’امپورٹڈ حکومت کسی صورت قبول نہیں‘، عمران خان کی ملک گیر پرامن احتجاج کی کال
پاکستان کے وزیر عظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور وہ کسی امپورٹٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گےاور انھوں نے عوام سے سے کہا ہے کہ وہ اتوار کی شب ملک بھر میں پر امن احتجاج کریں۔
لائیو کوریج
محسن داوڑ: رولنگ کی بنیاد بننے والا بیانیہ بھی رد ہو گیا
رکنِ قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے ایک طرح سے اس بیانیے کو بھی رد کر دیا ہے جس کی بنیاد پر یہ رولنگ دی گئی تھی۔
اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اصل مرحلہ اس کے بعد ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ ایکشن ان ایڈ آف سول پاور، مسنگ پرسنز، ملٹرائیزیشن اور سب مسائل کو حل کرنا ہو گا۔
محسن داوڑ نے کہا کہ امید ہے کہ اپوزیشن کی قیادت آنے والی دنوں میں قوم کی توقعات پر پورا اترے گی۔
جھوٹ، فریب اور الزامات کی سیاست آج دفن ہوگئی: شہباز شریف
پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا عدالتی فیصلہ پر کہنا تھا کہ آج پاکستان کی عوام جیت گئی ہے۔
ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا ’آج نئی تاریخ لکھے جانے کا اہم ترین دن ہے !
سب کو مبارک دیتا ہوں جنھوں نے آئین کی بالا دستی کے لیے اس جدوجہد کی حمایت کی، اس کا دفاع کیا اور آواز بلند کی۔ جھوٹ، فریب اور الزامات کی سیاست آج دفن ہوگئی۔ پاکستان کے عوام جیت گئے۔ اللہ تعالی پاکستان پر رحم فرمائے۔ آمین‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, فیصلہ آئین کی فتح، اب انتخابی اصلاحات کے بعد شفاف انتخابات کی طرف بڑھیں گے: بلاول بھٹو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا عدالتی فیصلے پر رد عمل میں کہا کہ اس فیصلے سے ’پاکستان کی جمہوریت، اداروں اور آئین کا تحفظ ہوا ہے۔‘
ان کا میڈیا سے بات چیت میں کہنا تھا کہ ’2018 کے انتخابات کی وجہ سے جو ادارے متنازع ہو چکے تھے، آج کے فیصلے سے 2018 کے داغ دھل چکے ہیں۔ اب عدم اعتماد کا عمل مکمل ہو گا۔ ہم انتخابی اصلاحات کروا کر انتخابات کی طرف بڑھیں گے۔‘
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا آج پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ حزب اختلاف کا مقصد کامیاب ہو چکا ہے۔ آگے چل کر ہم پاکستان کی عوام کی امیدوں پر پورا اتریں گے۔
بلاول بھٹو زرداری ’جمہوریت ہی بہترین بدلہ ہے۔‘
بلاول بھٹو زرداری نے اپنے حامیوں کو جمہوریت کی جیت کا جشن منانے کی دعوت دی۔ انھوں نے پارٹی کے رہنماؤں کو غریبوں کو افطاری کی دعوت دینے کی ہدایت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ فیصلہ اپورزیشن کے نہیں آئین کے حق میں ہوا ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں یہ فیصلہ سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا۔‘
’پاکستان کی تاریخ میں آج تک کسی وزیر اعظم کو جموہری طریقہ سے گھر بھیجا ہو۔ ہم ہمیشہ جمہوری راستہ اپنائیں گے اور اس طریقے سے غیر جمہوری ’سلیکٹڈ شخص کو بھی ہٹا سکتےہیں۔‘
برطانیہ کے بجائے امریکہ کی غلامی میں جا رہے ہیں: شہباز گل
سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کا کہنا ہے کہ ہمارے بزرگوں نے 1947 میں اپنی گردنیں کٹوا کر واہگہ بارڈر ایک آزاد ملک میں رہنے کے لیے کراس کیا تھا۔ ہمارے بزرگوں کو شاید یہ پتہ نہیں تھا کہ برطانیہ کی بجائے امریکہ کی غلامی میں جا رہے ہیں۔
لگتا ہے اب 1947 کی صورتحال میں واپس پہنچ گئے ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
وفاقی حکومت عدم اعتماد، نئے وزیرِ اعظم کی ووٹنگ میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی
عدالتی فیصلے کے پیراگراف 12 میں حکم دیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کسی بھی رکنِ قومی اسمبلی کو عدم اعتماد کی تحریک میں ووٹ ڈالنے سے کسی بھی انداز میں نہیں روکے گی نہ مداخلت کرے گی۔
عدالت نے کہا ہے کہ یہ حکم نامہ وزیرِ اعظم کے انتخاب کے لیے مؤثر ہے (اگر وزیرِ اعظم کے انتخاب کی ضرورت پڑتی ہے)۔
