آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پیٹرولیم مصنوعات: عمران خان کی ملک گیر احتجاج کی کال، کراچی ضمنی انتخابات میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک

سابق وزیر اعظم عمران خان نے پیٹرول کی قیمت میں اضافے پر اتوار کی شام ملک گیر احتجاج کی کال دی ہے۔ اُدھر صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں این اے 240 کے ضمنی انتخاب میں پولنگ کے اختتام پر فائرنگ سے ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ حالات اب قابو میں ہیں اور گنتی کا عمل جاری ہے۔

لائیو کوریج

  1. جون کے آخری ہفتے میں معمول سے زیادہ بارشوں کی پیش گوئی، وزیراعظم کی فوری اقدامات کی ہدایات

    وزیراعظم شہباز شریف نے جون کے آخری ہفتے میں معمول سے زیادہ بارشوں کی پیش گوئی پر فوری اقدامات کی ہدایات جاری کی ہیں۔

    وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں اور محکموں کو صوبوں اور ضلعی انتظامیہ کو الرٹ کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش بندی کی جائے۔

    وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ نشیبی علاقوں، زیادہ بارشوں کی زد میں آنے والے علاقوں میں ابھی سے انتظامات یقینی بنائے جائیں۔

    اور پیشگی حفاظتی انتظامات، امدادی سازوسامان کی دستیابی کے لیے بروقت اقدامات کیے جائیں۔

    وزیراعظم نے وفاق اور صوبوں کے اشتراک عمل سے جامع حکمت تیار کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

    شہباز شریف نے زرعی علاقوں میں فصلوں، مویشیوں کی حفاظت اور نقصانات سے بچنے کی تدابیر اختیار کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا ہے کہ خطرے کی زد میں آنے والے علاقوں کے مکینوں کو بروقت خبردار کیا جائے اور محفوظ مقامات پر منتقلی یقینی بنائی جائے۔

    وزیراعظم نے نکاسی آب ، نالوں اور آبی گزرگاہوں کی صفائی اور سپرے کے انتظامات یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔

  2. وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے صوبائی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج طلب کر لیا

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے صوبائی پارلیمانی پارٹی کااجلاس آج طلب کر لیا ہے۔

    صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کریں گے۔

    اجلاس میں پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے بارے میں حکمت عملی طے کیے جانے کا امکان ہے۔

  3. پنجاب اسمبلی بجٹ اجلاس کا معاملہ: پاکستان تحریک انصاف اور ق لیگ کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج ہو گا

    پنجاب اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف پنجاب اور ق لیگ کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج منعقد ہو گا۔

    پارلیمانی پارٹی کے مشترکہ اجلاس میں اہم فیصلے کئے جانے کا امکان ہے۔

    پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں تحریک انصاف کے ایم پی ایز کی گرفتاری، پنجاب کے ضمنی الیکشن کے حوالے سے بھی مشاورت ہو گی۔

  4. تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات، تمام فیصلے پارلیمنٹ میں ہونے چاہییں: وزیر خارجہ بلاول بھٹو

    پاکستان کے وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے جاری مذاکرات سمیت دہشت گردی سے متعلق تمام فیصلے پارلیمنٹ ہونے چاہییں۔

    انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت آگے بڑھنے کے راستے پر اتفاق رائے کے لیے اتحادی جماعتوں سے رابطہ کرے گی۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا ایک ٹویٹ میں مزید کہنا تھا کہ پی پی پی نے دہشت گردی کے مسائل، خاص طور پر افغانستان کی موجودہ صورتحال، تحریک طالبان افغانستان (ٹی ٹی اے) اور ٹی ٹی پی کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد کیا ہے۔

    ان کا یہ مطالبہ کے اہم فیصلہ سازی پارلیمنٹ کے ذریعے ہونی چائیے اس پارٹی اجلاس کے بعد آیا۔

