پاکستان
تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے ضمنی انتخابات میں قومی
اسمبلی کی سات میں سے چھ نشستیں جیت کرنیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔
قومی
اسمبلی کے آٹھ حلقوں کے ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے میدان مار لیا
ہے اور اب تک کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق قومی اسمبلی کی آٹھ میں سے چھ نشستوں پر پاکستان تحریک انصاف کو کامیابی ملی ہے جبکہ ملیر اور ملتان کی دو نشستیں
پیپلز پارٹی نے جیتی ہیں۔
قومی
اسمبلی کے آٹھ اور پنجاب اسمبلی کے تین حلقوں سے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے
کا سلسلہ مکمل ہو گیا ہے۔
پی
ٹی آئی چیئرمین عمران خان قومی اسمبلی کے سات حلقوں سے انتخاب لڑ رہے تھے اور انھیں
اب تک صرف ایک ہی نشست پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ این اے 237 ملیر میں پیپلزپارٹی
کے امیدوار عبدالحکیم بلوچ سے ہار گئے۔
اب
تک کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک
انصاف قومی اسمبلی کی آٹھ نشستوں میں سے چھ جیت لی ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی
ملتان اور ملیر سے کامیاب ہو گئی ہے۔
عمران
خان نے پشاور کی نشست جیت لی اور اے این پی امیدوار غلام احمد بلور کو شکست دی۔ اس
حلقے سے غیر حتمی نتیجے کے مطابق عمران خان 57 ہزار 824 ووٹ لے کر کامیاب قرار
پائے۔
اے این پی کے غلام
احمد بلور 32 ہزار 253 ووٹ حاصل کرسکے اور یوں غلام بلور کو 25 ہزار 571 ووٹوں سے
شکست ہوئی۔
سابق
وزیراعظم عمران خان نے پشاور کے بعد مردان کا میدان بھی مار لیا جہاں این اے 22
مردان تین کے تمام 330 پولنگ سٹیشنز کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق عمران
خان 76681 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔
جبکہ
جمعیت علمائے اسلام کے محمد قاسم 68181 ووٹ حاصل کرسکے اور انھیں 8500 ووٹوں سے
شکست ہوئی۔
پی
ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے این اے 24 چارسدہ سے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل
ولی خان کو بھی شکست دی۔ این اے 24 چارسدہ کے تمام 384 پولنگ سٹیشنز کے غیر سرکاری
اور غیر حتمی نتیجے کے مطابق عمران خان 78589 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے اور عوامی نیشنل
پارٹی کے ایمل ولی خان 68356 ووٹحاصل
کرسکے۔
فیصل
آباد میں عمران خان نے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار عابد شیر علی کو ہرایا اور 24471
ووٹوں کے مارجن سے شکست دی۔ این اے 108 فیصل آباد کےتمام 354 پولنگ سٹیشنز کے غیر سرکاری غیر حتمی
نتیجے کے مطابق عمران خان 99602 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے۔ جبکہ مسلم لیگ ن کے
عابد شیر علی 75131 ووٹ لے سکے۔
عمران
خان نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 118 ننکانہ صاحب میں بھی بڑے مارجن سے کامیابی
حاصل کی۔ این اے 118 ننکانہ صاحب 2کے تمام319 پولنگ سٹیشنز کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتیجے
کے تحت عمران خان 90180 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔
جبکہ
ان کی مخالف امیدوار پاکستان مسلم لیگ ن کی شذرہ منصب علی نے 78024 ووٹ حاصل کیے
اور انھیں 12156 ووٹوں سے شکست ہوئی۔
این
اے 239 کراچی کورنگی 1 کے 330 پولنگ سٹیشنز کے غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف
کے عمران خان نے وہاں سے کامیابی اپنے نام کر لی ہے۔ جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے سید
نیئر رضا دوسرے نمبر پر رہے ہیں۔
جبکہ
ملتان میں پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی کی خالی کردہ نشست این
اے 157 پر بھی ضمنی انتخاب ہوا جس پر سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے موسیٰ
گیلانی نے شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہربانو قریشی کو شکست دے دی۔
این
اے 157 ملتان فور کے تمام پولنگ سٹیشنز کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجے کے مطابق
پاکستان پیپلز پارٹی کے سید علی موسیٰ گیلانی 107327 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔
ان
کے مدمقابل پاکستان تحریک انصاف کی مہر بانو قریشی نے 82141 ووٹ حاصل کیے۔