’امپورٹڈ حکومت کسی صورت قبول نہیں‘، عمران خان کی ملک گیر پرامن احتجاج کی کال
پاکستان کے وزیر عظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور وہ کسی امپورٹٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گےاور انھوں نے عوام سے سے کہا ہے کہ وہ اتوار کی شب ملک بھر میں پر امن احتجاج کریں۔
لائیو کوریج
قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر کے خلاف قرارداد جمع
،تصویر کا ذریعہQasim Khan Suri
قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے خلاف اپوزیشن نے قرارداد جمع کروا دی ہے۔
تحریک میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی سپیکر نے بارہا قواعد، پارلیمانی طور طریقوں، جمہوری روایات اور یہاں تک کہ آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔
قرارداد میں ڈپٹی سپیکر کی جانب سے تین اپریل کی رولنگ کے ذریعے تحریکِ عدم اعتماد مسترد کرنے، اور سات اپریل کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے اسمبلی کی بحالی کا حوالہ دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو آئین سے متصادم قرار دیا تھا۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی سپیکر نے جان بوجھ کر اور بدنیتی سے آئین کی خلاف ورزی کی ہے اور اُن کا یہ اقدام آئین کی شق 6 کے زمرے میں آتا ہے۔
اگر یہ قرارداد اکثریت سے منظور ہو جاتی ہے تو ڈپٹی سپیکر اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہیں گے۔
،تصویر کا ذریعہbbc
عدالتی فیصلے کے بعد ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 3.50 روپے بڑھ گئی, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہAFP
سپریم کورٹ کی جانب سے قومی اسمبلی کے بحال کرنے کے فیصلے کا ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر پر مثبت اثر پڑا ہے۔
جمعے کے روز ایک ڈالر کی قیمت ساڑھے تین روپے تک گر گئی۔ ڈالر کی قیمت میں ایک مہینے سے مسلسل اضافہ ہو رہا تھا اور گذشتہ کاروباری روز ایک ڈالر کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 189 روپے کی سطح کو عبور کر گئی تھی۔
تاہم جمعرات کی رات کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جمعے کے روز جب کاروباری دن کا آغاز ہوا تو انٹر بینک میں روپے کی قدر میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا۔
جمعے کے روز کاروبار کے اختتام پر ایک ڈالر کی قیمت گذشتہ روز کے مقابلے میں تقریباً ساڑھے تین روپے گر کر 184.68 پر بند ہوئی۔
پاک کویت انوسٹمنٹ کمپنی کے ہیڈ آف ریسرچ سمیع اللہ طارق کے مطابق ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں نمایاں اضافے کی بڑی وجہ سیاسی طور پر واضح ہوتی صورت حال ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی بحالی کا فیصلہ دیا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ سیاسی محاذ پر ہونے والی پیش رفت کےعلاوہ سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافے نے بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف بھی تحریکِ عدم اعتماد جمع
،تصویر کا ذریعہAwami National Party
خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع کروا دی گئی ہے۔
جنرل (ر) طارق خان کا مجوزہ حکومتی کمیشن کی سربراہی سے انکار, فرحت جاوید، بی بی سی
،تصویر کا ذریعہNational Defense University
ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل طارق خان نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ وہ مبینہ بین الاقوامی سازش کی تحقیقات کے لیے مجوزہ حکومتی کمیشن کی سربراہی نہیں کریں گے۔
اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ کمیشن ممکنہ طور پر عدم اعتماد کے ووٹ کے بعد تحلیل کر دیا جائے گا اور اگر باقی رہا تو بھی غیر فعال رہے گا۔
امید ہے عمران خان اپنی شکست ایک کھلاڑی کی طرح قبول کریں گے: احسن اقبال
،تصویر کا ذریعہGetty Images
مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ کل قومی اسمبلی کا اجلاس اسی طرح ہو گا جس سلسلے کو تین اپریل کو توڑا گیا۔ امید ہے کہ پارلیمان کا
عملہ کسی مداخلت کے بغیر ووٹنگ کروائے گا۔
میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان سے امید رکھتا
ہوں کہ وہ اپنی شکست کو خندہ پیشانی سے، جمہرری انداز میں اور ایک کھلاڑی کی طرح
قبول کریں گے۔‘
انھوں نے عمران خان سے کہا کہ وہ بطور قائد
حزب اختلاف نئی حکومت کے ساتھ ورکنگ ریلیشنشپ قائم کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کے ان
کی نئی حکومت اپوزیشن کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ’ہمارے سیاسی
نظریات الگ ہو سکتے ہیں لیکن ہم سب کی پہچان پاکستان ہے۔ ہم پہلے پاکستانی
ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا ’امید ہے کہ یہ حکومت جاتے
جاتے مزید بگاڑ پیدا نہیں کرے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر عدلیہ کے خلاف جو مہم چلا رہی ہے امید ہے عمران خان
اس کی خلاف بھی نوٹس لیں گے۔‘
احسن اقبال کا کہنا تھا ’ہم پر تمام قومی
اداروں کا احترام واجب ہے، ہمیں آئین کی بالادستی کو تسلیم کرنا ہے، نئی حکومت اسی
وژن کو آگے بڑھائے گی۔ ‘
بریکنگ, سیکرٹری صوبائی اسمبلی کو وزیر اعلی کے انتخاب سے متعلق ریکارڈ کے ساتھ عدالت میں پیش ہونے کا حکم
حمزہ شہباز اور ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی
درخواستوں پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ تحریری حکم جاری کیا ہے۔
حکم میں کہا گیا ہے کہ عدالت کو جو صورتحال بتائی
گئی ہے وہ آئین اور رولز آف پروسیجر سے متصادم ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ سیکرٹری صوبائی اسمبلی آئندہ
سماعت پر ذاتی حیثیت میں ریکارڈ لے کر پیش ہوں۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ایڈووکیٹ جنرل اور
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرائیں۔
عدالت نے سیکرٹری صوبائی اسمبلی سے کہا کہ وہ
وزیر اعلی کے انتخاب کے عمل کا مکمل ریکارڈ لیکر پیش ہوں۔
دوست محمد مزاری کی درخواست پر بھی تمام فریقین
کو نوٹس جاری کیے گئے۔
درخواست گزار کے مطابق انتخاب کے لیے چھ اپریل
کو پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلوایا گیا اور اس
دن انتخاب کے حوالے سے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے سپریم کورٹ میں یقین دہانی کروائی، تاہم چھ اپریل کو بھی اجلاس نہیں بلوایا گیا۔
درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ سپیکر نے غیر قانونی طور پر ڈپٹی سپیکر کے اختیارات
کو محدود کردیا۔
مریم نواز قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد روانہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کل قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن
کے اجلاس میں شرکت کریں گی۔
پارٹی کے مطابق مریم نواز قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیےلاہور سے اسلام آباد روانہ ہو گئی ہیں۔
مریم نواز
قومی اسمبلی اجلاس کے دوران پارلیمنٹ ہاوس میں موجود رہیں گی۔
مبینہ بین الاقوامی سازش کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام کا فیصلہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا تپھا کہ پوری
کابینہ عمران خان کے پیچھے کھڑی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’سہریم
کورٹ کے فیصلے سے پارلیمان کی برتری خطرے میں پڑی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’سپریم
کورٹ کے پاس مواد نہیں تھا کہ سپیکر کی رولنگ صحیح ہے یا غلط ہے، آپ کیسے ڈاکومنٹ کرسکتے
ہیں کہ سپیکر نے غلط فیصلہ کیا۔ آپ کو مواد دیکھنا چاہیے تھا جس کی بنیاد پر
سپیکر اس فیصلے پر پہنچے۔‘
فواد چوہدری کا کہنا تھا ’سپریم
کورٹ نے ایک اور حیرت انگیز فیصلہ کیا کہ سپیکر کو کہا کہ منحرفین ووٹ ڈال سکیں
