آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

عمران خان نے 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کی کال دے دی

سابق وزیراعظم عمران خان نے پاکستان بھر سے کارکنان کو 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کی کال دے دی ہے۔ عمران خان نے کہا وہ اگلے ہفتے خود بھی اس مارچ کا حصہ بن جائیں گے۔ چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ حقیقی آزادی کے حصول تک یہ احتجاج جاری رہے گا۔

لائیو کوریج

  1. نواز شریف نئے آرمی چیف سے کہیں گے کہ عمران خان کو نا اہل کروائیں، عمران خان

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ نواز شریف جس کو بھی آرمی چیف لگوائیں گے، اس سے کہیں گے کہ کسی نہ کسی طرح عمران خان کو نااہل کروائیں۔

    تحریک انصاف چیئرمین لانگ مارچ سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کر رہے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اگر ایک سال کے بعد بھی الیکشن ہوا تو ہم سویپ کریں گے لیکن ہمارے ملک کو خطرہ ہے۔‘

    ’اس بات کا خطرہ بڑھ رہا ہے کہ ہم قرضے واپس نہیں کر سکیں گے۔ باہر سے سرمایہ کاری نہیں آنی۔ اب یہ کیا کریں گے؟ ان کے پاس کیا حل ہے؟‘

    عمران خان نے کہا کہ ’ملک میں خوشحالی اس وقت ہو گی جب ملک میں انصاف ہو گا۔‘

    عمران خان نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے ایک بار پھر ارشد شریف کیس، اعظم سواتی کیس اور اپنے اوپر ہونے والے حملے کی ایف آئی آر درج نہ ہونے کے معاملے کا نوٹس لینے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ انصاف نہ ہونے کی اس سے بڑی مثال نہیں ہو سکتی۔

    عمران خان نے کہا کہ ’میرے کیس کی تفتیش میں ہو سکتا ہے کہ یہ تینوں لوگ بے قصور ہوں لیکن ان کا نام لکھوانا میرا حق ہے۔‘

    ’ہماری حکومت میں ایف آئی آر درج نہیں ہو رہی۔ پولیس کہتی ہے کہ وہ طاقت ور لوگ ہیں، ہماری جگہ کسی اور سے لکھوا لیں۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’ہمیں چیف جسٹس کے علاوہ کسی سے امید نہیں ہے۔‘

    عمران خان نے کہا کہ شہباز شریف آئینی طور پر بھی وہی کریں گے جو نواز شریف کہیں گے، اور ’ان کے پاس اختیار ہے، لیکن جمہوریت اخلاقیات پر چلتی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’نواز شریف جس کو آرمی چیف لگائے گا، ایک چیز مانگے گا، کہ کسی نہ کسی طرح عمران خان کو ڈس کوالیفائی کروانا ہے۔‘

  2. آرمی چیف کی تعیناتی پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، بلاول بھٹو

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو نےکہا ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے کو متنازع بنا کر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔

    کراچی میں ڈاؤ یونیورسٹی میں ایک تقریب سے خطاب کے بعد وفاقی وزیر خارجہ اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو صحافیوں کے سوالات کا جواب دے رہے تھے۔

    جب بلاول بھٹو سے آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر سوال ہوا تو ان کا کہنا تھا کہ سب کو ملک کے مفاد کے بارے میں سوچنا چاہیے لیکن اس تعیناتی پر کافی عرصے سے غیر ضروری سیاست کی جا رہی ہے۔

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہمیں یا ہمارے اتحادیوں کو کسی جلسے میں اس معاملے پر بات نہیں کرنی چاہیے اور ناہی اپوزیشن کو اس معاملے کو متنازع بنا کر سیاست کرنی چاہیے۔

    ’جس طرح سے آئین اور قانون میں لکھا ہے، یہ معاملہ اسی طرح مکمل ہونا چاہیے۔‘

    بلاول نے کہا کہ ’عمران خان کی سیاست شروع دن سے لے کر اسی ایک تعیناتی کے گرد گھومتی ہے۔‘

