وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب: ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کالعدم، سپریم کورٹ کا پرویز الٰہی سے آج رات ہی حلف لینے کا حکم

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حمزہ شہباز کے وزارت اعلیٰ کے نوٹیفیکیشن کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے اور گورنر پنجاب کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ رات ساڑھے گیارہ بجے تک پرویز الٰہی سے وزارت اعلیٰ کا حلف لیں۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, حکومت چاہتی ہے کہ حمزہ شہباز زیادہ سے زیادہ دیر عبوری وزیراعلی رہیں، علی ظفر

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔۔۔

    فل کورٹ کیوں نہ بنائی جائے، اس بارے میں پرویز الہی کے وکیل علی ظفر کے دلائل جاری ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ حمزہ شہباز عبوری وزیراعلی زیادہ سے زیادہ دیر رہیں۔

    انھوں نے دلائل دیے کہ عدالت نے تحریک عدم اعتماد کیس چار دن میں ختم کر دیا تھا۔ دیگر مقدمات اس کیس کے ساتھ نتھی کرنے سے صرف وقت ضائع ہوگا۔

    علی ظفر کا کہنا ہے کہ سابق بار صدور کا آنا اور دلائل دینا سمجھ سے بالاتر تھا، منحرف ارکان کی اپیلیں اور نظرثانی اس کیس سے منسلک کرنا ذیادتی ہوگی۔

    انھوں نے دلائل دیے کہ بحران ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جلد فیصلہ کیا جائے۔

    علی ظفر کے وکیل کا کہنا ہے کہ نظر ثانی کی درخواستیں صرف 5 رکنی بینچ ہی سن سکتا ہے۔

    انھوں نے دلائل دیے کہ عدالت کے سامنے بڑا سادہ مقدمہ ہے، عدالت پر ہمیں اور پوری قوم کو پورا یقین ہے۔

  2. بریکنگ, فل کورٹ نہ بنانے سے دیگر مقدمات پر عدالت کا فوکس رہا، چیف جسٹس کے ریمارکس

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔۔۔

    فل کورٹ کیوں نہ بنائی جائے، اس بارے میں پرویز الہی کے وکیل علی ظفر کے دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس نے ان سے سوال کیا ہے کہ کیا 2015 کا عدالتی فیصلہ غیر آئینی ہے؟

    علی ظفر نے دلائل دیے کہ عدالت پر مکمل اعتماد ہونا چاہیے۔ فل کورٹ تشکیل دینا چیف جسٹس کی صوابدید ہے۔ کیا تمام عدالتی کام روک کر فل کورٹ ایک ہی مقدمہ سنے؟

    انھوں نے دلائل دیے کہ گذشتہ 25 سال میں فل کورٹ صرف تین یا چار کیسز میں بنا ہے اور گذشتہ سالوں میں فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا 15 مقدمات میں مسترد ہوئیں۔

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فل کورٹ نہ بنانے سے دیگر مقدمات پر عدالت کا فوکس رہا اور مقدمات پر فوکس ہونے سے ہی زیر التوا کیسز کم ہو رہے ہیں۔

  3. بریکنگ, پارٹی سربراہ کو پارلیمنٹیرین پارٹی کی ہدایات کے مطابق ڈکلئیریشن دینی ہوتی ہے، علی ظفر

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔۔۔

    چیف جسٹس نے پرویز الہی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوسری سائیڈ نے فل کورٹ پر دلائل دئیے ہیں۔ آپ بتائیں فل کورٹ کیوں نہ بنائی جائے۔

    جس پرعلی ظفر کے وکیل نے دلائل دیے کہ آرٹیکل 63 اے بڑا کلیئر ہے۔ پارٹی سربراہ کو پارلیمنٹیرین پارٹی کی ہدایات کے مطابق ڈکلئیریشن دینی ہوتی ہے۔