گے، حالانکہ وہ یہ کیس تھا ہی نہیں، یہ کہنا کہ ہارس ٹریڈنگ کے معامالات پر پوری
قوم کو تشویش ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’سپریم کورٹ اور پارلیمان کا اپنا اپنا کام ہے، طاقت کی تقسیم کی
بری طرح خلاف ورزی ہوئی ہے، پارلیمان کی حاکمیت اب سپریم کورٹ کی طرف شفٹ ہو گئی
ہے۔‘
’یعنی اب عوام
حاکم نہیں رہے چند جج ہو گئے ہیں۔ سپریم کورٹ کو نظر ثانی کرنی چاہیے ، ہم نظر
ثانی کے لیے جائیں گے۔‘
سازش کی تحقیقات کے لیے کمیشن
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف کی طرف سے لائی جانے والی تحریک عمومی
عدم اعتماد نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا ’یہ بین الاقوامی سازش کے تحت لائی گئی ہے، اس کی پشت پر چند
بڑے مافیا اور ممالک ہیں اور اس کو جس طرح پاکستان کے عوام تک پہنچایا گیا ہے، ان ساری شہادتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ٹنٹڈ ہے۔‘
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت ریکارڈز تمام ارکان اسمبلی کے سامنے رکھے گی، اس کے بعد بھی عدم
اعتماد میں آنا چاہے تو لوگ فیصلہ کریں گے کہ کون کہاں کھڑا ہے۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’یہ
امپورڈ سلیکٹڈ حکومت ہم پر مسلط کی جائے گی ، پاکستان اپنے فیصلہ نہیں کر پائے
گا، پاکستان محکوم قوم بن جائے گا۔‘
انھوں نے بتایا کہ اس مبینہ عالمی سازش کو سامنے رکھنے ہوئے، جنرل ریٹائرڈ طارق
خان کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا ہے، جو اس سارے معاملے کے پیچھے کرداروں اور معاملات
کی تحقیقاقت کرے گا، اس مراسلے کی موجود ہونے کی تفتیش کرکے یہ دیکھے گا کہ اس میں حکومت بدلنے کی دھمکی موجود ہے یا نہیں،
اور تیسرا اہم سوال اس سازش کو آگے لے جانے کے لیے ہینڈلرز کون سے استعمال ہوئے۔‘
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’کچھ مخصوص لوگوں کو معلوم تھا کہ سازش کہاں بنی، کیسے لایا گیا، باقیوں کو بلاواسطہ اپروچ کیا گیا، ان کی
ملاقاتوں کے ریکارڈ انٹیلیجنس ایجنسیوں کے پاس موجود ہیں۔ کمیشن پوچھے گا کہ
کیا باتیں اور کمٹمنٹس ہوئیں۔ یہ منصوبے کیسے آگے بڑھا، ان سب کا جائزہ یہ کمیشن لے
گا۔ ‘
ان کا کہنا تھا کہ ماہرین
بھی اس کمیشن کو اپنی معاونت دے سکتے ہیں۔
الیکشن کمیشن 90 دن میں الیکشن کروائے
ہم دو سال سے مسلسل الیکشن کمیشن کو کہہ رہے ہیں کہ وہ الیکشن کی تیاری کریں۔
الیکشن کمیشن اب کہہ رہا ہے کہ ہم مقامی لوگوں کے ووٹنگ نہیں کروا سکتے، اوورسیز تو دور کی بات ہے،
اگر پاکستان میں اس وقت مستحکم حکومت نہیں ہو گی تو وہ معاشی، سیاسی فیصلے نہیں کر سکے گی۔
الیکشن کمیشن اپنے مؤقف پر نظرِ ثانی کرے اور 90 دن کے اندر اندر ہر حال میں الیکشن کروائے۔
تحریک عدم اعتماد: سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پانچ اہم سوالات
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
قومی اسمبلی کے نو اپریل کے اجلاس کا ایجنڈا جاری
،تصویر کا ذریعہNATIONAL ASSEMBLY
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد قومی اسمبلی کے نو اپریل کے اجلاس کا ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کی جائے گی۔
اس چھ نکاتی ایجنڈے کے چوتھا نکتہ یہ ہے کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی پیش کردہ عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کی جائے۔
’ضمیر فروشوں کا راستہ رکنا چاہیے‘
تحریک انصاف کے رہنما فرخ حبیب کا کہنا ہے کہ ’سپریم کورٹ میں زیر سماعت آرٹیکل 63 اے سے متعلق صدارتی ریفرنس کا فیصلہ فوری آنا چاہیے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
’ایک قوم بن کر مسائل کے طوفانوں کا زور توڑیں گے‘, شہباز شریف کا پیغام
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کو اجتماعی دانش، یک جہتی اور اتفاق رائے کے مرہم کی ضرورت ہے۔ ہم ایک قوم بن کر مسائل کے طوفانوں کا زور توڑیں گے۔‘