  3. عمران خان کو ضمنی الیکشن اخراجات کی تفصیل جمع کرانے کی ہدایت

    الیکشن کمیشن کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان کو قومی اسمبلی حلقہ این اے 118 میں ضمنی انتخابات کے بعد الیکشن اخراجات کی تفصیل جمع کروانے کا نوٹس جاری کیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک انصاف چیئرمین کو سات دن میں الیکشن پر ہونے والے اخراجات کی تفصیل جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    نوٹس کے مطابق اخراجات کی تفصیل جمع نہ کروانے کی صورت میں سیکشن 38 الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق کاروائی کی جائے گی۔

    الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے مطابق پولنگ کے 10 دن بعد اخراجات کی تفصیل جمع کروانی ہوتی ہیں۔

    ادھر عمران خان نے اپنی لیگل ٹیم کو مطلوبہ معلومات جمع کرانے کی ہدایت کر دی ہے۔

  4. تحریک انصاف کے رہنما عامر کیانی کو گرفتار نہ کیا جائے: عدالت کی ایف آئی کو ہدایت, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد کی بینکنگ کورٹ کی جج رخشندہ شاہین نے ممنوعہ فنڈنگ کے فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت درج مقدمہ میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عامرمحمودکیانی کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے ایف آئی اے کو گرفتاری سے روک دیا۔

    منگل کے روزعامر محمود کیانی کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے ایک لاکھ روپے مالیتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرتے ہوئےعامر کیانی کا شامل تفتیش ہونے کی ہدایت کی اور ایف آئی اے سے جواب طلب کرلیا۔

    عدالت نے سماعت 23 نومبر تک کے لیے ملتوی کردی۔ یاد رہے کہ اس مقدمے میں سابق وزیر اعظم عمران، سیف اللہ نیازی، طارق شفیع اور دیگر ملزمان پہلے ہی عبوری ضمانت پر ہیں۔

  5. صحافی ارشد شریف کی پوسٹمارٹم رپورٹ سے متعلق سماعت: وکیل کی غیرحاضری پر سماعت کل تک ملتوی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق کی عدالت نے سینیئرصحافی اور اینکر ارشد شریف کی پوسٹمارٹم رپورٹ کے لیے دائر درخواست میں وکیل کی عدم موجودگی کے باعث سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی ہے۔

    منگل کے روز سماعت کے دوران درخواست گزار وکیل کے معاون عدالت پیش ہوئے اور عدالت کو بتایاکہ سینیئر وکیل موجود نہیں ہیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آخری سماعت پر بھی وکیل صاحب موجودنہیں تھے اور اب بھی پیش نہیں ہوئے، یہ ہائی کورٹ ہے۔

    عدالت نے وکیل درخواست گزار کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت بدھ تک کے لیے ملتوی کردی۔

  6. تحریک انصاف کا اسلام آباد میں احتجاج: عدالت نے اضافی دستاویزات جمع کرانے سے متعلق درخواست منظور کر لی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق کی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کی اسلام آباد میں جلسے اور دھرنے کا این او سی جاری کرنے سے متعلق کیس میں اضافی دستاویزات جمع کرانے کی درخواست منظور کرلی۔

    منگل کے روز سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان جبکہ وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دووگل عدالت پیش ہوئے۔

    عدالت نے پی ٹی آئی کی جانب سے اضافی دستاویزات جمع کرانے کی متفرق درخواست منظور کرلی۔

    دوران سماعت بابر اعوان نے کہا کہ امید ہے پیر تک دھرنے کا وقت واضع ہوجائے گا، استدعاہے کہ کیس جمعہ کے لیے مقرر کیا جائے۔ عدالت نے پی ٹی آئی کی استدعا پر کیس کی سماعت 18 نومبر تک کے لیے ملتوی کردی۔

  7. امید ہے وزیراعظم شہباز شریف جلد صحت یاب ہوکر ملک اور قوم کی خدمت کریں گے: آصف زرداری

    سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے ایک پیغام میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔

    انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی نیک خواہشات وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ہیں۔ امید ہے وزیراعظم شہباز شریف جلد صحت یاب ہوکر ملک اور قوم کی خدمت کریں گے۔

