سیشن کورٹ میں شہباز گل کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست ضمانت پر سماعت
ایڈیشنل سیشن جج محمد عدنان خان نے پیر کے لیے نوٹس جاری کیے ہیں۔
کورٹ نے جواب طلبی کے لیے تفتیشی افسر اور پراسیکیوٹر کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے پی ٹی آئی کے ساتھ حساب برابر کرنے کے لیے جھوٹا مقدمہ درج کیا، تفتیش میں پولیس شہباز گل پر کوئی الزامات ثابت نہیں کر سکی ۔
علاوہ ازیں شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ لینے کی درخواست مسترد ہونے حکم چیلنج کر دیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ `جوڈیشل مجسٹریٹ کا آرڈر کالعدم قرار دیکر شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ منظور کریں۔‘
یہ استدعا کی گئی ہے کہ `ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے کر شہباز گل کا مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے، جوڈیشل مجسٹریٹ اور ایڈیشنل سیشن جج نے شہباز گل کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا۔
دوسری جانب شہباز گل کے ڈرائیور کے برادر نسبتی ملزم نعمان کو جیل بھیجنے کا حکم
عدالت نے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔
پولیس نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم سے تفتیش مکمل ہو چکی ہے جوڈیشل ریمانڈ منظور کیا جائے۔ جبکہ ملزم کے وکیل نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ ان کے موکل کا اس مقدمہ میں کوئی رول نہیں ہے اس کو ڈسچارج کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ `چوری کی دفعہ اس مقدمے میں بنتی ہی نہیں باقی دفعات قابل ضمانت ہیں۔‘