آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

عمران خان نے 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کی کال دے دی

سابق وزیراعظم عمران خان نے پاکستان بھر سے کارکنان کو 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کی کال دے دی ہے۔ عمران خان نے کہا وہ اگلے ہفتے خود بھی اس مارچ کا حصہ بن جائیں گے۔ چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ حقیقی آزادی کے حصول تک یہ احتجاج جاری رہے گا۔

لائیو کوریج

  1. ’اپنا بندہ لانے کی تھیوری پٹ چکی، آرمی چیف کی تقرری آئینی عمل شروع ہونے پر مشاورت سے ہوگی‘

    وفاقی وزرا نے لندن میں وزیراعظم شہباز شریف کی سابق وزیراعظم نواز شریف سے نئے آرمی چیف کی تقرری سے متعلق مشاورت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی نئے فوجی سربراہ کی تقرری کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ ان کے مطابق یہ میرٹ پر ایک معمول کی انتظامی تعیناتی ہوگی۔

    وزیردفاع خواجہ آصف نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’میڈیا میں قیاس آرائی ہو رہی ھے کہ لندن میں نواز شہباز میٹنگ میں آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے کوئی فیصلہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق ’اس سلسلے میں مشاورت ضرور ھوئی ہے لیکن فیصلہ آئینی عمل کے آغاز کے بعد مشاورت سے ہو گا۔‘

    ’اپنا آرمی چیف لانے کی تھیوری پٹ چکی ہے‘

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرمی چیف اپنے ادارے سے وفادار ہوتا ہے اور اب یہ نظریہ پٹ چکا ہے کوئی اپنا آرمی چیف ہوتا ہے۔

    ان کے مطابق اپنا آرمی چیف لانے کی سوچ نہیں ہے۔ ان کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو نے ضیاالحق اور نواز شریف نے جنرل مشرف کو آرمی چیف تعینات کیا مگر اس کا انھیں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

    ان کے مطابق آئینی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کرنی ہے۔ ایک معمول کی انتظامی تعیناتی ہے، جس کا مطلب ادارے کو ایک پیشہ وارانہ سربراہ دیا جائے۔

  2. پی ٹی آئی نے میجر ریٹائرڈ خرم حمید روکھڑی کی بنیادی رکنیت ختم کر دی

    پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی رہنما میجر (ر) خرم حمید خان روکھڑی کی بنیادی رکنیت ختم کر دی ہے۔ پی ٹی آئی کے میانوالی کے ضلعی صدر سلیم گل خان نے بنیادی رکنیت ختم کرنے کا اعلامیہ جاری کیا۔

    بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما علی امین گنڈا پور نے میجر ریٹائرڈ خرم حمید روکھڑی کی بنیادی رکنیت ختم کیے جانے کی تصدیق کی۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ خرم حمید روکھڑی کی بنیادی رکنیت پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر ختم کی گئی، انھوں نے پارٹی اجازت کے بغیر میڈیا پر پی ٹی آئی کے مؤقف کے خلاف بات کی۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کے رہنما میجر ریٹائرڈ خرم حمید روکھڑی نے نجی ٹی چینل جیو نیوز کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نےچیئرمین عمران خان کے کہنے پر سینئر انٹیلی جنس افسر میجر جنرل فیصل نصیر سے تین بار ملاقات کی اور پی ٹی آئی اور فوج کے درمیان اختلافات کو کم کرنے کی کوشش کی۔

    انھوں نے جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں اینکرپرسن حامد میر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے ایک ملاقات میں پی ٹی آئی کے رہنما سلمان احمد بطور نمائندہ عمران خان شامل تھے۔

    جمعرات کو دیے گئے انٹرویو میں خرم حمید خان نے دعویٰ کیا تھا کہ شہباز گل کی گرفتاری کے چند دن بعد بنی گالہ میں ایک اجلاس ہوا تھا جس کے بعد انھوں نے انٹیلی جنس کے سنیئر افسر سے عمران خان کے کہنے پر ملاقات کی تھی۔

