آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پیٹرولیم مصنوعات: عمران خان کی ملک گیر احتجاج کی کال، کراچی ضمنی انتخابات میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک

سابق وزیر اعظم عمران خان نے پیٹرول کی قیمت میں اضافے پر اتوار کی شام ملک گیر احتجاج کی کال دی ہے۔ اُدھر صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں این اے 240 کے ضمنی انتخاب میں پولنگ کے اختتام پر فائرنگ سے ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ حالات اب قابو میں ہیں اور گنتی کا عمل جاری ہے۔

لائیو کوریج

  1. واشنگٹن میں پاکستانی سفیر کی امریکی صدر کے ساتھ ملاقات

    واشنگٹن میں پاکستان کے نامزد سفیر سردار مسعود خان نے وائٹ ہاؤس میں صدر جو بائیڈن سے ملاقات کی ہے۔

    پاکستانی سفارتخانے کے مطابق اس موقع پر اُنھوں نے جو بائیڈن کے ساتھ باضابطہ تصویر بنوائی جو کہ واشنگٹن کی روایات کا حصہ ہے۔

    سفارتخانے نے کہا ہے کہ تصویر بنوائے جانے کے بعد پاکستانی سفیر کی امریکہ میں تعیناتی کی تمام رسمی کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔

  2. تین مرتبہ اویس لغاری کو بجٹ پیش کرنے کی دعوت دی: پرویز الٰہی

    سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ اسمبلی کا اجلاس قانون کے مطابق جاری تھا اور تین مرتبہ اویس لغاری کو بجٹ پیش کرنے کی دعوت دی گئی۔

    اسمبلی کے احاطے میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اگر گورنر اجلاس ملتوی کرے تو سیکریٹری اسمبلی کو تحریری اطلاع آتی ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی گزٹ نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوا۔

    چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ کسی اور جگہ اجلاس بلا کر چار بندے بیٹھ جائیں، یہ مذاق ہے اور غیر قانونی ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ سپیکر کے ہوتے ہوئے ڈپٹی سپیکر اجلاس کی صدارت نہیں کر سکتا۔

    اس موقع پر پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر راجہ بشارت نے کہا کہ اُنھیں ابھی تک تحریری طور پر اجلاس برخاست ہونے کا نوٹیفیکیشن نہیں ملا اور سپیکر کی موجودگی میں ڈپٹی سپیکر کو اجلاس کی صدارت کا نہیں کہا جا سکتا۔

    راجہ بشارت نے کہا کہ اسمبلی کی عمارت ہوتے ہوئے کسی دوسری عمارت کو اسمبلی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے جب فلیٹیز ہوٹل میں اجلاس کیا تھا تو اس کے لیے ایوان سے اجازت لی تھی۔

    اُنھوں نے کہا کہ کل اجلاس ایک بجے اسمبلی بلڈنگ میں ہو گا۔

  3. پنجاب اسمبلی: بدھ کو ایک اجلاس اِدھر، ایک اجلاس اُدھر, گورنر اور سپیکر نے اپنے اپنے اجلاس بلا لیے۔

    گورنر پنجاب نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایوانِ اقبال میں بدھ کو دوپہر دو بجے طلب کر لیا ہے۔

    اس سے پہلے سپیکر پنجاب اسمبلی بھی دوپہر ایک بجے اجلاس طلب کر چکے ہیں۔

  4. پنجاب کے صوبائی وزیر خزانہ کو کل بجٹ پیش کرنے کی امید

    پنجاب کے صوبائی وزیر خزانہ اویس لغاری نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ بدھ کو صوبے کا بجٹ پیش کر دیا جائے گا۔ گذشتہ دو روز سے پنجاب اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک کے باعث بجٹ کا اجلاس نہیں ہوسکا۔

    وہ اپنے بیان میں کہتے ہیں کہ ’میں پچھلے دو دن سے تقریر تیار کرکے بار بار ایوان کے اندر آیا۔ ہمارے اوپر بے جا تنقید کی گئی لیکن ہم نے راجہ بشارت کی طرح بدتمیزی نہیں کی۔

