عمران خان نے 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کی کال دے دی

سابق وزیراعظم عمران خان نے پاکستان بھر سے کارکنان کو 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کی کال دے دی ہے۔ عمران خان نے کہا وہ اگلے ہفتے خود بھی اس مارچ کا حصہ بن جائیں گے۔ چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ حقیقی آزادی کے حصول تک یہ احتجاج جاری رہے گا۔

لائیو کوریج

  1. عمران خان پر حملے کے مرکزی ملزم نوید کا 12 روزہ جسمانی ریمانڈ, احتشام احمد شامی، صحافی، گوجرانوالہ

    گوجرانوالہ

    ،تصویر کا ذریعہPunjab Police

    گوجرانوالہ میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے عمران خان پر حملے کے مرکزی ملزم نوید کا 12 روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے۔

    پولیس کی جانب سے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی۔ عدالت نے ملزم کو دوبارہ 29 نومبر کو عدالت پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

    ملزم نوید کو جمعرات کو انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج رانا زاہد اقبال خان کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔

    پیشی کے موقع پر جے آئی ٹی کے افسران سمیت ایڈشنل آئی جی احسان اللہ چوہان اور ایس پی ملک طارق بھی شامل تھے۔

    ملزم نوید کو 3 نومبر کو جائے وقوعہ سے گرفتار کیا گیا تھا جبکہ واقعے کی ایف آئی آر 7 نومبر کو درج کی گئی تھی۔

    ملزم کو اندراج مقدمہ کے 14 روز بعد آج پہلی بار عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے ملزم کو تاخیر سے پیش کرنے پر تفتیشی افسران کی سرزنش کی۔ جج نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ ملزم کو 10 دن غیر قانونی حراست میں کیوں رکھا گیا جس پر تفتیشی افسر رانا امتیاز عدالت کو مطمئن نہ کر سکے جس پر عدالت نے اگلی پیشی پر جے آئی ٹی کے سربراہ کو جواب داخل کروانے کا حکم دیا ہے۔

  2. عمران خان: سنیچر کو اعلان کروں گا کہ کس دن راولپنڈی پہنچنا ہے

    عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ سنیچر کو اعلان کریں گے کہ ان کا مارچ راولپنڈی کس دن پہنچے گا۔

    اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا عوامی اجتماع ہو گا۔

  3. عمران خان: گھڑی کے معاملے پر امریکہ میں بھی کیس کروں گا

    عمران خان نے لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عمر فاروق ظہور اور جیو نیوز کے خلاف امریکہ، برطانیہ اور دبئی میں مقدمات دائر کریں گے۔

    واضح رہے کہ جیو نیوز نے اپنے پروگرام میں دبئی میں مقیم پاکستانی بزنس مین عمر فاروق کا انٹرویو کیا تھا جن کا دعویٰ ہے کہ عمران خان نے سعودی ولی عہد سے ملنے والی قیمتی گھڑی انھیں فروخت کی۔

    اس معاملے پر پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ عمر فاروق ظہور کو یہ گھڑی فروخت نہیں کی گئی۔

    اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ شہباز شریف اور ان کے بیٹوں پر 16 ارب روپے کی کرپشن کا کیس ایف آئی اے میں ہے۔ اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ نیب اور ایف آئی اے میں ’اپنے آدمی‘ لگوا کر شریف و زرداری خاندان کے کیسز معاف کروائے جا رہے ہیں۔

    عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ان کے دور میں تحریکِ عدم اعتماد آنے سے قبل ملک کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ 5 فیصد تھا مگر اب یہ 80 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ اب آرمی ایکٹ میں بھی ترمیم کی جا رہی ہے تاکہ اپنی پسند کا آرمی چیف لایا جائے۔ تاہم اُنھوں نے کہا کہ وہ آرمی چیف بننے کے امیدوار جنرلز میں سے کسی کے بارے میں بات نہیں کر رہے۔