    واضح رہے کہ گذشتہ ماہ حکومت اور ٹی ٹی پی نے غیر معینہ مدت تک کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا اور مذاکرات جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

  5. بریکنگ, منی لانڈرنگ کیس: وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کی عبوری ضمانتیں منظور

    منی لانڈرنگ کیس میں عدالت نے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیرِ اعلٰی پنجاب حمزہ شہباز کی عبوری ضمانتیں منظور کر لی ہیں۔

  6. منی لانڈرنگ کیس: وزیرِ اعظم، وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور دیگر کی ضمانتوں پر فیصلہ محفوظ

    عدالت نے وزیرِ اعظم شہباز شریف، حمزہ شہباز اور دیگر ملزمان کی ضمانتوں کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

  7. نیب نے میرے خلاف جھوٹا اور بے بنیاد کیس بنایا‘ وزیراعظم شہباز شریف

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ نیب نے میرے خلاف جھوٹا اور بے بنیاد کیس بنایا اور میرے پاس رمضان شوگر مل کا کوئی عہدہ نہیں تھا۔

    وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ حمزہ شریف منی لانڈرنگ کے مقدمے میں ضمانتوں میں توسیع کے لیے عدالت پہنچے۔

    شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت سپیشل کورٹ میں ہو رہی ہے۔

    سماعت کے دوران شہباز شریف نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ میرا حق ہےکہ میں اپنی ضمانت کے بارے عدالت کو حقائق بتاؤں۔

    انھوں نے کہا کہ ایف آئی اے کا کیس بھی وہی کیس ہے جو نیب نے بنا رکھا ہے، میرے اوپر آشیانہ اور رمضان شوگر مل کیس بنائے گئے۔

    اس موقع پر جج نے ان سے سوال کیا کہ ان میں آپ کا کوئی شئیر نہیں ہے ؟

    شہباز شریف نے جواب دیا کہ میرا کوئی شئیر نہیں ہے۔ میں شوگر کا ڈائریکٹر ہوں نہ مالک ہوں نہ شئیر ہولڈر ہوں۔

    ان کا کہنا تھا کہ آشیانہ کیس میں میرے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگایا گیا۔ میرے کیسز میں لاہور ہائیکورٹ مفصل فیصلہ دے چکی ہے۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نیب میرے خلاف سپریم کورٹ گئی، اس وقت کے چیف جسٹس نے نیب کی میری ضمانت منسوخی کی درخواست میں کہا کہ کرپشن کے ثبوت کدھر ہیں جس پر نیب وہاں سے بھی دم دبا کے بھاگ گیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جب میں نیب کے عقوبت خانے میں تھا وہاں سے جیل گیا تو ایف آئی اے والے دو دفعہ میرے پاس آئے۔ میں نے ایف آئی اے سے کہا میں اپنے وکیل سے مشورہ کیے بغیر جواب نہیں دے سکتا۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں نے زبانی ایف آئی اے کو تمام حقائق بتا دیے۔ میرے کیسز کا میرٹ پر فیصلہ ہوا اور میں باہر آیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عزت ہی انسان کا اثاثہ ہوتا ہے۔ میرے خلاف انتہائی سنگین الزام لگائے گئے۔ میں نے درجنوں پیشیاں بھگتیں، ایف آئی اے کی سرزنش ہوئی کہ چالان کیوں پیش نہیں کیا جا رہا ۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ ایف آئی اے والے کوئی گرفتاری کا راستہ نکال رہے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’میرے عمل سے خاندان کی شوگر ملوں کو نقصان پہنچا۔ میں نے اگر منی لانڈرنگ یا کرپشن کرکے منہ کالا کرانا ہوتا تو میں خاندان کی ملوں کو نقصان کیوں پہنچاتا۔‘

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اپنے خاندان کی ملوں کو سبسڈی دے سکتا تھا جس کا میں قانونی اختیار رکھتا تھا۔ میں نے کئی سو ارب بچائے۔ کیا میں مشتاق چینی والے کے ساتھ ڈیل کروں گا؟