    ’سپیکر نے ہمارے وزیر اعلی کو ایوان کے اندر بلوایا اور پھر کہا گیا آئی جی اور چیف سیکرٹری کو بلاؤ۔ ہمارا اور عوام کا استحقاق مجروح ہوا۔ ہماری بجٹ کی تقریر کو ڈسٹرب کیا گیا۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’آج پھر پورا دن ہمارے ایم پی ایز کو انتظار کروایا گیا۔ یہ ہمارا حق تھا جب کوئی راستہ نہیں مل رہا تھا۔ ہم نے کل کہا تھا آئین پانی کی طرح ہوتا ہے۔ پنجاب اسمبلی کی بلڈنگ سپیکر پنجاب اسمبلی نے اپنے قبضے میں لی ہوئی ہے۔

    ’جب ان کو معلوم ہوگیا کہ اجلاس پروووگ ہوگیا ہے تو انھوں نے کہا کہ بجٹ پیش کریں۔ کل ہم انشا اللہ بجٹ پیش کریں گے۔‘

    ادھر سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی نے کل ایک بجے پنجاب اسمبلی میں بلایا ہے جبکہ گورنر پنجاب نے بجٹ اجلاس کل دو بجے ایوان اقبال میں بلا لیا ہے۔

  5. اگر پنجاب حکومت نواز شریف کی سزا بحال کر دے تو وہ واپس آسکتے ہیں: رانا ثنا اللہ

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پاکستان واپسی کا طریقہ کار آسان ہے کیونکہ انھیں پنجاب حکومت نے علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی ہے۔

    جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’پنجاب حکومت نے نواز شریف کی سزا معطل کی ہے اور وہ پنجاب حکومت کی اجازت پر بیرون ملک گئے ہیں۔‘

    ’اگر پنجاب حکومت ان کی سزا بحال کر دے تو وہ واپس آسکتے ہیں، رہائی ہوسکتی ہے اور سزا ختم بھی ہوسکتی ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم کی وطن واپسی کا انحصار ڈاکٹروں کی اجازت پر بھی ہے۔

  6. پرویز مشرف واپس آنا چاہیں تو حکومت سہولت فراہم کرے: نواز شریف

    سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر سابق فوجی صدر پرویز مشرف پاکستان واپس آنا چاہیں تو حکومت انھیں سہولت فراہم کرے۔

    ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ ’میری پرویز مشرف سے کوئی ذاتی دشمنی یا عناد نہیں۔

    ’نہیں چاہتا کہ اپنے پیاروں کے بارے میں جو صدمے مجھے سہنا پڑے، وہ کسی اور کو بھی سہنا پڑیں۔ ان کی صحت کے لیے اللّہ تعالی سے دعاگو ہوں۔ وہ واپس آنا چاہیں تو حکومت سہولت فراہم کرے۔‘

  7. بریکنگ, گورنر نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس منسوخ کر دیا

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے پنجاب اسمبلی کا 40واں اجلاس برخاست کر دیا ہے۔

    نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق سپیکر پرویز الہی کی جانب سے پنجاب اسمبلی کا اجلاس تاخیر کے ساتھ شروع کیا گیا تاہم اسے گورنر نے کل 3 بجے تک کے لیے برخاست کر دیا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ اجلاس اب بھی چل رہا ہے لیکن حکومتی ارکان اس میں موجود نہیں ہیں۔

    خیال رہے کہ پنجاب اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک کے باعث دو روز سے بجٹ کا اجلاس نہیں ہوسکا۔

    گورنر پنجاب نے بدھ کو پنجاب اسمبلی کا 41واں اجلاس دو بجے اسمبلی کے بجائے ایوان اقبال میں طلب کیا ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق ایوان اقبال میں اس اجلاس کی سربراہی ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کریں گے۔

  8. میجر جنرل بابر افتخار: آرمی چیف کے دورۂ چین کے دور رس نتائج ہوں گے

    میجر جنرل بابر افتخار کا یہ بھی کہنا تھا کہ فوج نے سی پیک کی سکیورٹی میں کوئی کمی نہیں آنے دی اور اس حوالے سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید جاجوہ کا حالیہ دورۂ چین کافی اہم ہے اور اس کے دور رس نتائج ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے کے لیے انڈیا نے لابنگ کی۔ وہ کہتے ہیں کہ 2019 میں حکومت کی گزارش اور چیف آف آرمی سٹاف کی ہدایت پر جی ایچ کیو میں سپیشل سیل قائم کیا گیا جس نے 30 سے زیادہ محکموں کے درمیان روابط کا طریقہ کار بنایا اور لائحہ عمل پر عملدرآمد کروایا۔