ٹوئٹر پر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے 22 کروڑ عوام کے مطالبے پر پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کل انشاءاللہ پاکستان کو مایوسیوں اور مسائل کے اندھیروں سے نکالنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔‘
ملک کو درپیش مسائل پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’معیشت کو درست سمت استوار کر کے مہنگائی کے ستائے عوام کی دادرسی کرنی ہے، روزگار کی فراہمی سے غریبوں کے چولہے پھر سے جلانے ہیں۔ عالمی سطح پر پاکستان کے مقام اور تعلقات کو قومی وقار اور مفادات کی بنیاد پر بحال کرنا ہے۔ قیادت کا امتحان ہی مشکل ترین حالات میں ہوتا ہے۔
انھیں امید ہے کہ ’پاکستان اس امتحان میں سرخرو ہوگا۔‘
پنجاب میں اپوزیشن ارکان ’مزید کچھ دن مسافر رہیں گے‘
،تصویر کا ذریعہTWITTER
پنجاب میں اپوزیشن ارکان اسمبلی کے قریب ایک نجی ہوٹل میں مقیم تھے مگر اب یہ ایک دوسرے ہوٹل میں منتقل ہو رہے ہیں۔
مسلم لیگ ن کی رہنما عظمی بخاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے منتظر ارکان جس ہوٹل میں رہ ہے تھے اس میں جگہ کم ہے اور اب نئے ہوٹل منتقل ہو رہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’یہاں امن و امان کا مسئلہ بھی پیدا ہو رہا تھا۔ مونس الہی کی کروڑوں روپے رشوت کی آفر کا اکٹھے رہ کر مقابلہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
پنجاب اسمبلی کی اپوزیشن کی نظریں بھی لاہور ہائیکورٹ پر جمی ہوئی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’امید تھی جلد اجلاس ہو جائے گا۔ اب لگتا ہے مزید کچھ دن مسافر رہیں گے۔‘
خیال رہے کہ مسلم لیگ ن نے پنجاب میں نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں ’بلا جواز تاخیر‘ پر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔
’عمران خان کو بتایا آخری آپشن استعفے دینا ہے‘
،تصویر کا ذریعہAFP
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ انھوں نے وزیر اعظم عمران خان کو بتایا ہے ’آخری آپشن ہے کہ (سب) استعفے دے دیں‘ کیونکہ یہ ملک ’چوروں اور ڈاکوؤں سے نہیں چلے گا۔‘
اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’غیر ملکی طاقتیں جو پاکستان میں اپنی سوچوں کو مسلط کرنا چاہتی ہیں اور آزادی کو سلب کرنا چاہتی ہیں، ہماری غیر جانبداری کو سلب کرنا چاہتی ہے۔ انھیں شکست ہوگی۔‘
’گھڑی، دو گھڑی کی جیت یا ہار کا مسئلہ نہیں اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہر کوئی اس کیس میں بے نقاب ہوگیا ہے۔ مجھے امید اچھے فیصلے آئیں گے۔ شام کو عمران خان خطاب بھی کریں گے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’میں تین ماہ پہلے کہتا تھا استعفے دے دو، مجھے پتا تھا کہ مسئلے کیا ہیں۔ میں کہتا تھا نئے الیکشن کرا دو، اسمبلی توڑ دو، میں اس وقت بھی ٹھیک تھا۔‘
’جب میں کہتا تھا ایمرجنسی لگا دو میں اس وقت بھی ٹھیک تھا۔ جب میں کہتا تھا (سندھ میں) گورنر راج لگا دو میں اس وقت بھی ٹھیک تھا۔ میں آج بھی کہتا ہوں ہمیں یک زبان ہو کر مستعفی ہوجانا چاہیے اور باہر نکلنا چاہیے۔‘
شیخ رشید کہتے ہیں کہ ’قوم کو بتانا چاہیے کہ ان کے اصل چہرے کیا ہیں۔۔۔ یہ اس ملک کی آزاد خارجہ پالیسی کو کھائیں گی۔ قوم کو سب کچھ سمجھ ہے کہ کیا ہوا ہے، کیسے ہوا ہے اور کس نے کیا ہے۔‘
’نئے وزیراعظم کے آنے تک اہم سرکاری حکمنامے جاری نہ کرنے پر اتفاق‘
،تصویر کا ذریعہTWITTER
جمعے کی صبح کابینہ ڈویژن میں اسلام آباد میں تعینات اہم ترین سرکاری افسروں کا ایک غیر رسمی اجلاس ہوا جس میں طے پایا ہے کہ نئے وزیراعظم کے چارج سنبھالنے تک اہم سرکاری حکمنامے جاری کرنے کا کام روک دیا جائے گا۔