    ان کا کہنا تھا کہ یہ سارا جھوٹ پلندہ ہے۔

  8. بریکنگ, پی ٹی آئی مارچ کے شرکا کو قیادت کی جانب سے رکاوٹیں ہٹانے اور پولیس کے ساتھ مزاحمت کی ترغیب دی گئی: آئی جی اسلام آباد, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے آئی جی پولیس کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ اور دھرنے سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لانگ مارچ کے شرکا کو قیادت کی جانب سے رکاوٹیں ہٹانے اور پولیس کے ساتھ مزاحمت کی ترغیب دی گئی۔

    پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ اور دھرنے سے متعلق رپورٹ آئی جی اسلام آباد نے سپریم کورٹ میں جمع کروا دی ہے۔

    آئی جی اسلام آباد کی جانب سے عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے اسلام آباد انتظامیہ کو 23 مئی کو سری نگر ہائی وی پر احتجاج کی درخوست دی تھی۔

    پولیس رپورٹ کے مطابق مظاہرین کو اسلام آباد کے سیکٹر جی نائین اور ایچ نائین کے درمیان واقع جلسہ گاہ کی اجازت دی گئی اور انھیں وہاں تک پہنچنے کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔

    آئی جی اسلام آبادکی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈی چوک پہنچنے کے لیے پارٹی رہنما فواد چوہدری، سیف نیازی، زرتاج گل نے کارکنان کو ریڈ زون پہنچنے کے لیے اکسایا۔ اور سوشل میڈیا بیانات میں کارکنوں کو عمران خان کے استقبال کے لیے ریڈ زون پہنچنے کا کہا گیا۔

    جبکہ انتظامیہ کی جانب سے سوشل میڈیا اور میڈیا پر اعلانات کیے گئے کہ مظاہرین ریڈ زون سے دور رہیں۔

    پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ نے مظاہرین کی جانب سے ریڈ زون میں داخلے کی کوششوں کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے اور ریڈ زون کے تحفظ کے لیے اس طرف جانے والے راستے بند کر دیے گئے۔

    اسلام آباد پولیس کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی رہنماعمران اسماعیل، سیف نیازی، زرتاج گل اور دیگر کی قیادت میں دو ہزار مظاہرینریڈ زون کی رکاوٹیں ہٹانے کی متعدد کوششیں کرتے ریڈ زون میں داخل ہوئے۔

    پولیس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مظاہرین میں سے کوئی بھی مختص کردہ جلسہ گاہ نہ پہنچا۔

    پولیس نے رپورٹ میں کہا ہے کہ مظاہرین مسلح تھے اور انھوں نے پولیس اور رینجرز پر پتھراؤ بھی کیا جس کے باعث 23 سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ جبکہ ریڈ زون میں داخلے سے روکنے کے دوران مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر گاڑیاں بھی چڑھائیں۔

    مظاہرین کی جانب سے کنٹینرز ہٹانے کے لیے بھاری مشینری کا استعمال بھی کیا گیا، جبکہ مظاہرین نے درختوں کو بھی جلایا۔ مظاہرین کو ہٹانے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔

    پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ پر من و عمل کیا اور سپریم کورٹ کے حکم کے بعد پولیس، رینجرز اور ایف سی کو مظاہرین کے خلاف ایکشن سے روک دیا گیا۔

    پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال سے پر حد تک گریز کیا گیا اور سکیورٹی کے خدشات بڑھنے پر آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو طلب کیا گیا۔

    پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دو سو سے تین سو مظاہرین قیادت کے تحت منظم انداز میں کنٹینرز ہٹا کر ریڈ زون میں داخل ہوئے۔ اسلام آباد پولیس نے رپورٹ میں کہا ہے کہ اس احتجاج کے دوران 77 لوگوں کو 19 مختلف مقدمات میں گرفتار کیا گیا۔

  9. وزیرِاعظم شہباز شریف کا گوادر میں گھریلو صارفین کو سولر پینل فراہم کرنے کا فیصلہ

