پاکستان میں متاثرین 27 ہزار کے قریب، سینیٹ اجلاس میں شمولیت کے لیے کورونا ٹیسٹ لازمی
پاکستان میں کورونا کے متاثرین کی مجموعی تعداد 27 ہزار کے لگ بھگ ہے جبکہ ہلاکتوں کی کُل تعداد 611 ہے۔ سینیٹ سیکریٹریٹ نے اپنے اگلے اجلاس کے لیے ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے جس میں تمام سینیٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں آنے سے قبل اپنا اپنا کورونا ٹیسٹ لازمی کروائیں۔
لائیو کوریج
اقوام متحدہ: کورونا کے آغاز سے اگلے نو ماہ تک پاکستان میں 50 لاکھ بچے پیدا ہوں گے, زچہ و بچہ کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران پوری دنیا میں لگ بھگ 11 کروڑ 60 لاکھ بچے پیدا ہوں گے جن میں سے ایک چوتھائی یعنی تقریباً دو کروڑ 90 لاکھ بچے جنوبی ایشیائی ممالک میں پیدا ہوں گے۔
یہ اندازہ وبا کے آغاز سے بعد سے لے کر آئندہ 40 ہفتوں (نو ماہ) کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جنوب ایشیائی ممالک میں بچے پیدا ہونے میں سرِفہرست انڈیا ہو گا جہاں اس دورانیے میں دو کروڑ بچے پیدا ہوں گے، دوسرے نمبر پر پاکستان (50 لاکھ بچے)، بنگلہ دیش 24 لاکھ بچوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر جبکہ افغانستان دس لاکھ بچوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہو گا۔
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر کورونا ایمرجنسی کے باعث صحت کی سہولیات انتہائی سخت دباؤ میں ہیں جس کے باعث زچہ اور بچہ کی صحت کے حوالے سے بڑے پیمانے پر خدشات موجود ہیں۔
ادارہ برائے اطفال کا مزید کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ جنوب ایشیائی ممالک میں نوزائیدہ بچوں اور ان کی ماؤں کو سخت زمینی حقائق کا سامنا کرنا پڑے گا جیسا کہ لاک ڈاؤن، کرفیو اور طبی اور دیگر سہولیات کی کمی اور دائیوں سمیت صحت کے ہنرمند کارکنان کی کمی۔
اقوام متحدہ نے جنوب ایشیائی ممالک کی حکومتوں کی اپیل کی ہے کہ وہ ان اعدادوشمار کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اپنے ممالک میں مناسب اقدامات کریں۔
’سعودی عرب میں 30 پاکستانی کورونا سے ہلاک ہو چکے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہRADIO PAKISTAN
سعودی عرب میں اب تک 150 پاکستانی کورونا کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ 30 پاکستانی اس وبا کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ اعدادوشمار سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر راجہ علی اعجاز نے جمعرات کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہونے والے ویڈیو لنک اجلاس کے موقع پر فراہم کیے ہیں۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق راجہ علی اعجاز نے میٹنگ شرکا کو آگاہ کیا کہ سعودی حکام کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کی غرض سے سخت اقدامات کر رہے ہیں جبکہ بیمار ہونے والے افراد کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کورونا کی وبا اب 209 ممالک تک پھیل چکی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اب سعودی عرب سے میں موجود 30 ہزار سے زائد پاکستانی وطن واپس لوٹنا چاہتے ہیں اور حکومت پاکستان اس حوالے سے اقدامات کر رہی ہے۔
گذشتہ پانچ دنوں میں کیے گئے ٹیسٹوں اور مریضوں کا تناسب 11.8 فیصد رہا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جمعرات کی دوپہر وزیر اعظم عمران خان کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے کورونا ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا کے مریضوں کی بڑھتی تعداد کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں اضافہ کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق چھ مئی کو ملک میں کسی بھی ایک روز کے دوران سب سے زیادہ 1523 مصدقہ مثاثرین سامنے آئے تھے۔
