کورونا: 187 متاثرہ ممالک کی فہرست میں پاکستان 19ویں نمبر پر آ گیا

پاکستان میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 30 ہزار سے زائد ہے جبکہ 659 مریض وبا کے باعث ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے بعد دو اراکین قومی اسمبلی میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کل سے شروع ہونے والے قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس مؤخر کرنے کی تجویز دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. گلگت بلتستان: مصدقہ متاثرین کی تعداد 430 ہو گئی

    گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید نو افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد یہاں مصدقہ متاثرین کی کُل تعداد 430 ہو گئی ہے۔

    گلگت بلستان محکمہ صحت کے مطابق اس وقت گلگت بلتستان میں زیرِ علاج مریضوں کی تعداد 123 ہے جبکہ مجموعی طور پر 303 مریض صحت یاب ہوئے ہیں جبکہ اب تک چار مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔

    فیض اللہ فراق کے مطابق اس وقت سب سے زیادہ زیر علاج 72 مریض استور میں ہیں جبکہ گلگت میں 39 مریض ہیں۔

    محکمہ صحت گلگت بلستان کے مطابق مجموعی طو ر اس خطے میں اب تک 5983 ٹیسٹ ہوئے ہیں جن میں سے 395 نتائج کا انتظار ہے۔

    محکمہ صحت گلگت بلستان کے مطابق گگلت بلستان میں اس وقت ٹریول ہسٹری رکھنے والوں میں کورونا مریضوں کی شرح 69 فیصد جبکہ کورونا مریضوں سے رابطے میں رہنے والوں کی متاثر ہونے کی شرح 45 فیصد ہے۔ قرنطنیہ سنٹرز میں موجود افراد میں یہ شرح نو فیصد ہے۔

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGILGIT BALTISTAN HEALTH DEPT.

  2. پنجاب: سبزی، فروٹ، اجناس کے علاوہ جانوروں کی منڈیاں کھولنے کی بھی اجازت

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صوبہ پنجاب کی جانب سے لاک ڈاؤن میں نرمی کے حوالے سے جاری کردہ ایک نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ صوبے بھر میں قائم سبزی، فروٹ، جانوروں اور اجناس کی منڈیاں ہفتے میں تمام سات دن صبح نو سے شام پانچ بجے تک کھلی رہیں گی۔

    حجام کی دکانیں اور فٹنس جم بھی حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد کے بعد کھولے جا سکتے ہیں۔ اگرچہ اندورن شہر پبلک ٹرانسپورٹ پر فی الحال پابندی ہے تاہم آٹو رکشہ اور چنگچی رکشہ کو چلنے کی اجازت ہو گی۔

    باقی تمام وہ کاروبار جو نو مئی سے قبل کھلے تھے وہ بدستور کھلے رہیں گے۔ نوٹیفیکیشن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بڑے شاپنگ مالز، تعلیمی ادارے، ریستوران، ہوٹل، اور سماجی و دیگر اجتماعات پر پابندی ہو گی۔

    یہ ہدایات 31 مئی تک نافذالعمل رہیں گی۔

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGOVT OF PUNJAB

  3. کورونا وائرس: انڈیا کے یہ دو سائنسدان کیا کمال کرنے والے ہیں؟

  4. یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں کورونا متاثرین کے لیے پلازمہ تھیراپی کا سلسلہ شروع

    pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صوبہ پنجاب میں واقع یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے کورونا کے مریضوں کا پلازمہ تھیراپی کے ذریعے علاج کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

    سنیچر کو کورونا سے صحت یاب ہونے والے دو افراد نے اپنے پلازمہ کا عطیہ دیا ہے۔ ابتدائی طور پر پلازمہ عطیہ کرنے والوں میں معروف ڈاکٹر اور ایک صحافی شامل ہیں۔

    پلازمہ عطیہ کرنے والے دونوں افراد دو ہفتے قبل کورونا سے صحت یاب ہوئے ہیں۔

    وائس چانسلر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پروفیسر جاوید اکرم نے گذشتہ روز کورونا کے صحت یاب مریضوں سے پلازمہ عطیہ کرنے کی اپیل کی تھی۔

    یہ پلازمہ لاہور اور سیالکوٹ میں کورونا کے ایسے مریضوں کو دیا جائے گا جن کی حالت تشویشناک ہے۔

