’امپورٹڈ حکومت کسی صورت قبول نہیں‘، عمران خان کی ملک گیر پرامن احتجاج کی کال
پاکستان کے وزیر عظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور وہ کسی امپورٹٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گےاور انھوں نے عوام سے سے کہا ہے کہ وہ اتوار کی شب ملک بھر میں پر امن احتجاج کریں۔
لائیو کوریج
بریکنگ, اب اپوزیشن حکومت بحال کرانا چاہتی ہے: عمران خان
عمران خان نے کہا ہے کہ کئی لوگ سوچ رہے ہیں ملک کو بڑا خطرہ ہے۔ ’ہم نے فیصلہ کیا الیکشن کروانے کا، اسمبلی تحلیل کر دی۔‘
سرکاری چینل پی ٹی وی پر خصوصی نشریات کے دوران انھوں نے کہا کہ ’تین سال سے اپوزیشن کہتی تھی حکومت نااہل ہے، ملک تباہ کر دیا۔ بار بار کہہ رہے تھے کہ وزیر اعظم استعفیٰ دے، الیکشن کرائے۔ سوال اب یہ ہے کہ یہ سپریم کورٹ کیوں چلے گئے۔ اپوزیشن یہی تو چاہتی تھی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’جب ہم نے الیکشن کا اعلان کر دیا تو یہ سپریم کورٹ کیوں چلے گئے۔ اب یہ چاہتے ہیں حکومت بحال ہو۔‘
’قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے منٹس طلب کیے جاسکتے ہیں‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلہ کرنا چیف جسٹس کا اختیار ہے اور اپوزیشن کو اعلیٰ عدلیہ پر اعتماد کرنا چاہیے۔
وہ کہتے ہیں کہ اپوزیشن کی فل کورٹ کی استدعا کو مسترد کر دیا ہے۔
قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے منٹس کب پبلک ہوں گے، اس سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا اگر عدالت نے طلب کیے تو پیش کر دیں گے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی بنیاد پر یہ سب ہوا۔ اس کمیٹی کی اپنی اہمیت ہے۔ اس میں سروسز چیف ہوتے ہیں اور سکیورٹی ایجنسیوں کے سربراہان ہوتے ہیں۔۔۔ اس میں قومی مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘
پاکستان میں سیاسی و آئینی بحران: سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں قومی اسمبلی کے تحلیل کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی و آئینی بحران کا ملکی سٹاک مارکیٹ پر شدید منفی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ہفتے کے پہلے کاروباری روز یعنی سوموار کو سٹاک مارکیٹ میں 1100 سے زائد پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی ہے۔
مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان کاروبار کے آغاز سے نظر آیا اور کاروبار کے دروان سٹاک مارکیٹ 1300 پوائنٹس تک گر گئی، تاہم اس کے بعد تھوڑی دیر کے لیے اس صورتحال میں بہتری نظر آئی مگر پھر مارکیٹ میں منفی رجحان کی وجہ سے کاروبار کے بند ہونے پر انڈیکس 1100 پوائنٹس کمی کے ساتھ بند ہوا۔
سٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق منفی رجحان کی وجہ سے سرمایہ کاروں کی جانب سے گھبراہٹ میں کی جانے والی فروخت تھی اور اس گھبراہٹ کی بنیادی وجہ ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال ہے۔
تجزیہ کار شہریار بٹ کے مطابق شدید مندی کی ایک اور وجہ عالمی و ملکی میڈیا میں سیاسی بحران کے باعث شائع ہونے والی منفی خبریں ہیں جس کا سٹاک مارکیٹ پر منفی اثر پڑا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی فروخت کا رجحان غالب نظر آیا۔
’کیا قومی سلامتی کونسل کے اجلاس نے 197 ارکان کو غدار قرار دیا تھا؟‘, بلاول بھٹو کا ڈی جی آئی ایس پی آر سے سوال