    وزیرِاعظم شہباز شریف نے گوادر میں گھریلو صارفین کو سولر پینل فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ گھریلو صارفین کو سولر پینلز کی فراہمی وفاقی حکومت کا گوادر کے لوگوں کو تحفہ ہو گا۔

    شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ گوادر میں بجلی کی فراہمی کے لیے فوری طور پر آف گرڈ نظام کا بھی جامع لائحہ عمل بنایا جائے اور اس حوالے سے 10 دن کے اندر لائحہ عمل پیش کیا جائے۔

    انھوں نے ہدایت کی کہ گوادر میں آف شور اور آن شور ونڈ پاور منصوبوں کے لیے بھی حکمتِ عملی بنائی جائے۔

    وزیرِ اعظم نے ہدایت کہ جنوبی بلوچستان میں ٹرانسمیشن لائنز کے کام میں تیزی لا کے اسے رواں سال دسمبر میں مکمل کیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ منصوبوں کی تکمیل میں دیر کسی قدر قابلِ قبول نہیں۔ متعلقہ محکمے یقینی بنائیں کہ طویل مدتی منصوبوں میں بھی وقت اور لاگت میں جس قدر ہو سکے کمی لائی جائے۔

    وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ گوادر بندرگاہ کو دنیا کی جدید ترین بندرگاہ بنانے کے لیے بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی اور گوادر کے لوگوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت بلوچستان میں بجلی کی ٹرانسمیشن لائنز پر پیش رفت کے جائزہ اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، انجنئیر خرم دستگیر، ڈی جی ایف ڈبلیو او میجر جنرل کمال اظفر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔

    اجلاس کو جیوانی، گوادر، پسنی، اورماڑا، پنجگور اور اور ایران کے درمیان بجلی کی ٹرانسمیشن لائنز کی تعمیر پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹرانسمیشن لائنز کے حوالے سے قلیل مدتی اور طویل مدتی منصوبوں کا اجرا کیا جا رہا ہے اور چھ ماہ کے اندر حکومت گوادر کو ایران سے مزید 100 میگاواٹ بجلی فراہم کر سکے گی. اس سے بجلی کی مجموعی فراہمی 260 میگاواٹ جبکہ کھپت 236 میگاواٹ ہو گی۔

    مزید یہ کہ خضدار پنجگور ٹرانسمیشن لائن کی دسمبر 2022 میں تکمیل کے بعد 90 میگاواٹ کا سسٹم میں مزید اضافہ ہو گا۔ اس منصوبے پر بھی کام تیزی سے جاری ہے. اس کے علاوہ حب اورماڑا ٹرانسمیشن لائن کی فیزیبلٹی تیاری کے مراحل میں ہے۔

    اس ٹرامیشن لائن کی تکمیل کے بعد مزید 200 میگاواٹ سسٹم کو فراہم کر دیا جائے گا۔

    وزیرِ اعظم نے منصوبوں میں شفافیت لانے کی بھی ہدایت کی ہے۔

  10. ڈالر کی قیمت میں تقریباً ایک روپے کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    جمعے کے روز انٹر بینک مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور ایک ڈالر کی قیمت میں تقریباً ایک روپے تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    گذشتہ روز ایک ڈالر کی قیمت 200.77 پر بند ہوئی تھی جو کاروباری ہفتے کے آخری روز جمعے کو 201.75 روپے تک بڑھ گئی جس میں بعد میں تھوڑی سی کمی دیکھی گئی۔

    جنرل سیکریٹری ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان ظفر پراچہ نے ڈالر کی قیمت میں اضافہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ڈالر کی قیمت میں ہونے والا رد و بدل کسی طلب و رسد کے اصول پر نہیں بلکہ قیاس آرائیوں کی بنیاد پر ہو رہا ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان اس صورت میں کچھ نہیں کر رہا جس کی وجہ سے ڈالر اور روپے کی تجارت میں قیاس آرائیوں کی بنیاد پر بہت زیادہ تبدیلی ہو رہی ہے۔