    انھوں نے دلائل دیے کہ آرٹیکل 63 اے پر عدالت پہلے ہی مفصل سماعتوں کے بعد رائے دے چکی ہے اور پارلیمانی پارٹی کی ہدایت تسلیم کرنا ہی جمہوریت ہے۔

    پرویز الہی نے دلائل دیے کہ پارٹی اجلاس میں مختلف رائے دینے والا بھی فیصلے کا پابند ہوتا ہے۔ سیاسی جماعت کے سربراہ کی آمریت کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں اور آرٹیکل 63 اے اور اس کی عدالتی تشریح بالکل واضح اور غیر مبہم ہے۔

    انھوں نے دلائل دیے فل کورٹ بنانے کا اختیار چیف جسٹس کا ہے۔ 15 مقدمات میں چیف جسٹس نے فل کورٹ بنانے سے انکار کیا ہے اور فل کورٹ سے عدالت کو دوسرا سارا کام روکنا پڑتا ہے۔

  4. بریکنگ, آپ بتائیں فل کورٹ کیوں نہ بنائی جائے، چیف جسٹس کا پرویز الٰہی کے وکیل سے سوال

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔

    وکیل صلاح الدین کا کہنا ہے کہ میں بھی چاہتا ہو کہ فل کورٹ تشکیل دی جائے۔

    اس کے بعد ق لیگ کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل کا آغاز کر دیا ہے۔

    انھوں نے دلائل دیے کہ ڈپٹی سپیکر نے نتائج سنانے کے بعد چوہدری شجاعت کا خط لہرایا، خط لہرانے کے بعد عدالتی فیصلے کا حوالہ دے کر ق لیگ کے ووٹ مسترد کیے گئے۔

    علی ظفر نے دلائل دیے کہ ڈپٹی سپیکر نے چوہدری شجاعت کا خط لہرا کر دکھایا، ان کا کہنا ہے کہ ڈپٹی سپیکر نے ق لیگ کے دس ووٹ پرویز الہی کے کھاتے سے نکال دیے۔

    علی ظفر نے دلائل دیے کہ حمزہ کو 179 اور پرویز الہی کو 186 ووٹ ملے۔ دس ووٹوں کو شمار نہ کرنے پر حمزہ کو وزیر اعلی ڈکلئیر کردیا گیا۔

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مقدمہ کے میرٹ پر دلائل نہ دیں۔ فل کورٹ کی تشکیل پر دلائل دیں۔

    چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ دوسری سائیڈ نے فل کورٹ پر دلائل دئیے ہیں۔ آپ بتائیں فل کورٹ کیوں نہ بنائی جائے۔

  5. بریکنگ, اگر یہ خیال کیا جائے کہ ڈپٹی سپیکر نے غلطی کی تو صحیح کیا ہو گا؟ چیف جسٹس

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ میں جاری سماعت کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب کے وکیل منصور اعوان کے دلائل ختم ہو گئے ہیں۔

    دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر یہ خیال کیا جائے کہ ڈپٹی سپیکر نے غلطی کی تو صحیح کیا ہو گا؟

    چیف جسٹس نے پرویز الٰہی کے وکیل علی ظفر کو دلائل دینے سے روکتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ہم آپ کو کیس کے میرٹس پر نہیں سن رہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ان سے پوچھا کہ آپ یہ بتائیں کہ ہمیں فل کورٹ بنانا چاہیے یا نہیں؟

    جس کے بعد چوہدری شجاعت کے وکیل صلاح الدین روسٹرم پر آ گئے ہیں۔

    چیف جسٹس نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صلاح الدین صاحب آپ کو ہم نے ابھی فریق نہیں بنایا۔

    جس پر صلاح الدین کا کہنا ہے کہ مائی لارڈ پارٹی بھی میری ہے اور خط بھی میرا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریماارکس دیے کہ صلاح الدین آپ فل کورٹ پر دلائل دے سکتے ہیں۔

  6. بریکنگ, ’دس ارکان میں سے کسی نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے انکار نہیں کیا: جسٹس اعجاز الاحسن

