یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم اس صفحے کومزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان کے وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ جب وقت آئے گا وزیراعظم شہباز شریف میرٹ کے مطابق آرمی چیف تعینات کریں گے، فواد چوہدری نے درست کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات خراب ہونے پر گئی۔ ادھر لاہور میں خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اس لیے جلدی الیکشن کرانا چاہتے ہیں تاکہ وہ آئندہ تقرریوں میں مداخلت کر سکیں۔
پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم اس صفحے کومزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ جب وقت آئے گا وزیراعظم شہباز شریف میرٹ کے مطابق نئے آرمی چیف کی تعیناتی کریں گے اور کوئی چیز وزیر اعظم کو اس سے روک نہیں سکتی۔
پاکستان کے مقامی نیوز چینل جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگلے آرمی چیف کی تعیناتی نومبر میں ہونی ہے اور تعیناتی میں سات ماہ ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھاکہ موجودہ حکومت کو آرمی چیف اور دیگر تعیناتیوں کا کوئی حق نہیں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے سابق وزیر اعظم کا نام لیے بغیر بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں حکومت جانے کا تازہ تازہ زخم ہیں پی ٹی آئی اور ان کے لیڈر ابھی ان زخموں کو چاٹ رہے ہیں۔ یہ وقت گزر جائے گا۔ یہ تمام سیاسی نعرے ہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ جب وقت آئے گا وزیراعظم شہباز شریف آئین میں دیے گئے اختیارات کواستعمال کریں گے،اور کوئی چیز وزیراعظم کواس سے روک نہیں سکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اگر کوئی ایسی بات کرتی ہیں تو اس کی کیا قانونی یا آئینی حیثیت ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک شخص جو حکومت سے نکالا جا چکا ہے اور اب ان پر توشہ خانہ کے تحائف سے لے کر اپنے جاننے والوں کی کرپشن تک کے الزامات لگ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کا نام توشہ خانہ خان رکھ دیا گیا ہے۔‘
عمران حکومت کے حوالے سے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ عمران خان کا زوال اُن کی اپنی حرکتوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فواد چوہدری نے درست کہا ہے کہ ان کی حکومت ان کے اسٹیبلشمنٹ کےساتھ تعلقات خراب ہونے کی وجہ سے گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری اس بیان کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ پر الزام لگا رہے ہیں کہ انھوں نے تقریباً چار سال ایک سیاسی حکومت کی پشت پناہی کی۔
ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور میں ان کے اہل خانہ کے قریب ایک خاتون نے اربوں روپے بنائے اورایک جعلی یونیورسٹی کے نام پر کروڑوں روپے بنائے گئے ہیں اورآج وہ مفرور ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ ہمیں امپورٹڈ حکومت کہنے والے نے اپنے بچے کئی برسوں سے برطانیہ ایکسپورٹ کیے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہپی ٹی آئی ہر شخص کو متنازع بنا دیتی ہے،چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے حوالے سے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی بابریعقوب کو چیف الیکشن کمشنر بنانا چاہتی تھی ہم نے مخالفت کی، بابر یعقوب کا نام مسترد کیا تو پی ٹی آئی سکندرسلطان راجہ کا نام لے آئی، پی ٹی آئی نے یہ نہیں کہاکہ سکندرسلطان راجہ کا نام اسٹیبلشمنٹ نے دیا ہے۔
مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اس لیے جلدی الیکشن کرانا چاہتے ہیں تاکہ وہ آئندہ تقرریوں میں مداخلت کر سکیں۔
لاہور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’جلدی جلدی الیکشن کرانے کے منصوبے سے عمران خان تقرریوں میں مداخلت کرنا چاہتے ہیں تاکہ آئندہ الیکشن جیت سکے۔‘
’اگلی تقرریوں کا فیصلہ میرٹ پر ہوگا نہ کہ عمران خان کی غنڈہ گردی پر۔‘
ادھر وزیر دفاع خواجہ آصف نے جیو نیوز کے ٹاک شو میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ آرمی چیف کی تعیناتی میرٹ پر ہوگی۔
خیال رہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ رواں سال نومبر میں ریٹائر ہوجائیں گے۔ فوج کے ترجمان نے تصدیق کی تھی کہ وہ اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں لینا چاہتے۔
’اداروں نے آئین کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا‘