  3. ارشد شریف کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے متعلق خط کی خبریں بے بنیاد ہیں: پمز انتظامیہ

    وفاقی دارالحکومت کے سرکاری ہسپتالپاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز ) کی انتظامیہ نے ارشد شریف کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے متعلق خط کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔

    پمز انتظامیہ کا جاری کردہ بیان میں کہنا ہے کہ ارشد شریف کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے متعلق ان کی والدہ کےخط کے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ پمز انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ارشد شریف کے خاندان کے افراد نے آج پہلی مرتبہ سربراہ پمز سے پوسٹ مارٹم رپورٹ کے حصول کے لیے ملاقات کی۔ سربراہ پمز خصوصی اختیارات کے تحت ارشد شریف کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پیر کے روز اہلخانہ کو فراہم کریں گے۔

    پمز انتظامیہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ قانون کے مطابق بذریعہ عدالت حاصل کیے جانے کا اہلخانہ کو ماضی میں آگاہ کیا گیا تھا۔پوسٹ مارٹم رپورٹ تھانے کے تفتیشی آفیسر کو دینی ہوتی ہے تو انھیں بروقت فراہم کی گئی تھی۔ پمز انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ ورثا یا کسی غیر کو فراہم کرنا خلاف قانون ہے۔

    پمز انتظامیہ کے بیان کے مطابق ارشد شریف کے پوسٹ مارٹم کے دوران جسم کے مختلف حصوں سے سیمپلز فارنزک لیب بھجوائے ہوئے ہیں۔ ان کی رپورٹس آنے کے بعد حتمی رپورٹ مرتب کی جائے گی۔

  4. بریکنگ, تحریک انصاف کا لانگ مارچ جی ٹی ایس چوک گجرات پہنچ کر اختتام پذیر، سنیچر کو لالہ موسیٰ سے مارچ شروع ہو گا, احتشام شامی، صحافی

    تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوسرے مرحلے کے دوسرے روز گجرات کی حدود سے شروع ہونے والا مارچ رامتلی چوک سے ہوتا ہوا جی ٹی ایس چوک گجرات میں پہنچ کراختتام پذیر ہو گیا ہے۔

    لانگ مارچ کی قیادت وائس چیرمین تحریک انصاف شاہ محمود قریشی اور دیگر قائدین نے کی۔ مرکزی قائدین میں سے شاہ محمود قریشی اور حماد اظہر نے بلٹ پروف شیشے والے ڈائس سے خطاب کیا۔

    لانگ مارچ کا گجرات میں پہلا استقبال رامتلی چوک میں ق لیگ کے کارکنان نے کیا جبکہ دوسرا استقبال جی ٹی ایس چوک میں پی ٹی آئی کی مقامی قیادت اور کارکنان نے کیا جہاں سابق وزیر اعظم عمران کا ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب نشر کیا گیا۔

    پولیس کی جانب سے سکیورٹی کی فول پروف انتظامات کئے گئے تھے۔ مارچ کے اختتام پر کارکنان گھروں کو چلے گئے اور کل (سنیچر) کو دوسرے مرحلے کے تیسرے روز لانگ مارچ کا آغاز لالہ موسیٰ سے کیا جائے گا۔

  5. بریکنگ, ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ طاقتور کی حکمرانی ہے: عمران خان

    چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مجھے گولیاں لگی ہیں، میں ایف آئی آر ہی نہیں کٹوا سکا کیونکہ سامنے طاقت ور کھڑا ہے۔ اس ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ طاقتور کی حکمرانی ہے۔

    لانگ مارچ کے شرکا سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے، یہاں جو طاقت ور ہے، وہ جو مرضی چاہے کر سکتا ہے، جو یہ سارا اعظم سواتی کے کیس میں ہوا، مجھے گولیاں لگی ہیں، میں ایف آئی آر ہی نہیں کٹوا سکا کیونکہ سامنے طاقت ور کھڑا ہے، جدھر طاقتور سامنے آتا ہے ادھر انصاف چلا جاتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پیغمبر اسلام نے 1500 سال قبل کہہ دیا تھا کہ ایسے نظام نہیں چل سکتے کہ جو چھوٹے چوروں کو جیل میں ڈالے اور بڑے ڈاکوؤں کو نہیں پکڑ سکے۔