    عمران خان نے اس موقع پر دوبارہ خود پر حملے کا الزام وزیرِ اعظم شہباز شریف، وزیرِ داخلہ رانا ثنااللہ اور میجر جنرل فیصل نصیر پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت کا سربراہ اور سابق وزیرِ اعظم خود پر حملے کی ایف آئی آر درج نہیں کروا پا رہا۔

  4. پی ٹی آئی لانگ مارچ: آئینی خلاف ورزی کا خطرہ ہو تو عدلیہ مداخلت کرے گی، چیف جسٹس سپریم کورٹ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    مارچ

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    ‏سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے جے یو آئی ایف کے سینیٹر کامران مرتضی کی جانب سے دائر درخواست غیر موثر ہونے پر نمٹاتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ اگر واضح طور پر آئینی خلاف ورزی کا خطرہ ہو تو عدلیہ مداخلت کرے گی۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو کامران مرتضی نے موقف اپنایا کہ ممکنہ طور پر لانگ مارچ ہفتے یا جمعے کو اسلام آباد پہنچے گا جس سے معمولات زندگی متاثر ہو سکتے ہیں۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ یہ ایگزیکٹیو کا معاملہ ہے، ان سے ہی رجوع کریں۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ غیر معمولی حالات میں ہی عدلیہ مداخلت کر سکتی ہے، جب انتظامیہ صورتحال کنٹرول کر سکتی ہے توعدالت مداخلت کیوں کرے؟

    سینیٹر کامران مرتضی نے موقف اپنایا کہ بات اب بہت آگے جا چکی ہے، پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں فائرنگ سے ایک شخص کی جان گئی۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ لانگ مارچ سیاسی مسئلہ ہے جس کا سیاسی حل ہو سکتا ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ اس قسم کے مسائل میں مداخلت سے عدالت کیلئے عجیب صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے اپنی درخواست میں ایک آڈیو کا ذکر کیا جس میں ہتھیار لانے کا ذکر ہے، آڈیو سچ ہے یا غلط لیکن اس سے امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ احتجاج کا حق لامحدود نہیں آئینی حدود سے مشروط ہے۔ تاہم چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ بظاہر لانگ مارچ کے معاملے میں عدالت کی مداخلت قبل از وقت ہو گی۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آپ چاہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ ڈپٹی کمشنر کا کردار ادا کرے۔ اس پر درخواست گزار سنیٹر کامران مرتضی کا کہنا تھا کہ بظاہر لگتا ہے کہ انتظامیہ صورتحال کو کنٹرول نہیں کر سکتی۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آپ ایک سینیٹر ہیں، پارلیمنٹ کو مضبوط کریں۔ اس پر کامران مرتضیٰ نے جواب دیا کہ میں ذاتی حیثیت میں عدالت آیا ہوں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ کیسے مان لیں کہ آپ حکومت کا حصہ بھی ہیں اور ذاتی حیثیت میں آئے ہیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ مفروضے کی بنیاد پر ہمارے پاس آئے ہیں۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا انتظامیہ نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے لیے جگہ کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا ہے؟

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو روات میں جلسے کا کہا تھا اور پی ٹی آئی سے بیان حلفی مانگا تھا جو اب تک پر نہیں ہوا۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریماریس دیے کہ اگر واضح طور پر آئینی خلاف ورزی کا خطرہ ہو تو عدلیہ مداخلت کرے گی۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی خلاف ورزی کرتا ہے تو ایگزیکٹیو کے پاس وسیع اختیارات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا عدلیہ کی مداخلت سے انتظامیہ اور پارلیمنٹ کمزور نہیں ہو گی؟

    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ انتظامیہ کو متحرک کریں کہ وہ اپنا کردار ادا کریں۔

    جسٹس عائشہ ملک کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں پارلیمنٹ سمیت کئی جگہوں پر احتجاج ہوتے ہیں، کیا کبھی باقی احتجاج کے خلاف آپ عدالتوں میں گئے ہیں؟

    انھوں نے سوال کیا کہ ایک مخصوص جماعت کے لانگ مارچ میں ہی عدالت کی مداخلت کیوں درکار ہے؟