مریم نواز نے اپنی تقریر کے دوران مزید کہا کہ ’عمران خان جیسے ناکام آدمی کے خلاف سازش کرنے کی کسی کو ضرورت نہیں۔‘
’خط چھوڑیں اور کارکردگی دکھائیں، کام دکھائیں کیا کِیا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ اس لیے رو رہا ہے کہ اداروں نے آئین کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس میں اتنی مرچیں عمران خان کو اس لیے لگ رہی ہیں کہ اسے اب نقل کر کے پاس ہونے کی عادت پڑ گئی ہے۔
’کوئی چیٹنگ کرانے کو تیار نہیں تو اس کے رونے کی آوازیں دور سے آ رہی ہیں۔۔۔ تمھارا سارا میچ فکسڈ تھا۔‘
مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’آنے والے دنوں میں یہ شخص سازشی خط دکھا کر پیسے مانگا کرے گا۔‘
’الیکشن ہوں گے، ضرور ہوں گے۔ الیکشن سے وہ ڈرے جس نے 16 میں سے 15 ضمنی انتخابات ہارے۔‘
مقامی ذرائع ابلاغ پر ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے درمیان زمان پارک لاہور میں ملاقات ہوئی ہے۔
اس پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ’پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔ پاناما اور اقامہ کے ڈرامے کے فنکار آج ایک جگہ جمع ہوگئے، دونوں کے ڈرامے کا ڈراپ سین ہوگیا۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’صداقت اور امانت کے سرٹیفکیٹ ایک دوسرے کو بانٹنے والے ایک جگہ اکٹھے ہو گئے۔ نیا پاکستان کا فنکار اور ڈیم کا معمار دونوں کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا ہے۔‘
’ایک توشہ خانہ کھا گیا، دوسرا ڈیم کے پیسوں کا حساب نہیں دیتا۔ نواز شریف کے خلاف سازش کے کرداروں کی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے۔‘
وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے اپنی پریس بریفنگ کے دوران یہ بھی کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان ’شہباز شریف کی عوامی خدمت اور کارکردگی سے خوفزدہ ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’اصل میں ان کو الیکشن نہیں چاہیے، ان کو پتا ہے اگر اتحادی حکومت نے عوام کو ریلیف دے دیا تو ان کا نام لینے والا کوئی نہیں ہوگا، الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہوگا۔‘
’چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ مانگنے والوں کو خود مستعفی ہونا چاہیے تھا۔ عمران خان شہباز شریف کے خدمت کے جذبے سے خوفزدہ ہیں۔ حکومت بدل گئی لیکن ان کی تقریر کی کیسٹ تبدیل نہیں ہوئی۔‘
سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری کی بدولت پیپلز پارٹی اب اصل میں مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئی ہے اور انھیں ساتھ الیکشن لڑنا چاہیے۔
پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ان سب کو ایک ہی انتخابی نشان دیں۔ اگر لوٹے کا نشان دیں تو یہ ان کی سیاست کی مناسبت سے ٹھیک ہوگا۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’میں پیپلز پارٹی کو مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد کرنے پر مبارکباد دیتا ہوں۔ ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ ضیا الحق کے منجھلے بیٹے کا وزیر خارجہ بن گیا ہے۔‘
توانائی کے ’بہت بڑے بحران کا پیش خیمہ‘
لوڈ شیڈنگ کی وجوہات بتاتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’لوڈ شیڈنگ ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ن لیگ کے ایل این جی کے سب سے بڑے معاہدے ڈیفالٹ ہوگئے۔ قیمتیں اوپر گئیں۔ انھوں نے اپنا حساب ٹھیک نہیں رکھا تو وہ ڈیفالٹ کر گئے اور ایل این جی اب پاکستان میں نہیں ہے۔
’اس کے بعد لوکل گیس کا سسٹم فوری طور پر پاور پلانٹس کی طرف ڈائیورٹ کرنا تھا وہ انھوں نے نہیں کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے درآمد شدہ کوئلے کی ادائیگی کرنی تھی چونکہ کوئلہ مہنگا ہوا ہے اور ہم اضافی 50 ارب روپے ادائیگی کرنے والے تھے تاکہ لوڈ شیڈنگ نہ ہو، وہ بھی یہ نہ کرسکے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’فرنس آئل کا ذخیرہ ختم ہو رہا ہے، کوئلے کے پلانٹ اپنی ایک تہائی طاقت پر چل رہے ہیں اور یہ سب ایک بہت بڑے بحران کا پیش خیمہ ہے۔‘
اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے بتایا کہ:
وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ وہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر 28 سے 30 اپریل تک سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔
وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد شہباز شریف کا پہلا بیرونی دورہ ہے اور اس میں کابینہ کے ممبران سمیت اعلیٰ سطحی وفد ان کے ہمراہ جائے گا۔