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر سپریم کورٹ میں جاری سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ منحرف ارکان اور اس کیس کے حقائق مختلف ہے۔ منحرف ارکان کا موقف تھا ہمیں شوکاز اور ہدایات نہیں ملی۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہاں پر ایشو مختلف ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ تمام 10 ممبران نے ووٹ کاسٹ کیا۔ کسی رکن نے دوسری طرف ووٹ نہیں ڈالا۔ تمام ارکان نے ایک طرف ووٹ ڈالا۔ دس ارکان میں سے کسی نے نہیں کہا کہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس نہیں ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ منحرف ہونے والے عمل میں ایکشن لینے والا پارٹی ہیڈ ہوتا ہے۔

    اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ پارٹی اراکین کو ہدایت کیسے دی جاسکتی ہے اس کا طریقہ کیا خط لکھ کر دیا جانا ہے؟

    جبکہ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اس کیس میں چوہدری شجاعت رکن اسمبلی نہیں ، صورتحال پہلے سے مختلف ہے۔ انھوں نے استفسار کیا کہ کیا ڈپٹی سپیکر نے رولنگ دینے سے پہلےچوہدری شجاعت کا خط ہاؤس کے سامنے رکھا؟

    چیف جسٹس نے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپیلوں میں منحرف ارکان کا موقف نہیں ہے کہ ہدایات نہیں ملی۔الیکشن کمیشن میں کیس شوکاز جاری نہ ہونے کا تھا، اور اپیل میں بھی منحرف ارکان نے یہی موقف اپنایا ہے۔

    جس پر وکیل منصور اعواننے کہا کہ پی ٹی آئی منحرف ارکان میں ہدایات عمران خان نے بھیجی تھی، الیکشن کمیشن نے قرار دیا کہ منحرف ارکان پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دیا۔

    جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہپارٹی پالیسی کا مطلب پارلیمانی پارٹی کی ہدایات۔ جس پر وکیل منصور اعوان کا کہنا تھا کہ آپ بالکل درست کہہ رہے ہیں۔ پارٹی پالیسی ہی پارلیمانی پارٹی کی ہدایات ہوتی ہے۔

    جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے ’ہولڈ آن ہولڈ آن۔ بات پوری ہونے دیں، اتنی جلدی کیا ہے؟

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ کیا فل کورٹ بنانے کی صرف یہی دلیل ہے؟

    جس کے جواب میں حمزہ شہباز کے وکیال منصور اعوان کا کہنا ہے کہ میری گزارش یہی ہے کہ فل کورٹ تمام مقدمات کو یکجا کرکے سماعت کریں۔

  7. بریکنگ, سوال یہ ہے کہ کیا ڈپٹی سپیکر نے ہمارے فیصلے کی غلط تشریح تو نہیں کی: جسٹس اعجاز الاحسن

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر سپریم کورٹ میں جاری سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال اٹھایا کہ ڈپٹی سپیکر نے عدالتی فیصلہ درست مانتے ہوئے ہی رولنگ میں اس کا حوالہ دیا تھا؟

    جس پر وکیل ڈپٹی سپیکر عرفان قادر نے جواب دیا کہ ووٹ مسترد کرنے کی حد تک فیصلے کا حوالہ دیا گیا تھا۔

    جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ یعنی ووٹ مسترد ہونے کی حد تک عدالتی فیصلہ تسلیم شدہ ہے۔ سوال صرف ڈپٹی سپیکر کی تشریح کا ہے کہ یہ درست کی یا نہیں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ ق لیگ ارکان نے کس کی ہدایات کے خلاف ووٹ دیا تھا؟ ان کا کہنا تھا کہ آئین واضح ہے کہ ارکان کو ہدایت پارلیمانی پارٹی دے گی۔