  8. توہین الیکشن کمیشن: سپریم کورٹ کا عمران خان سمیت تحریک انصاف رہنماؤں کو نوٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    توہین الیکشن کمیشن اور توہین الیکشن کمشنر کیس میں سپریم کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے منگل کو کیس کی سماعت کی۔ اس مقدے کی سماعت کرنے والے بینچ میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اطہرمن اللّٰہ بھی شامل ہیں۔

    الیکشن کمیشن کی درخواست پر سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن نے مختلف ہائی کورٹس میں زیر التوا کیسز کسی ایک ہائی کورٹ میں منتقل کرنے کی درخواست کی ہے۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے مختلف مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی اور عام انتخابات کی تیاری کریں یا کیسز لڑیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن آرٹیکل 186 اے پر انحصار کر رہا ہے، کیا سپریم کورٹ کے مختلف ہائی کورٹس کے کیسز یکجا کرنے کے فیصلے کی مثال موجود ہے؟

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے 1999 میں مختلف ہائی کورٹس میں زیر التوا انکم ٹیکس کیسز یکجا کرنے کا حکم دیا تھا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مختلف ہائی کورٹس میں زیر التوا کیسز یکجا کرنے کے لیے قانونی نکتہ ایک ہونا ضروری ہے۔ انھوں نے استفسار کیا کہ ہائی کورٹس میں توہین الیکشن کمیشن کیسز میں درخواست گزار کون ہیں؟

    الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹس میں الیکشن کمیشن کے خلاف عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر نے کیسز کر رکھے ہیں۔ جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا کیسز میں سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ ہائی کورٹس کے کیسز چلتے رہیں، یکجا نہیں ہوں گے۔

    جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے ہی حج معاونین کیس میں تمام ہائی کورٹس کے کیسز یکجا کیے تھے۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ مختلف ہائی کورٹس میں ایک ہی نوعیت کے کیسز سے متضاد فیصلے ہوں گے۔

  9. وزیراعظم شہباز شریف کورونا وائرس میں مبتلا ہو گئے

    وفاقی وزیراطلاعات نے ٹویٹ کرتے ہوئے یہ اطلاع دی کہ وزیراعظم شہباز شریف کورونا پازیٹو ہوگئے ہیں۔

    انھوں مزید لکھا کہ ’دو روز سے طبیعت ناساز تھی۔ ڈاکٹر کے مشورے سے آج کورونا ٹیسٹ کروایا گیا، عوام اور کارکنان سے وزیراعظم کی جلد صحت یابی کی دعا کی اپیل ہے۔‘

  10. برطانیہ نے پاکستان کو ہائی رسک ملکوں کی فہرست سے نکال دیا گیا: بلاول بھٹو زرداری

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ برطانیہ نے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کے بعد ’ہائی رک تھرڈ کنٹریز‘ فہرست سے نکال دیا ہے۔

  11. تحریک انصاف کے سینیٹرز کا آج پارلیمان سے سپریم کورٹ تک مارچ

    تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اس کے سینیٹرز آج ڈاکٹر شہزاد وسیم کی قیادت میں صبح ساڑھے گیارہ بجے پارلیمان سے لے کر سپریم کورٹ آف پاکستان تک مارچ کریں گے اور سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کریں گے۔

  12. آرمی چیف کی تعیناتی پر شہباز شریف کی نواز شریف سے مشاورت پر قانونی کارروائی کریں گے، عمران خان

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے آرمی چیف کی تعیناتی پر وزیر اعظم شہباز شریف اور نواز شریف میں مشاورت پر قانونی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

    ایک ویڈیو خطاب کے دوران عمران خان نے کہا کہ ’شہباز شریف جو وزیر اعظم ہے، اس کو نہیں پتہ کہ اتنا حساس معاملہ ہے آرمی چیف کی تعیناتی کا؟‘

    ’وہ ایک مفرور سے کیسے مشاورت کر سکتے ہیں؟ یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔ ہم اس پر قانونی ایکشن لیں گے۔ نیشنل سکیورٹی کے لیے یہ بہت اہم معاملہ ہے۔‘

    واضح رہے کہ وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے آج یہ بیان دیا گیا کہ آرمی چیف کی تعیناتی پر کسی قسم کی مشاورت نہیں ہوئی اور نا ہی ابھی کوئی فیصلہ ہوا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ ان کے ایک حالیہ انٹرویو میں امریکہ کی سازش کے بیانیے سے پیچھے نہیں ہٹنے کا کہا گیا۔

