آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

عمران خان نے 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کی کال دے دی

سابق وزیراعظم عمران خان نے پاکستان بھر سے کارکنان کو 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کی کال دے دی ہے۔ عمران خان نے کہا وہ اگلے ہفتے خود بھی اس مارچ کا حصہ بن جائیں گے۔ چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ حقیقی آزادی کے حصول تک یہ احتجاج جاری رہے گا۔

لائیو کوریج

  1. چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان خطاب کر رہے ہیں

    عمران خان اس وقت لائیو خطاب کر رہے ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ اُنھیں قتل کروانے کا منصوبہ ستمبر میں بنا اور یہ پلان بنایا گیا تھا کہ ان کے قتل کے لیے توہینِ مذہب کا عذر تراشا جائے گا۔

    اُنھوں نے وزیر آباد حملے میں حملہ آور کا ہاتھ روکنے والے ابتسام کو خراج تحسین پیش کیا اور پی ٹی آئی کارکن معظم کی ہلاکت پر افسوس کیا۔

  2. جنرل قمر جاوید باجوہ کے منگلا اور سیالکوٹ چھاؤنی کے الوداعی دورے

    پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے الوداعی دوروں کے سلسلے میں منگلا اور سیالکوٹ چھاؤنی کا دورہ کیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل باجوہ نے دونوں مقامات پر افسران اور جوانوں سے خطاب اور ملاقاتیں کیں۔

    یہ پہلا موقع ہے کہ آئی ایس پی آر نے جنرل قمر باجوہ کے الوداعی دوروں کی تفصیل دی ہے۔

    ادارے کی جانب سے بدھ کو بھی آرمی چیف کے دورۂ پشاور کی خبر دی گئی تھی تاہم اس دورے کو الوداعی دورہ قرار نہیں دیا گیا تھا۔

    جنرل قمر جاوید باجوہ اپنی مدتِ ملازمت میں توسیع کی مدت کے خاتمے پر 29 نومبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے ماضی قریب میں یہ کہا گیا تھا کہ انھیں مارچ میں اس وقت کی حکومت کی جانب سے غیرمعینہ مدت کے لیے فوج کا سربراہ تعینات کرنے کی پیشکش کی گئی تھی تاہم جنرل باجوہ نے اسے قبول نہیں کیا تھا۔

  3. بریکنگ, لانگ مارچ کے سفر کی حکمت عملی تبدیل، ’اب قافلہ نہیں چلے گا، شہر شہر جلسہ ہو گا‘, احتشام شامی، صحافی

    تحریک انصاف نے لانگ مارچ کو آگے بڑھانے کی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے۔

    جماعت کے رہنماؤں کے مطابق اب پہلے کی طرح لانگ مارچ گاڑیوں کے قافلے کی طرح آگے نہیں بڑھایا جائے گا بلکہ اسلام آباد تک رستے میں آنے والے تمام شہروں میں جلسے کیے جائیں گے۔

    جمعے کو اسی سلسلے میں وزیر آباد کے کچہری چوک میں لانگ مارچ کے تحت جلسہ ہوا ہے جو کہ عمران خان کی ویڈیو لنک تقریر کے بعد اختتام پذیر ہو جائے گا۔

    اس کے بعد جمعے کو گجرات اور سنیچر کو لالہ موسیٰ ، کھاریاں اور سرائے عالمگیر میں جلسے ہوں گے جس کے اگلے روز جہلم میں لانگ مارچ کے تحت جلسہ ہو گا۔

    وزیرآباد میں تحریکِ انصاف کی رہنما یاسمین راشد نے جلسے سے قبل کہا ہے کہ لانگ مارچ کا مرکزی کنٹینر ایک شہر سے دوسرے شہر الگ جایا کرے گا جبکہ کارکن الگ جائیں گے۔

    یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ’آج وزیرآباد اور کل دوپہر گجرات سے شروع کریں گے۔ پہلے پورا روٹ فالو کرتے تھے اب کینٹینر ایک سے دوسرے شہر الگ جایا کرے گا‘۔

  4. فواد چوہدری: لوگ اس نظام کو بدلنا چاہتے ہیں جس میں انصاف نہ ہو

    پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب میں کہا ہے کہ جس تحریک میں عمران خان کا لہو شامل ہے وہ تحریک ضرور کامیاب ہو گی۔

    وزیرآباد کے کچہری چوک میں خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ وہ حملہ آور کو روکنے والے ابتسام کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ لوگ اس نظام کو بدلنا چاہتے ہیں جس میں انصاف نہ ہو۔

    اُنھوں نے کہا کہ پنجاب میں ہماری حکومت ہے لیکن پھر بھی وہ کنٹینر پر حملے کا مقدمہ درج نہیں کروا سکے۔

    سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ان کی اداروں سے کوئی لڑائی نہیں لیکن قانون کی حکمرانی کو لانا ہو گا اور فیصلے بند کمروں میں نہیں ہونے چاہییں۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں کامیابیاں ملیں اور لوگوں نے عمران خان کے بیانیے کو تسلیم کیا مگر پاکستان میں جس کی باتیں پسند نہ آئیں اسے دیوار سے لگا دیا جاتا ہے۔

  5. رانا ثنااللہ: ’سرکاری پروٹوکول‘ میں سڑکوں کی بندش سے عوام پریشان ہیں

    وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ ’پولیس کی حفاظت اور سرکاری پروٹوکول‘ میں پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے سڑکیں بند کرنے سے عوام کا کاروبارِ زندگی سخت متاثر ہو رہا ہے۔

    اپنے ایک بیان میں اُنھوں نے کہا کہ یہ صورتحال نہ صرف ’ناقابل برداشت‘ ہے بلکہ لاکھوں عوام کے لیے تکلیف دہ بھی ہے۔

    وزیرِ داخلہ نے کہا کہ وہ کسی قسم کا سیاسی تصادم نہیں چاہتے اور نا ہی اس کی اجازت دے سکتے ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے مقامی رہنما اور اراکین اسمبلی عوام کو ان مشکلات سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

  6. عمران خان پر قاتلانہ حملہ: اپنی مرضی کی ایف آئی آر کے اندراج کے لیے پی ٹی آئی کی عدالت میں درخواست

    پاکستان تحریک انصاف کی لیگل ٹیم عمران خان پر قاتلانہ حملے سے متعلق اپنی درخواست پر مقدمہ کے اندراج کے لیے وزیر آباد کی سیشن عدالت پہنچ چکی ہے، اس درخواست میں مدعی زبیر خان نیازی بھی لیگل ٹیم کے ہمراہ ہیں۔

    صحافی احتشام شامی کے مطابق لیگل ٹیم میں شامل وکلا کا کہنا ہے کہ اندراج مقدمہ کے لیے 22AB کی رٹ پٹیشن دائر کی گئی ہے جس میں زبیر خان نیازی کی درخواست پر مقدمہ درج نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔

    سیشن عدالت میں اس کیس کی پیروی کے لیے ممبر پنجاب بار کونسل اورنگزیب مرل ایڈووکیٹ اور جنید افتخار ناہرو کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

  7. لانگ مارچ کے لیے کنٹینر کی چھت پر بلٹ پروف روسٹرم

  8. راولپنڈی، اسلام آباد میں تحریک انصاف کا احتجاج ختم ہونے کے بعد سٹرکیں ٹریفک کے لیے کھول دی گئیں

    پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے راولپنڈی میں مری روز اور لاہور جانے والی ایم ٹو موٹروے پر اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے جس کے بعد گذشتہ کچھ عرصے سے بند سڑکوں کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق مری روڈ پر شمس آباد کے مقام پر قائم تحریک انصاف کے احتجاجی کیمپ کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر ترجمان وزیر اعلیٰ پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ ان کی جماعت کا اس مقام پر گذشتہ چار روز سے دھرنا جاری تھا تاہم اب قیادت کے حکم پر اسے ختم کیا جا رہا ہے۔