    انھوں نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر نے ہمارے فیصلے سے آگے بڑھ کر رولنگ دی، سوال یہ ہے کہ ڈپٹی سپیکر نے ہمارے فیصلے کی درست تشریح کی۔ سوال یہ بھی کیا ڈپٹی سپیکر نے ہمارے فیصلے کی غلط تشریح تو نہیں کی۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے وکیل عرفان قادر سے کہا کہ آپ کا موقف ہے کہ ڈپٹی سپیکر کی تشریح درست ہے، اگر عدالتی فیصلہ غلط ہے تو ووٹ مسترد بھی نہیں ہو سکتے۔

  8. بریکنگ, ’‏ہمارے خیال میں ہمارا دیا گیا فیصلہ واضح ہے‘: چیف جسٹس

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر سپریم کورٹ میں جاری سماعت کے دوران چیف جسٹس جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’‏ہمارے خیال میں ہمارا دیا گیا فیصلہ واضح ہے۔‘

    انھوں نے وکیل سے سوال کیا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عدالت کے مختصر فیصلے نے ابہام پیدا کیے؟ ان کا کہنا تھا کہ ‏ایک طرف پارٹی ہیڈ اپنے اختیارات استعمال کرکے ووٹ استعمال نہیں کرنے دیتا، ‏آپ کی دلیل سے سمجھے ہیں کہ ہمارے فیصلے کا پیرا ون ون ٹو ایسا ہے جس پر کچھ ہو سکتا ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ اس عدالت میں سنیئر پارلیمینٹرین نے موقف اختیار کیا تھا کہ پارٹی سربراہ آمر ہو سکتا ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ صدارتی ریفرنس میں ارکان پارلیمنٹ کو پارٹی ہیڈ کی ڈکٹیٹرشپ سے بچایا، پارٹی ہیڈ کی ڈکٹیٹر شپ سے متعلق کئی ارکان نے شکایات کیں، پارٹی ہیڈ کو بھی پارلیمانی پارٹی کی رائے سننی ہو گی۔

    سوال یہ ہے پارٹی اراکین کو ہدایت کیسے دی جا سکتی ہے اس کا طریقہ کیا خط لکھ کر دیا جانا ہے؟

    ان کا کہنا تھا کہ اس کے کردار کو کم کرنے کے لیے پارلیمانی پارٹی کے لیڈر کو کردار بھی دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں موروثی پارٹیاں ہیں، ایک سربراہ باہر بیٹھ کر کیسے ہدایات دے سکتا ہے۔

    اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ پارلیمانی نمائندوں کو آئین میں اختیارات دیے گئے ہیں۔ اسمبلی میں کس کو ووٹ دینا ہے اس کا فیصلہ پارلیمانی پارٹی کرتی ہے۔

  9. بریکنگ, ’برطانیہ میں پارلیمان کے اندر پارٹی سربراہ کا کوئی کردار نہیں ہوتا:‘جسٹس اعجاز الاحسن

    سماعت کے دوران وکیل حمزہ شہباز نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے پر فیصلہ ماضی کی عدالتی نظیروں کے خلاف ہے۔

    جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ عدالتی فیصلہ خلاف آئین قرار دینے کے نقطے پر رولز موجود ہیں۔ وکیل حمزہ شہباز نے عدالت سے استدعا کی کہ سپریم کورٹ آرٹیکل 63 اے کے معاملے پر فل کورٹ تشکیل دے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پانچ رکنی بینچ کو لگتا ہے ماضی کا عدالتی فیصلہ غلط تھا تو فل بنچ ہی فیصلہ کر سکتا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ پارٹی سربراہ کا کردار بھی کافی اہم ہے، پارٹی سربراہ منحرف اراکین کیخلاف ریفرنس بھیجنے یا نا بھیجنے کا اختیار رکھتا ہے اور اس معاملے پر میں میں بالکل واضح ہوں۔

