’امپورٹڈ حکومت کسی صورت قبول نہیں‘، عمران خان کی ملک گیر پرامن احتجاج کی کال

پاکستان کے وزیر عظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور وہ کسی امپورٹٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گےاور انھوں نے عوام سے سے کہا ہے کہ وہ اتوار کی شب ملک بھر میں پر امن احتجاج کریں۔

لائیو کوریج

  1. الیکشن کمیشن کے اعلیٰ حکام عدالت میں

    سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر اور سیکریٹری الیکشن کمیشن کو اب سے کچھ دیر قبل عدالت طلب کیا تھا اور اس وقت یہ دونوں حکام عدالت میں موجود ہیں۔

    واضح رہے کہ اب سے کچھ گھنٹے قبل الیکشن کمیشن کا صدرِ پاکستان کو لکھا گیا خط سامنے آیا تھا جس میں الیکشن کمیشن نے صدر کو مطلع کیا تھا کہ اُنھیں نئی حلقہ بندیوں کے تحت انتخابات کروانے کے لیے کم از کم چار اضافی ماہ درکار ہیں۔

    الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ انتخابات اکتوبر 2022 میں ہو سکتے ہیں۔

  2. سوال کیا جائے کہ غیر آئینی اقدام کیوں اٹھایا گیا، بلاول بھٹو زرداری

    بلاول بھٹو زرداری نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروایا گیا ہے۔ اس جواب میں اُنھوں نے کہا ہے کہ سوال کیا جائے کہ غیر آئینی اقدام کیوں اٹھایا گیا۔

    بلاول نے کہا کہ ماضی میں بدقسمتی سے نظریہ ضرورت اور دیگر قانونی جواز استعمال کر کے غیر قانونی یا حتیٰ کہ غیر آئینی اقدامات کی بھی مذمت کی گئی مگر اُنھیں ریورس نہیں کیا گیا۔

    اُنھوں نے کہا کہ اُن کی استدعا ہے کہ عدالت ایسی مثال قائم کرے جو ہمارے اداروں، جمہوریت اور آئین کو مضبوط کرے۔

    بلاول نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہو گی کہ اس غیر آئینی رولنگ کی مذمت کی جائے مگر یہ غیر آئینی اقدام اٹھانے والوں کی نیت اور ارادوں کو ناکام نہ بنایا جائے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. ڈپٹی سپیکر رولنگ پر فیصلہ کچھ دیر میں

    سپریم کورٹ

    قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں آج مکمل ہوئی۔ جس کا فیصلہ کچھ ہی دیر میں سنایا جائے گا۔ اس موقع پر سپریم کورٹ کے باہر سکیورٹی کے اہلکار مستعد کھڑے ہیں۔ سیاسی کارکنوں کو عدالت کے احاطے میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔

    سپریم کورٹ
    سپریم کورٹ
    سپریم کورٹ
  4. نواز شریف کا پارلیمنٹ کی بحالی کا مطالبہ

    سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو صرف کالعدم قرار دینا کافی نہیں ہو گا کیونکہ یہ آئین اور قانون کے خلاف تھی۔ اُنھوں نے زور دیا کہ پارلیمنٹ کو بحال کیا جانا چاہیے یہی آئین اور قومی مفاد کا تقاضہ ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. مولانا فضل الرحمان: فیصلہ ’مصلحتوں اور مفادات‘ کے بجائے آئین کے تحت کیا جائے

    جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ آئین اور قانون کے تحت فیصلہ سازی کا ادارہ ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ عدالت فیصلہ ’ثالثی اور ذاتی اجتہاد‘ کے تحت فیصلہ نہیں کیا کرتی۔ فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ غلط ہے تو پارلیمنٹ کی پرانی پوزیشن بحال ہو جائے گی، اگر اس کے برعکس کوئی فیصلہ آتا ہے تو یہ معزز جج صاحبان کی ذاتی خواہش تو ہو سکتی ہے مگر قانون اور آئین کے تحت فیصلہ نہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ قومی مفاد کا فیصلہ سیاسی حکومتوں نے کرنا ہوتا ہے، معزز عدالتوں نے نہیں۔

    واضح رہے کہ آج کی سماعت میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے دو مرتبہ ’قومی و ملکی مفاد‘ کا حوالہ دیا تھا۔ ایک مرتبہ جب اٹارنی جنرل اپنے دلائل دے رہے تھے تو چیف جسٹس نے کہا کہ ’ایک بات تو واضح نظر آ رہی ہے کہ رولنگ غلط ہے۔ ‏اب اگلا قدم کیا ہو گا؟‘

    جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’میں رولنگ کا دفاع نہیں کر رہا، میرا خدشہ نئے انتخابات کے حوالے سے ہے۔‘

    اٹارنی جنرل کی اس بات پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’قومی مفاد کو بھی ہم نے دیکھنا ہے۔‘

    اس کے بعد جب شہباز شریف روسٹرم پر موجود تھے، تب چیف جسٹس کا کہنا تھا ’عدالت نے سیاسی فیصلے نہیں کرنے بلکہ ملکی مفاد میں کرنے ہیں۔‘

  6. ظفر مرزا: جو غیر آئینی اقدامات ہوئے ہیں اُن کا خاتمہ بہت ضروری ہے

    اے ایف پی

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    پی ٹی آئی کی سابق حکومت میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت رہنے والے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ تین اپریل کو جو کچھ قومی اسمبلی میں دیکھا اس کی مثال نہیں ملتی اور اس کے باعث بہت زیادہ اضطراب شہریوں کو پہنچا۔

    جیو نیوز کے اینکرپرسن حامد میر سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ریاست لوگوں سے بنتی ہے اور لوگوں اور ریاست کے درمیان معاہدے کو آئین کہتے ہیں، اور سب سے اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر آئین کو اس طرح پامال کیا جائے تو لوگ بہت زیادہ خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اس ملک کا کیا بنے گا۔

    اُنھوں نے کہا کہ اس بات پر اُنھوں نے 140 دیگر سماجی شخصیات، بیوروکریٹس اور دیگر اہم لوگوں کے ساتھ مل کر سوچا کہ ہمیں اپنی آواز سپریم کورٹ تک پہنچانی چاہیے۔

    ڈاکٹر مرزا نے کہا کہ جو کچھ دنیا نے اس دن پاکستان کی اسمبلی میں ہوتا دیکھا وہ آئین کے مطابق نہیں تھا۔ جو بھی غیر آئینی اقدامات ہویے ہیں اُنھیں ختم کرنا بہت ضروری ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ اگر یہ نہ کیا گیا تو پہلے اس ملک نے مارشل لا دیکھے، اب سول حکومتیں بھی آئین کو پامال کرنا شروع کر دیں تو ایسا دروازہ کھل جائے گا کہ حکومت جب محسوس کرے گی کہ اُن کی اکثریت کھو رہی ہے تو ایسے اقدامات بعد میں بھی ہو سکتے ہیں۔

  7. تحریکِ عدم اعتماد مسترد کرنے کے لیے آرٹیکل 5 کے استعمال پر آئینی ماہرین کیا کہتے ہیں؟

    ڈپٹی سپیکر کی جانب سے پاکستان کی قومی اسمبلی کے اجلاس میں متحدہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو بیرونی سازش قرار دیتے ہوئے آئین کے آرٹیکل پانچ کے تحت مسترد کرنے کے اقدام کو آئینی و قانونی ماہرین ملک میں آئینی بحران کی صورتحال قرار دیتے ہیں۔

    تحریکِ عدم اعتماد مسترد کرنے کے لیے آرٹیکل 5 کے استعمال پر آئینی ماہرین کیا کہتے ہیں؟

  8. عمران خان کے خلاف ’غیر ملکی سازش‘ ہوئی یا یہ محض یا الیکشن کی تیاری ہے؟

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کا دور ساڑھے تین برس کے بعد ڈرامائی انداز میں ختم ہو گیا۔ عمران خان کی حکومت قائم ہونے پر جتنا شور مچا تھا ان کے حکومت کے خاتمے پر بھی اتنا ہی ہنگامہ ہے، ان کے آنے پر بھی 'سلیکٹڈ' کی تہمت لگی اور جانے کے انداز پر بھی 'آئین شکنی' کے الزامات لگ رہے ہیں اور معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔

    پاکستان کی پارلیمان میں بطور وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونے کو تھی، حزب اختلاف کے نمبرز بھی پورے تھے لیکن عین ووٹنگ کے دن ڈپٹی سپیکر کی جانب سے یہ تحریک غیر ملکی سازش کا الزام لگا کر مسترد کر دی گئی۔