    انھوں نے ویڈیو خطاب میں کہا کہ ’یہاں ایک پروپیگینڈا سیل بیٹھا ہوا ہے جو میرے انٹرویوز میں سے چیزیں چنتا ہے اور پھر ان کا مطلب کچھ اور نکال لیتے ہیں۔‘

    ’میں نے سائفر نیشنل سکیورٹی کونسل میں رکھا، پارلیمنٹ میں رکھا، کابینہ میں رکھا، صدر نے چیف جسٹس آف پاکستان کو بھجوایا۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’آگے چلنے کی بات کا مطلب یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے تعلقات اچھے ہوں، ہمارے دنیا سے جتنے اچھے تعلقات ہوں گے، ہم تجارت کریں گے اور ملک میں خوشحالی آئے گی۔‘

  13. آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ ہوا ناہی مشاورت ہوئی، وزیر دفاع

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہوا اور ناہی اس معاملے پر کسی قسم کی مشاورت ہوئی ہے۔

    میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی وزیراعظم کی صوابدید ہے اور یہ فیصلہ وزیراعظم نے ہی کرنا ہے۔

    ایک صحافی کی جانب سے جب پوچھا گیا کہ کیا نواز شریف کا نئے آرمی چیف کی تعیناتی میں کوئی کردار ہے تو خواجہ آصف نے جواب دیا کہ آرمی چیف کی تعیناتی پر مشورہ کرنا وزیراعظم کی صوابدید ہے۔

    خواجہ آصف سے پھر پوچھا گیا کہ اس معاملے پر کیا نواز شریف سے کوئی مشاورت بھی نہیں ہو رہی تو وزیر دفاع نے کہا کہ ابھی تک آرمی چیف کی تعیناتی پر مشاورت نہیں ہوئی، یہ اخباری خبریں ہیں۔

    جب ان سے سابق وزیر اعظم عمران خان کے امریکی سازش سے متعلق حالیہ بیان پر ردعمل پوچھا گیا تو خواجہ اصف نے کہا کہ ’کیا عمران خان پہلی بار مکر رہا ہے؟ وہ ہر چیز سے مکر جاتا ہے، گزشتہ 4 سال میں کتنی باتیں کیں،کسی بات پر عمران خان کھڑا رہا ہے؟ اس آدمی کو یہ پتہ ہی نہیں کہ وہ کہتا کیا ہے، اگر کچھ لوگ اس کی بات پر اعتبار کرنے کو تیار ہیں تو یہ ان کا معاملہ ہے۔‘

  14. سپریم کورٹ میں دائر کردہ تحریک انصاف کی درخواست میں کیا ہے؟, شہزاد ملک، بی بی سی

    سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی اور سینیٹرز نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے اور یہ در خواست آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت دائر کی گئی ہے۔

    درخواست میں چیف جسٹس سے سابق وزیر اعظم عمران خان پر حملے پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل اور تین نامزد افراد کے خلاف مقدمے درج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

    اس درخواست میں عمران خان حملہ، ارشد شریف قتل اور اعظم سواتی کی مبینہ ویڈیو کی تحقیقات کے مطالبے کیے گئے ہیں۔ اس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ قانون کے مطابق ایس ایچ او (تھانیدار) دی گئی درخواست پر مقدمہ درج کرنے کا پابند ہے۔

    درخواست میں یہ بھی مؤقف اپنایا گیا ہے کہ درخواست پر ایف آئی آر درج نہ کرنا بنیادی حقوق اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ ’کیا اعلی عہدوں پر فائز عوامی عہدیدار اور ملٹری لباس میں سینیئر افسران قانون سے بالاتر ہیں؟‘

    اعظم سواتی کی مبینہ اڈیو سے متعلق درخواست میں یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اعظم سواتی کی ویڈیو بنانا اور اہلیہ کو بھیجنا انسانی وقار اور قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اس واقعے کے بعد ’ارکان پارلیمان اپنے اپ کو غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں۔‘

  15. عمران خان ملک کو تہس نہس کر کے امریکی سازش کے بیانیے سے دستبردار ہو گئے: مریم اورنگزیب