    وہ کہتے ہیں کہ اس سے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دیے گئے اہداف میں عمل ہوا، بیرون ملک سے رقوم کی منتقلی کے نظام میں بہتری آئی اور پاکستان نے 58 ارب روپے بچائے۔

  9. بریکنگ, ’کسی قسم کی سازش کے شواہد نہیں‘

    میجر جنرل بابر افتخار کا مزید کہنا تھا کہ ہر سال بجٹ آنے کے بعد دفاعی بجٹ پر بحث شروع ہو جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’بجٹ میں محدود وسائل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ محدود وسائل کے اندر رہ کر تمام ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’انڈیا نے ہمیشہ دفاعی بجٹ کو بڑھایا۔ 2020 سے پاکستانی افواج نے اپنے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا، یہ مہنگائی کے تناسب سے کم ہوا ہے۔

    ’دفاعی بجٹ جی ڈی پی پرسنٹ ایج میں نیچے جارہا ہے۔ آرمی چیف نے ہدایت دی ہے کہ مشقوں کو بڑے پیمانوں کے بجائے چھوٹے پیمانے پر کیا جائے۔ چھوٹی مشقوں سے بچت ہوگی۔ افواج میں یوٹیلٹی بلز، ڈیزل، پٹرول کی مد میں بچت کی جا رہی ہے۔ پچھلے سال کورونا کی مد میں جو رقم ملی اس میں سے چھ ارب روپے واپس کیے۔‘

    سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ایسا بالکل بھی نہیں ہے، (قومی سلامتی) اجلاس کے دوران تینوں سروسز چیفس میٹنگ میں موجود تھے۔ میٹنگ میں شرکا کو ایجنسیزکی طرف سے آگاہ کیا گیا۔

    ’کسی قسم کی سازش کے شواہد نہیں ہیں۔ ایسا کچھ نہیں، میٹنگ میں کلیئر بتا دیا گیا تھا کہ سازش کے شواہد نہیں ملے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’حقائق کو مسخ کرنے کا حق کسی کے پاس نہیں، پچھلے کچھ عرصے سے افواج اور قیادت کو پروپیگنڈے کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اپنی رائے کا سب کو حق ہے لیکن جھوٹ کا سہارا نہیں لینا چاہیے۔‘

  10. ’پاکستانی فوج چاہتی ہے کہ پرویز مشرف کو ملک واپس لایا جائے‘, میجر جنرل بابر افتخار

    پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ دبئی میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی صحت کافی خراب ہے اور ادارے کی قیادت چاہتی ہے کہ انھیں پاکستان واپس لانا چاہیے جس کے لیے خاندان سے رابطہ کیا گیا ہے۔

    چینل دنیا نیوز کے پروگرام آن دی فرنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’جنرل پرویز مشرف کی صحت بہت خراب ہے، ایسے میں ادارے کی قیادت کا موقف ہے کہ انھیں پاکستان واپس لایا جائے مگر یہ فیصلہ ان کے خاندان اور ڈاکٹروں نے کرنا ہے۔ یہ دونوں چیزیں سامنے آتی ہیں تو کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’ادارہ یہ چاہتا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کو ملک واپس لانا چاہیے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’فیملی کے جواب کے بعد انتظامات کیے جاسکتے ہیں۔‘

    خیال رہے کہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ جنرل مشرف کی صحت کے پیش نظر ان کی وطن واپسی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔

  11. عمران خان نے تمام معاملات میں اپنا حصہ وصول کیا: رانا ثنا اللہ

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ حکومت نے اپنا حصہ طے کر کے بحریہ ٹاؤن کو ریلیف دیا‘ تھا۔

    ٹوئٹر پر پیغام میں وہ کہتے ہیں کہ ’گذشتہ حکومت نے دسمبر 2019 کے کابینہ اجلاس میں بند لفافے میں ایک معاہدے کی منظوری دی جس کے تحت مسٹر کلین اور صادق و امین نے برطانیہ میں ریکور ہونے والے 50 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرانے کی بجائے بحریہ ٹاؤن سے ایڈجسٹمنٹ کی۔