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے جے یو آئی ایف کے سینیٹر کامران مرتضی کی جانب سے دائر درخواست غیر موثر ہونے پر نمٹا دی۔

  5. جلسہ کرنا حق ہے لیکن عام شہریوں کے حقوق متاثر نہیں ہونے چاہئیں، اسلام آباد ہائی کورٹ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی دھرنے کے باعث راستوں کی ممکنہ بندش کے خلاف تاجروں کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ جلسہ کرنا حق ہے لیکن عام شہریوں کے حقوق متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ کنٹینرز کو راستوں پر کھڑا کیا گیا ہے جس سے مشکلات درپیش ہیں۔

    درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہائی ویز اور موٹرویز پر ٹریفک کے روانی کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس طرح کی چیزوں میں فوری ایکشن لینا ہوتا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہائی ویز اور موٹرویز کو بند کر دیں گے تو ٹریڈ بھی متاثر ہو گی۔

    انھوں نے کہا کہ یہ کسی کا حق نہیں ہے کہ وہ کہہ دے کہ موٹروے پر دھرنا دے گا اور وہاں کھڑا ہو جائے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دھرنا کیس میں فیصلہ دیا تھا کہ تمام جلسے پریڈ گراؤنڈ میں ہوں گے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں غیر ملکی بھی ہیں، سفارتی نقل و حرکت بھی متاثر ہوتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ جو جلسہ کرنا چاہ رہے ہیں ان کا حق ہے مگر عام شہریوں کے حقوق بھی متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔

    انھوں نے کہا کہ ہائی ویز اور موٹرویز پر وفاق کا کنٹرول ہے، اور یہ بات واضح ہے کہ فیڈریشن اس متعلق ڈائریکشن دے سکتی ہے۔

    عدالت میں موجود ایڈووکیٹ جنرل بیرسٹر جہانگیر جدون کا کہنا تھا کہ دھرنے اور جلسے کے این او سی کے لیے پی ٹی آئی کی درخواست بھی زیر التوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس درخواست کو بھی اس کے ساتھ سنا جائے۔

    چیف جسٹس نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے دھرنے اور جلسے سے راستوں کی بندش کے خلاف تاجروں کی درخواست پر سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

  6. لانگ مارچ کے پنڈی آمد کی تاریخ کا اعلان عمران خان بروز ہفتہ جلسے میں کریں گے: اسد عمر

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  7. بریکنگ, ’میری جان کو اب بھی خطرہ ہے، وہ لوگ دوبارہ مجھے ختم کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں:‘ عمران خان

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وزیر آباد قاتلانہ حملے کے بعد بھی ان کی جان کو خطرہ ہے۔

    فرانسیسی نیوز چینل فرانس 24 ٹوڈے کے ساتھ ایک انٹرویو میں کسی ممکنہ خطرے کی موجودگی پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے مجھے لگتا ہے کہ وہ دوبارہ کوشش کر سکتے ہیں۔ میری جان کو اب بھی خطرہ ہے۔ وہ لوگ جو مجھے ختم کرنا چاہتے تھے کیونکہ میری پارٹی پاکستان کی سب سے مقبول سیاسی جماعت ہے۔‘

    سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ انھیں بڑے پیمانے پر عوامی حمایت حاصل ہے اور ’مجھے راستے سے ہٹانے کا واحد طریقہ مجھے ختم کرنا ہے لہذا میرے خیال میں اب بھی خطرہ موجود ہے۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’باقی تمام سیاسی جماعتوں کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود پی ٹی آئی نے ملک میں ہونے والے حالیہ ضمنی انتخابات میں 75 فیصد کامیابی حاصل کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے ضمنی انتخابات میں کلین سویپ کیا ہے کیونکہ لوگ ان مجرموں کو نہیں چاہتے جو اس وقت پاکستان پر حکومت کر رہے ہیں۔‘