گذشتہ پانچ دنوں کے دوران، دو مئی سے چھ مئی کے دوران، ملک بھر میں 50469 کورونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ چھ مئی کو 12196، پانچ مئی کو 10178، چار مئی کو 9857، تین مئی کو 9522 جبکہ دو مئی کو مجموعی طور پر ملک بھر میں 8716 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
گذشتہ پانچ دنوں کے دوران سب سے زیادہ 14783 ٹیسٹ اس وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے پنجاب میں کیے گئے ہیں۔ اسی طرح اسی دورانیے میں صوبہ سندھ میں 22658 جبکہ خیبرپختونخوا میں 5495 ٹیسٹ ہوئے ہیں۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک میں چھ مئی کو 1523 متاثرین سامنے آئے جبکہ پانچ مئی کو 1049، چار مئی کو 1315، تین مئی کو 1083، جبکہ دو مئی کو 989 متاثرین سامنے آئے تھے۔
اگر گذشتہ پانچ دنوں میں کیے گئے ٹیسٹوں کا اسی دورانیے میں سامنے آنے والے مریضوں کی تعداد کو سامنے رکھ کر بات کی جائے تو یہ تناسب 11.8 فیصد بنتا ہے یعنی ہر ٹیسٹ کیے گئے ہر 100 افراد میں سے 11.8 افراد کورونا میں مبتلا نکلے۔
تنہائی میں الگ تھلگ رہنے کے مسئلے سے کیسے نمٹا جائے؟
آرمی چیف کا دورہ کوہاٹ، سکیورٹی اور کورونا صورتحال پر بریفنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے آج کوہاٹ کا دورہ کیا ہے۔
اس دورے کے دوران انھیں پاکستان اور افغانستان سرحد پر سکیورٹی کی صورتحال اور افواج پاکستان کی جانب سے اس علاقے میں کورونا سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی گئی ہے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے کے مطابق جنرل قمر نے امدادی کاموں میں مصروف فوجی جوانوں سے ملاقات بھی کی اور ان کے کام کو سراہا۔
آرمی چیف نے کوہاٹ سی ایم ایچ میں کورونا متاثرین کے لیے فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ بھی لیا۔ انھوں نے ہدایات جاری کی ہیں کہ مشکل کی اس گھڑی میں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ کی ان کی مدد کی جائے۔
خیبرپختونخوا: گذشتہ 24 گھنٹوں میں چھ ہلاکتیں، 244 نئے مریض
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ خیبرپختونخوا میں کورونا کے 244 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ چھ افراد اس وبا سے ہلاک بھی ہوئے ہیں۔
اس وقت صوبے میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 3956 ہو چکی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 209 ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹوں میں ہلاک ہونے والے چھ افراد میں چار کا تعلق پشاور، ایک کا مالاکنڈ جبکہ ایک کا مانسہرہ سے ہے۔
اسی دورانیے میں صوبے میں مزید 45 افراد اس وبا سے صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں اب صحت یاب ہونے والے افراد کی کُل تعداد 984 ہو چکی ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اندرون ملک پروازوں پر عائد پابندی میں 10 مئی تک توسیع
پاکستان میں ہوا بازی کے نگراں ادارے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اندورن ملک پروازوں پر عائد پابندی میں 10 مئی تک توسیع کر دی ہے۔
ترجمان ایوی ایشن ڈویژن کے مطابق یہ پابندی 10 اور 11 مئی کی درمیانی رات تک نافذ العمل رہے گی۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بلوچستان: ’لاک ڈاؤن میں مزید سختی یا نرمی کا فیصلہ آئندہ ہفتے کیا جائے گا‘

،تصویر کا ذریعہGOVT of BALOCHISTAN
بلوچستان حکومت نے صوبے میں کورونا کے کیسز میں ہونے والے غیر متوقع اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ ایک ہفتے میں وبا کے پھیلاؤ کا جائزہ لینے کے بعد صوبائی حکومت بلوچستان میں لاک ڈاﺅن میں نرمی کا فیصلہ کرے گی۔
یہ فیصلہ وزیرِ اعلی بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت منعقد ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔ اس اجلاس میں کورونا وائرس کے اثرات، لاک ڈاون کی موجودہ صورتحال اور دیگر متعلقہ امور کا جائزہ لیا گیا۔
سیکریٹری صحت نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ کورنا وائرس کے ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کر کے روزانہ آٹھ سو سے زائد ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں جبکہ ٹیسٹ نتائج کے مطابق کوئٹہ میں کورنا وائرس کے کیسز میں ہونے والا غیر متوقع اضافہ باعث تشویش ہے۔
