت کرنی چاہیے۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ پیغام رسانی کرتا رہتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین اعتماد کا ووٹ لینے کی اجازت دیتا ہے مگر میں اس پوزیشن میں نہیں۔

    عمران خان پرانے دوست ہیں انھیں لیڈر مانتا ہوں۔ کوشش ہے کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان معاملات بہتر ہوں۔

    ان کا کہنا تھا کہ معاملہ یہ ہو گیا ہے کہ اداروں پر بھروسہ نہیں رہا۔ ہر کام عدلیہ پر ڈالتے ہیں فیصلہ آجائے تو مانتے نہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ادارے سیاسی طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ نیب کے قانون میں سیاسی استعمال غلط تھا۔ کنٹینر بنے تو تجارت کے لیے تھے مگر ہم نے دنیا کو اس کا نیا استعمال بھی سکھا دیا ہے۔

    مفاہمت کے ساتھ الیکشن کی طرف جانے میں کیا حرج ہے۔ جمہوریت اداروں کی وجہ سے ہی چلتی ہے۔ پاکستان کسی ملک خصوصاً بڑے ملکوں سے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتا۔

    صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں نااہلی بڑھ گئی ہے۔ ہمارے ہاں مارشل لا بھی رہا، خوشی ہے کہ ہمارے ہاں جمہوریت چل رہی ہے۔

  10. تحریک انصاف کا لانگ مارچ لالہ موسیٰ شہر پہنچ کر ختم، کل کھاریاں سے آغاز ہو گا

    PTI Long March

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تحریک انصاف کا لانگ مارچ دوسرے مرحلے کے تیسرے روزلالہ موسی کی حدود سے شروع ہو کر جی ٹی روڈ سے ہوتا ہوا شہر کے اندر پہنچ کر اختتام پذیر ہو گیا ہے۔

    لانگ مارچ کی قیادت وائس چیرمین تحریک انصاف شاہ محمود قریشی اور دیگر قائدین نے کی، لانگ مارچ کا استقبال لالہ موسی میں مقامی قیادت اور مسلم لیگ ق کے ارکان اسمبلی نے کیا۔

    لانگ مارچ کے اختتام سے قبل سابق وزیر اعظم عمران خان کا ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب نشر کیا گیا۔

    پولیس کی جانب سے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے تھے، مارچ کے اختتام پر پی ٹی آئی کے کارکنان گھروں کو چلے گئے ہیں، کل دوسرے مرحلے کا چوتھا روز ہو گا جس میں مارچ کا آغاز کھاریاں سے کیا جائے گا۔

  11. بریکنگ, ڈیلی میل کیس میں عدالت کو جواب دینا شہباز شریف کے لیے چیلنج ہو گا: عمران خان

    پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایک برطانوی اخبار ڈیلی میل پر ہتک عزت اور ہرجانے کا دعوی کیا اور عدالت میں چلے گئے، اب عدالت نے دسمبر کے اوائل میں شہباز شریف کا بلا لیا ہے، اس سے جواب مانگے ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے لالہ موسیٰ میں لانگ مارچ سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ فون اٹھا کر جج کو کہیں گے کہ بے نظیر کو تین نہیں پانچ سال کی سزا دو۔

    عمران خان نے کہا کہ شہباز شریف کو یہ نہیں پتا کہ وہ کدھر جا کر پھنس گئے ہیں، اور ان کے لیے یہ سب سے بڑا چیلنج ہو گا۔

  12. بریکنگ, ہینڈلرز کو ملک سے پیار نہیں جو ’چوروں‘ کو مسلط کر دیا: عمران خان

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ ’ان کو لانے والے ہینڈلرز سے پوچھتا ہو کہ ان کو ملک سے پیار نہیں جو ان چوروں کو قوم پر مسلط کر دیا ہے۔‘

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے لالہ موسیٰ میں لانگ مارچ سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ان چوروں کو اقتدار میں لانے والے ہینڈلرز سے پوچھتا ہو کہ ان چوروں نے ملک کی معیشت کو تباہ کر دیا۔ ملک میں باہر سے پیسہ نہیں آ رہا ہے۔ سرمایہ کاری نہیں ہو رہی ہے؟‘

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ’میں ان سے بھی پوچھنا چاہتا ہوں، جو ان کے ہینڈلرز ہیں، کیا ان کو پاکستان کی فکر نہیں ہے؟ کیا ان کو اس وقت بھی سمجھ نہیں آر ہا تھا جب چوروں کو اوپر مسلط کیا جارہا تھا کہ انھوں نے ملک کے ساتھ کرنا کیا ہے۔‘

    انھوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کے ہینڈلرزکو یہ سب کچھ نظرنہیں آتا۔ ملک میں ترقی کی رفتار رک چکی ہے اور ہم اپنے قرضوں کی قسطیں نہیں دے سکتے۔‘

  13. بریکنگ, پاکستان کے آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ لندن میں بیٹھے ’چور‘ کر رہے ہیں: عمران خان

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہماری قومی سلامتی کا سب سے اہم عہدہ آرمی چیف کا ہے، جس کا فیصلہ لندن میں چور بیٹھ کر کر رہے ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے لالہ موسیٰ میں لانگ مارچ سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب نواز اور اس کا چور خاندان ملک کے اہم فیصلے کر رہا ہے۔ یہ چوروں کا خاندان ملک کی سب سے اہم پوزیشن آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ کرنے جا رہا ہے۔ مغربی اور تہذیب یافتہ ممالک میں کوئی عدالت کا سزا یافتہ شخص یہ فیصلہ کیسے کر سکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب تک قانون کی حکمرانی نہیں ہو گی ملک میں ترقی نہیں آ سکتی۔ انھوں نے کہا کہ مجھ پر الزام عائد کیا گیا کہ میں نے آرمی چیف کی تعیناتی کے عمل کو متنازع کر دیا۔

    انھوں نے کہا کہ میں نے کسی کو متنازع نہیں بنایا۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں میرٹ پر تعیناتی ہو، جومیرٹ پر ہو اس کو آرمی چیف تعینات کیا جائے۔

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مجھے اپنا آرمی چیف، جج، آئی جی پولیس نہیں چاہیے بلکہ شہباز شریف اور اس کے خاندان کو ہر اہم عہدے پر اپنا من پسند شخص چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ لندن میں تماشا ہو رہا ہے، تین چار دن سے پاکستان کے وزیراعظم اور دیگر لوگ لندن گئے ہوئے ہیں، وہاں جا کر فیصلہ ہو رہا ہے کہ پاکستان کا آرمی چیف کون بنے گا۔

    انھوں نے کہا مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہماری قومی سلامتی کے سب سے اہم عہدے کا فیصلہ لندن میں ہورہا ہے، اور فیصلہ سزا یافتہ، مفرور اور جھوٹ بول کر ملک سے باہر جانے والا کر رہا ہے۔

  14. لانگ مارچ: لالہ موسیٰ میں جلسہ، عمران خان شام پانچ بجے خطاب کریں گے

    تحریک انصاف کے مطابق لانگ مارچ کے سلسلے میں آج لالہ موسیٰ میں شام چار بجے جلسہ ہوگا جس سے شام پانچ بجے عمران خان خطاب کریں گے۔

    لالہ موسیٰ میں لانگ مارچ کی قیادت پارٹی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے مقامی رکن قومی اسمبلی فیض الحسن شاہ لانگ مارچ کے شرکا کا استقبال کریں گے۔

    شاہ محمود قریشی نے گجرات میں نیوز کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ ’آج لالہ موسیٰ، کل کھاریاں جائیں گے۔ کل بڑی سکرینوں پر میچ بھی دیکھیں گے اور مارچ بھی کریں گے۔‘

  15. فوج سے متعلق متنازع ٹویٹ پر درج مقدمہ خارج

    اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک شہری کے خلاف متنازع ٹوئٹس پر درج مقدمہ خارج کر دیا ہے۔

    اپریل میں حکومت کی تبدیلی کے بعد عسکری قیادت سے متعلق متنازع ’سوشل میڈیا مہم‘ سے متعلق کیس میں جسٹس بابر ستار نے شہری کاشف فرید کی درخواست منظور کی۔

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’ایف آئی آر کا مقصد اظہار رائے پر غیر قانونی سنسر شپ لگانا تھا۔ کسی بھی ٹرینڈ میں محض ٹویٹ کرنے سے کوئی جرم سرزد نہیں ہوتا۔

    ’ٹویٹ کرنے والے کے اپنے الفاظ میں جب تک کچھ غلط نہ ہو جرم نہیں۔ ایف آئی اے نے یہ کیس درج کر کے ریاست کا مذاق ہی بنایا۔‘