    پروفیسر جاوید اکرم نے کورونا سے صحت یاب ہونے والے افراد سے دوبارہ اپیل کی ہے کہ وہ بڑھ چڑھ کر اپنا پلازمہ عطیہ کریں تاکہ اس مرض میں مبتلا شدید بیمار افراد کا علاج کیا جا سکے۔

    انھوں نے کہا کہ پلازمہ عطیہ کرنے والوں کو گورنر پنجاب تعریفی اسناد بھی دیں گے۔

  5. پاکستان میں مریضوں کی تعداد یا ہلاکتوں کو چھپایا نہیں جا رہا: اسد عمر

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ ماہرین صحت گذشتہ چار، پانچ ہفتوں سے یہی بات بار بار دہرا رہے ہیں کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس وقت پر لاک ڈاؤن میں نرمی نہیں برتنی چاہیے۔

    نجی ٹیلیویژن چینل جیو پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آیا یہ ممکن ہے کہ تمام پاکستانیوں کو ان کے گھروں تک محدود کر دیا جائے۔ ’ہم یہ بات دہرا دہرا کر تھک چکے ہیں کہ غریب افراد لاک ڈاؤن کی بہت بھاری قیمت بھوک اور بیروزگاری کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔‘

    اسد عمر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر بھی یہی بات کر رہے ہیں کہ وبا کو اس طرح سے نہ پھیلنے دیا جائے کہ ملک کا صحت کا نظام مفلوج ہو جائے اور حکومت بھی اپنے فیصلے ان تمام تر زمینی حقائق دیکھ کر کر رہی ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ صوبے چاہیں گے کہ وہ اپنے اپنے صوبے میں صحت کی سہولیات کم سے کم بتائیں تاکہ انھیں وفاق سے زیادہ سے زیادہ امداد مل سکے مگر میرے خیال میں صوبے غیرذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں اور صحیح صورتحال سے آگاہ کر رہے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ہسپتالوں سے شکایات موصول ہونے کے بعد اب وفاقی حکومت براہ راست حفاظتی طبی سامان صوبائی حکومتوں کے بجائے ہسپتالوں کے سربراہان کو پہنچا رہی ہے۔

    وفاقی وزیر نے بتایا کہ شروع میں کراچی سے یہ رپورٹ آئی تھی کہ وہاں کے ہسپتالوں میں بہت سے مریض ایسے لائے جا رہے ہیں تو یا تو ہسپتال پہنچنے سے قبل یا اس کے فورا بعد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ’اس رپورٹ کے بعد ایس او پیز بدلے گئے اور اب ہسپتال میں مردہ حالت میں لائے جانے والوں کا بھی کورونا ٹیسٹ ہوتا ہے۔

    انھوں نے سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا کی اس بات سے اتفاق کیا کہ چند ایسے مریض بھی ہیں جن کی خون کی نالیوں میں خون منجمد ہونے سے ہلاکت ہو رہی ہے اور ایسے افراد کو بھی کورونا مریضوں کے طور پر گنا جا رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ شاید پاکستان میں کورونا کے باعث ہونے والی چند ہلاکتیں مجموعی میزانیے میں نا گِنی جا رہی ہیں مگر ایسا بڑے پیمانے پر نہیں ہو رہا ہے۔

  6. بریکنگ, خیبرپختونخوا: گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 13 اموات، 182 نئے مریض

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صوبہ خیبرپختونخوا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 13 اموات ہوئی ہیں جبکہ 182 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    صوبائی وزارت صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے باعث ہلاک ہونے والے 13 افراد میں سے سات کا تعلق پشاور سے تھا جبکہ چارسدہ، خیبر، مردان، سوات، مالاکنڈ اور ایبٹ آباد میں ایک، ایک کورونا مریض ہلاک ہوا ہے۔

    نئی ہلاکتوں کے بعد صوبے میں اموات کی مجموعی تعداد 234 ہو گئی ہے جبکہ وبا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 4509 ہو گئی ہے۔

    اسی دورانیے میں 53 افراد کورونا سے صحت یاب بھی ہوئے ہیں اور اب صوبے میں صحت یاب ہونے والے افراد کی کُل تعداد 1086 ہو چکی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  7. سندھ: کورونا سے متاثرہ خاتون کے ہاں صحت مند بچے کی پیدائش