اجلاس میں اس امر پر اتفاق رائے پایا گیا کہ مزید ایک ہفتہ ہونے والے ٹیسٹ کے نتائج کی بنیاد پر لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کیا جائے گا اور اس حوالے سے تاجروں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔
اجلاس میں لاک ڈاؤن میں نرمی کی صورت میں احتیاطی تدابیر کی جامع ایس او پی کی تیاری اور دکانداروں اور گاہکوں کے تعاون سے اس پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی پولیس اور کمشنر کوئٹہ کو ہدایات جاری کی گئیں۔
اجلاس میں عوام میں حفاظتی ماسک کے استعمال کا شعور اجاگر کرنے اور ماسک کے استعمال کو یقینی بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ پولیس انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے عوام کو ماسک استعمال کرنے کا پابند کریں گے۔
اجلاس میں محکمہ اطلاعات کو بل بورڈز، اخبارات، ریڈیواور ٹی وی کے ذریعے ماسک کے استعمال کا شعور اور فوائد اجاگر کرنے کی ہدایت کی گئی۔
’یورپی یونین نے پاکستان کے لیے 15 کروڑ 30 لاکھ ڈالر مختص کیے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں یورپی یونین کے وفد کی سفیر آنڈرولا کمینارا نے آج وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے۔
وزیر اعظم آفس سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے کے مطابق سفیر آنڈرولا نے وزیر اعظم کو کورونا کے وبائی مرض کے بارے میں پاکستان کے رد عمل کو مستحکم کرنے کے لیے یورپی یونین کے اقدامات سے آگاہ کیا۔
انھوں نے بتایا کہ یورپی یونین نے پاکستان کی کورونا سے نمٹنے میں مدد کے لیے 153 ملین ڈالر مختص کیے ہیں۔
’یومِ علی پر جلوس نکالے جائیں گے حکومت تعاون کرے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شیعہ تنظیموں کے ایک مشترکہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ شہادت امام علی کے موقع پر مجالس عزا اور جلوس عزا کا انعقاد کیا جائے گا۔
اس موقع پر علمائے کرام کا کہنا تھا کہ جلوس عزا کا انعقاد حکومت اور علمائے کرام کے درمیان پہلے سے طے شدہ 20 نکاتی ایس او پی پر مکمل عملدرآمد کے تحت کیا جائے گا۔
شیعہ تنظیموں نے سندھ حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس موقع پر مناسب انتظامات کو یقینی بنائیں اور شیعہ آبادیوں، امام بارگاہوں اور جلوس کے راستے پر سپرے کروائیں اور عوام میں مفت ماسک تقسیم کریں۔
شیعہ تنظیموں نے سندھ حکومت کے اس نوٹیفیکیشن پر انتہائی تنقید کی ہے جس میں شہادت امام علی کی مناسبت سے جلوس عزا نکالنے پر پابندی عائد کی تھی۔
عید سے قبل ٹرین سروس کی بحالی کی خواہش ہے: شیخ رشید
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
کورونا: امریکہ کا پاکستان کے لیے نئی امداد کا اعلان
پاکستان میں امریکہ کے سفیر پال جونز نے وفاقی حکومت کے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے لیے 50 لاکھ ڈالرز کی امداد کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کیے جانے والے ایک ویڈیو پیغام میں امریکی سفیر نے غذا کی کمی کا شکار پاکستانی بچوں کی غذائی ضروریات پورا کرنے کے لیے علیحدہ سے 25 لاکھ ڈالرز کا اعلان بھی کیا ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ نے پاکستان کو کورونا وائرس کے پیشِ نظر امداد حاصل کرنے والے ممالک میں ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا ہے اور اب تک مجموعی طور پر پاکستان کے لیے ڈیڑھ کروڑ ڈالرز کی امداد کا اعلان کیا جا چکا ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
’نجی ہسپتالوں، کلینکس کو کھولنا عوام کی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن صوبہ خیبر پختوںخوا نے صوبائی حکومت کی جانب نجی ہسپتالوں اور کلینکس کو کھولنے کی اجازت دینے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اس فیصلے کو طبی عملے اور عام عوام کی جانوں سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ جمعرات کو خیبر پختونخوا حکومت نے پرائیوٹ ہسپتالوں اور کلینکس کو حفاظتی اقدامات کے تحت کھولنے کی اجازت دی ہے۔
