’امپورٹڈ حکومت کسی صورت قبول نہیں‘، عمران خان کی ملک گیر پرامن احتجاج کی کال
پاکستان کے وزیر عظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور وہ کسی امپورٹٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گےاور انھوں نے عوام سے سے کہا ہے کہ وہ اتوار کی شب ملک بھر میں پر امن احتجاج کریں۔
لائیو کوریج
بریکنگ, آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ قرضہ پروگرام کو نئی حکومت سے مشروط کر دیا, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے ساتھ چھ ارب ڈالر مالیت کے پروگرام پر مزید پیش رفت کو نئی حکومت سے مشروط کر دیا ہے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق بین الاقوامی ادارہ پاکستان کے لیے اپنی معاونت جاری رکھے گا تاہم جب ملک میں ایک نئی حکومت تشکیل پائے گی۔
آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مائیکرو اکنامک استحکام کے لیے پاکستان کی معاونت جاری رہے گی۔
معاشی ماہر سمیع اللہ طارق نے اس سلسلے میں بتایا کہ آئی ایم ایف پروگرام معطل نہیں ہوا بلکہ نئی حکومت کی تشکیل کے بعد مذاکرات ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ یہ مذاکرات عبوری حکومت کے ساتھ بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ نیا پروگرام نہیں بلکہ موجودہ پروگرام پر ہی مذکرات ہوں گے۔
خیال رہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے اب تک چھ ارب ڈالر میں سے تین ارب ڈالر وصول کیے ہیں۔
علیم خان صاحب، عمران خان سے نیب تحقیقات سے آپ کو بچانے کی توقع لگانا آپ کی غلطی تھی: حماد اظہر
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما حماد اظہر کا کہنا ہے کہ ’عمران خان کی خصوصیت ہے کے اگر ان کا کوئی ساتھی بھی غلط کام کرے تو وہ اُسے تحفظ نہیں دیتے۔
’علیم خان صاحب، عمران خان سے آپ کو یہ توقع لگانا کے وہ نیب تحقیقات سے آپ کو بچاتے آپ کی غلطی تھی۔ اسی طرح عمران خان کسی کو کاروباری یا زمین کے معاملے میں قانون سے ہٹ کے فائدہ نہیں پہنچاتے۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ناراض رہنما علیم خان کی آج کی پریس کانفرنس پر خاصی بحث جاری ہے جس میں انھوں نے عمران خان اور تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’علیم خان صاحب کی پریس کانفرنس پر سخت افسوس ہوا، جب آپ کسی کے قریب رہے ہوں اور اختلافات ہو جائیں تو گفتگو میں تہمتیں آپ کی اپنی عزت کم کرتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آپ کے تمام گلے دوسرے سال کے ہیں جب حکومت تھی، اس وقت بات ہوتی تو کوئی وزن بھی تھا۔‘
اس ملک میں جس کے پاس کرسی ہو گی وہی قانون اور آئین ہو گا: خواجہ آصف
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’اگر اس طرح عدم اعتماد کی تحاریک غیر آئینی طریقہ سے قومی اسمبلی میں اقلیتی پارٹی سپیکر کی کرسی استعمال کر کے مسترد کرتی رہی تو وزیراعظم دور کی بات ہے یونین کونسل یا بلدیہ کے چیئرمین کو ہٹانے کا آئینی اور قانونی آپشن ختم ہو جائے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس ملک میں جس کے پاس کرسی ہو گی وہی قانون اور آئین ہو گا۔‘
ٹوئٹر پر اصلی اور نقلی اعتزاز احسن کا معاملہ
خان صاحب میں امریکی سفیر سے آپ کے گھر ملا تھا، کیا آپ بھی غدار تھے: علیم خان
،تصویر کا ذریعہTwitter/@aleemkhan_pti
علیم خان نے امریکی سفیر سے ملاقات کی خبر کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’آج آپ میری تصویر لگا لگا کر کہتے ہیں کہ یہ امریکی سفیر کو مل رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’خان صاحب، میں امریکی سفیر سے آپ کے گھر ملا تھا، کیا آپ بھی غدار ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ میں تو کوریا، سعودی اور متحدہ عرب امارات کو بھی ملتا ہوں، کیا یہ سب بھی غدار ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب آپ اپوزیشن میں تھے تو آپ امریکی، یورپی یونین برطانیہ کے سفیروں کو نہیں ملتے تھے؟‘