    ’گذشتہ حکومت نے اپنا حصہ طے کر کے بحریہ ٹاؤن کو ریلیف دیا۔ بحریہ ٹاؤن نے ایک ٹرسٹ کو 458 کنال زمین عطیہ کی، ٹرسٹی عمران خان اور ان کی اہلیہ ہیں، بحریہ ٹاؤن سے معاہدے پر عمران خان کی اہلیہ کے دستخط موجود ہیں۔ بنی گالہ میں 240 کنال زمین فرح گوگی کے نام پر منتقل کی گئی۔‘

    وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ملی بھگت کے ذریعے منتقل شدہ زمین کی قیمت کم درج کی گئی۔ عمران خان نے تمام معاملات میں اپنا حصہ وصول کیا، یونیورسٹی کے نام پر عمران خان نے معاملے کو دبانے کی کوشش کی۔ وفاقی کابینہ نے معاملے پر تحقیقات کے لیے ایسٹ ریکوری یونٹ کے حوالے سے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔‘

  12. پُرامن احتجاج کی تیاری کریں، یہ رہ گئے تو سمجھیں جمہوریت ختم ہوگی: عمران خان

    سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ صرف تین ماہ میں ساری قوم کے سامنے سچ آگیا ہے کیونکہ تیل و دیگر اشیا کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری حکومت عوام کے لیے آئی تھی جس کا جینا مرنا پاکستان کے لیے تھا۔ آج سارے چور اکٹھے ہوگئے ہیں۔ ان کے بچے، علاج، جائیداد سب پاکستان سے باہر ہے۔ امریکہ نے انھیں ہم پر مسلط کیا، یہ کنٹرول ہوسکتے ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ان کی حکومت روس سے 30 فیصد کم قیمت پر تیل خریدنے والی تھی۔ ’ہم نے تیل پر 200 ارب روپے کی سبسڈی رکھی۔ فیصلہ کیا کہ قیمت بڑھانے کے بجائے کم کی جائے۔ ہم پر بھی آئی ایم ایف کا دباؤ تھا۔ انھوں نے مہنگائی مارچ کی، معاشی قتل کا الزام لگایا اور آج دیکھیں انھیں آئے تین ماہ ہوئے، ساڑھے تین سال سے زیادہ مہنگائی کر دی ہے۔‘

    ’تین ماہ پہلے یہ کہہ رہے تھے عمران خان کو تیل کی قیمت نہیں بڑھانی چاہیے۔ صرف تین ماہ میں ساری قوم کے سامنے سچ آگیا۔ ابھی قیمتیں مزید بڑھنی ہے، اور مہنگائی آنے والی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی گھی کی قیمت اتنی نہیں بڑھی۔‘

    عمران خان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی حکوت کو ’غریب طبقے کی فکر ہی نہیں۔‘

    ’پاکستان کے مزدوروں کو پیغام ہے کہ میری کال پر نکلنا ہے اور ان سب پر دباؤ رکھنا ہے۔ انھیں ملک کے عوام کی کوئی فکر نہیں۔ امریکہ جو کہے گا یہ کریں گے۔ سب نے تیاری کرنی ہے۔ پُرامن احتجاج کا جمہوری حق ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’آپ نے اپنے حقوق کے لیے پُرامن احتجاج کی تیاری کرنی ہے۔ یہ رہ گئے تو سب سے پہلے جمہوریت ختم ہوگی، راجہ ریاض اپوزیشن لیڈر ہے تو سمجھیں پارلیمنٹ بھی ختم۔ ایف آئی اے پر شہباز شریف خود بیٹھ گیا ہے۔‘

    انھوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت پولیس کو استعمال کر کے سیاسی انتقام لے رہی ہے اور تحریک انصاف کے رہنماؤں پر جھوٹے مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔

  13. ’سپیکر پرویز الہی حکومت اور اپوزیشن ارکان کو ایک ہی آنکھ سے دیکھیں‘, ملک احمد خان

    پنجاب اسمبلی میں بجٹ اجلاس میں تاخیر کے پیش نظر حکومت کی جانب سے مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق صوبائی وزیر علی حیدر گیلانی وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز سے ہدایات لینے کے بعد اپوزیشن ارکان کے پاس پہنچ گئے ہیں تاکہ بات چیت کے ذریعے کوئی راستہ نکالا جاسکے۔

