وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب: ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کالعدم، سپریم کورٹ کا پرویز الٰہی سے آج رات ہی حلف لینے کا حکم

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حمزہ شہباز کے وزارت اعلیٰ کے نوٹیفیکیشن کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے اور گورنر پنجاب کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ رات ساڑھے گیارہ بجے تک پرویز الٰہی سے وزارت اعلیٰ کا حلف لیں۔

لائیو کوریج

  1. پارلیمان کے بارے میں جو اہم سماعت ہو رہی ہے وہ فل بینچ کو کرنی چاہیے: بلاول

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کی تمام جمہوری جماعتوں کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ پارلیمان کے بارے میں جو اہم سماعت ہو رہی ہے وہ فل بینچ کو کرنی چاہیے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. بریکنگ, ہم اس بنچ کا بائیکاٹ کریں گے اور اس مقدمے کا حصہ نہیں بنیں گے، مولانا فضل الرحمن

    حکومتی اتحاد میں شامل مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ ’ہم (حکومتی اتحاد) عدلیہ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ہم اس بنچ کا بائیکاٹ کریں گے اور اس مقدمے کا حصہ نہیں بنیں گے۔

    مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ تین ججوں کے ماضی میں فیصلوں کی وجہ سے ان کے ذہنی میلان کا اندازہ لگ رہا تھا کہ اس بنچ کا دیا جانے والا فیصلہ ایک جانبدارانہ فیصلہ تصور کیا جائے گا۔ ’لہذا فیصلے پر دونوں فریقوں اور قوم کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے فل کورٹ کی تجویز دی تھی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’آج ہمارے وکلا نے اس موقف کی بنیاد پر عدالت کے سامنے بھرپور طور پر آئین و قانون کے مطابق بنچ کو مشورہ دیا لیکن عدلیہ نے ہمارے مطالبے پر غور کرنے اور قبول کرنے کے بجائے مسترد کر دیا ہے اور فیصلہ اب تین ججوں پر مشتمل بنچ ہی کرے گا۔‘

    مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ ’آج ہم تمام اتحادیوں کا موقف ہے کہ فل کورٹ نہیں بنایا جاتا تو ہم عدلیہ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں اور ہم اس بنچ کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔‘

  3. عدالتی فیصلے نے ملک میں نئے سیاسی بحران کی بنیاد رکھ دی ہے، احسن اقبال

    مسلم لیگ نواز کے رہنما اور وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ’سپریم کورٹ کے فل بینچ سے سماعت کا مطالبہ کرنے کا مقصد یہ تھا کہ عدلیہ کے حوالے سے کسی قسم کا تنازعہ پیدا نہ ہو اور سب فریقین کے لیے یہ فیصلہ حتمی ہو گا۔ تاہم حیرت ہے کہ سپریم کورٹ کے 3 جج صاحبان نے یہ مناسب نہیں سمجھا کہ ان کے دیگر جج ساتھی اس مقدمہ کی سماعت میں شریک ہو سکیں۔‘

    ایک اور ٹویٹ میں احسن اقبال نے لکھا کہ ’پاکستان آج تک 2017 کے وزیر اعظم نواز شریف کو عدالتی فیصلہ کے ذریعہ نااہل کرنے کے سیاسی اور معاشی اثرات بھگت رہا ہے اور آج فل کورٹ نہ بنانے کے عدالتی فیصلے نے ملک میں ایک نئے سیاسی بحران کی بنیاد رکھ دی ہے جس کے معاشی اثرات کی ذمہ داری بھی کیا عدلیہ قبول کرے گی؟‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

  4. مجھے کم از کم یقین تھا فل کورٹ نہیں بنے گا اور انصاف نہیں ملے گا، مریم نواز

    مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نے سپریم کورٹ کے حکومتی اتحاد کی فل کورٹ بنانے کی درخواست مسترد کرنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’مجھے کم از کم یقین تھا فل کورٹ نہیں بنے گا اور انصاف نہیں ملے گا اور یہی میں قوم کو بتانا چاہتی تھی۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’جب فیصلے آئین، قانون اور انصاف کے مطابق نہ ہوں تو فُل کورٹ سے خطرہ رہتا ہے کیونکہ ایماندار ججز کے شامل ہونے سے فیصلے کی خامیاں منظرِ عام پر آ جاتی ہیں اور لوگ جان جاتے ہیں کہ فیصلہ آئین و قانون نہیں، ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ مگر اب کچھ بھی کر لیں، لوگ تو جان گئے!‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. سپریم کورٹ سے بی بی سی اردو کا فیس بک لائیو

