عدالت نے شہباز گل کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جو کہ ساڑھے دس بجے سنایا جائے گا۔
وکیلِ استغاثہ حسن عباس کا کہنا تھا کہ
ہم نے ابھی دیکھنا ہے پروگرام کے پیچھے پروڈیوسر کون تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ ان کی استدعا ہے کہ ملزم ہائی پروفائل ہے، ہم نے پولی گرافک ٹیسٹ کروانا ہے، اس لیے اُنھیں چار پانچ دن دیں تاکہ پنجاب فرانزک لیب سے پولی گرافک ٹیسٹ کروائیں۔
حسن عباس کا کہنا تھا کہ ہم نے پیمرا کو بھی لکھا ہے، ہو سکتا ہے ملزم کو کراچی لے جانا پڑے۔ اُنھوں نے کہا کہ
ہمیں یہ موبائل کیوں نہیں دے رہے۔
استغاثہ کا کہنا تھا کہ
شہباز گل کے پروگرام میں کہی گئی بات کے ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت آئی ہے کہ پروگرام میں جو بات کر رہا ہے وہ یہی ہیں۔
عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ
آپ کو کیسے پتہ چلا کہ دوسرا موبائل بھی ملزم کے پاس ہے ، جس پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ
ہمارے ذریعے نے بتایا ہے کہ دوسرا موبائل بھی تھا۔
اس ہر شہباز گل کا کہنا تھا کہ
لینڈ لائن نمبر سے بات ہوئی ہے موبائل سے ہوئی ہی نہیں۔ شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار
وہ موبائل لینا چاہتے ہیں جس میں سب سیاسی سرگرمی ہے۔
فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ
پولی گرافک ٹیسٹ کے لیے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت ہی نہیں وہ ویسے بھی کروا سکتے ہیں۔
ملزم شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ تشدد کے نشانات ان کے موکل کے کپڑوں پر نہیں بلکہ کمر پر ہیں۔
بعد میں عدالت نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