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پاکستانی فوج کے ترجمان (ڈی جی آئی ایس پی آر) سے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے حوالے سے وضاحت طلب کی ہے۔
انھوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے پوچھا ہے کہ ’کیا قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں قومی اسمبلی کے 197 اراکین کو بیرونی سازش کا حصہ قرار دے کر غدار قرار دیا گیا ہے؟‘
ٹوئٹر پر وہ کہتے ہیں کہ ’سابق وزیراعظم عمران خان اپنی بغاوت کو جواز دینے کے لیے بیرونی سازش کا واویلا کررہے ہیں۔ دفتر خارجہ یا وزارت دفاع سات سے 27 مارچ کے درمیان بیرونی سازش کے حوالے سے سرکاری مراسلات کو سامنے لاسکتے ہیں؟‘
وہ کہتے ہیں کہ ’یقیناً اس سطح کی سازش کو بجائے سفارتی مراسلے کے ہماری اپنی انٹیلجنس ایجنسیوں کے ذریعے بے نقاب ہونا چاہیے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, ’ہم اسمبلی کی کارروائی پر سماعت کر رہے ہیں‘
سپریم کورٹ میں از خود نوٹس کیس کی سماعت سے متعلق اپ ڈیٹس۔۔۔
سماعت کے آغاز پر وکیل تحریک انصاف بابر اعوان نے کہا عمران خان نے اجازت دی ہے کہ جلد از جلد الیکشن کرائے جائیں۔ انھوں نے استدعا کی کہ اس کیس کو صدارتی ریفرنس کے ساتھ سنا جائے۔
چیف جسٹس نے جواب میں ریمارکس دیے ’سیاسی باتیں نہ کریں۔‘
وکیل فاروق ایچ نائیک کی فل کورٹ بینچ بنانے کی استدعا پر چیف جسٹس نے پوچھا کون سے آئینی سوالات پر فل کورٹ بینچ بنانے کا کہا جا رہا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ہم گذشتہ روز اسمبلی کی کارروائی پر سماعت کر رہے ہیں۔ آج کوئی مناسب حکم جاری کریں گے۔‘
’تقرر و تبادلے کے لیے ہمیشہ میرٹ کو مدنظر رکھا گیا، الزامات میں کوئی صداقت نہیں‘
،تصویر کا ذریعہPunjab Govt
ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب آفس نے سابق گورنر چوہدری محمد سرور کی جانب سے وزیر اعلی عثمان بزدار پر عائد کردہ الزامات کی تردید کی ہے۔
ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں۔ ’پنجاب میں تقرر و تبادلے کے حوالے سے ہمیشہ میرٹ کو مدنظر رکھا گیا ہے۔‘
’گورنر پنجاب کے اعلیٰ منصب پر فائز رہنے والے شخص کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں۔ چوہدری محمد سرور کے بے بنیاد الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ چوہدری محمد سرور اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے درمیان ہمیشہ عزت و احترام کا رشتہ رہا۔‘
خیال رہے کہ سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور نے اپنی برطرفی کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ صوبے میں تقرر و تبادلے کے لیے پیسے لیے جا رہے تھے۔
بریکنگ, سپریم کورٹ میں از خود نوٹس کیس کی سماعت شروع
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ میں تحریک عدم اعتماد اور سپیکر کی رولنگ سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت شروع ہوگئی ہے۔
کیس کی سماعت کرنے والے پانچ رکنی لارجر بینچ کی سربراہی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کر رہے ہیں جبکہ اس بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہیں۔
’ریفرنس کے بعد مستعفی ہونے کا ارادہ تھا‘
اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ وہ ریفرنس کے بعد مستعفی ہونے کا ارادہ رکھتے تھے تاہم ’موجودہ حالات میں استعفے کا مطلب میدان چھوڑنے کے مترادف تھا۔‘