علیم خان نے کہا کہ ’اس ملک پر رحم کریں، یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کرکٹ میچ تب تک کھیلیں گے جب تک آپ کی مرضی ہو۔‘
’پرویز الٰہی کو ہی ووٹ ڈالنا تھا تو اس جدوجہد کی کیا ضرورت تھی اور اب بھی ہم غدار ہیں؟‘, علیم خان کی پریس کانفرنس
،تصویر کا ذریعہGovt of Punjab
علیم خان نے کہا کہ ’عمران خان باہر نکلو، کرو میرا مقابلہ، بات کرتے ہو تم نئے پاکستان کی، یہ جو بزدار تم نے لگایا تھا، کیا میں نے تمھیں نہیں بتایا کہ بزدار یہاں کیا کر رہا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’یہاں تین تین کروڑ روپے میں ڈی سی لگتے تھے، یہاں کمشنر لگانے کا الگ ریٹ ہے، ایس پی لگانے کا الگ ریٹ ہے، کوئی تبادلہ نہیں ہوتا اگر چیف منسٹر سیکریٹریٹ میں پیسے نہ دیے جائیں۔‘
ان مزید کہنا تھا کہ ’کیا آپ کو یہ باتیں نہیں پتا، کیا ایجنسیاں آپ کو یہ رپورٹ نہیں دے رہی تھیں، فرح کا کیا کردار تھا یہاں پہ، کہاں پیسے جاتے تھے۔
قوم کو کیوں دھوکا دے رہے ہیں۔‘
علیم خان نے پرویز الٰہی کو وزیرِاعلیٰ کا امیدوار بنانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’پی ٹی آئی کے 183 ممبران ہیں، پی ٹی آئی کے پنجاب اسمبلی میں، آپ کو کوئی ایک اپنا ساتھی نظر نہیں، کوئی ایک شخص اس قابل نہیں آیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آپ نے صرف پانچ ووٹ لینے کے لیے پرویز الٰہی کو امیدوار بنایا جسے آپ پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتے تھے۔
’پرویز الٰہی کو ہی ووٹ ڈالنا تھا تو اس جدوجہد کی کیا ضرورت تھی؟ اور اب بھی ہم غدار ہیں؟‘
انھوں نے کہا کہ ’میرے پاس وہ فون پیغامات بھی موجود ہیں جن میں آپ کو میں عثمان بزدار کی بدعنوانی کی داستان سنا رہا تھا، اور آپ کے جواب بھی موجود ہیں جو قوم کے سامنے لے کر آؤں گا۔‘
بریکنگ, عمران خان سچے ہو تو سامنے آؤ، میرا سامنا کرو: علیم خان
،تصویر کا ذریعہGovt of Punjab
پنجاب سے پاکستان تحکریکِ انصاف کے ایم پی اے اور ایک عرصے تک عمران خان کے انتہائی قریب سمجھے جانے والے رہنما علیم خان نے آج لاہور میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
خیال رہے کہ علیم خان کی جانب سے ہم خیال ایم پی ایز پر مبنی ایک گروپ بھی بنایا گیا تھا، جس نے بعد میں اپوزیشن اتحاد کا ساتھ دینے کا اعلان کیا تھا۔
علیم نے آج میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈاکٹر یاسمین راشد کا الیکشن آیا تو جب فنڈ ریزنگ کی گئی تو جہانگیر ترین اور ہم نے اپنا حصہ ڈالا۔ ہم نے جتنے جلسے جتنے جلوس ہوئے ان میں عمران خان کا ساتھ دیا نئے پاکستان کے لیے۔
انھوں نے کہا کہ ’میں نے کسی پر احسان نہیں کیا، یہ میرا بھی اتنا ملک ہے جتنا کسی اور کا ہے۔ میں جس حد تک جا سکتا تھا میں گیا۔
انھوں نے کہا کہ آج جب میں لوگوں سے سنتا ہوں کہ علیم خان نے پی ٹی آئی کے ساتھ غداری کی، تو میں خان صاحب سے پوچھتا ہوں۔ جتنا ساتھ علیم خان نے دیا پی ٹی آئی کا عمران خان، کوئی میرے سے آدھی قربانی دینے والے کا نام لے کے دکھائیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’25 جولائی ایم پی اے بننے کے بعد 15 دنوں میں مجھے چار نوٹس مل گئے اور 15 دنوں میں چار بار نیب کے دفتر بلایا گیا۔
’ایسا میں نے کون سا کارنامہ کر دیا تھا کہ مجھے اتنی بار نیب کے دفتر بلایا گیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ جو لبادے اوڑھے ہوئے ہیں، میں سب کھولوں گا، سب بتاؤں گا اصل کیا ہے۔ جیسے ہی ٹی وی پر ٹکر چلتا تھا کہ عثمان بزدار کو ہٹایا جا رہا ہے، مجھے نیب کے دفتر بلا لیا جاتا۔‘