    سپریم کورٹ نے حکومتی اتحاد کی فل کورٹ بنانے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

    تفصیلات کے لیے دیکھیے سپریم کورٹ کے باہر سے بی بی سی اردو کا فیس بک لائیو۔۔

  6. بریکنگ, سپریم کورٹ نے حکومتی اتحاد کی فل کورٹ بنانے کی درخواست مسترد کر دی

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کی فل کورٹ بنانے کی تمام درخواستیں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ضمن میں تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

    عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ پر کیس کی سماعت یہی تین رکنی بینچ اب کل صبح ساڑھے گیارہ بجے کرے گا۔

  7. کیا عدلیہ کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) اور حکومتی اتحاد کا بیانیہ تبدیل ہو رہا ہے؟, منزہ انوار، بی بی سی اردو

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے متنازع الیکشن کے خلاف تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کو بطور ٹرسٹی وزیر اعلی فرائض ادا کرنے کا حکم دیا جس کے بعد مسلم لیگ (ن) اور متحدہ حکومتی اتحاد کی جانب سے تین رکنی بنچ کے فیصلے پر کڑی تنقید سامنے آ رہی ہے اور فل کورٹ بنچ بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    مسلم لیگ (ن) اور حکومتی اتحاد میں شامل رہنماؤں کے حالیہ بیانات کے بعد اکثر افراد یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ کیا اب عدلیہ کے حوالے سے مسلم لیگ ن اور اتحادیوں کا بیانیہ تبدیل ہو رہا ہے؟

    کچھ افراد پاکستان مسلم لیگ ن پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہ رہے ہیں کہ کچھ دن قبل انھوں نے نہ صرف قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدالتی فیصلہ مانا تھا بلکہ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت اس عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کی بھی پابند ہے اور اسی لیے وفاقی حکومت نے آرٹیکل چھ کے تحت ریفرنس دائر کرنے پر کام شروع کر دیا ہے۔

  8. ’کہیں لکھا ہے کہ پارٹی کا سربراہ پارلیمنٹ کا ممبر ہونا چاہیے ؟ لکھا ہے تو بتائیں‘ مریم نواز

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. عوام میں تاثر گیا کہ اہم سیاسی معاملات پر چند جج فیصلہ کرتے ہیں تو آسمان لازمی گرے گا، بیرسٹر صلاح الدین

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سماعت کر رہا ہے اور پندرہ منٹ کے وقفے کے بعد فل کورٹ بنانے سے متعلق فیصلہ سنایا جائے گا۔

    وقفے سے پہلے والی کارروائی کے چند نکات:

    • چوہدری شجاعت کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین نے دلائل دیے کہ عوام ماڈل ٹاؤن کے شریفوں کے معجزے اور گجرات کے چوہدری کا شاندار ماضی دیکھ چکے۔ حمزہ وزیراعلی بنیں یا پرویز الہی، آسمان نہیں گرے گا لیکن عوام میں تاثر گیا کہ اہم سیاسی معاملات پر چند جج فیصلہ کرتے ہیں تو آسمان لازمی گرے گا۔
    • چوہدری شجاعت کے وکیل نے استدعا کی کہ عدالت 63 اے سے متعلق معاملات پر فل کورٹ بنا دے۔
    • صلاح الدین نے دلائل دیے کہ کہ عدالت نے سپیکر کے ووٹ مسترد کرنے کے اختیار پر واضح فیصلہ دے رکھا ہے۔
    • جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ اگر آپ کی بات مان لی جائے تو کیا اراکین اسمبلی ڈمی ہیں؟
    • وکیل صلاح الدین نے دلائل دیے کہ اگر جلسے میں اراکین بیٹھے ہیں اور کہا جاتا ہے فلاں کو سپورٹ کرنا ہے تو کیا یہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس تصور ہو گا؟
  10. بریکنگ, آج زیادہ ووٹ لینے والا باہر اور کم لینے والا وزیراعلی ہے، چیف جسٹس کے ریمارکس