    فرانس 24 ٹوڈے کے اینکر کی جانب سے عمران خان پر حملے سے متعلق پوچھے گئے سوال کہ گرفتار ملزم نے جرم قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب اس نے مذہبی عقائد کی بنا پر کیا لیکن کیا آپ اب بھی اس سب کا ذمہ دار وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ اور آئی ایس آئی کے ایک سنیئر افسر کو قرار دیتے ہیں؟

    اس کے جواب میں سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں نے ساڑھے تین سال حکومت کی ہے اور تمام خفیہ ایجنسیاں میرے نیچے کام کرتی تھیں، میں جانتا ہوں وہ کیسے کام کرتیں ہیں۔

    اس سازش کا تو میں نے حملے سے چھ ہفتے قبل ہی ایک عوامی جلسے میں بتا دیا تھا کہ مجھے ایک مذہبی جنونی کے ہاتھوں قتل کروانے کی منصوبہ سازی کی گئی ہے۔‘

    انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ’وزیر اعظم اور وفاقی وزیر داخلہ جن کا میں نے نام لیا ہے ہم ان کے ماضی سے واقف ہے یہ ماورائے عدالت کارروایئوں میں ملوث رہے ہیں۔ اور اب بھی اس کی آزادانہ تحقیقات ہوں گی تو ثابت ہو جائے گا کہ اس تمام کی منصوبہ بندی کی گئی اور اس کو مذہبی جنونی کا چہرہ دیا گیا۔ جبکہ سوشل میڈیا سے ثابت ہو گیا ہے کہ وہ ملزم بھی کوئی مذہبی رحجان نہیں رکھتا۔‘

    حکومت کی جانب سے چیف جسٹس آف پاکستان کو عمران خان پر حملے کی آزادانہ تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دینے کی درخواست پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں نے بھی چیف جسٹس سے درخواست کی ہے کہ اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں، ہم پر دو حملہ آوروں کے حملہ کیا۔ اور میں جانتا ہوں کہ آزادانہ تحقیقات میں یہ ثابت ہو جائے گا کہ یہ سب منصوبہ سازی تھی اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ موجودہ حکومت کو ہوتا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تمام تفتیشی ادارے ان تینوں افراد کے نیچے کام کرتے ہیں جنھیں میں حملے کا ذمہ دار قرار دیتا ہوں، لہذا چیف جسٹس اپنی ایک ٹیم بنائیں اور تمام ادارے انھیں اس متعلق آگاہ کریں صرف تب ہی آزادانہ تحقیقات ہونا ممکن ہے۔‘

    ڈی جی آئی ایس آئی کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس کے متعلق سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ایک خفیہ ادارے کے سربراہ کا اس طرح سے آ کر پریس کانفرنس کرنا مناسب نہیں تھا اور اگر میں ان کے جوابات دیتا تو اس سے فوج کے ادارے کو نقصان پہنچتا جو میں کبھی نہیں چاہتا۔‘

    انھوں نے کہا کہ اگرچہ اب وہ اسلام آباد کی جانب پارٹی کے لانگ مارچ میں شامل ہونے کے بعد مزید احتیاطی تدابیر اختیار کریں گے، لیکن موت کا خوف انھیں ’اس ملک میں قانون کی حکمرانی کے لیے لڑنے کے مشن کی پیروی کرنے سے نہیں روک سکتا۔‘

    فرانس 24 ٹوڈے کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ملک میں سیاسی مافیاز اور ادارے ہیں جو قانون سے بالاتر ہیں۔‘

    پی ٹی آئی حکومت کی اقتدار سے بے دخلی میں سائفر اور امریکی سازش کے بیانیے کے سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں نے کہا تھا کہ وہ سازش پیچھے رہ گئی ہے۔۔۔ میری حکومت امریکہ نے گرائی ہے۔۔۔ مجھے اس بات کو اس راستے میں نہیں آنے دینا چاہیے جو پاکستان کے عوام کے مفاد میں ہے۔ اور پاکستانی عوام کا مفاد تمام ممالک اور خاص طور پر امریکہ جو ایک سپر پاور ہے کے ساتھ اچھے تعلقات میں ہیں۔