  11. شفقت محمود، حماد اظہر سمیت متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    لاہور کی ایک مقامی عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد، شفقت محمود اور حماد اظہر سمیت متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

    پولیس کی جانب سے اُن کے وارنٹس کی درخواست 25 مئی کو آزادی مارچ کے دوران ہونے والی ہنگامہ آرائی کے سلسلے میں کی گئی تھی۔

    جن رہنماؤں کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں اُن میں میاں اکرم عثمان، زبیر خان نیازی، امتیاز محمود شیخ، میاں محمود الرشید، میاں شفقت محمود، ملک ندیم عباس، مراد راس، میاں اسلم اقبال، یاسر گیلانی، ڈاکٹر یاسمین راشد، حماد اظہر، عندلیب عباس اور اعجاز چوہدری شامل ہیں۔

    تفتیشی افسر نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ مذکورہ افراد گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہیں اور اُن کی گرفتاری تفتیش کی تکمیل کے لیے ضروری ہے۔

  12. وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا

    پاکستان کا وفاقی بجٹ آج شام قومی اسمبلی کے اجلاس میں شام چار بجے پیش کیا جائے گا۔

    گذشتہ روز جاری ہونے والے اقتصادی سروے میں حکومت نے بتایا تھا کہ جاری کھاتوں کا خسارہ ہدف سے کہیں زیادہ بڑھا ہے جس کی وجہ سے ادائیگیوں کا توازن خراب ہوا ہے۔

    وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل یہ بجٹ پیش کریں گے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ ایک سخت بجٹ ہو گا جس کا مقصد ترقیات اور ریلیف سے زیادہ مالی استحکام ہو گا۔

    مفتاح اسماعیل نے گذشتہ روز سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا عندیہ دیا تھا۔

  13. بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے گا: مفتاح اسماعیل

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا جائے گا۔

    اقتصادی سروے کی پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ ’سرکاری ملازمین کو بھی اپنا گھر چلانا ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ اگر 15 یا 12 فیصد افراطِ زر ہے اور ہم حکومت کے ملازمین کی تنخواہیں نہ بڑھائیں۔‘

    وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ایسے بھی لوگ ہیں جو ریٹائرڈ ہیں، کام نہیں کرسکتے اور پنشن کے حقدار ہیں۔ ہم اس بار بجٹ میں ان کی بھی تنخواہیں بڑھائیں گے جن کی پچھلی بار نہیں بڑھی تھیں اور انھیں برابر لے کر آئیں گے۔۔۔ ہم تمام لوگوں کی تنخواہیں بڑھائیں گے۔‘

    ادھر چینل دنیا نیوز کے مطابق مفتاح اسماعیل نے غیر رسمی گفتگو کے دوران کہا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر حکومتِ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اتفاق ہو گیا ہے۔

    اس کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ ’ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ معاشی صورتحال کے مطابق کیا جائے گا۔‘

  14. گروتھ ریٹ ثابت کرتا ہے پاکستان پچھلے دو برسوں میں ترقی کر رہا تھا: عمران خان

    سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ اقتصادی سروے سے ثابت ہوتا ہے کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان نے ترقی کی اور ملک کی دولت میں اضافہ ہوا۔

    انھوں نے معاشی اصلاحات کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے خصوصی پیغام میں بتایا ہے کہ گروتھ ریٹ ثابت کرتا ہے پاکستان پچھلے دو برسوں میں ترقی کر رہا تھا۔ ’مشرف دور سے زیادہ ہماری حکومت میں ترقی ہوئی، ہماری سالانہ دولت میں اضافہ ہوا۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’ہماری حکومت کے آخری دو سال میں ملک کی آمدن میں اضافہ ہوا، اکنامک سروے کے مطابق 32 ارب ڈالر برآمدات بڑھی ہیں۔‘