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ’امریکی سازش کا بیانیہ پسِ پشت ڈالنے سے بات ختم نہیں ہو گی، عمران خان کو جواب دینا پڑے گا۔‘

    انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’جس بیانیے پہ پورے ملک میں انتشار اور جھوٹ پھیلایا، جواب دیے بغیر صرف دستبرداری کافی نہیں۔ آج عمران سے سوال نہیں بلکہ آج عمران کی بات پہ یقین کرنے والوں کے لیے سوالیہ نشان ہے۔

    ’پارلیمان، افواجِِ پاکستان اور اداروں کو غدار ٹھہرا کر بات ختم ؟‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان نے امریکی سازش، امپورٹڈ حکومت اور رجیم چینج کا بیانیہ پسِ پشت اِس لیے ڈالا کیونکہ وہ کبھی موجود تھا ہی نہیں۔ عمران خان نے اقتدار کی خاطر پاکستان کے خارجہ تعلقات کو سنگین خطرات میں ڈالا۔‘

    مریم اورنگزیب نے الزام لگایا کہ ’عمران خان نے اپنے سیاسی مفادات کے لیے ملکی مفادات کے ساتھ سنگین کھیل کھیلا۔‘

    عمران خان کا پاکستان-امریکہ تعلقات سے متعلق بیان

    خیال رہے کہ فنانشل ٹائمز کو دیے ایک انٹرویو میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کے تمام ممالک سے اچھے تعلقات ہونے چاہییں، خاص طور پر امریکہ سے۔

    عمران خان نے فنانشل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ ’نئے تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ تو امریکہ پر اپنی حکومت گرانے کا الزام لگاتے رہے ہیں تو عمران خان نے جواب دیا ’وہ باتیں میں پسِ پشت ڈال چکا ہوں۔‘

    عمران خان نے مزید کہا میں ایک ایسے پاکستان کی قیادت کرنا چاہتا ہوں ’جو امریکہ سے بہترین تعلقات رکھتا ہو۔‘

    جب عمران خان سے سوال کیا گیا کہ آپ تو کہتے تھے ’امریکہ ہم سے غلاموں کی طرح برتاؤ کرتا ہے‘ تو عمران خان نے کہا ’اس میں امریکہ کا کوئی قصور نہیں بلکہ اس میں سارا قصور ہماری سابقہ حکومتوں کا ہے۔‘

    عمران خان نے اپنے دورہ روس کے بارے میں کہا اگرچہ یہ دورہ پہلے سے طے شدہ تھا لیکن ’میں سمجھتا ہوں یہ دورہ میرے لیے شرمندگی کا باعث بنا۔‘

  16. تحریک انصاف کا لانگ مارچ: عمران خان کا خطاب آج ساڑھے چار بجے

    تحریک انصاف کے ’حقیقی آزادی مارچ‘ کا قافلہ آج مرکزی سکریٹری جنرل اسد عمر کی سربراہی میں چک جُھمرہ سے روانہ ہو گا۔

    جماعت کا کہنا ہے کہ جڑانوالہ میں اسد عمر شام چار بجے خطاب کریں گے جبکہ عمران خان کا خطاب ساڑھے چار بجے بذریعہ ویڈیو لنک دکھایا جائے گا۔

  17. عمران خان پر حملے کی تحقیقات کے لیے تحریک انصاف کی سپریم کورٹ میں درخواست جمع

    تحریک انصاف نے ایک درخواست میں سپریم کورٹ سے سابق وزیر اعظم عمران خان پر حملے کی تحقیقات اور نئی ایف آئی آر کے اندراج کا مطالبہ کیا ہے۔

    سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے لاہور میں سپریم کورٹ کی رجسٹری میں درخواست دائر کروائی گئی ہے۔ اسی طرح پشاور، کوئٹہ، کراچی اور راولپنڈی میں بھی درخواست جمع کرائی گئی ہے۔

