آئی ایم ایف حکام نے جمعرات کو کہا ہے کہ ان کی ٹیم پروگرام کے آئندے جائزے کے لیے نومبر کے دوران پاکستان آئے گی جبکہ قرضے کی ری شیڈولنگ کے معاملے پر سیلاب سے ہونے والے نقصانات پر ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے جائزوں کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
آئی ایم ایف کے مشرقِ وسطی اور وسط ایشیا کے لیے ڈائریکٹر جہاد آذور نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے پیش نظر ادارے نے فنڈز کے فوری اجرا سمیت کئی لچکدار اقدامات کیے ہیں۔
انھوں نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ آئی ایم ایف پاکستان کے حکام کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے مگر حالیہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے حقیقی جائزے کا منتظر ہے۔ ان کے مطابق ان جائزوں سے معلوم ہوسکے گا کہ سیلاب سے پاکستان کو کن معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
قرضے کی ری شیڈولنگ سے متعلق سوال پر جہاد آذور نے کہا کہ ان جائزوں کی بنیاد پر اعداد و شمار اپ ڈیٹ کیے جائیں گے اور پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت کی جائے گی۔ ’ہم ان کی بات سنیں گے تاکہ ان سے یہ پوچھ سکیں کہ ان کی ترجیحات کیا ہیں اور آئی ایم ایف کیسے مدد کر سکتا ہے۔‘
پیٹرول کی قیمتوں پر سبسڈی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پاکستان اور دیگر ممالک سے کہا ہے کہ ان ٹارگٹڈ سبسڈی سے گریز کریں جو کہ وسائل کا ضیاع ہے اور ان وسائل کو ان لوگوں کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے جنھیں اس کی ضرورت ہے۔‘
سرکاری خبر رساں ادارے (اے پی پی) کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جمعرات کو واشنگٹن ڈی سی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر انتھونیٹ سائیح سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان امور کا جائزہ لیا گیا۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف کی ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر کو پاکستان کی معیشت کے کلیدی اعشاریوں، پائیدار اقتصادی نمو اور معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔
انھوں نے آئی ایم ایف کی ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر کو پاکستان میں حالیہ سیلاب اور اس سے معیشت کو ہونے والے نقصانات کے بارے میں بھی بتایا۔