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صوبہ سندھ کی ڈاؤ یونیورسٹی ہسپتال میں کورونا سے متاثرہ ایک خاتون کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے۔ ابتدائی طور پر بچے کا کیے جانے والا کورونا ٹیسٹ منفی آیا ہے۔

    ہسپتال کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے کے مطابق نومولود کو فوری طور پر ہسپتال میں بچوں کے یونٹ میں منتقل کر دیا گیا ہے، بچے کا وزن 3.1 کلوگرام ہے۔

    اعلامیے کے مطابق ابتدائی طورپر بچے کے خون کا نمونہ لے کر کورونا اینٹی باڈیز ٹیسٹ کیا گیا۔ مالیکیولر پیتھالوجی کے پروفیسر سعید خان کا کہنا ہے کہ بچے کا ٹیسٹ منفی آیا ہے تاہم اس کے مزید تشخیصی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

    ڈاؤ پسپتال کے مطابق 35 سالہ خاتون ہسپتال کے گائنی وارڈ میں رجسٹرڈ تھیں۔ ان میں گذشتہ ہفتے کورونا کی علامات ظاہر ہوئی تھیں اور بعدازاں ان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔

    ولادت کے لیے مقررہ مدت تک انھیں گھر پر ہی قرنطینہ میں رکھا گیا تھا جبکہ سنیچر کی صبح ان کے آپریشن کی تیاری کرلی گئی جس کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔ خصوصی ٹیم نے یہ پیچیدہ کام کامیابی سے مکمل کیا۔

    آپریشن تھیٹر میں انفیکیش ڈیزیز کی سربراہ ڈاکٹر شوبھا لکشمی کی نگرانی میں عملے نے آپریشن سرانجام دیا۔

    ہسپتال ترجمان کے مطابق کورونا سے متاثرہ مذکورہ خاتون کے اہلخانہ کے کورونا ٹیسٹ پہلے ہی کرا لیے گئے تھے اور ان کے شوہر سمیت تمام فیملی اراکین کورونا سے محفوظ ہیں۔

  8. موٹاپا کورونا وائرس کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے

  9. ’طبی آلات اور سامان کی مقامی سطح پر اضافی پیداوار کے لیے کوششیں جاری ہیں‘

    وفاقی وزیر برائے پیداوار حماد اظہر کا کہنا ہے کہ متعلقہ وزارتیں ہینڈ سینیٹائزرز، طبی آلات اور حفاظتی طبی سامان کی مقامی سطح پر پیداوار میں اضافے کے لیے درپیش ممکنہ رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

    انھوں نے کہا ہے کہ ان کی وزارت محکمہ صحت کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے اور ان رکاوٹوں کی نشاندہی میں مصروف ہے جو جعل سازی یا ضرورت سے زیادہ ضبوابط کی صورت میں موجود ہو سکتی ہیں۔

    حماد اظہر کا مزید کہنا تھا کہ اسی سلسلے میں ہینڈ سینیٹائزر کی تیاری اور منظوری کو ڈراپ کے دائرہ اختیار سے نکال کر پی ایس کیو سی اے کے ماتحت لایا جا رہا ہے اور ایسا کرنے کا مقصد کوالٹی سٹینڈرڈ پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔

  10. اسلام آباد: ’ہوم ڈیلیوری‘ کی سہولت فراہم کرنے والے اداروں کے لیے ہدایت نامہ جاری

    اسلام آباد میں واقع ایسے تمام کاروباری اداروں کو کورونا کے پھیلاؤ کے خلاف اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جو ہوم ڈیلیوری کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔

    ایسے تمام اداروں کو کہا گیا ہے کہ وہ ہوم ڈیلیوری کرنے والے اپنے اہلکاروں کا فی الفور کورونا وائرس ٹیسٹ کروائیں اور صرف ایسے اہلکاروں کو گھروں میں سامان ڈیلیور کرنے کی اجازت دی جائے جن کا ٹیسٹ منفی ہو۔

    ان اداروں کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ سامان ڈیلیو کرنے سے قبل اسے سینیٹائز کریں اور ڈیلیوری کے وقت سماجی فاصلہ قائم رکھنے کے اصول کی پاسداری کریں۔ اہلکاروں کو ہاتھ سینیٹائز کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  11. صوبہ سندھ کے شہروں میں متاثرین کی صورتحال