    سپیکر کی اسی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ میں از حود نوٹس کی سماعت ہوئی جس کا فیصلہ شام ساڑھے سات بجے سنایا جائے گا۔

    کیا واقعی عمران خان کے خلاف ’غیر ملکی سازش‘ ہوئی یا یہ محض یا الیکشن کی تیاری تھی؟

  9. اقتصادی صورتحال کے پیشِ نظر سٹیٹ بینک نے شرحِ سود میں ڈھائی فیصد اضافہ کر دیا, تنویر ملک، صحافی

    سٹیٹ بینک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں 2.50 فیصد کا اضافہ کرتے ہوئے اس کی شرح کو 12.25 فیصد تک بڑھا دیا ہے۔ موجودہ شرح سود 9.75 فیصد تھی۔

    بینک کے جاری کردہ بیان کے مطابق اجناس کی عالمی قیمتوں اور عالمی مالی حالات، جو روس یوکرین تنازع کے باعث بدتر ہوگئے تھے اور جو صورت حال سامنے آ رہی ہے اس کے پیش نظر بیرونی استحکام کو درپیش خطرات بڑھ گئے ہیں۔

    مرکزی بینک کے مطابق ملک میں بڑھی ہوئی سیاسی غیریقینی کیفیت نے پچھلے مانیٹری پالیسی کمیٹی اجلاس کے بعد سے روپے کی قدر میں 5 فیصد کمی میں کردار ادا کیا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    علاوہ ازیں زیادہ تر قرض کی واپسی اور ایک کانکنی کے منصوبے سے متعلق تصفیے کے حوالے سے حکومتی ادائیگیوں کے باعث سٹیٹ بینک کے زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی آئی، ان حالات کے نتیجے میں اوسط مہنگائی کی پیش گوئیوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور پیش گوئی کے مطابق اوسط مہنگائی مالی سال 22ء میں 11 فیصد سے تھوڑی اوپر ہوگی اور مالی سال 23ء میں معتدل ہوجائے گی۔

    بینک کے مطابق جاری کھاتے کا خسارہ ابھی تک متوقع طور پر مالی سال 22ء میں جی ڈی پی کے لگ بھگ 4 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ اگرچہ نان آئل جاری کھاتے کا توازن مسلسل بہتر ہوا ہے تاہم مجموعی جاری کھاتے کا انحصار اجناس کی عالمی قیمتوں پر ہے۔

    مرکزی بینک کے مطابق اس صورت حال کے لیے ایک مضبوط اور فعال پالیسی ردعمل کی ضرورت تھی۔ چنانچہ پالیسی ریٹ کو 250 بیسس پوائنٹس اضافے کے ساتھ 12.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔

  10. مریم نواز: رولنگ صرف غلط نہیں، آئین کی ’بدترین توہین‘ ہے

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف نے آج کی عدالتی کارروائی کے بعد کہا ہے کہ رولنگ کو تو غلط قرار دے دیا گیا ہے مگر یہ رولنگ صرف غلط نہیں بلکہ آئینِ پاکستان کی ’بدترین توہین‘ ہے اور ’انتہائی خطرناک‘ روش ہے جس کو لگام دینا عدلیہ کا فرض ہے۔

    واضح رہے کہ عدالت نے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر سخت سوالات کیے اور یہاں تک کہ اٹارنی جنرل نے بھی ایک موقع پر کہا کہ وہ اس کا دفاع نہیں کر سکتے۔

    تاہم اس حوالے سے اب تک سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ جاری نہیں کیا ہے۔ توقع ہے کہ یہ فیصلہ جمعرات کی شام ساڑھے سات بجے سنایا جائے گا۔

    مریم نواز شریف نے کہا کہ اُمید ہے کہ آئین توڑنے والے کو قرار واقعی سزا ہو گی تاکہ پھر کسی کو ملک کے ساتھ ’ایسا گھناؤنا کھیل‘ کھیلنے کی جرات نہ ہو۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. سپریم کورٹ میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ سے متعلق فیصلہ شام ساڑھے سات بجے

    سپریم کورٹ نے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر لیے گئے از خود نوٹس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

  12. چار ماہ مزید چاہییں، انتخابات اکتوبر 2022 میں کروا سکتے ہیں: الیکشن کمیشن

    الیکشن کمیشن

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدرِ پاکستان سے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو نئے انتخابات کروانے کے لیے کم از کم سات ماہ چاہییں۔

    صدرِ پاکستان نے الیکشن کمیشن کو اپنے خط میں کہا تھا کہ اسمبلیاں تحلیل ہونے کے 90 دن کے اندر انتخابات کروانے کی تیاری کی جائے۔

    ایڈیشنل سیکریٹری منظور اختر ملک نے الیکشن کمیشن کی جانب سے صدر کو آگاہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابات کروانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے لیکن اسے انتخابی حلقہ بندیاں کرنے کے لیے چار ماہ مزید چاہییں، چنانچہ یہ انتخابات اکتوبر 2022 میں ہو سکتے ہیں۔

  13. بریکنگ, ’عدالت نے سیاسی فیصلے نہیں کرنے بلکہ ملکی مفاد میں کرنے ہیں‘

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا ’سیاسی جماعتوں کا آپس میں تعلق اتنا خراب ہے کہ پتا نہیں ساتھ چل سکتے ہیں یا نہیں۔‘

    ان کا شہباز شریف کو مخاطب کر کے کہنا تھا ’میاں صاحب وہ آپ سے ناراض رہتے ہیں ہاتھ نہیں ملاتے۔‘

    اس موقعے پر جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا ’میاں صاحب چھوڑ دیں آپ میں سے کسی کو کچھ نہیں کہا گیا۔‘

    اس پر شہباز شریف کا کہنا تھا ’سازش کے ثبوت لے آئیں عدالت کی ہر سزا قبول کرتے ہوئے سیاست چھوڑ دوں گا۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا ’ہمارے بارے میں سوشل میڈیا پر بہت تنقید ہو رہی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا ’عدالت نے سیاسی فیصلے نہیں کرنے بلکہ ملکی مفاد میں کرنے ہیں۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا ’سیاست میں سب کا احترام ہے۔عدالت کسی کی توہین نہیں کرنے دے گی۔

    ان کا مزید کہنا تھا ’میرٹ پر نہیں جا رہے۔‘

    عدالت ساڑھے سات بجے فیصلہ سنائے گی۔

  14. بریکنگ, غداری کے الزام کیساتھ الیکشن کیسے لڑیں گے؟: شہباز شریف

    قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران جاری ہے وکیل مخدوم علی خان کا کہنا تھا ’اس رولنگ کے بعد اقدامات کی توثیق کی تو ایک پیغام جائے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا ’پلگ نکال دو تاکہ دوسرا نہ آ سکے۔

    انھوں نے مزید کہنا کہ تین اسمبلیوں میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، صوبائی حکومتیں رکھتے ہوئے انتخابات کیسے شفاف ہوں گے؟

    اس موقعے پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’اگر خوانخواستہ الزام لگ گیا توفیس نہیں کر سکیں گے۔‘

    اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’جنہوں نے اپ پر الزام لگایا ہے وہ جاکر ثابت کریں۔‘

    تاہم شہباز شریف نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’غداری کے الزام کیساتھ الیکشن کیسے لڑیں گے؟‘ ہم اس الزام کے ساتھ گھر والوں کا سامنا نہیں کر سکتے۔‘

    اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ’غداری کا الزام جنہوں نے لگایا ہے وہ ثابت کریں۔‘

    اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا رولنگ ختم ہوگئی تو الزام کیسے برقرار رہے گا؟

    ایڈووکیٹ جنرل نے ججز کو اپنا موقف پیش کرنے کی استدعا کردی۔

  15. بریکنگ, عوامی حقوق کا تحفظ کریں گے: چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 184/3 میں کیس سن رہے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’عوامی حقوق کا تحفظ کریں گے۔‘

    اس مقوع پر مسلم لیگ ن کے وکیل مخدوم علی خان کا کہنا تھا ’مجھے اندازہ تھا حکومت بالآخر انتخابات کی طرف جائے گی، سپیکر کی رولنگ کا دفاع کرنا ممکن نہیں۔‘

    مخدوم علی خان کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا ’حاجی سیف اللہ کیس امتیازی کیس ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ رولنگ ختم ہو اسمبلی بحال نہ ہو۔‘

    چیف جسٹس نے کا اس کے جواب میں کہنا تھا ’آپ اس نقطے پر لگتا ہے تیاری کرکے آئے ہیں‘۔

    مخدوم علی خان نے کہا ’مجھے پتہ تھا یہ اس طرف آئیں گے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا ’آئین سے 58(2B) جمہوری انداز میں نکالا گیا تھا۔‘