    فیاض الحسن چوہان کا مزید کہنا تھا چار روز سے جاری احتجاج کے دوران ایک پتا تک نہیں ٹوٹا۔ تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج ختم ہونے کے بعد مری روڈ کو شمس آباد کے مقام پر ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

    اسی طرح راولپنڈی پولیس کے مطابق پیر ودھائی موڑ پر جاری احتجاجی دھرنا بھی ختم کر دیا گیا ہے جس کے بعد کیمپ کو ہٹا کر سٹرک ٹریفک کی آمد و رفت کے لیے کھول دی گئی ہے۔ راولپنڈی ٹریفک پولیس کے مطابق تمام ڈائیورشن ہٹا دی گئیں۔

    پولیس کے مطابق لاہور جانے والی ایم ٹو موٹروے پر واقع تحریک انصاف کا احتجاجی پنڈال خالی ہو چکا ہے اور یہاں موجود خیبرپختونخوا کے کارکن یہاں سے واپس روانہ ہو چکے ہیں۔

    پولیس کے مطابق موٹر وے کُھل چکا ہے اور ٹریفک رواں دواں ہے۔

  9. وزیر آباد میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ: پولیس نے 235 سیاسی کارکنوں سے امن قائم رکھنے کے شورٹی بانڈز لے لیے

    وزیر آباد میں لانگ مارچ کا دوبارہ آغاز ہونے سے قبل پنجاب پولیس نے مختلف جماعتوں کے 235 سرگرم کارکنوں سے شخصی ضمانت نامے یا شورٹی بانڈز طلبکر لیے ہیں۔

    وزیر آباد پولیس کے مطابق سکیورٹی پلان پر عمل درآمد کرتے ہوئے صوبائی ہوم ڈیپارٹمنٹ کی ہدایات کے پیش نظر مسلم لیگ نون، پیپلزپارٹی، ٹی ایل پی اور جماعت اسلامی کے مقامی عہدیداران، سرگرم کارکنوں اور ٹکٹ ہولڈروں سے امن قائم رکھنے کی ضمانت لی گئی ہے۔

    وزیرآباد پولیس نے مختلف جرائم میں ملوث سابقہ ریکارڈ یافتہ 18 افراد کو بھی نظر بند کر دیا ہے، اور پولیس ترجمان کے مطابق آج رات تحریک انصاف کی وزیر آباد سے ریلی ختم ہونے کے بعد سابقہ ریکارڈ یافتہ افراد کو شخصی ضمانت پر چھوڑ دیا جائے گا۔

  10. احتجاجی مظاہرے اور کار سرکار میں مداخلت کیس میں عمران خان کی عبوری ضمانت میں توسیع

    اسلام آباد کی انسداد دہشتگری عدالت کے جج راجہ جواد عباس حسن نے احتجاجی مظاہرے اور کار سرکار میں مداخلت کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی ہے۔

    جمعرات کوتھانہ سنگجانی میں درج مقدمہ میں درخواست ضمانت پر سماعت میں بابر اعوان ایڈووکیٹ عدالت پیش ہوئے اور عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان میڈیکلی ان فٹ ہیں اور پیش نہیں ہو سکتے۔

    عدالت نے میڈیکل گراؤنڈ پر عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے اس کیس کی سماعت 21 نومبر تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

  11. ممنوعہ فنڈنگ کیس میں عمران خان کی عبوری ضمانت منظور

    اسلام اباد کی بینکنگ کورٹ نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کےفارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت درج مقدمہ میں سابق وزیر اعظم عمران خان، طارق شفیع، فیصل مقبول و دیگر کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی۔