جسٹس مقبول باقر کے لیے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا کہ آج کل سیاسی مخالفین کے خلاف آرٹیکل 6 کو آسانی سے استعمال کیا جاتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’
آرٹیکل 6 کو سمجھنے کے لیے 2007 کے واقعے کو ذہن نشین کرنا ہوگا۔ آئین کے آرٹیکلز کا مقصد کسی کی ملک سے وفاداری جانچنے کے لیے نہیں ہے۔‘
عمران خان نگران حکومت آنے تک بطور وزیراعظم کیا کیا کر سکتے ہیں؟
سعد رفیق: اسمبلی بحال کی جائے، ہر بات کا فیصلہ الیکشن سے پہلے ہوگا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
رہنما مسلم لیگ ن خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ سب سے پہلے اسمبلی توڑنے کا غیر آئینی عمل ختم ہو اور اسمبلی بحال کی جائے، اس کے بعد انتخابات کی طرف جائیں گے۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ نہ ہوا تو آپ ’کسی سول ڈکٹیٹر کو نکال نہیں سکیں گے۔‘
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’کل کا دن پاکستان کی تاریخ میں سیاہ روز کے طور پر یاد کیا جائے گا۔ عمران خان اور ان کے حواریوں نے قابل مذمت قدم اٹھایا۔ اقتدار بچانے کے لیے آئین سے کھلواڑ کی۔ مرکز میں بھی پنجاب میں بھی۔‘
’(مبینہ دھمکی آمیز) خط کا ڈرامہ رچا رہے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ خط عدالت عظمیٰ میں پیش کریں۔ عدم اعتماد کا تعلق عمران خان کی نالائقی اور لاقانونیت سے ہے۔ عمران خان نے اداروں کو ذاتی سیاست اور انتقام کے لیے استعمال کیا۔ سفیر اسد کو عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے۔‘
انھوں نے زور دیا کہ ’ہر بات کا فیصلہ الیکشن سے پہلے ہوگا۔ عمران خان اور عارف علوی قوم کے مجرم ہیں۔‘
بریکنگ, شہباز شریف کی ضمانت منسوخی کی درخواست خارج
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایف آئی اے نے شوگر ملز کیس میں رہنما مسلم لیگ ن شہباز شریف کی ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کی تھی۔ تاہم اسے لاہور کی سپیشل سینٹرل عدالت کی جانب سے خارج کر دیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران وکیل ایف آئی اے نے استدعا کی کہ شہباز شریف عبوری ضمانت پر ہیں ان کا ہر صورت عدالت میں پیش ہونا ضروری ہے۔
جج سپیشل کورٹ سینٹرل نے ریمارکس دیے کہ عدالت اپنے حکم پر کیسے نظر ثانی کر سکتی ہے۔ وکیل ایف آئی اے نے استدعا کی کہ ’اعلی عدالتوں کی دو نظیریں پیش کی ہیں جس کے مطابق عدالت کے پاس اختیار ہے۔‘
عدالت نے اپنے فیصلے میں شہباز شریف کی ضمانت منسوخی کی ایف آئی اے کی درخواست مسترد کر دی۔
اس فیصلے میں کہا گیا کہ دائرہ اختیار سے متعلق ملزمان کی درخواست بھی خارج کر دی ہے۔
شہباز شریف، حمزہ شہباز اور دیگر ملزمان کو 11 اپریل کو فرد جرم کے لیے طلب کیا گیا ہے۔
بریکنگ, ’ہم نے نگراں وزیر اعظم کے لیے اپنے دو نام بھجوا دیے ہیں‘
سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ان کی طرف سے نگراں وزیر اعظم کے لیے دو نام بھیج دیے گئے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اپوزیشن نے آج سپریم کورٹ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔‘
’بینچ پر مسلسل تنقیدی حملے ہو رہے ہیں۔ کہہ رہے ہیں ہم احتجاج کی کال دیں گے۔ آپ کو بھاگنے کا راستہ نہیں ملے گا اگر عمران خان نے یہ کال دی۔‘