اس میں کہا گیا ہے کہ ’وزیراعظم سعودی قیادت کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کریں گے، خاص طور پر اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو آگے بڑھانے اور سعودی عرب میں پاکستانی افرادی قوت کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کریں گے۔‘
پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے کارکنوں کو کال دی ہے کہ جب وہ انھیں اسلام آباد بلائیں تو وہ چاہتے ہیں کہ 20 لاکھ افراد دارالحکومت پہنچیں۔
انھوں نے اپنی تقریر کے دوران الیکشن کمیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور چیف الیکشن کمشنر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو نے وفاقی وزیرِ کا حلف اٹھا لیا ہے، ایوانِ صدر میں منعقدہ تقریب میں صدر عارف علوی نے ان سے حلف لیا۔
بلاول بھٹو وزیرِاعظم شہباز شریف کی کابینہ میں بطور وزیرِ خارجہ ذمہ داریاں ادا کریں گے۔ پیپلز پارٹی کے مطابق انھوں نے 33 برس، سات ماہ اور چھ دن کی عمر میں حلف اٹھا کر پاکستان کا سب سے کم عمر وزیرخارجہ بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔
ماضی میں بلاول کے والد آصف علی زرداری صدرِ پاکستان، والدہ بینظیر بھٹو وزیرِ اعظم پاکستان اور نانا ذوالفقار علی بھٹو وزیرِ خارجہ اور وزیرِ اعظم کے عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔
بلاول بھٹو 33 برس کے ہیں، جبکہ ان کے نانا 35 برس کی عمر میں وزیرِ خارجہ بنے تھے۔ ماضی میں پیپلز پارٹی کے دور میں وزارت خارجہ کا حلف اٹھاتے وقت حنا ربانی کھر کی عمر 33 سال، آٹھ ماہ اور ایک دن تھی۔
نیپرا نے بجلی دو روپے چھیاسی پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
بجلی کی قیمت میں اضافہ مارچ کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے۔ نیپرا کی جانب سے بجلی کی قیمت بڑھانے کا فیصلہ عوامی سماعت میں کیا گیا جس سے بجلی صارفین پر 24 ارب روپے سے زائد کا بوجھ پڑے گا۔
نیپرا کے مطابق مارچ میں مقامی کوئلے، گیس اور ایل این جی سے بجلی کم پیدا کی گئی اور اس دوران میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی سے 35 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑا جب کہ ایل این جی کی قلت کے باعث 34 کروڑ روپے سے زائد کا بوجھ پڑا۔
ان کے مطابق بعض پاور پلانٹس کی بندش سے فرنس آئل والے پلانٹس چلائے گئے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے عمرے پر جانے کے لیے پاسپورٹ واپس لینے کی درخواست واپس لے لی ہے۔
خیال رہے کہ آج پاسپورٹ واپسی کی سماعت جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل بنچ نے کی اور مریم نواز کے وکیل احسن بھون اور نیب کے وکیل فیصل بخاری عدالت میں پیش ہوئے۔
اس دوران مریم نواز کے وکیل نے پاسپورٹ واپسی کی درخواست واپس لے لی، اور ہائی کورٹ کی جانب سے اسے نمٹا دیا گیا۔
پاکستان کی صوبہ پنجاب کے نومنتخب وزیرِ اعلیٰ حمزہ شہباز کی حلف برداری کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازع پر فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ نے گورنر پنجاب سے کل تک خود یا کسی نمائندے کو نامزد کر کے حلف لینے کی تجویز دی ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ 25 دن سے صوبے میں کوئی وزیرِ اعلیٰ نہیں ہے اور نومنتخب وزیرِ اعلیٰ سے حلف نہ لینا آئین کے خلاف ہے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ ’یہ تجویز یا مشورہ دیا جاتا ہے کہ گورنر وزیرِ اعلیٰ کا حلف خود یا کسی نمائندے کو نامزد کر کے 28 اپریل یا اس سے پہلے ائین کے آرٹیکل 255 کے مطابق لے لیں۔‘
عدالت نے صدرِ پاکستان کو بھی اس حوالے سے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے کی تجویز دی ہے کہ وہ پنجاب میں جلد از جلد فعال صوبائی حکومت کو یقینی بنائیں۔
فیصلے کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے اپنے دفتر کو یہ حکم نامہ جلد از جلد گورنر پنجاب اور صدر پاکستان کو ارسال کرنے کی ہدایت کی ہے۔
خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد امیر بھٹی نے منگل کے روز نو منتخب وزیراعلٰی پنجاب کی درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کے ادارہ برائے شماریات (پی بی ایس) نے رواں ماہ 18 اپریل کو خط میں بتایا ہے کہ ملک میں ساتویں مردم شماری اور خانہ شماری یکم اگست 2022 سے شروع کی جائے گی۔‘
اعلامیے کے مطابق پی بی ایس نئی مردم شماری کے نتائج 31 دسمبر 2022 تک الیکشن کمیشن کو فراہم کر دے گا۔