    supremecourt

    ،تصویر کا ذریعہsupremecourt

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سماعت کر رہا ہے۔۔۔۔

    چوہدری شجاعت حسین کے وکیل صلاح الدین کے دلائل سننے کے بعد اب سپریم کورٹ پندرہ منٹ کے بعد فل کورٹ بنانے سے متعلق فیصلہ سنائے گی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج زیادہ ووٹ لینے والا باہر اور کم لینے والا وزیراعلی ہے، ان کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز کو وزیراعلی برقرار رکھنے کے لیے ٹھوس بنیاد درکار ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا ہے کہ ریاست کے کام چلتے رہنے چاہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جلدی مقدمہ نمٹانا چاہتے ہیں اور فی الحال صرف دو مزید ججز دستیاب ہیں۔

    جس پر بیرسٹر صلاح الدین نے دلائل دیے کہ ججز بھی ویڈیو لنک پر کیس سن سکتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وزیراعلی کے الیکشن سے پہلے بھی فریقین کو بلا کر متفق کیا تھا۔

    ان کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز کو ضمنی الیکشن تک بطور وزیراعلی برقرار رکھا تھا، حمزہ شہباز نے پرامن اور بہترین ضمنی الیکشن میں کردار ادا کیا اور اب وزیراعلی کے الیکشن کا جو نتیجہ آیا اس کا احترام کرنا چاہئے۔

    بیرسٹر صلاح الدین نے دلائل دیے کہ عدالت نے سپیکر کے ووٹ مسترد کرنے کے اختیار پر واضح فیصلہ دے رکھا ہے۔

    جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ اگر آپ کی بات مان لی جائے تو کیا اراکین اسمبلی ڈمی ہیں؟

    وکیل صلاح الدین نے دلائل دیے کہ اگر جلسے میں اراکین بیٹھے ہیں اور کہا جاتا ہے فلاں کو سپورٹ کرنا ہے تو کیا یہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس تصور ہو گا؟

    سپریم کورٹ پندرہ منٹ کے بعد فل کورٹ بنانے سے متعلق فیصلہ سنائے گی۔

    پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے اس معاملے کو جمعرات تک ملتوی کرنے کی استدعا بھی کر رکھی ہے۔

  11. بریکنگ, فل کورٹ ستمبر میں ہی بن سکے گی کیا تب تک سب کام روک دیں؟ چیف جسٹس کے ریمارکس

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سماعت کر رہا ہے۔۔۔۔

    چوہدری شجاعت حسین کے وکیل صلاح الدین کے دلائل سننے کے بعد جسٹس منیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپ اکیسویں ترمیم کیس کا حوالہ دے رہے ہیں، یہ دیکھیں اکیسویں ترمیم میں فیصلہ کس تناسب سے آیا تھا؟

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ بینچ کے رکن جتنے بھی ہوں فیصلے کا تناسب بدلتا رہتا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ توقع نہیں تھی کہ اسمبلی بحال ہونے کے بعد نئی اپوزیشن واک آؤٹ کر دے گی۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے نیک نیتی سے فیصلہ کیا تھا، اپریل 2022 سے آج تک بحران بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ آپ شاید چاہتے ہیں کہ یہ بحران مزید طویل ہو۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ فل کورٹ ستمبر میں ہی بن سکے گی کیا تب تک سب کام روک دیں؟ ریاست کے اہم ترین معاملات کو اس لیے لٹکا نہیں سکتے کہ آپ کی خواہش ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آئینی اور عوامی مفاد کے مقدمات کو لٹکانا نہیں چاہئے۔ معیشت کی صورتحال سے ہر شہری کی طرح ہم بھی پریشان ہیں۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا معیشت کا یہ حال عدالت کی وجہ سے ہے یا عدم استحکام کی وجہ سے؟

  12. بریکنگ, بار بار فل کورٹ کا ذکر کیوں کر رہے ہیں؟ جسٹس منیب اختر کا چوہدری شجاعت حسین کے وکیل سے سوال

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سماعت کر رہا ہے۔۔

    دورانِ سماعت چوہدری شجاعت حسین کے وکیل صلاح الدین کے دلائل جاری ہیں۔

    بیرسٹر صلاح الدین نے دلائل دیے کہ فل کورٹ کی بصیرت سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ بار بار فل کورٹ کا ذکر کیوں کر رہے ہیں؟ آپ آٹھ ججز کے فیصلے کا حوالہ دے رہے تو نو ججز بھی سماعت کرسکتے ہیں۔