    صوبہ سندھ کے کس شہر میں کتنے کورونا متاثرین موجود ہیں پڑھیے اس چارٹ میں۔

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGovt of Sindh

  12. پاکستان میں حالات دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت قابو میں ہیں: عمران خان

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ ابھی پاکستان میں حالات دنیا کے دوسرے ممالک کی نسبت قابو میں ہیں اور کورونا کے خلاف حفاظتی تدابیر اختیار کرنے اور عوام میں اعتماد اجاگر کرنے سے صورتحال میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔

    یہ بات انھوں نے اپنی اسلام آباد میں اپنی زیر صدارت نیشنل ہیلتھ ٹاسک فورس کے اجلاس کے دوران کہی ہے۔ اس اجلاس میں پنجاب اور خیبرپختونخوا کے صوبائی وزرائے صحت، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور صحت کے شعبے کے دیگر سینیئر حکام نے شرکت کی ہے۔

    اس حوالے سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نے کہا ہے کہ بحیثیت فرد اور بحیثیت ذمہ دار شہری ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اگر کوئی فرد کورونا وائرس سے متاثر ہو جائے تو اس کے ساتھ نہایت ذمہ داری سے پیش آئیں۔

    وزیراعظم نے کورونا وائرس کے متاثرین کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھنے کے واقعات کی رپورٹ کے حوالے سے نہایت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ طرز عمل ناقابل برداشت ہے اور خوف کا موجب بنتا ہے۔

    عمران خان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر وہ کورونا وائرس کی علامات محسوس کریں تو فوری اور بلاخوف ٹیسٹ کے لیے رجوع کریں۔ اس ضمن میں عوام میں غیر ضروری ہچکچاہٹ اور خوف کے تاثر کو زائل کرنے کے حوالے سے وزیر اعظم نے ایک جامع اور بھرپور عوامی آگاہی مہم شروع کرنے کے اقدامات کی اہمیت پر زور دیا اور اس حوالے سے جلد ایک مربوط حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت کی۔

    اجلاس کے دوران صوبائ وزرائے صحت نے اپنے اپنے صوبوں میں کورونا وائرس کی صورتحال، ہسپتالوں میں مریضوں کی دیکھ بھال، ڈاکٹروں اور طبی عملے کی حفاظت و سہولت کے اقدامات، کورونا ٹیسٹنگ کی استعداد میں اضافے کے حوالے سے شرکا کو آگاہ کیا۔

    وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے کووِڈ-19 ڈاکٹر فیصل نے ملک کے مختلف صوبوں اور علاقوں میں کورونا وائرس کے متاثرین کے اعدادوشمار، شرح اموات، کیسز کے تناسب کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان دوسرے ممالک کی نسبت کورونا وائرس سے کم متاثر ہوا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. پنجاب میں ہفتے میں چار روز کاروبار جبکہ تین دن لاک ڈاؤن ہو گا, راولپنڈی میں کاروباری سرگرمیوں کی تصویری جھلکیاں

    pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں ہفتے کے تین روز، یعنی جمعہ، ہفتہ اور اتوار، مکمل لاک ڈاؤن ہوا کرے گا۔

    انھوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے چار دن یعنی سوموار، منگل، بدھ اور جمعرات کو شاپنگ پلازوں اور بڑے مالز کے علاوہ تمام دکانیں اور بازار کھلے ہوں گے۔

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یاد رہے کہ وفاقی حکومت کی ’ایڈوائس‘ پر پہلے ہی صوبہ بلوچستان اور صوبہ خیبرپختونخوا اپنے اپنے صوبوں میں کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دے چکے ہیں۔ تاہم سندھ کا کہنا ہے کہ صرف شعبہ تعمیرات سے متعلقہ چند کاروباروں کے علاوہ گلی، محلوں میں قائم چھوٹی دکانیں کھولنے کی اجازت ہو گی۔

    pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پنجاب میں اگرچہ لاک ڈاؤن میں نرمی اور کاروبار کھلنے کا آغاز آئندہ سوموار سے ہونا تھا تاہم راولپنڈی میں تاجروں نے کاروبار کا آغآز ہفتے کے روز سے کر دیا ہے اور مختلف مارکیٹوں میں بیشتر دکانیں کھل چکی ہیں۔

    pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  14. اسلام آباد: ایک دن میں ریکارڈ 51 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک ہی روز میں مزید 51 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد یہاں مصدقہ متاثرین کی کُل تعداد 609 ہو گئی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مریضوں کی تعداد میں اس بڑے اضافے کی بارے میں آگاہ کرتے ہوئے اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ضعیم ضیا نے کہا ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں میں یہ اسلام آباد میں متاثرین کی تعداد میں سب سے بڑا یومیہ اضافہ ہے۔

    انھوں نے دارالحکومت کے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ’گھر رہیں، محفوظ رہیں۔‘

    یاد رہے کہ اسلام آباد میں اب تک چار افراد کورونا کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اس مرض سے صحت یاب ہونے والوں کی کُل تعداد 72 ہے۔

  15. کورونا وائرس: بلوچستان میں متاثرین کی تعداد 1909 ہو گئی

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 33 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں مریصوں کی مجموعی تعداد 1909 ہو گئی ہے۔

    کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ بلوچستان کے 14 اضلاع میں 963 کورونا متاثرین قرنطینہ میں ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ گھروں میں قرنطینہ ہونے والے افراد کی تعداد 1500 سے زائد ہے۔

  16. ہسپانوی سیاح نے لاک ڈاؤن میں پاکستان کو کیسا پایا؟

  17. کورونا وائرس: کیا امیر ممالک کووڈ 19 کی ویکسین کی ’ذخیرہ اندوزی‘ کر سکتے ہیں؟

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پیر کو کورونا وائرس کی ویکسین سے متعلق ہونے والی فنڈنگ کانفرنس سے امریکہ اور روس غیر حاضر تھے جبکہ چین نے ویکسین کی تیاری اور علاج پر تحقیق کے لیے براہ راست مالی مدد کا کوئی وعدہ نہیں کیا۔

    فارماسوٹیکل طاقت کے دو مراکز: امریکہ اور چین کی علیحدہ ویکسین تیاری کی کوشش ایک پریشان کن صورتحال کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

  18. کورونا وائرس: سندھ کے چھوٹے سے قصبے پیر جو گوٹھ میں ڈھائی سو سے زائد متاثرین

    وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی شہر کورونا وائرس کا ایک ہاٹ سپاٹ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق گدشتہ 24 گھنٹوں میں جنوبی کراچی میں 143 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ مشرقی کراچی میں 113 اور ملیر میں 133 لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

    مراد علی شاہ کے مطابق زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں خیر پور میں مزید 265 افراد اس وبا سے متاثر ہوئے ہیں، جس سے خیر پور میں متاثرین کی تعداد 519 ہو گئی ہے۔

    مراد علی شاہ کے مطابق ایک چھوٹے سے قصبے پیر جوگوٹھ میں 246 مریض سامنے آئے ہیں۔ اب کل 277 مریض ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق صرف ایک مریض سے یہ وبا پورے قصبے میں پھیلی ہے۔

    انھوں نے پیر جوگوٹھ کے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ انتظامیہ سے تعاون کریں۔

  19. بریکنگ, کورونا وائرس: پاکستان میں متاثرین 28 ہزار سے تجاوز کر گئے

    پاکستان

    پاکستان میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کے بعد سے متاثرین کی کل تعداد 28 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ حالیہ اضافہ صوبہ سندھ میں دیکھنے میں آیا جہاں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1000 سے زائد نئے مریض سامنے آئے ہیں۔

  20. بریکنگ, بلوچستان میں کورونا متاثرین میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے: لیاقت شہوانی

    وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ترجمان لیاقت شہوانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا جو کہ تشویشناک ہے۔

    انھوں نے کہا کہ رواں ہفتوں کے دوران متاثرین کی تعداد 161 فیصد اضافہ دیکھنے میں اور صوبے میں انفیکشن کی شرح 13 اعشاریہ آٹھ فیصد ہو گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ مارچ کے آخری ہفتے میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد 40 تھی جبکہ دوسرے ہفتے میں یہ تعداد 50 ہو گئی، تیسرے ہفتے میں 84، چوتھے ہفتے میں یہ بڑھ کر 304 اور اس کے بعد ایک ہفتے میں یہ بڑھ کر 482 ہوئی اور پھر ایک ہفتے میں ہی 702 ہوگئی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ لوگوں کو احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہیے تاکہ ہم اس وائرس پر قابو پا سکیں۔