    ’ہماری حکومت میں اوورسیز پاکستانیوں نے 31 ارب ڈالر بھیجے، بیرون ملک پاکستانیوں کو اعتماد تھا۔ چار اعشاریہ چار فیصد زرعی میں پیداوار ہوئی۔ پہلی دفعہ کسانوں نے پیسے کمائے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اس دوران ٹیکس کولیکشن میں بھی اضافہ ہوا اور لارج اسکیل مینوفیکچرنگ اور ٹیکسٹائل سیکٹر میں ریکارڈ پیداور ہوئی ہے۔

  15. ’پی ٹی آئی ارکان جس پارلیمان پر حملہ کر رہے ہیں، اسی سے تنخواہیں اور مراعات وصول کرتے ہیں‘

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ مہنگائی کے ظلم سے عوام کی ہانڈی خالی کرنے والے آج اس پارلیمنٹ پر حملہ آور ہوئے جس سے وہ تنخواہیں اور مراعات وصول کر رہے ہیں۔

    میڈیا سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ سابقہ حکمراں جماعت تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ارکان پارلیمنٹ کے دروازے پھلانگنے کے ڈرامے نہ کریں بلکہ ’سپیکر کے پاس جائیں اور اپنے استعفوں کی تصدیق کریں۔ سپیکر انھیں بلاتے ہیں تو یہ بھاگ جاتے ہیں۔‘

    ’پارلیمنٹ میں انھیں آنے سے کسی نے نہیں روکا لیکن پی ٹی آئی کی خواتین ارکان نے پارلیمنٹ کے گیٹ پھلانگنے کی کوشش کی جو تماشے کے علاوہ کچھ نہیں۔ یہ جس پارلیمان پر حملہ کر رہے ہیں، اسی پارلیمان سے یہ تنخواہیں اور مراعات وصول کر رہے ہیں۔‘

    ایک سوال پر وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پارلیمنٹ کے گیٹ پر حملہ آور پی ٹی آئی کی ارکان کے ساتھ ان کی پارلیمان کی ممبران بھی تھیں جو استعفیٰ دینے سے انکاری ہیں۔ ’عمران خان کے حکم پر وہ پارلیمنٹ کے گیٹ پر ضروری چڑھی ہیں لیکن عمران خان کے کہنے پر وہ اپنا استعفیٰ نہیں دیں گی۔ اگر وہ استعفیٰ دینے کے لیے آئی ہوتیں تو سپیکر آفس جاتیں، انھیں عزت سے سپیکر آفس لے جایا جاتا۔‘

  16. 22 کروڑ آبادی کے لیے 700 ارب کا ترقیاتی بجٹ ناکافی ہے: احسن اقبال

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال نے کہا کہ جب 2018 میں نواز لیگ کا اقتدار ختم ہوا تو اس کے بعد سب سے زیادہ متاثر ملک کا ترقیاتی بجٹ ہوا انھوں نے کہا موجودہ

    اکنامک سروے میں جو اعداد و شمار دیے گئے ہیں وہ پوری طرح معیشت سے متعلقہ نہیں ہیں۔

    نواز لیگ نے اپنے گذشتہ دور میں ملک کا دفاعی بجٹ اور ترقیاتی بجٹ برابر ہوگیا تھا جو 1000 ارب دونوں شعبوں کے لیے تھا۔

    احسن اقبال نے دعویٰ کیا کہ ’تحریک انصاف حکومت نے اس سال کے شروع میں 950 ارب کا ترقیاتی بجٹ دیا لیکن اسے 550 ارب کر دیا گیا اور آخری سہ ماہی میں تو خزانے میں پیسہ نہ ہونے سے کوئی ترقیاتی فنڈ ریلیز نہیں کیا گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’22 کروڑ آبادی کے لیے 700 ارب کا ترقیاتی بجٹ ناکافی ہے اور 2000 ارب کا ترقیاتی بجٹ ہی ملک کی ترقیاتی ضروریات کو پوری کر سکتا ہے۔‘