فواد چوہدری کے مطابق ’عوام الیکشن کے لیے تیار ہیں۔ آئندہ 90 دن کے اندر اندر الیکشن ہونے ہیں۔‘
فیصل جاوید: اپوزیشن الیکشن سے بھاگ رہی ہے
،تصویر کا ذریعہTWITTER
تحریک انصاف کے رہنما فیصل جاوید کہتے ہیں کہ اپوزیشن کی ’سازش‘ کی ناکامی کے بعد ان کی جماعت نے انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’ڈیڑھ سال سے الیکشن کی طرف جانے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ ہم نے کہا الیکشن کی طرف آئیں مگر اب بھاگ رہے ہیں۔‘
’تحریک انصاف نے آپ کی یہ خواہش بھی پوری کر دی ہے۔ یہ تینوں ایجنٹس سازش لے کر آئے جسے عمران خان نے ناکام کر دیا۔ ہم پوری تیاری کے لیے نکل پڑے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ الیکشن پاکستان کی تاریخ کا پہلا فری اینڈ فیئر الیکشن ہوگا۔ اس میں ای وی ایم مشینیں استعمال ہوں گی۔‘
’ہمارے اوورسیز پاکستانی باآسانی ووٹ کر سکیں۔ وہ جہاں جس ملک میں ہیں انٹرنیٹ کے ذریعے انٹرنیٹ ووٹنگ کر سکیں گے۔ بھرپور شمولیت کا موقع ملے گا۔‘
فیصل جاوید نے کہا کہ ’ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی خواہش تھی کہ ای وی ایم کو ختم کر سکیں۔ ان کی یہ سازش بھی ناکام ہوئی ہے۔‘
’یہ اس الیکشن سے بھاگ رہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے خاص طور پر نوجوانوں کو متحرک کرنے کے لیے مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ کچھ دن بعد عمران خان سابق وزیر اعظم بن جائیں گے۔ اور انتخابی مہم کا آغاز کر دیں گے۔‘
انھوں نے آخر میں کہا کہ ’اب پی ٹی آئی اوریجنل بننے جا رہی ہے جس میں نظریاتی کارکنان کو اہمیت دی جائے گی۔‘
بریکنگ, شہباز شریف کا نگراں وزیر اعظم کے لیے مشاورت کا حصہ بننے سے انکار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
مسلم لیگ ن کے رہنما شہباز شریف نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی نظریں سپریم کورٹ پر ہیں جبکہ وہ بطور قائد حزب اختلاف نگراں وزیر اعظم کے لیے مشاورت کا حصہ نہیں بنیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’ایسا تب تک نہیں ہوگا جب تک آئین توڑنے والے کو سزا نہ مل جائے۔‘
اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں نے متفقہ طور پر کہا ہے کہ وہ نگراں حکومت کے قیام میں حصہ نہیں لیں گے۔
جے یو آئی ف کے رہنما اسد محمود نے کہا کہ اپوزیشن کو نگراں حکومت قبول نہیں ہوگی۔ ’ہمیں اپنا آئین واپس چاہیے۔ الیکشن کی طرف جانا چاہتے ہیں لیکن اصلاحات کے ساتھ۔ آئین کے دفاع کے لیے یہاں جمع ہیں۔ مزید قربانیوں کے تیار ہیں، کسی کی ڈکٹیشن نہیں لیں گے۔‘
اس موقع پر بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’انتخابی اصلاحات کے بعد صاف اور شفاف الیکشن میں جانا چاہتے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اگر آئینی، جمہوری اور قانونی طریقہ نہ اپنایا گیا تو عوام پر اثرات سب کو برداشت نہیں ہوگا۔‘
’ہم تین سال سے لڑ لڑ کر کہہ رہے ہیں کہ ہمیں آئینی، جمہوری اور قانونی الیکشن چاہیے تاکہ کل کوئی دھاندلی کا الزام نہ لائے۔‘
’کل ہم نے آپ کی حکومت چھین لی‘
،تصویر کا ذریعہPID
رہنما ایم کیو ایم اور عمران خان کی حکومت کے سابقہ وزیر خالد مقبول صدیقی کہتے ہیں کہ ’سابق وزیر اعظم عمران خان‘ نے شکست سے بچنے کے لیے ’سیاسی خودکشی کر لی ہے۔‘