  8. آرمی ایکٹ میں بڑی تبدیلی زیرِ غور نہیں: خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آرمی ایکٹ 1952 میں ترمیم سے کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی جا رہی اور اس حوالے سے میڈیا پر بحث بلاجواز ہے۔

    میڈیا اور سوشل میڈیا پر مختلف حلقے ایسی مبینہ ترمیم کا تعلق اگلے آرمی چیف کی تعیناتی سے جوڑ رہے تھے تاہم خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان آرمی ایکٹ میں کوئی بڑی تبدیلی کرنے پر غور نہیں کر رہی۔

    اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے سنہ 2019 کے اپنے فیصلے میں مذکورہ ایکٹ کی متعلقہ شقوں پر نظرِثانی کا مطالبہ کیا تھا جس پر آنے والے عرصے میں کام کیا جائے گا۔

    اخبار ڈان کے مطابق آرمی ایکٹ میں فوج کے نظام، فنگشن، سٹرکچر، کمانڈ اور قوائد و ضوابط کے حوالے سے کئی ترامیم کی تجویز دی گئی ہے۔ تاہم ان ترامیم میں سے سیکشن 176 زیادہ زیرِ بحث آیا ہے کیونکہ اس میں ریٹنشن (عہدے پر برقرار رکھنا) اور ریزگنیشن (مستعفی) جیسے الفاظ شامل کیے گئے ہیں۔

    کابینہ کمیٹی کے لیے وزارت دفاع کی سمری کے مطابق یہ ترامیم جی ایچ کیو نے تجویز کی ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر سپریم کورٹ میں کل سماعت ہو گی

    تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو قواعد و ضوابط کا پابند بنانے کے لیے سینیئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اور حکمران اتحاد میں شامل جماعت جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کی جانب سے آئین کے آرٹیکل (3)184 کے تحت دائر کردہ آئینی درخواست پر سماعت 17 نومبر کو صبح ساڑھے نو بجے ہو گی۔

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کرے گا۔

  10. عمران خان کے وکیل جے آئی ٹی، پولیس کے سامنے اپنا مؤقف پیش کریں: عدالت, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    سیشن کورٹ وزیرآباد نے چئیرمین تحریک انصاف عمران خان پر قاتلانہ حملہ کیس میں تحریک انصاف کی مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کے مدعی زبیر نیازی کو اپنا مؤقف پولیس اور جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کےسامنے پیش کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

    عدالت نے پولیس کو قانون کے مطابق درخواست کا فیصلہ کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

    عدالت نے حکم دیا ہے کہ تفتیشی افسر اور جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم درخواست گزار کا مؤقف قلمبند کریں۔

    عدالتی حکم پر پراسیکیوٹر جنرل پنجاب چوہدری خلیق الزمان عدالت پیش ہوئے جنھوں نے بتایا کہ اندراج مقدمہ کی درخواست پر کوئی اعتراض نہیں اور سپریم کورٹ کا حکم واضح ہے کہ جو درخواست پہلے جمع ہو مقدمہ اسی کے مطابق درج ہونا ہے۔

    ضلعی شکایات افسر وزیر آباد نے عدالت میں جواب جمع کروایا جس میں کہا گیا کہ واقعے کا دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ہے اور جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جس سے درخواست گزار اپنے تحفظات کے لیے رجوع کرسکتا ہے۔

  11. شاہ محمود قریشی: سابق وزیرِ اعظم کو ایف آئی آر کے لیے عدالتِ عظمیٰ جانا پڑا

    پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی نے جہلم میں پی ٹی آئی لانگ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ ملک کے سابق وزیرِ اعظم کو ایف آئی آر کے لیے سپریم کورٹ جانا پڑا۔

    اُنھوں نے کہا کہ پچھلے سات مہینے سے کردار کشی کا ایک سلسلہ شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت پہلے حکومت ختم کی گئی اور پھر مقدمات کی بوچھاڑ کر دی گئی۔

    اُنھوں نے کہا کہ ایک زمانے میں پیپلز پارٹی جہلم میں بہت مضبوط تھی مگر اب یہ جہلم میں دفن ہو چکی ہے۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے طویل عرصے تک جی ٹی روڈ پر ’راج‘ کیا مگر اب اُنھیں اس کی مزید اجازت نہیں دی جائے گی۔