    تحریک انصاف کے وائس چیئرمین نے لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ ’عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ ہم چاہتے ہیں اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ حقائق اور ذمہ داران قوم کے سامنے آئیں۔ ایف آئی آر جمع کرنے کی کوشش کی لیکن اسے درج نہ کیا گیا۔ یہ شکایت کنندہ کا بنیادی حق ہے۔ تین افراد کی نشاندہی کی گئی جن کی تحقیق ہونی چاہیے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’دوسرا نقطہ یہ ہے کہ سینیٹر اعظم سواتی اور ان کی اہلیہ کی تضحیک کی گئی۔ اس کی تحقیقات کی جائیں کہ اس کا ذمہ دار کون ہے۔ تیسرا یہ کہ صحافی ارشد شریف کو کینیا میں قتل کیا گیا۔۔۔ اس کے حقائق کیا ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ چیف جسٹس اس پر کارروائی کریں۔‘

    ادھر رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے کہا کہ ’چیف جسٹس سے گزارش کروں گا کہ سپریم کورٹ کو اتنا کمزور نہ کریں کہ لوگ اسے دیکھنا چھوڑ دیں۔۔۔ چیف جسٹس اور سینیئر ججز سے کہوں گا کہ پاکستان کے عدالتی نظام کا اچھا امیج نہیں جا رہا۔‘

    ’پاکستان میں بند کمروں میں فیصلے نہیں ہوسکتے۔۔۔ عدالتی نظام کا بحران کھڑا ہوگیا ہے۔ ہماری جدوجہد اداروں کی ساکھ کی بحالی کے لیے ہے۔‘

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر درج کر لی گئی تھی مگر اس میں ان کے نامزد کردہ تین نام - وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور آئی ایس آئی کے میجر جنرل فیصل - شامل نہیں کیے گئے تھے۔

  18. پنجاب اسمبلی میں عمران خان پر حملے اور اعظم سواتی پر تشدد کے خلاف قرارداد منظور

    پنجاب اسمبلی نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان پر حملے اور سینیٹر اعظم سواتی پر مبینہ تشدد کے خلاف ایک قراردار منظور کی ہے۔

    اس قرارداد میں کہا گیا کہ ’وزیر آباد کے حقیقی مارچ میں پی ٹی آئی کے چیئرمین و سابق وزیراعظم پر قاتلانہ حملے اور اعظم سواتی پر رات کے اندھیرے میں امپورٹڈ حکومت نے تشدد اور گرفتاری کی۔

    ’چیف جسٹس آف پاکستان وزیر آباد میں عمران خان پر حملے اور اعظم سواتی کی غیر قانونی گرفتاری اور بہیمانہ تشدد پر تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔‘

    اس میں سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’دونوں واقعات پر قانونی کارروائی کر کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔‘

  19. لانگ مارچ کے باعث اسلام آباد میں سڑکوں کی بندش پر آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب

    تحریک انصاف کے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سڑکوں کی بندش اور کنٹینرز لگانے کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے آئی جی اسلام آباد سے 17 نومبر تک رپورٹ طلب کی ہے۔

    سماعت کے دوران وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکرٹری شبیر خٹک عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ ’پورے اسلام آباد میں کنٹینر ایسے پڑے ہیں جیسے کوئی اور ہی حالات ہیں۔

    ’اچھی سی اینٹی رائیٹ فورس کیوں نہیں بناتے، کنٹینر کیوں لگاتے ہیں؟ کنٹینر لگانے کی بجائے کوئی اور طریقہ استعمال کیوں نہیں کرتے؟‘

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ اپریل میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سے اب تک احتجاج کیے جا رہے ہیں اور دھرنے کے اعلان اور قائدین کی ہدایت پر سڑکیں بند کردی گئیں ہیں۔ ’شہریوں اور تاجروں کو مشکلات کا سامنا ہے، بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔‘

    اس درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ حکومت کو سڑکیں خصوصاً موٹروے پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کی ہدایت کی جائے اور پی ٹی آئی کو پابند کیا جائے کہ دھرنے اور جلسے کا انعقاد اسلام آباد سے باہر کریں۔

    عدالت نے آئی جی اسلام آباد سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 17 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

  20. چمن بارڈر پر فائرنگ: پاکستانی سکیورٹی اہلکار ہلاک، بابِ دوستی پر تجارت و آمد و رفت بند

