سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ صرف تین ماہ میں ساری قوم کے سامنے سچ آگیا ہے کیونکہ تیل و دیگر اشیا کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری حکومت عوام کے لیے آئی تھی جس کا جینا مرنا پاکستان کے لیے تھا۔ آج سارے چور اکٹھے ہوگئے ہیں۔ ان کے بچے، علاج، جائیداد سب پاکستان سے باہر ہے۔ امریکہ نے انھیں ہم پر مسلط کیا، یہ کنٹرول ہوسکتے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ان کی حکومت روس سے 30 فیصد کم قیمت پر تیل خریدنے والی تھی۔ ’ہم نے تیل پر 200 ارب روپے کی سبسڈی رکھی۔ فیصلہ کیا کہ قیمت بڑھانے کے بجائے کم کی جائے۔ ہم پر بھی آئی ایم ایف کا دباؤ تھا۔ انھوں نے مہنگائی مارچ کی، معاشی قتل کا الزام لگایا اور آج دیکھیں انھیں آئے تین ماہ ہوئے، ساڑھے تین سال سے زیادہ مہنگائی کر دی ہے۔‘
’تین ماہ پہلے یہ کہہ رہے تھے عمران خان کو تیل کی قیمت نہیں بڑھانی چاہیے۔ صرف تین ماہ میں ساری قوم کے سامنے سچ آگیا۔ ابھی قیمتیں مزید بڑھنی ہے، اور مہنگائی آنے والی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی گھی کی قیمت اتنی نہیں بڑھی۔‘
عمران خان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی حکوت کو ’غریب طبقے کی فکر ہی نہیں۔‘
’پاکستان کے مزدوروں کو پیغام ہے کہ میری کال پر نکلنا ہے اور ان سب پر دباؤ رکھنا ہے۔ انھیں ملک کے عوام کی کوئی فکر نہیں۔ امریکہ جو کہے گا یہ کریں گے۔ سب نے تیاری کرنی ہے۔ پُرامن احتجاج کا جمہوری حق ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’آپ نے اپنے حقوق کے لیے پُرامن احتجاج کی تیاری کرنی ہے۔ یہ رہ گئے تو سب سے پہلے جمہوریت ختم ہوگی، راجہ ریاض اپوزیشن لیڈر ہے تو سمجھیں پارلیمنٹ بھی ختم۔ ایف آئی اے پر شہباز شریف خود بیٹھ گیا ہے۔‘
انھوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت پولیس کو استعمال کر کے سیاسی انتقام لے رہی ہے اور تحریک انصاف کے رہنماؤں پر جھوٹے مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