    اس پر وکیل منصور اعوان نے کہا کہ چار سیاسی جماعتوں کے سربراہ پارلیمانی پارٹی کا حصہ نہیں ہیں، جے یو آئی ف پارٹی سربراہ کے نام پر ہے، مولانا فضل الرحمان پارلیمانی پارٹی کا حصہ نہیں ہیں۔ وکیل منصور اعوان کا کہنا تھا کہ عوام میں جواب دہ پارٹی سربراہ ہوتا ہے پارلیمانی پارٹی نہیں۔

    اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ سیاسی جماعت اصل میں وہی ہوتی ہے جو پارلیمانی پارٹی ہو، ووٹ کس کو ڈالنا ہے ہدایت پارلیمانی پارٹی دے گی اور ریفرنس سربراہ بھیجے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عوام جسے منتخب کر کے اسمبلی میں بھیجتی ہے ان ارکان کے پاس ہی مینڈیٹ ہوتا ہے۔

    سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں تمام اختیارات پارلیمانی پارٹی کے ہوتے ہیں۔ برطانیہ میں پارلیمان کے اندر پارٹی سربراہ کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔

    اس موقع پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ روسٹرم پر آ گئے، ججز نے اعظم نذیر تارڑ کو بیٹھنے کا کہہ دیا جس پر ان کا کہنا تھا کہ اہم ہدایات ملی ہیں ان سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔

    اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے وفاقی وزیر قانون سے کہا کہ اپنے وکیل کو ہدایات سے آگاہ کریں۔

  10. بریکنگ, 18ویں ترمیم کے بعد پارٹی لیڈر کو پارلیمانی پارٹی سے بدل دیا گیا: جسٹس منیب اختر

    سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے حمزہ شہباز کے وکیل سے پوچھا کہ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی نے فیصلے کے کون سے حصے پر انحصار کیا اس کا بتائیں، جس پر وکیل حمزہ شہباز منصور اعوان نے کہا کہ فیصلے کے پیرا گراف تین پر ڈپٹی سپیکر نے انحصار کیا۔

    اس موقع پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ 14 ویں ترمیم میں آرٹیکل 63 اے شامل کیا گیا۔ وکیل حمزہ شہباز نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 63 اے میں مزید وضاحت کی گئی۔

    اس پر جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ آپ کے سیاسی پارٹی کے سربراہ کے بارے میں کیا قانونی دلائل ہیں۔

    وکیل منصور اعوان کا کہنا تھا کہ جسٹس شیخ عظمت سعید کے آٹھ رکنی بینچ کے فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ ہی سارے فیصلہ کرتا ہے۔

    اس پر جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 63 اے کے اصل ورژن میں دو تین زاویے ہیں۔

    اس پر وکیل منصور اعوان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 63 اے میں پارٹی سربراہ کا ذکر موجود ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارٹی پالیسی میں ووٹ کاسٹ کرنے سے متعلق دو الگ اصول ہیں، 18ویں ترمیم سے پہلے آرٹیکل 63 اے پارٹی سربراہ کی ہدایات کی بات کرتا تھا۔ ترمیم کے بعد پارٹی لیڈر کو پارلیمانی پارٹی سے بدل دیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پہلے پارلیمانی پارٹی اور پارٹی سربراہ کے اختیارات میں ابہام تھا، ترمیم کے بعد آرٹیکل 63 اے میں پارلیمانی پارٹی کو ہدایت کا اختیار ہے۔

  11. بریکنگ, ’ڈپٹی سپیکر نے ہمارے جس پیراگراف پر انحصار کیا وہ کہاں ہے‘: سپریم کورٹ

    وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے وکیل منصور اعوان کے دلائل شروع کرنے پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ’ہمیں بتائیں ڈپٹی سپیکر نے رولنگ میں ہمارے فیصلے کے کس حصے کو ریفر کیا، ڈپٹی سپیکر نے ہمارے جس پیراگراف پر انحصار کیا وہ کہاں ہے؟