    انھوں نے کہا کہ جہاں قانونی کی حکمرانی نہیں ہوتی وہ ملک تباہ ہو جاتے ہیں۔

  6. بریکنگ, لندن میں ہونے والا تماشہ اداروں کو مضبوط نہیں کرے گا: عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ لندن میں ہونے والا تماشہ اداروں کو مضبوط نہیں کرے گا۔ نواز شریف وہ آرمی چیف تعینات کرے کا جو اس کے خیال میں ان کی مدد کرے گا

    پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آج دنیا کو یہ پیغام جا رہا ہے کہ ملک کا سزا یافتہ شخص جس پر جے آئی ٹی بنی اور سزا ہوئی وہ قوم کے فیصلے کرنے جا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ایک مفرور آدمی ملک کے اہم فیصلے کرنے جا رہا ہے۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو میرٹ کا مطلب ہی نہیں پتا، یا تو اسے رشتہ دار نظر آتے ہیں، یا ان لوگوں کو اوپر لاتا ہے جو ان کے فائدے میں ہیں۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے آئی جی عباس خان کی عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ کا حوالے دیتے ہوئے الزام لگایا کہ شہباز شریف اور نواز شریف نے پیسے لے پولیس میں لوگوں کو بھرتی کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں وہ کہتے ہیں کہ کئی ایسے لوگ بھرتی کئے گئے جو مجرم تھے، اگر پنجاب پولیس ٹھیک کام نہیں کر رہی تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کے اندر امر باالمروف نہیں ہے۔ اللہ کا حکم ہے کہ اچھائی کے ساتھ کھڑے ہو اور برائی کا ساتھ مت دیں۔ برطانیہ میں ترقی کی وجہ یہ ہے کہ وہاں لوگ اچھائی کا ساتھ دیتے ہیں۔

    ہینڈلرز نے ان چوروں کو ہم پر مسلط کر دیا ہے۔ جنھوں نے پاکستان کی معیشت کا برا حال کر دیا، ترسیلات زر گر رہی ہیں، درآمدات کم ہو گئی ہے۔ انھوں نے ملک کو تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ان کی کامیابی یہ ہے کہ 1100 ارب کی چوری سے اپنے مقدمات ختم کروا رہے ہیں۔

    ملک میں اخلاقیات کا قتل ہوا ہے۔ قومیں ایٹم بم برداشت کر لیتی ہیں لیکن اگر اخلاقیات پر عمل نہ ہو تو قوم کبھی نہیں بنتی۔

    میں اپنے پر حملے کی ایف آئی آر درج نہیں کروا سکتا کیونکہ یہاں قانونی کی حکمرانی نہیں ہے۔ جو کچھ اعظم سواتی کے ساتھ ہوا وہ قانونی کی بالادستی نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔

  7. پی ٹی آئی کے ’حقیقی لانگ مارچ‘ کا گجرات سے آغاز، شاہ محمود قریشی مرکزی کنٹینر کی قیادت کر رہے ہیں

    پاکستان تحریک انصاف کے ’حقیقی لانگ مارچ‘ کا آغاز گجرات سے ہو گیا ہے اور شاہ محمود قریشی مرکزی کنٹینر پر قافلے کی قیادت کر رہے ہیں۔ مرکزی کینٹرز پر پی ٹی آئی رہنما سمیت مسلم لیگ ق کے رہنما بھی سوار ہیں۔

    پی ٹی آئی لانگ مارچ کے مرکزی کینٹر پر پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی، فیصل جاوید، میاں محمود الرشید، ڈاکٹر یاسمین راشد موجود ہیں جبکہ مسلم لیگ ق کے رہنماؤں میں حسین الہٰی، میاں عمران مسعود سمیت دیگر رہنما موجود ہیں۔