  12. جیو اور جنگ کے خلاف پاکستان، دبئی اور برطانیہ میں مقدمات قائم کروں گا: عمران خان

    IK

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’مجھے (پاکستان کے) انصاف کے نظام سے کوئی امید نہیں ہے، اس وجہ سے اب میں جیو گروپ کے خلاف دبئی اور لندن میں بھی کیس کر رہا ہوں۔‘

    عمران خان نے کہا ہے کہ پہلے جیو اور جنگ میں ان کے خلاف کے مہم چلائی جاتی ہے اور پھر اس کی بنیاد پر الیکشن کمیشن میں مقدمات قائم کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر بھی ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، اس وجہ سے وہ ان کے خلاف بھی مقدمہ قائم کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

  13. عمران خان کا لانگ مارچ سے خطاب: آرمی چیف کی تعیناتی میرٹ پر کی جانی چاہیے

    عمران خان کا لانگ مارچ سے خطاب: آرمی چیف کی تعیناتی میرٹ پر کی جانی چاہیے

    ،تصویر کا ذریعہ@PTI

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے بدھ کو لانگ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کی تقرری میرٹ پر کی جانی چاہیے۔ انھوں نے کہا سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف دونوں فوج کے سربراہ کی تقرری کے لیے اہل نہیں ہیں۔

    ان کے مطابق ان کے مفادات ہی پاکستان سے نہیں ملتے اور ان کا پیسہ بھی باہر پڑا ہوا ہے۔

    عمران خان نے کہا اب وہ سن رہے ہیں کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ان حکمرانوں کی جو بھی تقرری ہوتی ہے وہ ان کے مفادات کے گرد گھومتی ہے۔ ان کے مطابق ان کا مقصد ہی پیسہ بنانا اور پھر این آر او حاصل کرنا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ یہ اداروں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے خبردار کیا کہ انھوں نے اس سے قبل پنجاب پولیس کو بھی خراب کیا ہے۔

  14. نادانستہ طور پر اٹھائے گئے اقدام پر افسوس ہے، جانتے بوجھتے سپریم کورٹ کے احکامات کی حکم عدولی نہیں کی: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    25 مئی کے لانگ مارچ سے متعلق توہین عدالت کیس میں عمران خان نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب جمع کروا دیا ہے جس میں ان کا دعویٰ ہے کہ اُن کی جانب سے جانتے بوجھتے سپریم کورٹ کی حکم عدولی نہیں کی گئی۔

    سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے اپنے جواب میں عمران خان کا مزید کہنا ہے کہ ’میں یقین دہانی کرواتا ہوں کہ مجھے 25 مئی کی شام کو عدالتی حکم کے بارے آگاہ نہیں کیا گیا۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں بابر اعوان کی مجھ سے ملاقات کروانے کا بھی کہا گیا لیکن عدالتی حکم کے باوجود انتظامیہ نے بابر اعوان کی مجھ سے ملاقات کرنے میں کوئی سہولت فراہم نہیں کی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’25 مئی کو 6:45 پر کارکنان کو دیا گیا ویڈیو پیغام سیاسی کارکنان کی جانب سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر جاری کیا گیا۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’احتجاج کے دوران جیمرز کی وجہ سے فون کی ذریعے رابطہ ناممکن تھا۔ نادانستہ طور پر اٹھائے گئے اقدام پر افسوس ہے۔‘

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ’اس بات کی تردید کرتا ہوں کہ اداروں کی رپورٹس عدالتی حکم عدولی ثابت کرتی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ اداروں کی رپورٹس حقائق کے خلاف ہیں اور ایجنسیوں کی رپورٹس یکطرفہ ہیں۔

    عمران خان نے اپنے جواب میں استدعا کی ہے کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم کی جائے۔

  15. وزیر اعلیٰ نے لکی مروت حملے پر آئی جی سے رپورٹ طلب کر لی

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے آئی جی پولیس سے لکی مروت واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے۔

    ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ ’واقعہ انتہائی افسوناک ہے۔ شہدا کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔‘

    وزیر اعلیٰ نے شہدا کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

    ادھر وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے بھی چیف سکریٹری اور آئی جی کے پی سے رپورٹ طلب کی ہے۔

  16. ’دہشت گردی بدستور پاکستان کے اہم مسائل میں سے ایک ہے‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وزیر اعظم شہباز شریف نے لکی مروت واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’دہشت گردی بدستور پاکستان کے اہم مسائل میں سے ایک ہے۔

    ’ہماری مسلح افواج اور پولیس نے بہادری سے اس کا مقابلہ کیا ہے۔ لکی مروت میں پولیس وین پر دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کے لیے الفاظ کافی نہیں۔ میرے خیالات اور دعائیں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔‘

  17. لکی مروت میں ٹی ٹی پی کا پولیس موبائل پر حملہ، چھ اہلکار ہلاک

    حکام کے مطابق پولیس اہلکار معمول کی گشت پر تھے کہ راستے میں گھات لگائے افراد نے اچانک ان پر فائرنگ شروع کر دی جس سے موبائل گاڑی پر سوار تمام چھ اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    یہ واقعہ خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں آج بدھ کی صبح پیش آیا ہے۔

    لکی مروت پولیس کے ترجمان کے مطابق موبائل گاڑی پر ایک اے ایس آئی اور ڈرائیور سمیت چھ اہلکار سوار تھے اور یہ گاڑی شہاب خیل کے علاقے میں معمول کی گشت پر تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور قریب درختوں کی آڑ میں چھپے ہوئے تھے اور جیسے ہی گاڑی وہاں پہنچی تو فائرنگ شروع کر دی۔ اس حملے میں اے ایس آئی علم دین سمیت چھ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

    واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے لیکن اب تک حملہ آوروں کی نشاندہی نہیں ہو سکی۔ حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی ہے۔

    ادھر پولیس کے مطابق اس واقعے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ آئی جی خیبر پختونخوا پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’شرپسندوں کی بزدلانہ کارروائیاں پولیس فورس کے حوصلے پست نہیں کر سکتی۔

    ’آخری ہشتگرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔‘

  18. جس شخص کو خریدار بنا کر پیش کیا گیا، اس کو گھڑی فروخت نہیں کی گئی، فواد چوہدری

    تحریک انصاف رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ جس شخص کو خریدار بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، اس کو گھڑی فروخت نہیں کی گئی اور نا ہی اس شخص کا عمران خان سے کوئی تعلق ہے۔

    فواد چوہدری جیو نیوز پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو کی جانب اشارہ کر رہے تھے جس میں عمر فاروق نامی کاروباری شخصیت نے دعوی کیا کہ عمران خان کی جانب سے توشہ خانہ سے ملنے والی جو گھڑی بیچی گئی، وہ انھوں نے سابق معاون خصوصی شہزاد اکبر کے ذریعے خریدی۔

    عمر فاروق نے جیوز نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فرح خان یہ گھڑی لے کر ان کے پاس آئیں، جس کی تصدیق انھوں نے گھڑی بنانے والی کمپنی سے کروانے کے بعد اس وقت کے حساب سے دو ملین ڈالر کی رقم ادا کی۔

    ان کے مطابق یہ گھڑی سعودی ولی عہد نے عمران خان کو بطور تحفہ دی تھی۔

    فواد چوہدری نے ٹؤٹر پر بیان دیا کہ ’عمران خان نے توشہ خانہ سے اس قانون کے مطابق گھڑی خریدی اور یہ گھڑی ان کی ٹیکس ریٹرن اور الیکشن کمیشن کے گوشواروں میں Declared ہے۔‘