    جسٹس اعجاز الاحسن نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین ڈائریکشن اور ڈیکلریشن پر واضح ہے۔ پارٹی ہیڈ اور پارلیمانی پارٹی کا رول الگ الگ ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے حمزہ شہباز کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی ہدایت اور ڈیکلریشن دو الگ الگ چیزیں ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی سپیکر نے عدالتی فیصلے کے جس نقطے کا حوالہ دیا وہ بتائیں، جس پر وکیل حمزہ شہباز منصور اعوان نے کہا کہ پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ مسترد ہو جائے گا، یہئ نقطہ ہے۔

    اس موقع پر ججز کا پہلے بنیادی سوال کا جواب دینے کا حکم دیتے ہوئے جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جو نقطہ آپ اٹھانا چاہ رہے ہیں وہ ہم سمجھ چکے ہیں، مناسب ہو گا اب کسی اور وکیل کو موقع دیں۔

    عرفان قادر کا کہنا تھا کہ صدر مملکت نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا ریفرنس بھیجا، آرٹیکل 63 اے کو الگ کر کے نہیں پڑھا جا سکتا، سیاسی جماعت کو ہدایات پارٹی سربراہ دیتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کا اہم کردار ہے، سیاسی جماعتوں کی کمزوری سے جمہوری نظام خطرے میں آ سکتا ہے۔

    عرفان قادر کا مزید کہنا تھا کہ پارٹی پالیسی سے انحراف نظام کے لیے کینسر کے مترادف ہے۔

    جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ’جو ارکان اسمبلی میں موجود ہیں صرف وہ پارلیمانی پارٹی کا حصہ ہوتے ہیں، سیاسی جماعت اور پارلیمانی پارٹی میں فرق ہے۔

  12. کیا ڈیکلریشن اور پارلیمانی پارٹی کو ہدایت ایک ہی شخص دے سکتا ہے؟: جسٹس اعجاز الاحسن

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ کیا ڈیکلریشن اور پارلیمانی پارٹی کو ہدایت ایک ہی شخص دے سکتا ہے؟

    جس پر وکیل عرفان قادر نے کہا کہ عدالت سے لڑائی کرنے نہیں آیا، آپ شاید مجھ سے ناراض ہو گئے ہیں، عدالت کو کسی صورت ناراض نہیں کروں گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عدالت جتنا بھی ڈانٹ لے میں خاموش رہوں گا۔

    سماعت کے دوران پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے الیکشن میں ووٹ بھی دیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا موقف بھی سن لیں گے۔

    جس پر عدالت نے کہا کہ کسی اور وکیل کو موقع دیں جس پر حمزہ شہباز کے وکیل منصور اعوان نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ میں نے اپنا جواب عدالت میں جمع کروا دیا ہے۔

  13. بریکنگ, 63 اے کے حوالے سے میرے ذہن میں کافی ابہام ہے، عرفان قادر

    سماعت کے دوران ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے وکیل عرفان قادر نے دلائل کا آغاز کر دیا ہے۔

    عدالت کے سامنے دلائل پیش کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر کے وکیل عرفان قادر نے عدالت سے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس نے عرفان قادر سے سوال کیا کہ کن نقاط پر فل کورٹ سماعت کرے۔

    جس پر عرفان قادر کا کہنا تھا کہ 36 اے کے حوالے سے آپ اپنی ججمنٹ کا پیرا ون اور ٹو پڑھ لیں، عرفان قادر کا کہنا تھا کہ ججمنٹ کا پیرا ایک ور دوکے پڑھنے سے سب باتیں کلیئر ہو جائیں گی۔ میرے ذہن میں کافی ابہام ہے۔

    جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’میرے مطابق ہمارے فیصلے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔‘

    اس موقع پر چیف جسٹس نے عرفان قادر کو ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا کہ آپ عدالت کی بات پہلے سن لیں، اگر آپ نے ہماری بات نہیں سننی تو کرسی پر بیٹھ جائیں۔