    ادھر وزیر قانون ملک احمد خان کا کہا ہے کہ ’بجٹ دینے کا طریقہ کار ہوتا ہے، اگر اختیارات قانون دیتا ہے تو فرائض بھی ہوتے ہیں۔ سپیکر کسٹوڈین آف دی ہاؤس ہے۔ حکومت و اپوزیشن کو ایک ہی آنکھ سے دیکھیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’سپیکر وزیر اعلی کے امیدوار بھی رہے لیکن وہ ہار گئے۔ ڈپٹی سپیکر وزیر اعلی کو منتخب کروانے آئے تو ان پر حملہ کیا گیا۔

    ’پنجاب اسمبلی میں بلیک یونیفارم (میں افراد) کو فلور سے ایوان میں اتارا گیا اگر اس وقت صورتحال پیدا ہوئی تو انتظامیہ نے قانون کے مطابق ایکشن لیا۔ ڈپٹی سپیکر کوئی حکم دیں گے تو ریاستی ادارے عمل درآمد کروائیں گے۔

    ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ ’پنجاب اسمبلی واقعے پر درخواستوں پر مقدمات درج ہوئے اور پھر لانگ مارچ پر امن و امان کو خراب کرنے کے لیے جتھہ لے کر باہر آئے۔ سیدھی فائرنگ کر کے پولیس اہلکاروں کو جاں بحق کیا گیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’(گذشتہ روز) بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں گئے تو پی ٹی آئی ارکان نے کہا چادر چار دیواری پامال ہوئی۔ انھیں یقین دلایا کہ اگر کہیں کوئی زیادتی یا ظلم ہوا تو ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لیں گے۔‘

  14. ’وزیر داخلہ نے اعتراف کر لیا کہ حسن نواز نے غیر قانونی پیسہ وصول کیا؟‘

    سابق مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے وفاقی وزرا کی پریس کانفرنس کے جواب میں کہا ہے کہ لندن میں ملک فیملی کے جن پیسوں کی بات کی گئی وہ انھوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بیٹے حسن نواز کو ادا کی ’لہذا وہ پیسے تو آج بھی حسن نواز کے پاس ہیں۔‘

    ٹوئٹر پر پیغام میں وہ کہتے ہیں کہ ’بقول رانا ثنا اللہ لندن میں ملک فیملی کا پیسہ ملک کا لوٹا ہوا تھا تو اس جاہل سے پوچھنا تھا کہ ملک فیملی نے اس پیسے سے ون ہائیڈ پارک نامی جائیداد نواز شریف کے بیٹے حسن نواز سے خریدی تھی اور رقم کی ادائیگی حسن نواز کو ہوئی لہذا وہ پیسے تو آج بھی حسن نواز کے پاس ہیں۔

    ’تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ملک کے جاہل وزیر داخلہ نے اعتراف کر لیا کہ حسن نواز نے غیر قانونی پیسہ وصول کیا؟ تو اب ابن جہل یہ بتلا دیں اس کی واپسی کب کروا رہے ہیں؟ ویسے یہ نواز شریف کے وہ دوست ہیں جن کے بارے بڑے کہتے ہیں کہ ان سے دشمن بہتر‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’رانا ثنا الللہ میرے پاس ساری لسٹ موجود ہے کہ آپ کے مالکان یعنی شریف خاندان نے ملک فیملی کو بلیک میل کرکے بشمول ون ہائیڈ پارک کون کون سی جائیدادیں بیچیں- کہیں گے تو پوری لسٹ پیش کر دوں گا ؟‘

  15. انڈونیشیا پاکستان کو فوری طور پر پام آئل فراہم کرے گا: مریم اورنگزیب

    وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کہتی ہیں کہ برادر ملک انڈونیشیا پاکستان کو فوری طور پر پام آئل فراہم کرے گا۔

    ٹوئٹر پر پیغام میں انھوں نے اسے بڑی پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’وزیراعظم شہباز شریف کی 10 جون کو انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی تھی۔

    ’وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستانی وفد کا انڈونیشیا کا دورہ اور انڈونیشیا کی وزارت تجارت سے مذاکرات کامیاب خوردنی تیل سے بھرے 10 بحری جہاز آئندہ دو ہفتے میں انڈونیشیا اور ملائیشیا سے پاکستان پہنچیں گے۔ انڈونیشیا سے کل 250 لاکھ ایم ٹی خوردنی تیل پاکستان کو فراہم کیا جا رہا ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وزیر صنعت و پیداوار سید مرتضی محمود نے انڈونیشیا کے ہم منصب سے معاملات طے کیے۔ پاکستانی وفد کی درخواست پر انڈونیشیا کی وزارت تجارت نے تمام متعلقہ امور کو تیزی سے نمٹایا۔