    لانگ مارچ کے مرکزی کنٹینر کے گرد سخت سکیورٹی حصار بنایا گیا ہے

    مسلم لیگ ق کے رہنماؤں نے حقیقی آزادی مارچ کا رامتلائی کے مقام پر استقبال کیا۔

    اس موقع پر رہنما مسلم لیگ ق حسین الہٰی نے لانگ مارچ کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان آپ ایک قدم بڑھائیں گے گجرات والے دو قدم بڑھائیں گے، عمران خان کے ساتھ کل بھی ڈٹ کر کھڑے تھے آج بھی ڈٹ کھڑے رہے گے۔

    اس موقع پر پی ٹی آئی کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ گجرات کی عوام عمران خان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔ عمران خان کا چند ماہ قبل گجرات کے لوگوں نے تاریخی استقبال کیا تھا۔

    اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاست دو حصوں میں تقسیم ہے۔

    سابق وزیراعظم کو قانونی حق کے لیے عدالت سے رجوع کرنا پڑ رہا ہے، اور ان کی لڑائی ہی قانون کی بالا دستی کے لیے ہے۔

  8. پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران راستوں کی بندش کا معاملہ: لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کی کمشنر اور ایس ایس پی کی سرزنش

    لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس مرزا وقاص رؤف نے راولپنڈی کے مختلف مقامات پر پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران راستوں اور تعلیمی اداروں کی بندش کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے کمشنر اور ایس ایس پی آپریشن پر اظہار برہمی کیا ہے۔

    جمعے کو راولپنڈی کے مختلف مقامات پر پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران راستوں اور تعلیمی اداروں کی بندش کے بارے میں دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ راوالپنڈی بینچ کے جسٹس مرزا وقاص رؤف نے کمشنر اور ایس ایس پی آپریشن پولیس کت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ راستےبند کرنے والوں کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔

    جسٹس مرزا وقاص کا کہنا تھا کہ ابھی تحریری طوربیان حلفی جمع کروائیں کہ راستے بند کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔

    عدالت عالیہ نے سوال کیا کہ آپ نے راستے بند کرنے والوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی؟

    یہ درخواست ملک صالح محمد ایڈووکیٹ نے آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی تھی۔

    اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سیاسی جماعت کے احتجاج کے باعث راستوں کو بند کرنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف روزی ہے۔

    درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہو رہے ہیں جو کے آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے۔ راستوں کی بندش سے تعلیمی ادارے بھی بند کر دئیے گئے۔ دائر پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کارروائی کی جائے۔

    سماعت کے دوران کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی آپریشن نے تحریری طور پر بیان حلفی جمع کروا دیا کہ کہ آئندہ راستے بند نہیں ہونے دیں گے اور کارروائی کی جائے گی۔

    جسٹس مرزا وقاص رؤف نے سماعت 16نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ذمہ داران کے خلاف کارروائی اور مکمل رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

  9. فواد چوہدری: ’عمران خان اور فوج کے درمیان فاصلے پاکستان کی سالمیت کیلئے خطرہ ہیں‘

  10. شاہ محمود قریشی: ’آج پورا پاکستان مطالبہ کر رہا ہے کہ وزیر آباد واقعہ کی اصل ایف آئی آر درج کی جائے‘

    تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ وزیر آباد میں عمران خان پر حملے کے بعد ہمیں ایف آئی آر کے معاملے میں رسائی نہیں دی گئی۔

    گجرات میں مونس الہیٰ کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سپریم کورٹ بار کے صدر بھی اپنا مؤقف پیش کر رے ہیں کہ پولیس کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کی کوئی اہمیت نہیں۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’آج پورے پاکستان میں لوگ مطالبہ کررہے ہیں کہ وزیر آباد واقعہ کی اصل ایف آئی آر درج کی جائے۔‘

    شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ ہم انصاف کے حصول کے لیے مارچ کررہے ہیں اور انصاف کے دروازے سب کے لیے یکساں طور پر کھلے ہونے چاہیے۔