    اس پر ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے وکیل عرفان قادر نے کہا کہ آپ چیف جسٹس ہیں، آپ تو ہمیں ڈانٹ پلا سکتے ہیں لیکن آئین میں انسان کے وقار کا ذکر بھی ہے اس کو بھی دیکھ لیں۔

    جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نہ ریمارکس دیے کہ میں تو آپ کو محترم کہہ کر پکار رہا ہوں۔ وکیل عرفان قادر کا کہنا تھا کہ عدالت تسلی رکھے ہم صرف یہاں آپ کی معاونت کے لیے آئے ہیں، آپ یہ مت سمجھیں ہم یہاں لڑائی کرنے آئے ہیں۔ آپ ناراض ہو گئے ہیں میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

  14. بریکنگ, سسٹم داؤ پر لگا ہوا ہے اس معاملے پر فل کورٹ تشکیل دیا جائے: لطیف آفریدی

    سپریم کورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران سابق صدر سپریم کورٹ بار لطیف آفریدی نے کہا ہے کہ آئینی بحران سے گریز کے لیے اس معاملے پر فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔

    لطیف آفریدی نے عدالت سے کہا کہ بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں، پورا سسٹم داؤ پر لگا ہوا ہے۔ سسٹم کا حصہ عدلیہ اور پارلیمان بھی ہیں۔

    لطیف آفریدی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ ایک آئینی عدالت ہے، ہمارے سابق صدور نے میٹنگ کی ہے، سپریم کورٹ بار کی نظرثانی درخواست زیر التوا ہے، درخواست سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے فل کورٹ تشکیل دی جائے۔

    جس پر پی ٹی آئی کے وکیل ایڈووکیٹ علی ظفر نے سابق صدور سپریم کورٹ بارپر اعتراض اٹھا دیا۔

    اس موقع پر پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک عدالت سے کہا کہ ’ہم نے صبح درخواست جمع کروائی تھی اسے بھی سنا جائے۔‘

    اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’جو سٹیک ہولڈر ہیں ان سب کو سنا جائے گا۔ ہم چاہیں گے فریقین ہماری رہنمائی کریں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس کیس کو سننا چاہتے ہیں، ہمارے سامنے بار کے 10 صدور موجود ہیں۔ ہم آپ سبکو ترتیب سے سنیں گے، ہمارے چیمبر آپ کے لیے کھلے ہیں۔‘

    جس پر صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون نے کہا کہ ’ہم عدالت کے ساتھ ہیں ، مدد کرنا چاہتے ہیں۔‘

  15. بریکنگ, سپریم کورٹ میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف درخواست پر سماعت شروع

    SC

    ،تصویر کا ذریعہgetty

    سپریم کورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف درخواست پر سماعت شروع ہو گئی ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کر رہا۔

    عدالت نے سابق صدر سپریم کورٹ بار لطیف آفریدی کو روسٹرم پر بلا لیا ہے۔ چیف جسٹس نے سماعت میں ریمارکس دیے ہیں کہ ’ہم دیکھ رہے ہیں کافی صدور یہاں موجود ہیں۔‘

    لطیف آفریدی نے عدالت سے کے سامنے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کی نظر ثانی درخواستیں زیر التواء ہیں اس لیے بار کے صدور یہاں موجود ہیں۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ سب ہمارے لیے قابل عزت ہیں، یہ کیس براہ راست ہمارے فیصلے سے منسلک ہے۔ اس موقع پر لطیف آفریدی نے عدالت سے کہا کہ ’میں عدالت سے کچھ گزارشات کرنا چاہتا ہو۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’بتائیں آپ نے کہا کہنا ہے۔‘

    جس پر لطیف آفریدی نے کہا کہ ’اس وقت درجہ حرارت بڑا ہائی ہے۔‘

  16. بریکنگ, اتحادی جماعتوں کی پریس کانفرنس میں سپریم کورٹ پر براہ راست حملہ کیا گیا، فواد چوہدری

