وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سماعت کر رہا ہے۔۔
دورانِ سماعت چوہدری شجاعت حسین کے وکیل صلاح الدین کے دلائل کا آغاز ہو گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پارٹی سربراہ نے تمام ممبران کو لیٹر لکھا۔ انھوں نے کہا کہ
پارلیمانی پارٹی کو میرے خیال میں پارٹی ہیڈ احکامات دیتا ہے۔
چوہدری شجاعت کے وکیل صلاح الدین کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو فل کورٹ میں طے کیا جانا چاہیے۔
بیرسٹر صلاح الدین نے دلائل دیے کہ کئی جماعتیں کہتی ہیں کاغذوں میں نام کسی کا بھی ہو ہمارا قائد فلاں ہے۔ اصل فیصلہ پارٹی سربراہ کا ہی ہوتا ہے قائد کوئی بھی ہو۔
انھوں نے دلائل دیے کہ کسی جماعت کا سینیٹر ہو وہ کس پارلیمانی پارٹی سے ہدایت لے گا؟
بیرسٹر صلاح الدین کا کہنا ہے کہ خط کب لکھے گئے کب ملے، عدالت نے یہ سوال پوچھے تھے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے صرف سمجھنے کے لیے سوال پوچھا تھا، سپیکر نے فیصلہ خط ملنے کے وقت پر نہیں بلکہ عدالتی حکم کی روشنی میں دیا۔
صلاح الدین نے دلائل دیے کہ ہر سیاسی جماعت کا ایک منشور ہوتا ہے۔ تھرڈ ورلڈ ممالک میں پارٹی سربراہ کی اپنی شخصیت ہوتی ہے۔
جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ پارلیمانی پارٹی میں تمام ارکان کی اہمیت ہے۔ پارلیمانی پارٹی میں پارٹی سربراہ کی آمریت نہیں ہونی چاہیے، پارلیمانی پارٹی کی مشاورت سے فیصلے ہوتے ہیں۔
صلاح الدین نے دلائل دیے کہ ایم پی ایز اور ڈپٹی سپیکر کو بھیجے خطوط کا ریکارڈ جمع کراؤں گا۔ کچھ ایسے سوالات ہیں جو عدالت میں اٹھائے گئے ان کا جواب دینا ضروری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس میں پارلیمنٹری پارٹی کی ڈائریکشن کا معاملہ ہے کہ کون کیسے یہ ڈائریکشن دے سکتا ہے، ووٹ کا فیصلہ پارٹی سربراہ اور پارٹی کا ہوتا ہے۔