    فواد چوہدری نے کہا کہ ’کسی وزیر اعظم کو کبھی براہ راست تحفہ نہیں دیا جاتا، جب بیرون ملک دورے میں ایک تحفہ ملتا ہے تو وہ وزارت خارجہ کا پروٹوکول آفیسر وصول کرتا ہے اور وہ وطن واپسی پر روزہ خانہ میں جمع کرا کر اس کی رسید متعلقہ ڈیپارٹمنٹ میں جمع کرواتا ہے۔‘

    ان کے مطابق ’ان تحائف کی قیمت طے کی جاتی ہے اور عمران خان حکومت سے پہلے رولز کے مطابق اس قیمت کا 25% ادا کر کے وہ تحفہ ذاتی ملکیت میں لیا جا سکتا تھا۔‘

    فواد چوہدری نے کہا کہ ’تحریک انصاف نے اس شرح کو 50 فیصد تک بڑھا دیا، یعنی قانون کے مطابق جس شخص کو تحفہ ملا ہے وہ اس تحفے کی قیمت کا 50 فیصد ادا کرکے تحفہ ذاتی ملکیت میں لے سکتا ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. عمران خان حملہ: جے آئی ٹی کی تشکیل نو، سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کنوینر مقرر, عمر دراز ننگیانہ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

    پنجاب حکومت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے قافلے پر وزیر آباد میں ہونے والے حملے کی جے آئی ٹی کی ایک بار پھر تشکیل نو کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کو کنوینر بنا دیا ہے۔

    محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق غلام محمود ڈوگر کے علاوہ اس جے آئی ٹی میں آر پی او ڈیرہ غازی خان سید خرم علی، اے آئی جی انوسٹیگیشن برانچ احسان اللہ چوہان، ایس پی ملک طارق محبوب اور سی ٹی ڈی کے نصیب اللہ خان شامل ہوں گے۔

    واضح رہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے پہلی جے آئی ٹی میں ڈی آئی جی طارق رستم کو سربراہ بنایا گیا تھا تاہم بعد میں ان کی جگہ آر پی او ڈیرہ غازی خان کو جے آئی ٹی کا سربراہ بنانے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا۔

    اب اس جے آئی ٹی میں تیسری بار تبدیلی کی گئی ہے اور اس کی سربراہی سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کو سونپی گئی ہے جن کو حال ہی میں وفاقی حکومت نے معطل کیا تاہم ان کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا جس کے بعد فیڈرل سروس ٹریبونل (ایف ایس ٹی) نے ان کو اپنے عہدے پر کام جاری رکھنے کی اجازت دی۔

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPUNJAB GOVERNMENT

  20. ارشد شریف قتل کیس: فیصل واوڈا اور مراد سعید کو ایف آئی اے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے طلب کر لیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف قتل کیس کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے پی ٹی آئی کے سابق رہنما فیصل واوڈا اور سابق وفاقی وزیر مراد سعید کو طلب کر لیا ہے۔

    ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق دونوں افراد کو طلبی کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں اور ان کو سوموار کے دن ایف آئی اے ہیڈکوارٹر طلب کیا گیا ہے۔

    ایف آئی اے اہلکار کے مطابق فیصل واوڈا اور مراد سعید نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ارشد شریف کو لاحق خطرات سے آگاہ تھے۔

    دونوں رہنماؤں کو جاری ایف آئی اے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ساتھ شواہد لے کر آئیں۔

    ایف آئی اے اہلکار کے مطابق فیصل ووڈا نے گزشتہ ماہ ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ دعوی کیا تھا کہ ارشد شریف کے قتل کا منصوبہ پاکستان میں تیار کیا گیا اور اگر اعلی سطح پر کوئی کمیٹی قائم کی گئی تو وہ اس کے سامنے حقائق اور شواہد رکھنے کو تیار ہیں۔

    دوسری جانب سابق وفاقی وزیر مراد سعید نے بھی دعوی کیا تھا کہ وہ ارشد شریف کے قتل کے بارے میں بہت سی معلومات رکھتے ہیں۔

    واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے ارشد شریف قتل کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر اطہر وحید کی سربراہی میں دو رکنی کمیٹی تشکیل دے رکھی ہے۔ یہ ٹیم اس وقت دبئی میں ہے۔