  13. بریکنگ, پارلیمانی پارٹی میں پارٹی سربراہ کی آمریت نہیں ہونی چاہیے، جسٹس منیب اختر

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سماعت کر رہا ہے۔۔

    دورانِ سماعت چوہدری شجاعت حسین کے وکیل صلاح الدین کے دلائل کا آغاز ہو گیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ پارٹی سربراہ نے تمام ممبران کو لیٹر لکھا۔ انھوں نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کو میرے خیال میں پارٹی ہیڈ احکامات دیتا ہے۔

    چوہدری شجاعت کے وکیل صلاح الدین کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو فل کورٹ میں طے کیا جانا چاہیے۔

    بیرسٹر صلاح الدین نے دلائل دیے کہ کئی جماعتیں کہتی ہیں کاغذوں میں نام کسی کا بھی ہو ہمارا قائد فلاں ہے۔ اصل فیصلہ پارٹی سربراہ کا ہی ہوتا ہے قائد کوئی بھی ہو۔

    انھوں نے دلائل دیے کہ کسی جماعت کا سینیٹر ہو وہ کس پارلیمانی پارٹی سے ہدایت لے گا؟

    بیرسٹر صلاح الدین کا کہنا ہے کہ خط کب لکھے گئے کب ملے، عدالت نے یہ سوال پوچھے تھے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے صرف سمجھنے کے لیے سوال پوچھا تھا، سپیکر نے فیصلہ خط ملنے کے وقت پر نہیں بلکہ عدالتی حکم کی روشنی میں دیا۔

    صلاح الدین نے دلائل دیے کہ ہر سیاسی جماعت کا ایک منشور ہوتا ہے۔ تھرڈ ورلڈ ممالک میں پارٹی سربراہ کی اپنی شخصیت ہوتی ہے۔

    جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ پارلیمانی پارٹی میں تمام ارکان کی اہمیت ہے۔ پارلیمانی پارٹی میں پارٹی سربراہ کی آمریت نہیں ہونی چاہیے، پارلیمانی پارٹی کی مشاورت سے فیصلے ہوتے ہیں۔

    صلاح الدین نے دلائل دیے کہ ‏ایم پی ایز اور ڈپٹی سپیکر کو بھیجے خطوط کا ریکارڈ جمع کراؤں گا۔ کچھ ایسے سوالات ہیں جو عدالت میں اٹھائے گئے ان کا جواب دینا ضروری ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس میں پارلیمنٹری پارٹی کی ڈائریکشن کا معاملہ ہے کہ کون کیسے یہ ڈائریکشن دے سکتا ہے، ووٹ کا فیصلہ پارٹی سربراہ اور پارٹی کا ہوتا ہے۔

  14. بریکنگ, پارلیمنٹ غیر آئینی کام کرے گی تو معاملات عدالت میں آئیں گے، چیف جسٹس کے ریمارکس

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع کی ہے اور اب سے کچھ دیر قبل تک عرفان قادر دلائل دے رہے تھے۔۔۔

    عرفان قادر کے دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم نے زیرالتوا کیسز کا سپریم کورٹ پر بوجھ کم کیا، سپریم کورٹ کے سارے ججز محنت اور لگن سے زیر التوا کیسز کا بوبھ کم کر رہے ہیں اور مختلف رجسٹریوں میں بیٹھ کر وہ کیسز کی سماعت کر رہے ہیں۔

    چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا حقائق نہیں صرف بیانیہ سنتا ہے، ہم نے اس کیس میں تمام فریقین کو بات کرنے کا موقع دیا، یہ عدالت زیر التوا مقدمات نمٹانے کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ اس کیس میں ہیڈ آف پارٹی کی ڈائریکشن ہے، صرف ایک نقطہ دیکھنا ہے کہ کیا پارٹی ہیڈ پارلیمانی پارٹی کا فیصلہ اوور رول کر سکتا ہے یا نہیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پارلیمانی پارٹی عام عوام کی اسمبلی میں نمائندگی کرتی ہے، 18ویں ترمیم میں پارلیمانی پارٹی کو اختیارات دیے۔