    اس پر مخدوم علی خان نے اپنے دلائل میں کہنا کہ ’وزیر اعظم صدر اور سپیکر اٹھاون ٹو بی کر الگ شکل میں ملک میں نافذ کرنا چاہتے ہیں۔‘

  16. پرویز الٰہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروانے اپوزیشن ارکان اسمبلی میں

    لیگ

    ،تصویر کا ذریعہPML-N

    سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کروانے اپوزیشن کے اراکین اسمبلی سمیع اللہ، طاہر خلیل سندھو، پیر اشرف رسول، خواجہ سلمان رفیق، مرزا جاوید اور میاں عبدالرؤف اسمبلی پنجاب اسمبلی پہنچ گئے۔

    اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد پنجاب اسمبلی کے سپیشل سیکرٹری چودھری عامر حبیب کو جمع کروا دی ہے۔

  17. سیاست روز تبدیل ہوتی ہے: مخدوم علی خان

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان مسلم لیگ ن کے وکیل مخدوم علی خان نے سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران کہا کہ ’سیاست روز تبدیل ہوتی ہے۔ منحرف ارکان کے علاوہ اپوزیشن کے پاس 177 ارکان ہے۔‘

    مخدوم علی خان نے چیف جسٹس کے کہنے پر عدالت کو اپوزیشن ارکان کی پارٹی وائز تفصیلات بتائی۔

    ان کا مزید کہنا تھا ’سٹاک مارکیٹ کریش کر گئی، ڈالر مہنگا اور روپے کی قدر کم ہو گئی، یہ تمام معاشی مسائل ہیں، چیف جسٹس یہ معاشی مسائل کس نے پیدا کیے پیں؟‘

    اس کے جواب میں چیف جسٹس کا کہنا تھا ’مجھے نہیں لگتا ہم سوالات کے جواب دینے بیٹھے ہیں۔‘

  18. بریکنگ, ’ایک ہی درخواست ہے کہ قومی اسمبلی کو بحال کیا جائے‘

    شہباز شریف نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ہماری تاریخ میں آئین کئی مرتبہ پامال ہوا۔ ’جو بلنڈر ہوئے ان کی توثیق اور سزا نہ دیے جانے کی وجہ سے یہ حال ہوا۔ عدالت اللہ اور پاکستان کے نام پر پارلیمنٹ کو بحال کرے۔ پارلیمنٹ کا عدم اعتماد پر ووٹ کرنے دیا جائے۔‘

    شہباز شریف نے استدعا کی کہ ایک ہی درخواست ہے کہ نیشنل اسمبلی کو بحال کیا جائے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمیں مضبوط حکومت درکار ہے۔ ’اپوزیشن لیڈر کیلئے یہ بہت مشکل ٹاسک ہوگا۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ پی ٹی آئی نے بھی اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائی تھی۔ ’سیاسی الزام تراشی نہیں کروں گا۔ حکومت 174 ووٹوں پر قائم تھی ہمارے ممبر 177 ہیں۔ آئین کی بحالی اور عوام کے لیے اپنا خون پسینہ بہائیں گے۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اکثریت حاصل کرنے والی جماعت فائدے میں رہتی ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ’عدم اعتماد اگر کامیاب ہوتی ہے تو اسمبلی کا دورانیہ کیا رہے گا؟‘

    اس پر شہباز شریف کا جواب تھا کہ ’ڈیڑھ سال پارلیمنٹ کا ابھی باقی ہے۔‘

  19. سپریم کورٹ میں پولیس کی بھاری نفری تعینات

    سپریم کورٹ میں سخت سکیورٹی تعینات
    سپریم کورٹ میں سخت سکیورٹی تعینات
    سپریم کورٹ میں سخت سکیورٹی تعینات
    سپریم کورٹ میں سخت سکیورٹی تعینات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  20. بریکنگ, عدالت نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو روسٹرم پر بلا لیا

    شہباز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    شہباز شریف نے عدالت کے سامنے کہا کہ اگر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ غلط ہو تو وزیراعظم کے ہاتھوں قومی اسمبلی کی تحلیل بھی غلط ہے۔

    شہباز شریف نے مزید کہا کہ ایک ہی درخواست ہے کہ قومی اسمبلی کو بحال کیا جائے اور پارلیمنٹ کو عدم اعتماد پر ووٹ کرنے دیا جائے۔