الیکشن کمیشن نے اعلامیے میں یہ بھی کہا کہ ’اس صورت میں 2017 کی مردم شماری کے تحت کی گئیں حلقہ بندیاں غیرمؤثر ہو جائیں گی اور نئی مردم شماری کے تحت یکم جنوری 2023 سے نئی حلقہ بندیاں کرنا ہوں گی، جس کے لیے کم ازکم 4 ماہ کا عرصہ درکار ہو گا۔‘
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اسی طرح انتخابی فہرستوں پر دوبارہ نظر ثانی درکار ہو گی، کیونکہ نئی مردم شماری کے دوران شماریاتی بلاک کوڈوں میں اضافہ اور ان کی حدود میں ردوبدل کیا جاتا ہے۔‘
پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن انتخابات سے نہیں ڈرتی، بلکہ انتخابات سے وہ ڈرتے ہیں جو اپنے دور حکومت میں 16 میں سے 15 انتخابات ہار گیا ہو۔
انھوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’جانتے ہو کہ آج کل وہ انتخابات کا راگ کیوں الاپتے ہیں، یہ ڈرامہ پاکستان کے عوام جانتے ہیں، انتخابات سے وہ ڈرتے ہیں جو 16 میں سے 15 انتخابات اپنی حکومت میں ہار گیا ہو، انتخابات سے وہ ڈرتا ہے، جس کو نقل کرکے پرچہ پاس کرنے کی عادت پڑ گئی ہو، انتخابات سے مسلم لیگ (ن) نہیں ڈرتی کیونکہ اس کے کارکن ڈٹ کر کھڑے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) جانتی ہے کہ عوام کی طاقت آج بھی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہے۔
انھوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ’وہ آخری دن تک اقتدار سے اس لیے چپکے رہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے بعد مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آئی تو ان کی کرپشن کے کچے چھٹے سامنے آئیں گے۔
سابق وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’وہ آخری منٹ تک منتیں کرتے رہے، کبھی اسٹیبلشمنٹ کی تو کبھی آصف علی زرداری کے پاس اپنے دوست کو بھیجتے رہے اور منتیں کرتے رہے کہ تحریک عدم اعتماد واپس لے لو اور میری حکومت مت گراؤ۔‘
مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ ’ جب بات نہ بنی تو جھوٹے سازشی خط کا ڈرامہ لے آئے، نمبر پورے نہ ہو تو سازش ہوتی ہے، کارکردگی کا خانہ خالی ہوتو سازشی خط جیسا ڈرامہ رچانا پڑتا ہے۔‘
سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے توشہ خانہ سے تحائف حاصل کرنے اور بعدازاں فروخت کرنے کے معاملے پر تنقید کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کو حساب دینا پڑے گا‘
انھوں نے کہا کہ ’عمران خان کبھی مدینہ کی ریاست اور خلفائے راشدین کی مثالیں دیتے تھا لیکن عدالت نے جب توشہ خانے کے تحفوں پر جواب مانگا تو کہتے ہیں جواب نہیں دے سکتا دوسرے ملک ناراض ہوجائیں گے۔‘
انھوں نے سابق وزیر اعظم کو ’توشہ خان‘ کے نام سے بھی مخاطب کیا۔
مریم نواز نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’جب دوست ممالک کے تحائف بازاروں میں فروخت کر رہے تھے تو اس وقت دوست ملک ناراض نہیں ہو رہے تھے، پھر کہتے ہیں میرے تحفے میری مرضی، ایسا نہیں ہوگا، یہ آپ کا خاندانی مال نہیں ہے، تحفے بھی ریاست کے اور مرضی بھی ریاست کی ہے۔ ‘
پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ ’عمران خان کہتے پھرتے ہیں کہ رات بارہ بجے عدالتیں کیوں کھلیں، تو عدالتیں 12 بجے اس لیے کھلیں کیونکہ عمران خان نےآئین توڑا تھا۔
انھوں نے سابق وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے وزیراعظم آفس کو بنی گالا سمجھا تھا اور 22 کروڑ کے ملک کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھ لیا تھا۔ اور انھوں نے اپنے ملک سے غداری کی، اپنے آئین سے غداری اور اپنے حلف سے انحراف کیا۔ ‘
مریم نواز شریف نے اپنے خطاب میں سابق سپیکر قومی اسمبلی، ڈپٹی سپیکر، گورنر پنجاب اور صدر مملکتپر بھی اپنے آئینی عہدوں سے انحراف کرنے کے الزامات عائد کیے اور صدر مملکت عارف علوی سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
لاہور کے حلقہ این اے 128 میں پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے عوامی رابطہ مہم کے تحتکارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے سابق وزیر اعظم کا نام لیے بغیر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انھیں ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس لیے وہ ایک مرتبہ پھر اسلام آباد میں مارچ اور چڑھائی کرنے کے اعلانات کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے جلسے میں موجود کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’ تو کیا عوام یک زبان ہو کر بتاؤ کہ کیا آپ کے مقدر میں ترقی نہیں ہے کیا آپ کے مقدر میں جلاؤ، گھیراؤ اور جلوسوں کی سیاست ہے۔‘