  11. عمران خان پر حملہ: تحقیقات کے لیے نئی جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی

    عمران خان پر وزیر آباد میں ہونے والے حملے کی تحقیقات کے لیے پنجاب حکومت نے نئی جے آئی ٹی تشکیل دی ہے، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

    یہ جے آئی ٹی آر پی او ڈیرہ غازی خان سید خرم علی کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے۔

    جے آئی ٹی میں طارق رستم چوہان، احسان اللہ چوہان، ملک طارق محبوب اور نصیب اللہ خان شامل ہیں۔

  12. پی ٹی آئی کا لانگ مارچ آج گجرات پہنچے گا

    پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ آج گجرات پہنچے گا، جہاں چناب پل اور رامتلائی چوک میں مارچ کا استقبال کیا جائے گا۔

    گجرات میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی قیادت شاہ محمود قریشی کریں گے جبکہ عمران خان کا خطاب جی ٹی ایس چوک میں بڑی سکرین پر بذریعہ ویڈیو لنک نشر کیا جائے گا۔

    پی ٹی آئی کے مطابق عمران خان کا کارکنوں سے خطاب پانچ بجے کے قریب ہو گا۔

  13. جسٹس عامر فاروق نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا

    جسٹس عامر فاروق نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی ان کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنیئیر جج ہوں گے۔

  14. جتھوں کی بات پہلے مانی ہے نہ اب مانیں گے: نواز شریف

    سابق وزیراعظم نواز شریف نے لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے لانگ مارچ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جتھوں کی بات پہلے مانی ہے نہ اب مانیں گے۔

    نواز شریف نے یہ گفتگو وزیراعظم شہباز شریف نے ایک مشاورتی اجلاس کے بعد کی۔

  15. بریکنگ, عمران خان کی کارکنوں کو بند راستے اور سڑکیں کھولنے کی ہدایت

  16. خواجہ آصف: شہباز شریف اور میں لندن آرمی چیف کی تقرری پر ’رہنمائی‘ لینے آئے ہیں

    پاکستان کے وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وہ اور وزیرِ اعظم شہباز شریف لندن میں نواز شریف سے آرمی چیف کی تقرری کے معاملے پر ’رہنمائی‘ لینے آئے ہیں۔

    جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ایک دو روز کے اندر کچھ نہ کچھ سامنے آ جائے گا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ چھ سال بعد اگر اس چیز کا موقع آیا ہے تو اسے وقار کے ساتھ نمٹانا چاہیے بجائے اس کے کہ یہ وسیع تر تنازعے کا سبب بنے۔

    مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما نے کہا شہباز شریف اور وہ اسی مقصد کے لیے لندن آئے ہیں مگر ساتھ ہی اُنھوں نے عمران خان کا مقصد اس معاملے کو متنازع بنانا قرار دیا۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان 29 نومبر کو ہونے والی تقرری پر اثرانداز ہونا چاہتے تھے مگر اب جبکہ ان کے پاس اقتدار نہیں ہے تو وہ اسے متنازع بنانا چاہتے ہیں۔

    وزیرِ دفاع نے کہا کہ اگر سمری 18 نومبر کے بعد بھی آتی ہے تو بھی پرانی روایت برقرار رہے گی۔

    اُنھوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع چاہتے تھے مگر نواز شریف نہیں مانے۔

    اُنھوں نے کہا کہ اُنھیں کسی بھی اہم اجلاس میں نواز شریف یا شہباز شریف نے ایسا کوئی عندیہ نہیں دیا۔

  17. ’حقیقی‘ ایف آئی آر کے اندراج کے لیے پی ٹی آئی کی عدالت میں درخواست

    پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے وزیر آباد واقعے کی ایف آئی آر کے اندراج کے لیے عدالت میں پٹیشن دائر کر دی گئی ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ وزیر آباد پولیس کو ضابطہ فوجداری کے تحت ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے اور سب انسپکٹر تھانہ سٹی وزیر آباد عامر شہزاد کے خلاف محکمانہ کارروائی کا حکم دیا جائے۔