اس اجلاس کی کارروائی سے باخبر سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں آئندہ دو دن کے دوران اہم نوعیت کے فیصلوں اور ان پر عمل کے لیے سرکاری حکمانے جاری کرنے یا نہ کرنے کے مضمرات کا جائزہ لیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ خاص طور پر کابینہ یا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے کسی بھی اہم تقرری یا برطرفی کا نوٹیفیکشن جاری کرنے یا نہ کرنے کے قانونی اور سیاسی مضمرات کا تفصیل سے جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا کہ پارلیمنٹ میں اہم معاملات کا فیصلہ ہونے تک کسی بھی اہم تقرری یا برطرفی کو نوٹیفائی نہیں کیا جائے گا۔
حمزہ شہباز اور دوست مزاری کی درخواستوں پر عائد اعتراض ختم
لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز اور ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کی درخواستوں پر عائد اعتراض کو ختم کر دیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ آفس نے اعتراض عائد کیا تھا کہ آرٹیکل 69 کے تحت اسمبلی کی کارروائی پر عدالت سے رجوع نہیں کیا جاسکتا۔
کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ دوست مزاری کی درخواست پر اعتراض عائد کیا گیا ہے اس پر کیا کہیں گے۔
مسلم لیگ ن کے وکیل اعظم نزید تارڑ نے عدالت سے استدعا کی کہ اعتراض پر بحث کر دیتے ہیں۔ ’ممبران اسمبلی کو بھی پنجاب اسمبلی میں داخل نہیں ہونے دیا جا رہا۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ درخواستوں پر لگے اعتراضات کو جوڈیشل سائیڈ پر دیکھا جائے گا۔
اعظم نزیر تارڑ کا کہنا تھا کہ پہلے چھ اپریل کو ووٹنگ کا کہا گیا لیکن اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جب 16 اپریل ووٹنگ کی تاریخ دے دی گئی ہے پھر کیا ایشو ہے۔ اعظم نزیر تارڑ کا کہنا ہے کہ صوبے میں کئی دن سے چیف ایگزیکٹو ہی نہیں ہے یہ انتہائی اہم معاملہ ہے۔ ’چودہ کروڑ آبادی کے صوبے میں نہ وزیر اعلی ہے نہ کوئی کابینہ ہے۔‘
اعظم نزیر تارڑ نے عدالت سے استدعا کی کہ پانچ اپریل کو ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے سپریم کورٹ میں بیان دیا کہ چھ اپریل کو ووٹنگ ہو جائے گی۔ ’جب ڈپٹی سپیکر کو پتا چلا کے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب بیان دے چکے ہیں تو انہوں نے اجلاس بلایا۔ کل سپریم کورٹ نے بھی ایک اہم تاریخی فیصلہ دیا۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کہاں ہیں۔ چیف جسٹس نے درخواستوں پر نمبر لگا کر فکس کرنے کی ہدایت کی اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو فوری طلب کر لیا۔
سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کی گئی ہے۔
بریکنگ, ’ہنگامی بنیادوں پر‘ چار ماہ کے اندر حلقہ بندی مکمل کرنے کا فیصلہ
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے تمام حلقہ جات کی حلقہ بندی کے کام کا آغاز کر دیا ہے اور اسے ہنگامی بنیادوں پر چار ماہ کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔
بیان کے مطابق اس حلقہ بندی کی بنیاد 2017 کی مردم شماری اور آبادی کے اعداد و شمار ہوں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
حمزہ شہباز کی درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کے حوالے سے فیصلہ آج ہی متوقع, عمر دراز ننگیانہ، بی بی سی اردو، لاہور
،تصویر کا ذریعہWWW.LHC.GOV.PK
پنجاب اسمبلی میں وزارت اعلیٰ کے انتخاب میں ’بلا جواز‘ تاخیر پر اپوزیشن کے امیدوار حمزہ شہباز کی درخواست سماعت کے لیے مقرر ہوگئی ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس امیر بھٹی کچھ دیر بعد اس کی سماعت کریں گے۔
چیف جسٹس آج پہلے اس بات پر غور کریں گے کہ آیا درخواست قابل سماعت ہے اور کیا عدالت کو مقننہ کے معاملات میں مداخلت کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسلم لیگ ن اور حکومتی قانونی ٹیم دونوں کا مؤقف جاننے کے بعد فیصلہ کریں گے۔
درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کے حوالے سے فیصلہ آج ہی متوقع ہے۔
نظریہ ضرورت کیا تھا اور کیا سپریم کورٹ نے اسے دفن کر دیا ہے؟