اسلام آباد میں میڈیا ٹاک کے دوران انھوں نے کہا کہ ’میں نے پہلے بھی عالمی سازش کے حوالے سے عدالتی کمیشن کا مطالبہ کیا تھا۔ اگر ثابت ہوجائے تو میں بھی عمران خان کے ساتھ کھڑا ہو جاؤں گا۔‘
وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’جو کچھ کل ہوا اس نے آپ کی حکومت کو ختم کر دیا۔ اب اگر یہ لڑائی اور آپ کا بیانیہ سڑکوں پر آیا تو باقی لوگ بھی اپنے نئے بیانیے کے ساتھ سڑکوں پر آئیں گے۔‘
خالد مقبول صدیقی نے عمران خان کو مخاطب کر کے کہا کہ ’آپ نے پچھلے الیکشن میں ہم سے 14 سیٹیں چھینی تھیں۔ ہم نے کل آپ کی حکومت چھین لی ہے۔‘
’یہ ملک کے ساتھ بے وفائی ہے۔ آپ کو ثابت کرنا ہے کہ آپ کے خلاف عالمی سازش ہو رہی ہے۔ اگر جھوٹ ثابت ہوا تو سیاسی قوتوں اور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ عدالتی طور پر عمران خان کے مستقبل کا فیصلہ ہو۔‘
بریکنگ, نگراں وزیر اعظم کی تعیناتی کے لیے صدر نے عمران خان، شہباز شریف کو خط لکھ دیا
،تصویر کا ذریعہPresident of Pakistan
صدر مملکت عارف علوی نے وزیر اعظم عمران خان اور سابقہ قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو نگراں وزیر اعظم کی تعیناتی کے لیے خط لکھ دیا ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ نگراں وزیر اعظم کی تعیناتی وزیر اعظم عمران خان اور شہباز شریف کی مشاورت سے ہوگی۔ تاہم اگر کسی ایک نام پر اتفاق نہیں ہو پاتا تو اس کام کے لیے قائم کردہ کمیٹی کو وہ دو، دو نام تجویز کریں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
’عدالت اور عوام فیصلہ کریں عمران خان کی انا زیادہ اہم ہے یا آئین‘, بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے گذشتہ روز قومی اسمبلی میں آئین توڑا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’عدالت اور پاکستان کے عوام فیصلہ کریں کہ عمران خان کی انا زیادہ اہم ہے یا آئین۔‘
اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اس ملک میں وزیر اعظم کو کرسی سے ہٹانے کا ایک ہی جمہوری اور آئینی طریقہ ہے اور وہ عدم اعتماد کا طریقہ کار ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم نے اپنی انا کی وجہ سے آئین توڑ کر عدم اعتماد کو سبوتاژ کیا۔ ’انھیں اندازہ نہیں کہ ہوا کیا ہے۔
’آئین کا دفاع کرنا صرف پیپلز پارٹی کا مسئلہ نہیں۔ یہ سب پاکستانیوں کی ذمہ داری ہے۔‘
انھوں نے تسلیم کیا کہ ’پیپلز پارٹی کے بعض کارکن جشن منا رہے ہیں کہ عمران خان کی حکومت ختم ہوچکی ہے۔ تین سال کی جدوجہد میں ہم کامیاب ہیں۔ مگر ہم اس بات پر خوش نہیں کہ کوئی غیر آئینی کام کیا جائے۔
’یہ ایسا ہے جیسے عمران خان اور ان کی حکومت ہماری بندوق کی نوک پر تھی لیکن ہمارے دباؤ، جدوجہد اور اتحاد کی وجہ سے اس نے خود بندوق اٹھا کر اپنی حکومت کی خودکشی کر لی۔‘
بلاول نے کہا کہ ’یہ ایسے تالیاں بجا رہے ہیں۔ جب میں نے پہلے اسے وزیر اعظم سلیکٹڈ کہا تھا تب بھی یہ جشن منا رہے تھے۔‘
انھوں نے اپنے موقف میں کہا کہ ’عدم اعتماد جمع ہونے اور ووٹ ہونے سے پہلے اگر خود استعفی دیتا تو آئینی طریقے سے یہ شروع ہوسکتا تھا۔ آپ سب نے دیکھا کل 196 ووٹ عدم اعتماد کے حق میں تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آئین توڑ کر عمران خان کی انا کو سنبھالا گیا۔ اعلیٰ عدلیہ سے امید ہے عمران خان کے مارشل لا کو روکیں۔۔۔ عدم اعتماد کا عمل بحال ہونا چاہیے۔‘
مگر آخر میں وہ کہتے ہیں کہ ’باقی ہم سب خوش ہیں کہ عمران خان کی حکومت اب ختم ہوچکی ہے۔‘