  18. ’نیب ترامیم بنیادی حقوق سے تصادم پر کالعدم ہو بھی جائیں تو پرانا قانون کیسے بحال ہو گا؟‘, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ عدلیہ ایگزیکٹو کے اختیارات پر تجاوز نہیں کر سکتی اور از خود نوٹس کا اختیار بڑے احتیاط سے استعمال کرنا پڑتا ہے۔

    چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے جمعرات کو اس درخواست پر سماعت کی تو عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ بنیادی حقوق کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمنسٹی سکیم صرف کالے دھن کو سفید کرنے کے لیے ہوتی ہے اور ترامیم سے پہلے نیب کو ایمنسٹی سکیم میں غیرقانونی آمدن پر کارروائی کا اختیار تھا جبکہ غیر قانونی آمدن پر نیب کا اختیار بھی ترامیم میں ختم کر دیا گیا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ کیا ایگزیکٹو کی ناکامی پر عدلیہ سپر رول ادا کر سکتی ہے اور وزیراعظم کو ملک چلانا نہ آئے تو کیا عدلیہ ملک چلائے گی؟ انھوں نے کہا کہ غیر قانونی آمدن کے احتساب کے لیے دیگر قوانین موجود ہیں، سسٹم ٹوٹ جائے تو سخت قانون بھی موثر نہیں رہتا۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’سب کچھ عدلیہ نے کرنا ہے تو کیا یہ ایگزیکٹو کے اختیار پر تجاوز نہیں ہو گا اور کیا ایگزیکٹو کی ناکامی پر عدلیہ سپر رول ادا کر سکتی ہے؟

    انھوں نے سوال کیا کہ ’وزیراعظم کو ملک چلانا نہ آئے تو کیا عدلیہ ملک چلائے گی۔ کوئی کہے وزیراعظم متنازع ہے تو عدلیہ حکومت چلائے گی، اس چیز کو کہیں تو روکنا ہو گا`۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ’نیب ترامیم بنیادی حقوق سے تصادم پر کالعدم ہو بھی جائیں تو پرانا قانون کیسے بحال ہو گا؟ عدالت نے اس کیس کی مزید سماعت 14 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

  19. عمران خان: ارشد شریف پر کس کو اتنا غصہ تھا کہ تشدد کیا پھر قتل کیا؟

    عمران خان نے کہا کہ ایک ٹی وی اینکر کے پاس ویڈیو کیسے آ گئی جبکہ ان کی والدہ کو پوسٹ مارٹم رپورٹ نہیں ملی۔

    اُنھوں نے کہا کہ حکومت نے کیوں فوری طور پر کینیا کی حکومت کو خط لکھ کر نہیں پوچھا۔

    اُنھوں نے کہا کہ ارشد شریف کو تشدد کر کے قتل کیا گیا، کس کو اتنا زیادہ غصہ تھا اس پر کہ پہلے اس پر تشدد کیا جائے اور پھر قتل کیا جائے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس قتل کی تحقیقات صرف سپریم کورٹ کر سکتی ہے۔

  20. عمران خان: یہاں تو سابق وزیرِ اعظم کے حقوق نہیں، وہ ایف آئی آر درج نہیں کروا سکتا

    عمران خان نے کہا کہ جب سے میجر جنرل فیصل نصیر اور ان کے ساتھ فہیم نامی افسر آئے ہیں تب سے انھوں نے ہمارے ساتھ دہشتگردوں جیسا سلوک شروع کیا ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کا سابق وزیرِ اعظم اپنے اوپر حملے کی ایف آئی آر نہیں درج کروا پا رہا کیونکہ اس میں میجر جنرل فیصل کا نام آ گیا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ جب عام آدمی کے ساتھ یہ ظلم کرتے ہوں گے تو وہ کیا کرتا ہو گا، کدھر جاتا ہو گا۔

    عمران خان نے کہا یہاں تو سابق وزیرِ اعظم کے حقوق نہیں، وہ ایف آئی آر درج نہیں کروا سکتا۔