علیم خان نے سوال کیا کہ ’وہ کرپشن جو میں نے چھ ماہ میں کی تھی وہ قوم کے سامنے لے کر آئیں، اگر میرے خلاف اتنے ثبوت تھے تو میرے خلاف کیوں ریفرنس نہیں بنا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’عمران خان سچے ہو تو سامنے آؤ، میرا سامنا کرو، تم سچے ہوئے تو میں خود کو گولی ماروں گا، میں سچا ہوا تو آپ ہمت کرنا۔‘
پاکستان میں سیاسی و آئینی بحران: اب تک کیا ہوا ہے اور کیا ہو سکتا ہے؟
پاکستان میں آئے سیاسی بحران کے بارے میں ہم سب کے ذہن میں بہت سے سوالات ہیں، اس لائیو میں یہ جائزہ لیں گے کہ آب تک کیا ہوا اور آگے کیا ہو سکتا ہے؟
لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے تمام ممبران اپنی مرضی سے ایک جگہ ٹھہرے ہیں: عظمیٰ بخاری
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
مسلم لیگ (ن) پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے عمران خان کی جانب سے لاہور کے ایک ہوٹل میں خرید و فروخت کے الزام کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’مسلم لیگ (ن) کے تمام ممبران اپنی مرضی سے ایک جگہ پر ٹھہرے ہیں، تحریک انصاف کے غنڈے حسبِ عادت یہاں تماشا کرنے آ رہے ہیں۔ سرکاری خرچے اور سرکاری مشینری پر ان کو شہ دی جا رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سرکاری ملازمین کو متنبہ کرنا چاہتی ہوں کہ تحریک انصاف کی حکومت اب وفاق اور پنجاب میں ختم ہو چکی ہے۔ ان کے کسی احکامات کو نہیں ماننا اختیارات سے تجاوز اور غیر قانونی ہو گا۔‘
جسٹس گلزار احمد: سپریم کورٹ کے سربراہ ’جو کراچی سے باہر نہ نکل سکے‘
وزیر اعظم عمران خان نے سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کا نام نگران وزیر اعظم کے لیے تجویز کیا ہے۔
جسٹس گلزار احمد دو برس اور ایک ماہ تک پاکستان کی سپریم کورٹ کے 27ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے کام کرنے کے بعد یکم فروری 2022 کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہو گئے ہیں۔
چار دسمبر 2019 کو اس عہدے کا حلف اٹھانے والے جسٹس گلزار کے بطور چیف جسٹس آخری مہینے میں پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہوا جب انھوں نے سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج جسٹس عائشہ ملک سے حلف لیا۔
جسٹس گلزار احمد کے دور میں ایک اور اہم واقعہ سپریم کورٹ میں 10 سال کے وقفے کے بعد کسی وزیر اعظم کی طلبی کا بھی تھا جب انھوں نے وزیر اعظم عمران خان کو آرمی پبلک سکول پر ازخود نوٹس کیس میں ذاتی حیثیت میں طلب کیا۔
’بینچ میں موجود کسی جج کی قابلیت پر شک ہے تو ہم ابھی اٹھ جاتے ہیں‘, فُل کورٹ بنانے کی سفارش پر چیف جسٹس کا برہمی کا اظہار
پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے فُل کورٹ بنانے کی سفارش کی تو چیف جسٹس نے اس پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ’کیا اس بینچ میں موجود کسی جج کی قابلیت پر کوئی شک ہے تو ہم ابھی ہی اٹھ جاتے ہیں۔‘
جس کے بعد فاروق ایچ نائیک نے اس پر زور نہیں دیا۔
یقین دہانی کرواتے ہیں کہ چھ اپریل کو وزیر اعلٰی پنجاب کا انتخاب ہو گا: ایڈووکیٹ جنرل
عدالتی کارروائی کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن کے وکیل اعظم نذیر تارڑ کی درخواست پر ایڈووکیٹ جنرل نے یقین دہانی کروائی کہ چھ اپریل کو وزیر اعلی کا انتخاب ہو گا۔
اس پر عدالت نے انھیں اس بارے میں کل تحریری معروضات جمع کروائیں۔
بریکنگ, نگران وزیرِ اعظم کے لیے عمران خان نے سابق چیف جسٹس گلزار احمد کا نام تجویز کر دیا
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ’صدر مملکت کے خط کے جواب میں تحریک انصاف کور کمیٹی سے مشورے اور منظوری کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کا نام نگران وزیر اعظم کے لیے تجویز کیا ہے۔‘