بریکنگ, عمران خان نے 3 اپریل کو سویلین مارشل لا نافذ کیا: شہباز شریف
اپوزیشن رہنما شہباز شریف نے وزیر اعظم عمران خان پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے ملک میں 3 اپریل کو سویلین مارشل لا نافذ کیا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ جنرل مشرف نے بھی یہی غیر آئینی حرکت کی تھی اور عمران خان کا اقدام واضح آئین شکنی اور خلاف ورزی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’24 مارچ کو سپیکر نے ایوان کی مرضی کے مطابق عدم اعتماد کی تحریک کو لیو گرانٹ کی۔ اگر کوئی اعتراض تھا تو اس تحریک کو لیو گرانٹ کیوں کی۔ اسمبلی کا ایک نظام ہے۔ سپیکر ضوابط کے مطابق پھر کسی ایجنڈا کو ٹیبل کرتا ہے۔ ورنہ اپنے کمرے میں مسترد کر دیتا ہے۔‘
’اگر آرٹیکل 5 کے ذمرے میں کوئی چیز آرہی تھی تو اسے لیو کیوں گرانٹ کی گئی۔ اس کے بعد کسی بھی قسم کا ردوبدل ممکن نہیں تھا۔ کل ووٹنگ کسی بھی صورت ہونا تھی۔‘
شہباز شریف مزید کہتے ہیں کہ ’عمران نیازی کی بدنیتی اور آئین شکنی غالب آگئی اور ڈپٹی سپیکر کو آلہ کار بنایا۔ کل جب ہاؤس میں بیٹھے تو تلاوت کے بعد ایک وزیر فواد چوہدری کو بولنے کا موقع دیا اور پہلے سے لکھی ہوئی رولنگ دی۔ وہ اٹھنے کے لیے تیار تھے۔ کل آئین شکنی کی گئی۔‘
ان کے مطابق ’اگر اعتراض تھا تو 24 مارچ کو کیوں نہ اٹھایا گیا۔۔۔ ماروائے آئین اقدام تو عمران خان اٹھا چکے ہیں۔‘
سپریم کورٹ میں سپیکر رولنگ از خود نوٹس کیس کی سماعت 1 بجے متوقع
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ میں سپیکر رولنگ اور اسمبلی تحلیل ہونے سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت آج دوپہر 1 بجے متوقع ہے۔
سپلیمنٹری کاز لسٹ کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان نے کیس کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا ہے۔
پانچ رکنی لارجر بینچ کی سربراہی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کر رہے ہیں جبکہ اس بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہیں۔
گذشتہ روز سپریم کورٹ نے ’موجودہ سیاسی صورتحال‘ کے حوالے سے از خود نوٹس لیا تھا جس میں ’ملک کی آئینی صورتحال سے متعلق تشویش‘ ظاہر کی گئی۔
سپریم کورٹ نے کہا تھا سیاسی جماعتیں پُرامن رہیں اور کوئی بھی ماورائے آئین اقدام نہ اٹھایا جائے۔
پنجاب میں تحریک عدم اعتماد پر مشاورت کے لیے عثمان بزدار اسلام آباد طلب
،تصویر کا ذریعہPTI
وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور تحریک انصاف کے رہنما میاں محمود الرشید کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد طلب کر لیا ہے۔
نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق عثمان بزدار اور میاں محمود الرشید وزیراعظم کو پنجاب میں تحریک عدم اعتماد کی صورتحال سے آگاہ کریں گے۔
اس ملاقات میں پنجاب میں عدم اعتماد کی صورت میں نمبر گیم اور دیگر آپشنز پر بھی گفتگو ہوگی۔ دونوں رہنما اسلام آباد روانگی سے قبل مشاورت بھی کریں گے۔
ادھر الوداعی تقریب کے دوران عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ وہ ’وزیر اعظم عمران خان نے جو بھی فیصلہ کیا اس کی تائید اور حمایت کرتے ہیں۔‘
وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’میرے دور میں کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔‘