سپریم کورٹ میں رضا ربانی کے دلائل جاری

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس وقت سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی اپنے دلائل دے رہے ہیں۔
رضا ربانی نے کہا ہے کہ سپیکر کی رولنگ غیر قانونی تھی اور ماوائے آئین نہیں ہو سکتی۔
اُنھوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد ووٹنگ کے بغیر ختم نہیں کی جا سکتی جبکہ آئین کی شق 95 کے تحت ووٹنگ کا عمل ضروری تھا۔
رضا ربانی کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے آئین کی چھ شقوں کا حوالہ دیا ہے، اور تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے جاری کردہ نوٹس کے بعد ووٹنگ ضروری ہے۔
سینیٹر ربانی نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے خلاف بیانیہ بنانے کے لیے خط کا سہارا لیا گیا اور مبینہ بیرونی سازش کو وجہ بنایا گیا۔
رضا ربانی نے کہا کہ اجلاس کو کسی بحث کے بغیر تین اپریل تک ملتوی کیا گیا، تین اپریل کو ووٹنگ ہونی تھی مگر فواد چوہدری اسمبلی میں پوائنٹ آف آرڈر پر خط اور بیرونی سازش لے آئے جو ایجنڈے پر تھی ہی نہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے لیے پہلے ہی اجلاس تاخیر سے بلایا گیا، پھر 31 مارچ کو اجلاس محض دعا کر کے ملتوی کر دیا گیا جبکہ ماضی میں ایسا نہیں ہوا تھا۔