رولنگ دینے سے پہلے اپوزیشن کا موقف نہیں سنا گیا: فاروق ایچ نائیک, سپریم کی آج کی سماعت کا احوال
فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’رولنگ دینے سے پہلے اپوزیشن کا موقف نہیں سنا گیا۔ تمام اپوزیشن ارکان کو غداری کا ملزم بنا دیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ ’محب وطن ہونے اور مذہب کے کارڈز سے ابھی تک جمہوریت باہر نہیں نکل سکی۔‘
اس پر جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ ’پارٹی سے انحراف کرنے والوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘
اس پر فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ ’منحرف ارکان کے حوالے سے بھی اپنا موقف دوں گا۔‘
کیا رولز میں خلاف ورزی پر سپیکر کو آئینی تحفظ حاصل ہے؟: جسٹس منیب اختر, سپریم کورٹ کی آج کی سماعت کا احوال
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا ہے کہ ’رولنگ کی 175 ارکین نے مذمت کی، بتائیں رولنگ غیرقانونی کیوں ہے؟‘
اس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ’سپیکر اور ڈپٹی سپیکر عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کا دن مقرر کرنے کے بعد مسترد کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آرٹیکل پچانوے کی شق چار بالکل واضح ہے۔‘
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’آپ کی دلیل ہے کہ اختیارات سے تجاوز کیا گیا۔
جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا رولز میں خلاف ورزی پر سپیکر کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔
فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ ووٹنگ کے عمل میں آئینی خلاف ورزی کی گئی۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر 20 فیصد اراکین بھی عدم اعتماد کی تحریک کے حق میں نہ ہوں تو پھر تحریک چیلنج کی جاسکتی ہے۔‘
فاروق ایچ نائیک کا مزید کہنا تھا کہ ’بعد میں عدم اعتماد کی تحریک جب جمع ہو جائے تو مسترد نہیں ہو سکتی۔ عدم اعتماد کی تحریک مسترد کرنا بد نیتی ہے۔‘
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ’ہم جانچنا چاہ رہے ہیں کہ سپیکر کو اختیار حاصل ہے یا نہیں۔‘
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’آرٹیکل 69 پر عدالتی دائرہ اختیار کیا ہے، غیر قانونی غیر آئینی اقدام اور بد نیتی سے متعلق عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیں۔‘
اس پر فاروق ایچ نائیک نے آرٹیکل 69 کے دائرہ اختیار سے متعلق 4 عدالتی فیصلوں کا حوالہ دے دیا۔
بریکنگ, غداری پر پُرامن احتجاج کرنا چاہیے، میں آج شام اسلام آباد میں احتجاج میں شریک ہوں گا: عمران خان
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
وزیرِ اعظم عمران خان نے قوم کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ لاہور میں ایک ہوٹل میں خرید و فروخت کی اطلاعات مل رہی ہیں جس کے خلاف ریڈزون کے باہر احتجاج کا اعلان کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ عوام کو اس کے خلاف باہر نکل کر احتجاج کرنا چاہیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’عوام کو ملک کے ساتھ اس غداری پر پرامن احتجاج کرنا چاہیے اور میں بھی آج شام کو اسلام آباد میں اس احتجاج میں شریک ہوں گا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ان شاء اللہ وقت ثابت کرے گا کہ عثمان بزدار نے پنجاب سے غربت کم کرنے کے لیے سب سے زیادہ کام کیا ہے۔‘
بریکنگ, سپیکر رولنگ سے متعلق سپریم کورٹ ازخود نوٹس کیس پر سماعت کل تک ملتوی
سپیکر رولنگ سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کل (منگل) تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے آگاہ کیا ہے کہ اس کیس پر آئندہ سماعت کا آغاز اب کل دن 12 بجے ہو گا۔جسٹس اعجاز کا کہنا تھا کہ یہ اہم آئینی معاملہ ہے جس پر جلدبازی نہیں کی جا سکتی۔