    ’30 ہزار میٹرک ٹن خوردنی تیل سے بھرا پہلا بحری جہاز آج پاکستان روانہ ہو گا۔‘

  16. بریکنگ, سندھ اسمبلی میں شور شرابے کے دوران بجٹ اجلاس

    سندھ اسمبلی میں وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ بجٹ پیش کر رہے تھے جب اس دوران اپوزیشن اور حکومتی ارکان کی نعرے بازی سے اجلاس کے دوران ہنگامہ آرائی ہوئی۔

    اپوزیشن ارکان نے ان کا گھیراؤ کر کے ’گو زرداری‘ اور ’بجٹ نامنظور‘ کے نعرے لگائے۔ شور بڑھنے پر مراد علی شاہ نے ہیڈفونز لگا کر تقریر جاری رکھی۔

    شور شرابے سے قبل مراد علی شاہ نے کہا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ سرکاری ملازمین کے لیے 15 فیصد ایڈہاک الاونس اور پنشنز میں پانچ فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے گریڈ پانچ کے پولیس کانسٹیبلز کو ساتویں گریڈ میں اپ گریڈ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’گریڈ ایک سے 16 کے سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 33 فیصد اضافہ۔ گریڈ 17 سے اوپر کے ملازمین کے لیے 30 فیصد اضافہ کیا گیا۔‘

    بجٹ کے حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ:

    • سندھ کے بجٹ کا حجم ایک کھرب 714 ارب روپے ہے
    • غریبوں کے سماجی تحفظ کے لیے 26 ارب روپے کا پیکج
    • سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 332 ارب روپے
    • تعلیم کے شعبہ کے لیے 326.80 ارب روپے
    • سندھ کے سات اضلاع میں یونیورسٹی یا کیمپس قائم کیے جائیں گے
  17. ’12 کروڑ عوام بجٹ کے منتظر ہیں، اسمبلی ٹیکس کے پیسوں پر چلتی ہے‘

    وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز کہتے ہیں کہ پنجاب اسمبلی میں بجٹ اجلاس میں تاخیر سے ’آئین، قانون اور رولز کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ ان تین مہینوں میں جو تماشہ ہوا وہ پاکستانی قوم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔‘

    اسمبلی سے باہر میڈیا سے بات چیت کے دوران وہ کہتے ہیں کہ ’یہ اسمبلی عوام کے ٹیکس کے پیسے سے چلتی ہے۔ میں اس دن وزیر اعلیٰ نہیں تھا جب چیف سیکرٹری اور آئی جی نے عدالت کے حکم پر آئین کی پاسداری کے لیے اقدامات کیے۔‘

    ’کل سے 12 کروڑ عوام انتظار کر رہے ہیں کہ بجٹ میں کیا آنا ہے۔ میں صوبے کے عوام کو جوابدہ ہوں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ یہ اجلاس گورنر نے بلایا جس میں وزیر اعلیٰ صوبے میں بجٹ پیش کریں گے۔ ’اجلاس میں کروڑوں کا خرچہ ہوتا ہے، میں کہتا ہوں عوام کی بھلائی کے لیے بجٹ پیش کرنے دو، یہ کہتا ہے پہلے آئی جی کو پیش کرو۔‘

  18. پنجاب اسمبلی میں بجٹ اجلاس پر ڈیڈ لاک برقرار

    پنجاب اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن میں تناؤ برقرار ہے اور بجٹ کے اجلاس میں تاخیر ہوئی ہے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے واضح کیا ہے کہ آج بجٹ بھی پیش ہوگا اور کئی ماہ سے چلنے والے ڈرامے کو بھی بند کیا جائے گا۔ تاہم دوسری طرف سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی نے اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف بننے والے کیسز پر آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری کو اسمبلی بلایا اور وضاحت طلب کی ہے۔

    رہنما تحریک انصاف ڈاکٹر یاسمین راشد کہتی ہیں کہ ’کل جو میٹینگ ہوئی اس میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ ہم پر جو کیسز ہوئے تھے وہ واپس لیں گے۔ چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو ایوان میں بلا کر معافی منگوائی جائے گی لیکن یہ اپنے وعدے پورے نہیں کر سکے۔ اگر چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو نہیں بلایا تو ہماری ایڈوائزری کمیٹی آئندہ کا عمل طے کرے گی۔‘

    ادھر صوبائی وزیر حسن مرتضی کہتے ہیں کہ ’بجٹ پر حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈلاک پیدا ہو چکا ہے۔ سپیکر آئین کے پابند ہیں، بجٹ سیشن کروائیں لیکن آئین کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔‘

    ان کی تجویز ہے کہ ’مذاکرات سے معاملات حل ہونے چاہییں۔‘

  19. بریکنگ, ’سابقہ حکومت نے بحریہ ٹاؤن کو وہ رقم تحفے میں دی جو برطانیہ میں ضبط ہوئی تھی‘, عمران خان کی حکومت پر بحریہ ٹاؤن کو زمین کے بدلے رقم واپس دینے کا الزام

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے سابقہ حکومت پر بدعنوانی کے الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ قوم کا 50 ارب لوٹا گیا اور اس میں سے اپنا حصہ بھی وصول کیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کابینہ نے سب کمیٹی بنائی ہے۔

    کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزرا کی پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاؤن کی 50 ارب کے قریب رقم برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے ضبط کی جو غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک بھیجی گئی تھی تاہم جب برطانیہ نے یہ رقم حکومت پاکستان کو واپس کی تو عمران خان کی حکومت نے اسے بحریہ ٹاؤن کو ہی دوبارہ تحفے میں دے دیا تھا۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’برطانیہ نے ریاست پاکستان سے رابطہ کیا کہ یہ رقم غیر قانونی ذرائع سے پہنچی ہے اور اس پر ملکیت پاکستان کے لوگوں کی ہے۔ ایسٹ ریکوری یونٹ کے شہزاد اکبر نے اس صورتحال کو سنبھالا، پانچ ارب اپنا حصہ طے کر کے دو نمبری کا طریقہ کار اپنایا۔ ان دستاویزات کو حکومت پبلک کر رہی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کیسے عوام کے پیسے پر کیسے ڈاکہ ڈالا گیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’50 ارب روپے بحریہ ٹاؤن کی لائبلٹی کے طور پر ایڈجسٹ ہوئے۔ حکومت کی جانب سے تحقیقات کرا کے اس معاملے کو آگے بڑھایا جائے گا۔ بحریہ ٹاؤن نے اس کے بدلے 400 کنال سے زیادہ کی زمین کا معاہدہ کیا اور یہ زمین القادر ٹرسٹ کے نام پر بطور امداد منتقل کی گئی۔

    ’اس معاہدے پر خاتون اول بشریٰ بی بی کے دستخط ہیں۔ القادر ٹرسٹ کے دو ٹرسٹی ہیں، ایک بشریٰ بی بی اور دوسرے عمران خان۔ وہاں کوئی یونیورسٹی نہیں۔ اسے پنجاب یونیورسٹی کے کیمپس کا نام دیا گیا۔ یہاں تمام تقاریب کا اہتمام بحریہ ٹاؤن والوں نے کیا۔‘

    اس موقع پر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ سابقہ حکومت نے بحریہ ٹاؤن کو وہی رقم تحفے میں دی جو برطانیہ میں ضبط کی گئی تھی جبکہ ایف بی آر سے کہا گیا کہ اس پر کوئی ٹیکس بھی وصول نہ کیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سابقہ حکومت نے کابینہ کے اجلاس میں یہ سمری پیش کیے بغیر اس پر منظوری لی۔

  20. ’آئی جی کی توہین کرنے کا تاثر دیا جا رہا ہے:‘ راجہ بشارت

    پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ق کے رہنما اور سابق وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت یہ تاثر دے رہی ہے کہ آئی جی کو بلا کر ان کی توہین کرنا چاہتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارا کوئی ممبر ایسا نہیں جو ان سے غیر پارلیمانی بات کریں۔

    انھوں نے پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی ان کی بات مانے کو اس لیے تیار نہیں کہ ان کی حکومت اس کی وجہ سے ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم ادارے کی توقیر کو بحال کرنے کے لیے کھڑے ہیں۔