    ان کا کہنا ہے کہ بورس جانسن کو پارلیمانی پارٹی نے وزارت عظمیٰ سے ہٹایا، ہم نے جمہوریت اور پارلیمنٹ کو مضبوط کرنا ہے، افراد کو نہیں۔

    وکیل پیپلز پارٹی فاروق نائیک نے دلائل دیے کہ یہ دیکھنا ہے کہ پارلیمنٹ کا مسئلہ عدالت میں آسکتا ہے یا نہیں۔

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ غیر آئینی کام کرے گی تو معاملات عدالت میں آئیں گے۔

    فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیے کہ چیئرمین سینیٹ الیکشن میں ووٹ مسترد کرنا سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے، پارلیمان کے مسئلے عدالتوں میں نہیں آنا چاہیے۔

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جب پارلیمان میں آئین شکنی ہوگی یا غیر قانونی اقدام ہوگا تو معاملہ سپریم کورٹ میں آۓ گا۔

  15. بریکنگ, اس کیس کو جلدی بازی میں نہ سنا جائے، عرفان قادر کے دلائل

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع کی ہے اور عرفان قادردلائل دے رہے ہیں۔۔۔

    عرفان قادر کا کہنا ہے کہ سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ عدلیہ کو بھی اپنے فیصلوں میں متحد ہونا چاہیے۔

    ان کا کہنا ہے کہ میں سپریم کورٹ پر تنقید نہیں کر رہا، آئین کی بالادستی ہونی چاہیے۔

    عرفان قادر نے دلائل دیے کہ نظرثانی دائر کرنا آئینی حق ہے جو استعمال کریں گے، اس کیس کو جلدی بازی میں نہ سنا جائے۔

    عرفان نے مزید دلائل دیے کہ سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں قرار دیا پارٹی سربراہ کا اہم کردار ہوتا ہے، میں چاہتا ہوں عدالت میرے دلائل میں مداخلت نہ کرے میں بھی جج رہ چکا ہوں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت کے معاملہ پر سو موٹو لیا۔ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی رولنگ ہماری نظر میں غیر قانونی تھی۔

    چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ اس کیس کو لمبا نہیں چھوٹا کیا جا سکتا ہے۔

    اس پر عرفان قادر کا کہنا ہے کہ میں نے کبھی اتنے لمبے دلائل نہیں دیے۔

    ان کا کہنا ہے کہ عدالت کے گزشتہ حکم نامہ میں تضاد ہے، پارٹی ہیڈ اور پارلیمانی پارٹی ہیڈ میں بڑا فرق ہے۔

    انھوں نے مزید دلائل دیے کہ پرویز الہیٰ کو وہ جماعت وزیراعلیٰ بنانا چاہتی ہے جو اسے ڈاکو کہتی تھی۔ انھوں نے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین صاحب ملک کے بڑے سیاست دان ہیں۔

    عرفان قادر کا کہنا ہے کہ جنھوں نے آئین توڑا، ملک کو تباہی کے دہانے پر لے گئے اب تاثر ہے کہ عدالت ان کو فائدہ دے رہی ہے۔

  16. بریکنگ, اگر عدالت کہہ دے منحرف اراکین کا ووٹ شمار ہو گا تو پھر معاملہ خراب ہو جائے گا، عرفان قادر کے دلائل

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع کی ہے۔۔۔۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ کیس طویل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے ملک میں اچھی طرز حکمرانی بہت اہم معاملہ ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ہم نے وفاقی حکومت کے کیس میں ازخود نوٹس لیا، ہماری نظر میں سپیکر صاحب نے آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی کی۔

    عرفان قادر نے دلائل دیے کہ نظرثانی کیس کو اس کیس سے الگ نہیں کر سکتے، وزیر قانون صاحب کو سپریم کورٹ میں استدعا کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر عدالت کہہ دے منحرف اراکین کا ووٹ شمار ہو گا تو پھر معاملہ خراب ہو جائے گا۔

  17. بریکنگ, فل کورٹ بنانے کے لیے کلیئرٹی چاہیے، مزید دلائل دیں، چیف جسٹس

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع کر دی ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ فل کورٹ بنانے کے لیے کلیئرٹی چاہیے لہذا مزید دلائل دیں۔

    عدالت نے پیپلز پارٹی اور ملسم لیگ ق کی فریق بننے کی درخواستیں منظور کر لی ہیں اور تین رکنی بنچ نے کہا ہے کہ وہ انھیں بھی سنیں گے۔