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ’بنگلہ دیش اور انڈیا ہم سے آگے نکل گئے ہیں۔ ‘

    انھوں نے کہا ’نیشنل ٹرن آراؤنڈ کانفرنس بلائی جائے گی تاکہ ایک چارٹر آف اکنامی پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔‘

    احسن اقبال نے الزام عائد کیا کہ ’گذشتہ حکومت نے سی پیک منصوبوں کا نشانہ بنایا گیا اس کی مثال گوادر بندرگاہ ہے جس کے لیے چار سال میں کوئی فنڈ نہیں دیا گیا اور اس کی گہرائی گیارہ میٹر رہ گئی اور اب کوئی بڑا جہاز لنگر انداز نہیں ہو سکتا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ریلوے کے شعبے میں ایم ایل ون منصوبے کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا اور اقتصادی زون جن کی تعداد نو تھی ان میں سے پانچ پر تو کوئی پیش رفت ہی نہیں ہوئی احسن نے کہا کہ ہائر کمیشن کا بجٹ 26 ارب سے 44 ارب کیا جا رہا ہے اسی طرح بلوچستان اور نوجوانوں کے لیے خصوصی منصوبے لا رہے ہیں۔

  17. اقتصادی سروی 2022: موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان ڈیفالٹ ہونے سے بچ گیا ہے، مفتاح اسماعیل, تنویر ملک، صحافی

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا موجودہ مالی سال میں ملکی اقتصادی ترقی کی شرح 5.97 ہوگی تاہم اس کی وجہ سے جاری کھاتوں کا خسارہ بڑھ گیا ہے۔

    انھوں نے اقتصادی سروے 22-2021 پیش کرتے ہوئے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے سے بیرونی ادائیگیوں کا توازن بڑھ گیا ہے۔

    انھوں نے کہا اس مالی سال میں درآمدات 75 ارب ڈالر رہیں گی جو گذشتہ سال سے 48 فیصد سے زائد ہے جو کہ جی ڈی پی کے تناسب سے بڑا ہے۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ڈیفالٹ ہونے بچ گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’زرمبادلہ دس ارب ڈالر سے کم ہو گئے ہیں تاہم اگلے ہفتے چین سے 2.5 ارب ڈالر مل جائیں گے جو بارہ ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ جائیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اب ایسی ملکی معاشی ترقی کی سمت متعین کی جارہی ہے جو پائیدار ہو۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ’سابقہ حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کر کے بارودی سرنگیں بچھائی جس کا اعتراف شیخ رشید نے بھی کیا۔ ‘

    وزیر خزانہ نے کہا ’عمران حکومت نے بجلی پیدا کرنے کے کے لیے ایندھن نہیں خریدا جس کی وجہ سے ملک میں لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ اور عمران حکومت میں ملک کا تجارتی خسارہ، جاری کھاتوں کا خسارہ اور بیرون سرمایہ کاری نواز لیگ کے گذشتہ دور سے زیادہ رہی۔‘

    مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ’سابقہ حکومت نے 5000 ارب روپے کا بجٹ خسارہ چھوڑا جو ن لیگ کے گذشتہ دور سے تین گنا زیادہ ہے نواز لیگ کے دور میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 11.1 فیصد تھی جو سابقہ دور میں 8 فیصد پر آگئی۔‘

  18. پی ٹی آئی کے لوگوں نے تسلیم کیا کہ معاشی بارودی سرنگیں بچھا کر گئے، مریم نواز, اسلام آباد

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ ’میڈیا کو چاہیے کہ عمران خان کو دکھانا کم کریں‘ اور ملکی مسائل کے حل پر بحث کریں۔

    مریم نواز نے نجی ٹی وی چینل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ اے آر وائی کے خلاف سخت ایکشن لیں کیوں کہ انھوں نے جو حرکت کی ہے اس سے ملک کی میعشت کو نقصان پہنچا ہے۔‘

    اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا ’میرا اپنا خیال یہی تھا کہ ہمیں الیکشن کی طرف جانا چاہیے اور نیا مینڈیٹ لیا جائے لیکن جب انھوں نے اعلان کیا کہ دھونس سے الیکشن کا فیصلہ لینا چاہتے ہیں تو اس دن ن لیگ ڈٹ گئی۔‘

    ’وہ فیصلہ درست ثابت ہوا، عمران خان کو تاریخی شکست ہوئی۔ آج بھی رانا ثنا اللہ ان کی راہ دیکھ رہے ہیں لیکن وہ تاریخ نہیں دے رہے۔ اب وہ سپریم کورٹ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اداروں کو سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش کی مذمت کرتی ہوں۔ پوری کوشش ہے کہ یہ ٹرم پوری کریں اور اگلے الیکشن میں جائیں۔‘

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ نواز شریف جلد پاکستان واپس آئیں گے۔

    مریم نواز نے کہا کہ ’میں دیکھ رہی ہوں کہ لوڈ شیڈنگ اور معیشت اس وقت ان کی ترجیح ہے۔ ہم اس کو ٹھیک کریں گے۔ لیکن یہ سوال بھی کرنا بنتا ہے کہ 2018 میں نواز شریف نے زیرو لوڈشیڈنگ والا پاکستان بنایا لیکن عمران خان نے پانچ چھ گھنٹے والا لوڈشیڈنگ والا پاکستان چھوڑا اور کہتے رہے کہ ن لیگ نے اضافی بجلی بنا دی۔‘

    مریم نواز نے کہا کہ ’تنقید اس پر ہونی چاہیے جس نے معاملات کو خراب کیا نا کہ اس حکومت پر جو اس خرابی کو دنوں میں ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جو پلانٹس نہیں چلے، وہ دو مہینے میں چلا کر دکھائیں گے۔‘

    ’ان کی اپنی جماعت کے لوگ، شیخ رشید کا بیان ہے، کہ عمران خان پتہ نہیں کیوں بارودی سرنگیں بچھا کر چلے گئے کیوں کہ ان کو پتہ تھا کہ وہ جا رہے ہیں۔‘

    ’وہ یہ بوجھ پاکستان کی معیشت پر جاتے جاتے ڈال گئے۔ اس بوجھ کو اٹھانے کی ہمت اس وقت معیشت میں نہیں ہے۔‘

    ’انھوں نے یہ بھی کہا کہ چار ماہ پہلے پتہ چل گیا تھا کہ حکومت جانے والی ہے پھر کیوں خط اور غیر مکی سازش کا ڈرامہ رچایا گیا۔‘

    ’ہم ان بارودی سرنگوں کو ایک ایک کر کہ ہٹائیں گے۔ لیکن جو باقی لینڈ مائنز بچھا کر گئے ہیں، دوست ممالک سے تعلقات خراب کر گئے ہیں، وہاں بھی ملک کی سمت درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

  19. عامر لیاقت کی وفات: وزیرِ اعظم شہباز شریف، آصف زرداری کا اظہارِ افسوس

    اب سے کچھ دیر قبل حکام نے ٹی وی شخصیت اور رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی وفات کی تصدیق کر دی ہے۔

    ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کراچی میں مقیم تھے۔

    پاکستانی میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق ملازمین اُنھیں طبیعت خرابی پر ہسپتال لے کر گئے تھے تاہم ڈاکٹروں کے مطابق اُنھیں مردہ حالت میں ہسپتال لایا گیا۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری نے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    اُن کی وفات کے بعد قومی اسمبلی کا آج کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے۔

  20. سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کی تنخواہوں اور اعلیٰ عدلیہ الاؤنس میں 10 فیصد اضافہ

    پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے وزیر اعظم کی تجویز پر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کی تنخواہوں اور اعلیٰ عدلیہ الاؤنس میں 10 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔

    صدر پاکستان کے آفیشل اکاؤنٹ سے جاری ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ’صدر مملکت نے منظوری وزیر اعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 205 کے تحت دی۔‘