    جمعرات کو سماعت کے دوران وکیل انتظار حسین پنجوتھا نے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان ایک ہفتے کی بیڈ ریسٹ پر ہیں، حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔ دوران سماعت شریک ملزم فیصل مقبول شیخ کی جانب سے بھی استثنیٰ کی درخواست دائرکی گئی جبکہ کیس میں شریک ملزمان حامد زمان، سردار اظہر، سید یونس، طارق شفیع عدالت پیش ہوئے۔

    سپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ کرنل ریٹائرڈ یونس، طارق شفیع، حامد زمان کی جانب سے انوسٹیگیشن جوائن کی گئی ہے جبکہ دیگر ملزمان کی جانب سے انوسٹیگیشن جوائن نہیں کی گئی نہ ہی تعاون کیا جا رہا ہے۔

    عدالت نے طرفین کے دلائل مکمل ہونے پر ملزمان کی عبوری ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے سماعت 23 نومبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔

  12. صادق اور امین کا اعلیٰ پیمانہ صرف منتخب نمائندوں کے لیے ہے: اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی نااہلی کی درخواستیں مسترد ہونے کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کا بطور جج منتخب نمائندوں پر بالادستی کا دعویٰ نہیں۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صادق اور امین کا اعلیٰ پیمانہ منتخب نمائندوں کے علاوہ کسی آفس ہولڈر کے لیے موجود نہیں ہے، یہ پیمانہ ان غیر منتخب لوگوں کے لیے بھی نہیں جن کی حکومت میں اس ملک کی آدھی عمر گزری۔

    فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ 62 ون ایف کے تحت نااہلی کے گہرے اثرات ہوتے ہیں، پارلیمنٹ نمائندوں کی خود احتسابی کا اپنا میکنزم بنا سکتی ہے، فواد چوہدری اور آصف زرداری کسی کورٹ آف لا سکے سزا یافتہ نہیں ہیں، دونوں عوامی نمائندوں کی نااہلی متنازع حقائق پر مانگی گئی۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ خواجہ آصف کو اسی عدالت نے نااہل قرار دیا تھا اور7 ماہ بعد سپریم کورٹ نے ان کی اپیل منظور کر لی، اس دوران خواجہ آصف کے حلقے کے عوام نمائندگی سے محروم رہے، یقیناً اس دوران خواجہ آصف کو سیاسی نقصان اور بدنامی کا سامنا بھی رہا۔

    نااہلی کا فیصلہ دینے میں کسی بھی غلطی سے ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے، عوام کو ہی اختیار ہونا چاہیے، وہ فیصلہ کریں ان کی نمائندگی کون کرے گا، اکیلے عوام ہی طے کر سکتے ہیں کون صادق اور امین ہے۔

  13. راولپنڈی میں راستوں کی بندش، انتظامیہ کے اعلیٰ افسران ذاتی حیثیت میں عدالت طلب, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کے جج جسٹس مرزا وقاص رؤف نے شہر کی مختلف شاہراہوں کی بندش کے خلاف درخواست پر کمشنر راولپنڈی سمیت ڈپٹی کمشنر، سٹی پولیس افسر کو جمعے کو عدالت میں ذاتی حثیت میں طلب کر لیا ہے۔

    لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں دائر پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایک سیاسی جماعت کے دھرنے کی وجہ سے راولپنڈی کے مختلف راستوں کو بند کر دیا گیا ہے اور سڑکوں کی بندش کی وجہ سے لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہو رہے ہیں جو کہ آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے۔

    درخواست گزار کا یہ بھی موقف ہے کہ راستوں کی بندش سے تعلیمی ادارے بھی بند کر دیے گئے ہیں جس سے طلبا کو بھی تعلیم سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

    خیال رہے کہ تحریکِ انصاف کے کارکنوں نے راولپنڈی کی مصروف شاہراہ مری روڈ کو شمس آباد کے مقام پر بند کر رکھا ہے جس کی وجہ سے وہاں آمدورفت کا سلسلہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔

    مری روڈ کے علاوہ بھی شہر میں کئی دیگر مقامات پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کی ٹولیاں راستے بند کروا رہی ہیں۔

  14. لانگ مارچ کے گرد دو درجاتی سکیورٹی حصار، سکیورٹی انتظامات پر کوئی سمجھوتہ نہیں: پرویز الٰہی

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ جمعرات کو وزیرآباد سے دوبارہ شروع ہونے والے تحریکِ انصاف کے لانگ مارچ میں شامل پی ٹی آئی کی قیادت اور شرکا کو ہر شہر میں مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق لانگ مارچ کے گرد دو درجاتی سکیورٹی حصار بنایا جائے گا جبکہ سکیورٹی انتظامات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ اس سلسلے میں پنجاب کے ہر ضلعے میں پولیس اور انتظامیہ کے افسران کو کوآرڈینیشن کے لیے مامور کیا گیا ہے۔

    بیان کے مطابق لانگ مارچ کے روٹ کے راستے کی عمارتوں کی چھتوں پر سنائپرز کمانڈوز تعینات کیے جائیں گے اور 15 ہزار پولیس اہلکار سکیورٹی ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کی ڈرون اورسی سی ٹی وی کیمروں سے تسلسل کے ساتھ نگرانی کی جائے گی جبکہ کنٹینر پربلٹ پروف روسٹرم اور بلٹ پروف شیلڈز کا استعمال یقینی بنانے کے لیے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

  15. مصطفیٰ نواز کھوکھر سینیٹ سے مستعفی

    پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے اپنا استعفیٰ جمعرات کو چیئرمین سینیٹ کو جمع کرا دیا۔

    استعفے میں کہا گیا ہے کہ وہ سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی ہدایت پر استعفیٰ دے رہے ہیں۔

    مصطفیٰ نواز کھوکھر 2018 میں سندھ سے سینیٹر منتحب ہوئے تھے۔

    مستعفی ہونے کے بعد ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنے والے لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ کسی سیاسی جماعت کا حصہ نہیں بن رہے اور آزاد رہیں گے۔

  16. عمران خان کا لانگ مارچ سے خطاب 4:30 بجے

  17. لانگ مارچ کے لیے نیا کنٹینر تیار، بلٹ پروف روسٹرم نصب

    تفصیلات کے مطابق نئے کنٹینر پر بلٹ پروف روسٹر بھی لگایا گیا ہے۔

    سادہ لباس میں ملبوس سکیورٹی اہلکار کنٹینر پر تعینات کیے گئے ہیں۔ وزیر آباد میں چھ ہزار پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔

    سیالکوٹ، اوکاڑہ، شیخوپورہ، نارووال، گوجرانوالہ اور گجرات کی پولیس کو بھی طلب کیا گیا ہے جن کی یہاں ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں۔

    گاڑیوں کو کچہری چوک سے دو کلو میٹر دور پارک کروایا جارہا ہے۔ لوگ پیدل چل کر کچہری چوک آرہے ہیں۔

    وزیر آباد میں لانگ مارچ کے دوران کسی ہنگامی صورتحال سے نبردآزما ہونے کے لیے ریسکیو 1122 کو ذمہ داری دی گئی ہے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق گرد و نواح کے اضلاع سے بھی ریسکیو اہلکاروں کی ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں۔

  18. تعلیمی ادارے بند کرنے پر چھ اداروں کو اظہار وجوہ نوٹس

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے تعلیمی ادارے بند کرنے پر چھ اداروں کو اظہار وجوہ کا نوٹس بھیج دیا ہے۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ ’وفاقی دارلحکومت کا کوئی بھی روڈ بند نہیں۔ پھر بھی ادارے میں چھٹی کا اعلان کیا گیا۔