تاہم عدالت نے کہا ہے کہ اس مختصر فیصلے سے آئین کی شق 63 اے کے تحت ہونے والی کارروائی متاثر نہیں ہو گی۔
منحرف میں نہیں بلکہ عمران خان منحرف وزیراعظم تھے: ڈاکٹر رمیش کمار
سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق ممبر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی کے منحرف رکن ڈاکٹر رمیش کمار
وانکوانی کا کہنا ہے کہ ’وقت نے ثابت کردیا کہ منحرف میں نہیں بلکہ عمران خان منحرف
وزیراعظم تھے جنہوں نے اپنے انتخابی منشور سے انحراف کیا۔‘
ان کا مزید
کہنا تھا کہ ’آج سپریم کورٹ نے حق و سچائی کا بول بالا کردیا، آج اعلیٰ عدلیہ نے ایک نئی تاریخ رقم کردی، آج کا
دن آئین کی بالادستی کا دن ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آج عالمی برادری کی نظر میں پاکستان
ایک حقیقی جمہوری ملک بن کر سامنے آیا‘ آج بادشاہت پر یقین رکھنے والوں کو شکست فاش
ہوئی۔‘
ڈاکٹر رمیش کمار
کا کہنا تھا کہ ’ میں نے عمران خان کو اپنے وعدے یاد دلانے کی بہت کوشش کی، عمران خان کو خوشامدی مشیران کے غلط مشوروں نے یہ دن دکھایا۔‘ ’
ان کا مزید
کہنا تھا کہ ’تجربہ کار سمجھدار سیاسی قیادت ملک و قوم کی بہتری کا
باعث بنے گی۔‘
شہباز شریف: عدالت نے نظریہ ضرورت کو دفن کر دیا ہے
نو اپریل کے لیے حکمتِ عملی کیا ہو گی قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ عدالت نے ایسا فیصلہ دیا ہے جس نے ماضی کے تمام نظریہ ضرورت کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ تاریخ میں ہمیشہ نہ صرف یاد رکھا جائے گا بلکہ ایک نئی عدالتی تاریخ رقم کی گئی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ وہ عدالتِ عظمیٰ کے نہایت شکر گزار ہیں کیونکہ اُنھوں نے غیر آئینی ہتھکنڈوں کے خاتمے کا فیصلہ کیا ہے۔
جب اُن سے سوال پوچھا گیا کہ حکومت میں آنے کے بعد وہ جلدی الیکشن کروانا چاہیں گے یا اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی؟
اس پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’میں نے اپنی پارٹی کی پوزیشن بہت واضح رکھی ہے کہ ہم اس حق میں ہیں کہ ضروری اصلاحات کے بعد کوشش کرنی چاہیے کہ آزاد اور منصفانہ انتخابات کروائیں۔‘
اُنھوں نے کہا کہ پیشگی شرط انتخابی اصلاحات ہیں۔،یہ مراحل طے کرنے کے بعد فوری طور پر اس کی طرف رجوع کریں گے۔
سپریم کورٹ نے دل جیت لیے ہیں: حمزہ شہباز
سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے پر پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کو مبارک ہو آئین و قانون کی فتح ہو گئی ہے۔‘
اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا ’یہ تاریخی دن ہے، آج آئین کی سر بلندی کا دن ہے۔ آئین کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کو شکست فاش ہو گئی ہے۔‘
’سپریم کورٹ نے ہر جمہوریت پسند اور آئین کی بالادستی کا خواب دیکھنے والوں کے دل جیت لیے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جیسے قومی اسمبلی بحال ہوئی ویسے ہی پنجاب اسمبلی میں بھی آئین کے ساتھ کھیلنے والوں کو منہ کی کھانا پڑے گی۔‘
فیصلے نے پاکستان میں سیاسی بحران میں بہت اضافہ کر دیا: فواد چوہدری
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے رد عمل میں کہا ہے کہ اس سے پاکستان کے سیاسی بحران میں اضافہ ہوگا۔
ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’ اس بد قسمت فیصلے نے پاکستان میں سیاسی بحران میں بہت اضافہ کر دیا ہے فوری الیکشن ملک میں استحکام لا سکتا تھا بدقسمتی سے عوام کی اہمیت کو نظر انداز کیا گیا ہے ابھی دیکھتے ہیں معاملہ آگے کیسے بڑھتا ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بہتر ہو گا کہ عمران خان اب اپوزیشن میں بیٹھیں: اعتزاز احسن
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ عدالت کے لیے یہ سیدھا معاملہ تھا۔
ایک نجی ٹیلی وژن سے بات کرتے ہوئے اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ ’اب حکومت کے پاس بچنے کا کوئی امکان نہیں۔‘