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ ٹوئٹر صارف نے ویگو ڈالے اور ماورائے قانون جبری گمشدگیوں کی بات کی۔ ’ٹویٹ میں ایک مخصوص ٹرینڈ سے متعلق کہا گیا کہ اس میں لکھنے پر ادارے ماورائے قانون کارروائی کر سکتے ہیں۔

    ’ایف آئی اے کا سچ میں ایسی ٹویٹ پر کریمینل کیس بنا کر عوام کے ذہن میں ایسے شبہات کو تقویت دینا المیہ ہے۔‘

  16. عمران خان پر حملے کی تحقیقات سمیت چار مطالبات پر تحریک انصاف کا سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے کا اعلان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کے ارکان اسمبلی اور دیگر رہنما پیر کو سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے جس میں عمران خان پر حملے کی تحقیقات سمیت چار مطالبے کیے جائیں گے۔

    انھوں نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پیر کے روز ہم تمام ارکان قومی و صوبائی اسمبلی صبح سپریم کورٹ کی رجسٹری کے باہر جمع ہوں گے اور ایک درخواست چیف جسٹس صاحب کو پیش کریں گے۔‘

    ’اسلام آباد کے علاوہ لاہور، پشاور اور سندھ میں سپریم کورٹ کی رجسٹریوں میں درخواست دائر کریں گے۔ اعلی عدلیہ کے سامنے یہ معاملہ رکھ رہے ہیں۔ عمران خان سمجھتے ہیں عدلیہ پر ذمہ داری ہے کہ شنوائی کریں۔‘

    ان کے مطابق تحریک انصاف اس درخواست میں چار مطالبات کرے گی:

    • سینیٹر اعظم سواتی کو انصاف دیا جائے۔
    • ارشد شریف کے ساتھ کیا ہوا اور کس نے کیا، قوم جاننا چاہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان کا لیپ ٹاپ اور فون کن کے پاس ہے۔
    • سائفر کے بارے میں تحریک انصاف کا مؤقف واضح ہے۔ ہم توقع کرتے ہیں اس سنجیدہ مسئلے کی تہہ تک پہنچا جائے۔
    • عمران خان پر حملے کی تحقیقات کرائی جائیں۔ عمران خان نے تین حضرات پر الزام لگایا ہے، جب تک وہ عہدوں پر برقرار رہیں گے تب تک تحقیقات شفاف و غیر جانبدارانہ کیسے بنے گی۔
  17. مسئلہ کشمیر پر امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں: ڈونلڈ لو کی انٹرویو میں بات چیت

    ڈونلڈ لو

    ،تصویر کا ذریعہUS Govt

    امریکی محکمۂ خارجہ کے اسسٹنٹ سکریٹری ڈونلڈ لو کہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر پر امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور اس مسئلے کا حل اسی صورت میں ممکن ہے جب بیرونی مداخلت کے بغیر انڈیا اور پاکستان براہِ راست مذاکرات کریں۔

    امریکی محکمۂ خارجہ میں جنوب اور وسط ایشیائی امور کے ذمہ دار سینیئر اہلکار ڈونلڈ لو نے بی بی سی ہندی سے بات چیت کے دوران کہا ہے کہ ’میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کشمیر سے متعلق امریکی پالیسی میں کوئی رد و بدل نہیں۔

    ’انڈیا اور پاکستان کے درمیان براہِ راست مذاکرات سے ہی اس مسئلے کا حل ممکن ہے۔‘

    اسلام آباد میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈونلڈ لو نے کہا کہ ’یہ سچ ہے کہ ڈونلڈ بلوم پاکستان کے کشمیر کے علاقے میں گئے مگر یہ کوئی نئی چیز نہیں۔ گذشتہ برسوں میں ہمارے کئی سفیر کئی علاقوں میں جاتے رہے ہیں۔ اسی طرح سفیر انڈیا کے کشمیر کے علاقوں کا بھی دورہ کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ کشمیر کے خطے میں پُرتشدد کارروائیاں کم ہو رہی ہیں اور ہنگامی صورتحال یا کشیدگی میں بھی کمی آئی ہے۔ یہ اچھی بات ہے۔ لیکن اسے ہلکا نہیں لینا چاہیے۔‘

    انھوں نے انڈین حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’کشمیر میں مقامی الیکشن اور سیاسی حقوق بحال کیے جانے چاہییں۔ یہ یقینی بنایا جانا چاہیے کہ میڈیا کشمیر میں اپنا کام جاری رکھ سکے۔ کشمیر میں امن کے لیے یہ سب ضروری ہے۔ مجھے امید ہے آئندہ برسوں میں یہ امن یقینی بنایا جاسکے گا۔‘

