چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے مبینہ امریکی دھمکی کی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور صدرِ مملکت عارف علوی کو خط لکھے ہیں۔
ان میں عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستانی سفیر کی جانب سے اس ملاقات سے متعلق بھجوائی گئی تمام تفصیلات ایک خفیہ مراسلے کی شکل میں آپ کے پاس موجود ہیں۔ ’خفیہ مراسلے کی رپورٹ میں امریکی انڈر سیکرٹری آف سٹیٹ کی گفتگو واضح طور پر بیان کی گئی ہے۔
آخری کابینہ اجلاس میں تحریک انصاف کی حکومت اس نتیجے پر پہنچی کہ مراسلے کے مندرجات میں سازش کے آثار نمایاں ہیں۔ اس سازش کا مقصد مجھے وزارتِ عظمیٰ سے ہٹانا تھا۔‘
چئرمین پاکستان نے کہا کہ ’یہ ایک نہایت سنجیدہ نوعیت کا معاملہ ہے۔ اس کے نتیجے میں میری حکومت کو سازش پر مبنی تحریک عدمِ اعتماد کے ذریعے چلتا کیا گیا۔ خفیہ مراسلے میں درج اس سازش کے باعث ڈپٹی سپیکر نے معاملے کی مکمل تحقیقات تک تحریک عدمِ اعتماد پر کارروائی آگے بڑھانے کی اجازت نہ دی۔‘
وہ پوچھتے ہیں کہ ’اس تحریک عدمِ اعتماد پر رائے شماری سے قبل کیا عدالتِ عظمیٰ کو مراسلے کے مندرجات کا جائزہ نہیں لینا چاہیے تھا؟‘
’لازم ہے کہ چیف جسٹس مراسلے کے بیرونی سازش پر مشتمل مندرجات کا جائزہ لیں۔ عدالتِ عظمیٰ کے لیے میموگیٹ کی نظیر موجود ہے۔ عدالتِ عظمیٰ سازش کے کرداروں کے تعین کے لیے کمیشن بنائے جو کھلے عام معاملے کی تحقیقات کرے۔ عوام سچ جاننا اور تبدیلئ اقتدار کی بیرونی سازش
میں ملوث کرداروں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’ایوانِ صدر اور عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے معاملے پر خاموشی سے عوام میں شدید مایوسی پھیل رہی ہے۔ ووٹ کی پرچی سے پانچ سالہ حکومت منتخب کرنے کے اپنے جمہوری حق پر بیرونی سازش کی شکل میں پڑنے والے ڈاکے پر عوام سراپا احتجاج ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’عوام حصولِ انصاف کے لیے عدالتِ عظمیٰ و سربراہِ ریاست کی جانب نظریں لگائے ہوئے ہیں۔ صدرِ مملکت اور چیف جسٹس سے گزارش ہے کہ عوام کی امیدوں پر پورا اتریں۔‘