    Presser

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اتحادی جماعتوں کی پریس کانفرنس میں سپریم کورٹ پر براہ راست حملہ کیا گیا ہے۔

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ لوگ سپریم کورٹ کو بلیک میل کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ جس نے اجازت دی کہ مریم نواز ایک جتھے کی صورت میں پریس کانفرنس کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرآج پاکستان میں سری لنکا جیسے حالات کا سامنا ہے تو اس کے ذمہ دار مریم نواز، زرداری اور مولانا فضل الرحمان جیسے لوگوں کی وجہ سے ہے۔

    فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اتحادی جماعتوں کے پریس کانفرنس میں شامل تمام قائدین کے نام ای سی ایل پر ڈالے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز سزا یافتہ ہیں اور ضمانت پر ہیں وہ کیسے پریس کانفرنس کر سکتے ہیں۔

  17. بریکنگ, تحریک انصاف نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی

    Governor Punjab

    ،تصویر کا ذریعہPMLN

    تحریک انصاف نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی۔

    پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے میاں اسلم اقبال کی طرف سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی۔ درخواست میں حمزہ شہباز اور دوست مزاری کے خلاف بھی توہین عدالت کی کاروائی کی استدعا کی گئی ہے۔

    درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ گورنر نے حمزہ شہباز کی کابینہ سے حلف لے کر توہین عدالت کی۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ میاں بلیغ الرحمان، حمزہ شہباز، دوست مزاری کے خلاف کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

  18. بریکنگ, ’جو آپ کا ساتھ نہ دے تو وہ میر جعفر، میر صادق اور جانور ہو جاتا ہے‘، مریم نواز شریف

    مریم نواز نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے ’عمران خان کا جو ساتھ نہ دے تو وہ میر جعفر، میر صادق اور جانور ہو جاتا ہے۔‘

    اسلام آباد میں اتحادی جماعتوں کی پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سوال جواب کے دوران قبل از وقت انتخابات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ حکومت کوئی معنی نہیں رکھتی، یہ لولی لنگڑی حکومت کا کوئی فائدہ نہیں لیکن یہ ایسی بھی چیز نہیں کہ اسے عمران خان کو پلیٹ میں رکھ کر دے دیا جائے۔‘

    عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ زور، دھونس اور زبردستی سے آئین میں تبدیلی کر کے فیصلے اپنے حق میں لینا چاہتے ہیں اور اگر کسی بھی غیر آئینی اقدام میں جو ان کا ساتھ نہیں دیتا تو اسے میر جعفر اور میر صادق قرار دیا جاتا ہے۔‘

  19. بریکنگ, اس طرح کی آئینی تشریح کے بعد پارٹی لیڈر کی ضرورت نہیں، ایمل ولی خان

    پاکستان کی اتحادی حکومت کے اتحاد میں شامل عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل والی خان کا کہنا ہے کہ عمران خان ملک میں انتشار پھیلانا چاہ رہے ہیں اور ان کا راستہ روکنا ہو گا۔

    انھوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلوں میں اس طرح کی آئینی تشریح کے بعد سیاسی پارٹیوں میں پارٹی لیڈر کی ضرورت نہیں ہے۔

  20. بریکنگ, اگر قوانین بنانا پارلیمنٹ کا اختیار نہیں تو فیصلہ کر دیں: طارق بشیر چیمہ

    مسلم لیگ ق کے رہنما طارق بشیر چیمہ کا کہنا ہےکہ ’اگر قوانین بنانا پارلیمنٹ کا کام نہیں ہے تو فیصلہ کر دیں۔‘

    اسلام آباد میں اتحادی جماعتوں کی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ یہ فیصلہ کرے کہ قوانین بنانے کا اختیار کس کا کام ہے۔ ، انھوں نے اتحادی جماعتوں کے فل کورٹ تشکیل دینے کے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا کہ امید ہے یہ انا کا مسئلہ نہیں بنے گا اور معزز عدالت فل کورٹ بنائے گی۔