’بہتر ہو گا کہ وہ اب اپوزیشن میں بیٹھیں۔ ذمہ داریاں دوسرے فریق کے کندھوں پہ ڈال دیں۔ یہ ان کے لیے بہتر ہوگا۔‘
فرخ حبیب: فیصلے میں کہیں نہیں لکھا کہ خط نہیں آیا تھا
پی ٹی آئی کے وزیرِ مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے پر غور کر رہے ہیں اور اس حوالے سے پی ٹی آئی کا اجلاس بھی طلب ہو گیا ہے۔
اے آر وائے نیوز کے پروگرام میں اُنھوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ نکتہ نظر اب بھی موجود ہے ڈپٹی سپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے اپنا ذہن استعمال کیا۔
فرخ حبیب نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں کہیں نہیں کہا گیا کہ خط موجود نہیں ہے۔ اُنھوں نے عمران حکومت کے خاتمے کی غیر ملکی سازش ہونے کے سرکاری مؤقف پر اصرار کیا۔
اُنھوں نے کہا کہ اسی تناظر میں ہم آج بھی بہت سے فیصلے لے سکتے ہیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کا مطلب کیا ہے اور اب آگے کیا ہو گا؟
ڈپٹی سپیکر کی رولنگ غیرآئینی قرار، قومی اسمبلی بحال
عمران خان جلد نئی حکمتِ عملی کا اعلان کریں گے، فیصل جاوید خان
پی ٹی آئی رہنما فیصل جاوید خان نے کہا ہے کہ عمران خان اپنی قوم کے لیے ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔
اُنھوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ جلد ہی عمران خان اپنی اگلی حکمتِ عملی کا اعلان کریں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
’جمہوریت بہترین انتقام ہے‘
بلاول بھٹو زرداری نے عدالتی فیصلے کے بعد ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
شہباز شریف: عدالتی فیصلے سے آئین اور پاکستان بچ گئے ہیں
شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے باہر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ایسا فیصلہ دیا ہے جس سے نہ صرف پاکستان کا آئین بچ گیا ہے بلکہ پاکستان بچ گیا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ عدالت نے یہ فیصلہ دے کر اپنا وقار اور اپنی آزادی کو چار چاند لگائے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہم متفقہ فیصلہ پر شکرگزار ہیں کہ عدالت نے پارلیمان کی خود مختاری کو مضبوط کیا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ عدالت نے آئین کے تقدس کو بحال کیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان: کل یومِ احتجاج نہیں یومِ تشکر ہو گا
سپریم کورٹ کے باہر گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
اُنھوں نے کہا کہ یہ پوری قوم اور آئین و جمہوریت کی فتح ہے۔
عدلیہ کے حوالے سے بھی ہم سمجھتے ہیں کہ اُنھوں نے قوم کی اُمیدوں پر پورا اترتے ہوئے اطمینان بخش فیصلہ دیا اور جب جمعے کو یومِ احتجاج نہیں یومِ تشکر ہو گا۔
بریکنگ, عدم اعتماد پر ووٹنگ کروائی جائے: سپریم کورٹ
قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں کے 5 رکنی لاجر بینچ نے فیصلہ سنا دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں سپیکر کو نو اپریل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کا حکم بھی سنایا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق تحریک عدم اعتماد مسترد کیے جانے کو آئیںن سے متصادم قرار دیا اور ساتھ ہی قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا فیصلہ بھی غیر آئینی قرار دیا ہے۔
عدالت کے مطابق وزیر اعظم صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا مشورہ نہیں دے سکتے تھے۔
بریکنگ, سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کو بحال کرنے کا فیصلہ سنایا ہے
پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاکستان کی قومی اسمبلی کو بحال کر کے اسمبلی کا اجلاس نو اپریل بروز ہفتہ طلب کر لیا ہے۔
اسمبلی بحال ہونے کے بعد تمام وزرا کو اپنے عہدوں پر بحال کر دیا گیا ہے۔
بریکنگ, ڈپٹی سپیکر کی رولنگ آئین سے متصادم قرار
سپریم کورٹ نے سپیکر کی رولنگ کو آئین سے متصادم قرار دیا ہے۔ اسمبلی کی تحلیل غیر آئینی قرار دے دیا گیا ہے۔ صدر کا اس حوالے سے جاری کیا گیا حکم منسوخ کر دیا گیا ہے۔