کیا ووٹنگ کے لیے اجلاس بلا کر عدم اعتماد پر رولنگ دی جا سکتی ہے؟ سپریم کورٹ کا استفسار
پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اتوار کے روز ہونے
والے قومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کر رہے تھے اور تحریک
عدم اعتماد مسترد کرتے ہوئے جس خط کا تذکرہ کیا گیا وہ اسمبلی میں پیش ہی نہیں کیا
گیا۔
انھوں نے کہا کہ اپوزیشن کے 198 ارکان پر غیر ملکی سازش کا
حصہ بننے کا الزام لگایا گیا اور ان ممبران میں 175 ارکان اپوزیشن جبکہ باقی پی ٹی
آئی کے منحرف اراکین تھے۔
فاروق نائیک کی جانب سے یہ تفصیلات پیش کرنے پر بینچ کے رُکن
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’کون کس پارٹی سے تھا اس پر کیوں وقت ضائع کر
رہے ہیں؟‘
جسٹس منیب نے استفسار کیا کہ رول 28 کے تحت سپیکر کو رولنگ
دینے کا اختیار ہے مگر کیا سپیکر اپنی دی گئی رولنگ واپس لے سکتا ہے؟ اس پر فاروق
ایچ نائیک نے کہا کہ رولنگ واپس لینے سے متعلق اسمبلی رولز خاموش ہیں۔
فاروق نائیک نے مزید کہا کہ اگر ایوان میں کوئی سوال اٹھتا
ہے تو اس پر بحث لازمی ہے۔
اس پر جسٹس منیب کا کہنا تھا کہ (وفاقی وزیر) فواد چوہدری
کے سوال پر بحث نہ کرانا پروسیجرل غلطی ہو سکتی ہے۔ اس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا
کہ ’نہیں یہ پروسیجرل ایشو نہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہAFP
جسٹس منیب نے استفسار کیا کہ کیا ڈپٹی سپیکر کو رولز کے مطابق ایسی رولنگ دینے کا اختیار ہے،
میرا ذاتی خیال ہے کہ رولنگ کا اختیار صرف سپیکر کا ہے، کسی اور کا نہیں۔ ’میرے خیال میں ڈپٹی سپیکر کو ایسی رولنگ دینے کا اختیار نہیں تھا۔‘
اس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر صرف اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، قائم مقام سپیکر کے لیے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرنا ہوتا ہے۔
بینچ کے رکن جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا ووٹنگ کے لیے اجلاس بلا کر عدم اعتماد پر رولنگ دی جا سکتی ہے؟ اس پر فاروق نائیک نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد تین منٹ سے بھی کم وقت میں مسترد کی گئی۔
اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’قانونی نقطے پر بات کریں، یہ جذباتی گفتگو ہے۔ یہ بتائیں کہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کس طرح غیر آئینی ہے؟‘
فاروق نائیک نے کہا کہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو عدم اعتماد مسترد کرنے کا اختیار نہیں اور تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دن اس کی حیثیت پر فیصلہ نہیں ہو سکتا۔
فاروق نائیک نے کہا کہ تحریک کے قانونی ہونے کا فیصلہ ووٹنگ کے لیے مقرر ہونے سے پہلے ہو سکتا ہے۔
چیف جسٹس بندیال نے کہا کہ کیا آپ کا کہنا ہے ووٹنگ کی تاریخ مقرر ہونے کے بعد عدم اعتماد مسترد نہیں ہو سکتی؟ ’ہمیں یہ پوائنٹ نوٹ کرنے دیں۔‘
قاسم سوری کی جانب سے آرٹیکل 5 کے استعمال پر آئینی ماہرین کیا کہتے ہیں؟
بریکنگ, یہ این آر او ٹو چاہتے ہیں: عمران خان
،تصویر کا ذریعہTWITTER
پی ٹی وی کی خصوصی نشریات سے متعلق مزید اپ ڈیٹس۔۔۔
عمران خان نے کہا ہے کہ ’اپوزیشن این آر او چاہتی ہے۔ یہ سب ضمانتوں پر ہیں یا باہر بھاگے ہوئے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’ان کی ساری کوشش ہے اقتدار میں آکر نیب کو ختم کریں گے۔ یہ این آر او ٹو چاہتے ہیں۔ این آر او ون مشرف نے دیا تھا۔‘
’پھر سے باہر پیسہ بھجوانا چاہتے ہیں۔ اپنے امپائرز چاہتے ہیں۔ ساری زندگی انھوں نے فکسڈ میچز کھیلے ہیں۔ پوری کوشش ہے اپنے بندے لگا کر الیکشن کی طرف جائیں۔‘
انھوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں ’ٹکٹ سوچ سمجھ کر دیں گے۔‘