    پاکستانی حکام نے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن سے اتوار کو بطور احتجاج دونوں ممالک کے درمیان باب دوستی کو بند کیا ہے جس کے باعث دونوں جانب سینکڑوں لوگ پھنس گئے ہیں۔

    بلوچستان کے مشیر برائے داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام فائرنگ کے اس واقعے کے بعد اٹھایا گیا جو کہ مبینہ طور پرافغانستان کی جانب سے کی گئی۔

    انھوں نے بتایا کہ فائرنگ کے اس واقعے میں ’ہمارا ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوا اور دو اہلکار زخمی ہوگئے۔‘

    مشیر داخلہ نے کہا کہ چونکہ باب دوستی پر افغانستان سے آنے والے شخص نے فائرنگ کی، اس لیے افغان حکام سے اس شخص کی حوالگی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب افغان صوبے قندھار میں سپن بولدک کے ایک مقامی ہسپتال میں بھی چند زخمیوں کے پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    چمن سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی نعمت اللہ سرحدی نے بتایا کہ باب دوستی پر فائرنگ کا واقعہ 13 نومبر کو پونے ایک بجے کے قریب ہوا۔

    ان کا کہنا تھا سرحد کی دونوں جانب سینکڑوں لوگ تھے اور جب باب دوستی کے قریب فائرنگ ہوئی تو وہاں لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی۔

    انھوں نے سرحد پر موجود عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ فائرنگ افغانستان کی جانب سے کی گئی جس سے پاکستان کی جانب لوگ زخمی ہوئے۔

    عینی شاہدین نے بتایا کہ افغانستان کی جانب سے ایک شخص نے پستول سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ’پاکستان کی جانب بعض لوگوں کو زمین پرگرتے دیکھا۔‘

    نعمت اللہ سرحدی نے بتایا کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد باب دوستی کو ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کیا گیا جس کی وجہ سے سردی میں دونوں جانب پھنسے سینکڑوں لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس سلسلے میں مقامی حکام سے ہماری بات ہوئی جنھوں نے بتایا کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد دونوں ممالک کے سرحدی حکام کے درمیان فلیگ میٹنگ ہوئی لیکن باب دوستی کو کھولنے کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔‘

    اس واقعے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جو ویڈیوز شیئر کی گئیں اس میں فائرنگ کی آواز سنائی دیتی ہے لیکن آواز بظاہر کسی چھوٹے اسلحے کی فائرنگ کی ہے۔

    جب بلوچستان کے مشیر برائے داخلہ و قبائلی امور میر ضیا اللہ لانگو سے فون پر رابطہ کرکے باب دوستی کی بندش کے حوالے سے پوچھا گیا تو انھوں نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سرحد کو ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ باب دوستی پر دوپہرکو افغانستان کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس میں ’ہمارے سیکورٹی فورسز کا جانی نقصان ہوا۔اس افسوسناک واقعے میں ہمارے تین سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے ایک بعد میں زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔‘

    انھوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی جانب سے بلاجواز فائرنگ کی گئی جس کے بعد پاکستان کی جانب سے بطور احتجاج پیدل آمدورفت اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے سرحد کو بند کردیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں افغان حکام سے بات چیت جاری ہے لیکن ’جب تک ہمارے سیکورٹی فورسز پر افغانستان کی جانب سے فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص کو حوالے نہیں کیا جاتا، اس وقت تک چمن سے باب دوستی بند رہے گا۔‘

    چمن سے باب دوستی پاکستان اور افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندہار سمیت افغانستان کے جنوب مغربی علاقوں کے درمیان اہم گزرگاہ ہے۔

    طورخم کی طرح چمن میں واقع باب دوستی سے افغانستان اور پاکستان کے درمیان روزانہ لوگوں اور گاڑیوں کی بڑی تعداد میں آمد و رفت ہوتی ہے۔

    ان میں سے ایک بڑی تعداد چمن سے تعلق رکھنے والے ان افراد کی ہوتی ہے جو کہ افغانستان کی سرحدی منڈی میں روزگار کے لیے جاتے ہیں۔

    بلوچستان سے افغانستان کے جنوب مغربی صوبوں کے علاوہ چمن سے باب دوستی وسط ایشائی ریاستوں کے درمیان بھی اہم گزرگاہ ہے۔