    امریکہ کی جانب سے پاکستان کو ایف 16 جنگی طیاروں کی فروخت سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ انڈیا کو لگتا ہے کہ پاکستان کے لیے کسی فوجی امداد کا مقصد اسے انڈیا کے خلاف استعمال کرنا ہوتا ہے۔

    ڈونلڈ لو نے کہا کہ ’میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ (ایف 16 طیاروں کا) یہ منصوبہ فوجی امداد نہیں بلکہ امریکہ کی جانب سے فوجی ساز و سامان کی فروخت ہے۔ پاکستان کے لیے امریکی معاونت ایف 16 فائٹر جیٹس کے حوالے سے ہے اور نہ کہ کسی نئی طیارے، ہتھیار اور عسکری تجویز کے حوالے سے۔‘

    ’جب بھی امریکہ کسی ملک کو فوجی سامان فروخت کرتا ہے تو وہ اس کی تکنیکی معاونت بھی فراہم کرتا ہے۔‘

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت جانے کے بعد امریکہ نے پاکستان کے لیے فوجی امداد بحال کی تھی۔ عمران خان نے امریکہ اور خاص طور پر ڈونلڈ لو پر ان کی حکومت گرانے کا الزام لگایا تھا۔

    اس سے متعلق جب ڈونلڈ لو سے سوال پوچھا گیا تو انھوں نے اس کا جواب نہیں دیا۔ انھوں نے واضح کیا کہ وہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم کے حوالے سے کوئی سوال نہیں لیں گے۔

    خیال رہے کہ امریکی محکمۂ خارجہ نے کئی بار اس الزام کی تردید کی ہے۔ حال ہی میں امریکہ نے عمران خان کے لانگ مارچ پر فائرنگ کی مذمت کی تھی۔

    دریں اثنا انڈیا اور امریکہ کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے ڈونلڈ لو نے کہا کہ ’دفاعی معاہدوں پر عمل سے امریکہ اپنی حساس ٹیکنالوجی انڈیا کو منتقل کر رہا ہے اور دونوں ملک اس کی بہتری کے لیے تعاون کر رہے ہیں۔‘

    ’ہماری انڈیا سے بات چیت چل رہی ہے۔ جدید ہتھیار جیسے پریڈیٹر ڈرون اور ایف 18 جنگی طیارے بھی ممکنہ طور پر انڈیا کو فروخت کیے جاسکتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ امریکہ نے انڈیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اعلیٰ سطح پر بات چیت کی ہے۔

    ڈونلڈ لو نے کہا کہ انڈیا اور امریکہ دونوں یوکرین جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں مگر روس سے متعلق بعض اوقات دونوں ملکوں کی سوچ مختلف رہی ہے۔

  18. آرمی چیف کی تقرری کا فیصلہ آئینی عمل کے آغاز کے بعد مشاورت سے ہوگا: خواجہ آصف

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’میڈیا میں قیاس آرائی ہو رہی ہے کہ لندن میں نواز شہباز میٹنگ میں آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے کوئی فیصلہ ہوا ہے۔

    ’اس سلسلے میں مشاورت ضرور ہوئی لیکن فیصلہ انشاءاللہ آئینی عمل کے آغاز کے بعد مشاورت سے ہو گا۔‘

  19. چیک اپ اور پروسیجر کے لیے ہسپتال آیا: رانا ثنا اللہ

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے اے ایف آئی سی راولپنڈی سے پیغام میں بتایا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں اور صرف روٹین چیک اپ اور پروسیجر کے لیے ہسپتال آئے۔

    ’میرے دوست اور چاہنے والے آپریشن تھیٹر میں میری تصویر دیکھ کر پریشان ہوئے۔ ہسپتال میں رش کرنے کی ضرورت نہیں، اتوار تک گھر آجاؤں گا۔‘

  20. پاکستان کا عدالتی نظام صرف کمزور کے خلاف طاقتور ہے: فواد چوہدری

    رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری کہتے ہیں کہ ’برطانوی عدالت کے جج نے شہباز شریف پر بھاری جرمانہ عائد کیا تو لوگ حیران ہو گئے کہ یہ کیسے؟ ہمارے ہاں غیر منتخب لوگوں کا کنسورشیم بن گیا ہے جو ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں اور عوام اور انصاف بے وقعت ہو کر رہ گئے ہیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام