پاکستان
کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کی وجہ اسٹیبلشمنٹ
سے خراب تعلقات تھے۔
پاکستان
کے مقامی نیوز چینل جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو
کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان کا زوال اُن کی اپنی
حرکتوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ ’ فواد چوہدری نے درست کہا ہے کہ ان کی حکومت ان کے
اسٹیبلشمنٹ کےساتھ تعلقات خراب ہونے کی وجہ سے گئی ہے۔‘
انھوں
نے مزید کہا کہ ’فواد چوہدری اس بیان کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ پر الزام لگا رہے ہیں کہ
انھوں نے تقریباً چار سال ایک سیاسی حکومت کی پشت پناہی کی۔‘
پی ٹی
آئی کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر سابق
وزیر اعظم عمران خان اور ان کی جماعت کے اعتراضات اور بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ’جب وقت آئے گا وزیراعظم شہباز شریف میرٹ کے مطابق نئے
آرمی چیف کی تعیناتی کریں گے اور کوئی چیز وزیر اعظم کو اس سے روک نہیں سکتی۔‘
انھوں
نے پروگرام کے میزبان کے سوال کے جواب میں کہا کہ اگلے آرمی چیف کی تعیناتی نومبر
میں ہونی ہے اور تعیناتی میں ابھی سات ماہ ہیں۔
یاد
رہے کہ گذشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری
نے کہا تھاکہ موجودہ حکومت کو آرمی چیف اور دیگر تعیناتیوں کا کوئی حق نہیں۔
وزیر
دفاع خواجہ آصف نے سابق وزیر اعظم کا نام لیے بغیر بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں
حکومت جانے کا تازہ تازہ زخم ہیں پی ٹی آئی اور ان کے لیڈر ابھی ان زخموں کو چاٹ
رہے ہیں۔ یہ وقت گزر جائے گا۔ یہ تمام سیاسی نعرے ہیں۔
ان کا
کہنا تھاکہ جب وقت آئے گا وزیراعظم شہباز شریف آئین میں دیے گئے اختیارات
کواستعمال کریں گے،اور کوئی چیز وزیراعظم کواس سے روک نہیں سکتی۔
ان کا
کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اگر کوئی ایسی بات کرتی ہیں تو اس کی کیا قانونی یا آئینی
حیثیت ہے۔
سابق وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک شخص
جو حکومت سے نکالا جا چکا ہے اور اب ان پر توشہ خانہ کے تحائف سے لینے کے الزام میں ’عمران خان کا نام
توشہ خانہ خان رکھ دیا گیا ہے۔‘
ان کا
کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور میں ان کے اہل خانہ کے قریب ایک
خاتون نے اربوں روپے بنائے اورایک جعلی یونیورسٹی کے نام پر کروڑوں روپے بنائے گئے
ہیں اورآج وہ مفرور ہے۔
ان کا
کہنا تھاکہ ہمیں امپورٹڈ حکومت کہنے والے نے اپنے بچے کئی برسوں سے برطانیہ
ایکسپورٹ کیے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہپی ٹی آئی ہر شخص کو
متنازع بنا دیتی ہے،چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے حوالے سے وزیر دفاع کا کہنا
تھا کہ پی ٹی آئی بابریعقوب کو چیف الیکشن کمشنر بنانا چاہتی تھی ہم نے مخالفت کی،
بابر یعقوب کا نام مسترد کیا تو پی ٹی آئی سکندرسلطان راجہ کا نام لے آئی، پی ٹی
آئی نے یہ نہیں کہاکہ سکندرسلطان راجہ کا نام اسٹیبلشمنٹ نے دیا ہے۔