    ’راستوں کی بندش یا ڈپٹی کمشنر کی ہدایت کے بغیر ادارے بند نہ کریں۔ ادارے بند کرنے سے تعلیم حاصل کرنے کے طریقہ کار خراب ہوتا ہے۔‘

  19. خیبرپختونخوا میں عمران خان کی تقاریر کے لیے سکرینز، مختلف شہروں میں مظاہروں کا منصوبہ, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    خیبر پختونخوا میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی تقاریر کے لیے سکرین نصب کی جائیں گی۔

    پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے حوالے سے خیبر پختونخوا میں احتجاج کا پلان ترتیب دے دیا گیا ہے جس کے تحت پرویز خٹک اور دیگر صوبائی قائدین مختلف شہروں میں احتجاج میں شامل ہوں گے۔

    آج سے دوبارہ شروع ہونے والے حقیقی آزادی لانگ مارچ کے سلسلے میں صوبائی قائدین مانسہرہ جائیں گے جہاں صوبائی صدر کا دوپہر 2:30 بجے ہر ڈسٹرکٹ میں داخلے پر ریلی کی شکل میں استقبال کیا جائے گا۔

    ریلی کا قافلہ کم از کم 50 گاڑیوں پر مشتمل ہوگا۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی شام 4:00 بجے لائیو تقریر بڑی سکرین پر نشر کرنے کے انتظامات کیے جائیں گے۔

    قائدین نے بتایا کہ جماعت کی جانب سے جاری احتجاج میں ضلع کی سطح پر بڑی تعداد میں مظاہرین شامل ہوں گے۔ صوبائی قائدین میں صدر پرویز خٹک، اسد قیصر، شاہ فرمان، عاطف خان، شہرام خان ترکئی اور فضل محمد خان شامل ہوں گے جو ہزارہ ڈویژن اور پشاور ریجن کے مختلف اضلاع کا دورہ کریں گے۔

    اس پروگرام کے تحت آج مانسہرہ اور کل جمعہ کے روز ایبٹ آباد میں صوبائی قائدین پہنچیں گے۔ اس کے بعد سنیچر کے روز ہری پور، اتوار کے روز نوشہرہ، اس کے بعد چارسدہ، صوابی، مردان، پشاور، خیبر اور مہمند ضلع میں احتجاجی مظاہرے ہوں گے۔

    صوبائی قائدین نے بتایا کہ ان اضلاع میں مقامی قائدین اور کارکن بڑی تعداد میں شرکت کریں گے اور اس کے بعد جب لاہور سے روانہ ہونے والی لانگ مارچ اسلام آباد پہنچے گی تو پشاور ریجن، ملاکنڈ، ہزارہ ریجن اور جنوبی اضلاع سے قائدین اور کارکن اسلام آباد پہنچیں گے۔

    اسی طرح خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں پی ٹی آئی کے صوبائی جنرل سیکرٹری علی امین گنڈہ پور کی قیادت میں قافلے مختلف شہروں میں جائیں گے۔ اس سلسلے میں آج یہ قافلہ لکی مروت پہنچے گا جبکہ کل یعنی جمعہ کے روز ضلع بنوں اور اتوار کے روز یہ قافلہ ضلع کرک میں پہنچے گا۔

    اس قافلے کا مقامی سطح پر استقبال کیا جائے گا جہاں بڑی سکرین پر عمران خان کی تقریر نشر کی جائے گا۔

  20. ایک تعیناتی سب پہ بھاری ہے: شیخ رشید

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ ’شہباز شریف جاتے شرم الشیخ ہیں اور حسب معمول نکلتے لندن میں ہیں۔ ایک تعیناتی سب پہ بھاری ہے۔ نواز شریف نے جتنے لوگوں کو تعینات کیا ان سب سے پھڈا کیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’نوازشریف، آصف زرداری اور فضل الرحمن کو مایوسی ہوگی۔ فیصلہ میرٹ پر ہوگا اور الیکشن ہوں گے۔ مارنے والے سے بچانے والا زیادہ طاقتور ہے۔‘