    ڈپٹی سپیکر کے وکیل عرفان قادر کا کہنا تھا کہ علی ظفر صاحب کا اسرار تھا یہی بنچ اس کیس کو سنے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایک جج صاحب تھے جنھوں نے جوڈیشل کونسل کا فورم استعمال کیا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کیس دس ججوں نے سناگ

    انھوں نے دلائل دیے کہ یہاں ایک صوبے کا معاملہ ہے، میں یہ نہیں کہہ رہا نیوٹرلرلیٹی پر سوال ہے، میں کہہ رہا ہوں اگر فل کورٹ بنایا جائے تو عدالت کی تکریم میں اضافہ ہوگا، عرفان قادر نے مید دلائل دیے کہ یہ تاثر ہے کہ ایک ہی بنچ میں کیسز چلتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فل کورٹ سیئرز میٹر میں بنایا جاتا ہے۔

    چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں گورننس بڑا ایشو ہے، ڈپٹی سپیکر کے معاملے پر ہم نے سومٹو لیا، اس معاملے میں ہم نے سوموٹو نہیں لیا۔

  18. بریکنگ, فل کورٹ تشکیل نہ دیا گیا تو عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کریں گے، رانا ثنا اللہ

    ببث

    مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ اتحادی جماعتوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اگر فل کورٹ تشکیل نہیں دیا جاتا تو ہم عدالتی کاروائی کا بائیکاٹ کریں گے۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ فل کورٹ نہ بننے کی صورت میں حمزہ شہباز بھی اس کیس میں فریق نہیں بنیں گے۔

    ان کا مزید کہنا ہے ڈپٹی سپیکر کی اپنی مرضی ہو گی کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔

  19. آصف زرداری سالگرہ کا دن اپنے نواسے کے ساتھ منانے دبئی گئے ہیں، ترجمان بلاول ہاؤس

    ترجمان بلاول ہاوَس کا کہنا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری سالگرہ کا دن اپنے نواسے کے ساتھ منانے کے لیے مختصر دورے پر دبئی گئے ہیں اور جلد وطن لوٹ آئیں گے۔

    سوشل میڈیا پر آصف زرداری کے دبئی جانے سے متعلق خبروں کا جواب دیتے ہوئے ترجمانِ بلاول ہاوَس سریندر ولاسائی کا کہنا ہے کہ سابق صدر چاہتے تھے کہ وہ نانا کے طور پر اپنی پہلی سالگرہ کا دن اپنے اکلوتے نواسے کے ساتھ منائیں۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر زرداری سے خوفزدہ اور عناد رکھنے والے عناصر موقع دیکھتے ہیں نہ محل، ہر بات کا بتنگڑ بنا دیتے ہیں۔

    ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ صدر زرداری نے گیارہ سال بلاجواز قید و بند کی صعوبتیں تو برداشت کرلیں تھیں لیکن ملک نہیں چھوڑا تھا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  20. بریکنگ, چوہدری شجاعت حسین کا خط ق لیگ کے اراکین تک نہیں پہنچا تھا، علی ظفر کے دلائل

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ میں سماعت میں ایک گھنٹے کا وقفہ دیا گیا ہے۔

    اب سے کچھ دیر قبل، فل کورٹ کیوں نہ بنائی جائے، اس بارے میں پرویز الہی کے وکیل علی ظفر کے دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ جسٹس منیب اختر کے سوال کا جواب دیں کہ چوہدری شجاعت حسین کا خط کب اراکین تک پہنچا؟

    جس پر علی ظفر کا کہنا ہے کہ چوہدری شجاعت حسین کا خط ق لیگ کے اراکین تک نہیں پہنچا تھا۔

    چوہدری پرویز الٰہی کے وکیل امتیازصدیقی نے دلائل دیے کہ ڈپٹی سپیکر نے کہا میرا فیصلہ چیلنج کر دیں۔

    پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز سے پہلے حلف سپیکر قومی اسمبلی نے لیا تھا اور حلف کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے فیصلہ دیا۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ فی الحال اپنے دلائل کو فل کورٹ کے نکتے تک محدود رکھیںگ

    عدالت نے فل کورٹ کے نکتے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ساڑھے پانچ بجے دوبارہ سماعت ہو گی۔