صحافی محمد زبیر کے مطابق ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن صوبہ خیبر پختونخوا کے سینیئر نائب صدر ڈاکٹر علی رضا کے مطابق صوبائی حکومت سرکاری ہسپتالوں میں اپنے وضح کردہ ایس او پیز کے تحت سرکاری او پی ڈیز نہیں چلا پا رہی تو وہ نجی ہسپتالوں اور کلینکس میں کیسے عمل درآمد کروائے گی۔
انھوں نے کہا کہ یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ ڈاکٹر علی رضا نے سوال کیا کہ ابھی تک سرکاری ہستپالوں میں تعینات عملے کو ضروری حفاظتی سامان مہیا نہیں کیا جا سکا ہے تو نجی ہسپتالوں اور نجی کلینکس میں یہ سب کیسے فراہم کیا جائے گا؟
انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ حکومت کے اس اقدم سے کورونا مزید پھیلے گا۔ پہلے ہی سرکاری ہسپتالوں میں جگہ کم پڑ رہی ہے اور طبی عملہ متاثر ہو رہا ہے اور ایسے میں یہ فیصلہ مناسب نہیں ہو گا۔
لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ اجتماعی مشاورت سے کیا گیا: عثمان بزدار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کو مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ صوبوں اور وفاق کی اجتماعی مشاورت سے کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ عام آدمی کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے متفقہ فیصلہ کیا گیا ہے اور پنجاب حکومت نے وفاق اوردیگر صوبوں کے ساتھ اتفاق رائے سے تمام فیصلے کیے ہیں-
عثمان بزدار نے کہا ہے کہ کنسٹرکشن سے منسلک صنعتوں اور متعلقہ دکانوں کو کام کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور پائپ ملز، سرامکس، سینٹری ویئرز، پینٹ، الیکٹریکل کیبلز، سوئچ بورڈز، سٹیل، ایلومینم کی صنعتوں اور دکانوں کو کام کرنے کی اجازت ہو گی-
وزیر اعلی پنجاب نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں چھوٹی مارکیٹیں اور دکانیں صبح فجر سے شام پانچ بجے تک کھلی رہیں گی جبکہ کھلنے والی دکانیں ہفتے میں دو دن بند رہیں گی- انھوں نے کہا کہ ہسپتالوں کے شعبہ بیرونی مریضاں کو بھی کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے-
عثمان بزدار نے کہا ہے صوبے میں تمام تعلیمی ادارے 15 جولائی تک بند رہیں گے جبکہ بورڈ کے امتحانات منعقد نہیں کیے جائیں گے۔ سیکنڈری اور انٹرمیڈیٹ جماعتوں میں پروموشن گذشتہ برس کے نتائج کی بنیاد پر کی جائے گی۔
پنجاب میں نئے متاثرین اور ہلاکتیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
صوبہ پنجاب میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 504 نئے متاثرین سامنے آنے کے بعد پنجاب میں مصدقہ مریضوں کی تعداد 9195 ہو گئی ہے۔
محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق صوبے میں جمعرات کی سہ پہر تک سات نئی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں اور اب یہاں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 182 ہو چکی ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق مصدقہ متاثرین میں سے768 زائرین، 1926 تبلیغی جماعت کے اراکین، 86 قیدی جبکہ 6415 عام شہری ہیں۔
ترجمان کے مطابق اب تک پنجاب میں 3201 افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں جبکہ ہسپتالوں میں موجود 22 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔
عام شہریوں میں کیسز کی تفصیلات
عام شہروں میں سب سے زیادہ 3449 کیسز لاہور میں پائے گئے ہیں۔ ترجمان محکمہ صحت کے مطابق ننکانہ صاحب میں 20، قصور میں 69، شیخوپورہ میں 39، راولپنڈی میں 509، جہلم میں 73، اٹک میں 39،چکوال میں سات، گوجرانوالہ میں 422، سیالکوٹ میں 319، ناروال میں 23 جبکہ گجرات میں 351 شہریوں میں اب تک کورونا کی تصدیق ہو چکی ہے۔
اسی طرح حافظ آباد میں مصدقہ کیسز کی تعداد 47، منڈی بہاوالدین میں 34، ملتان میں 156، خانیوال میں سات، وہاڑی میں 55، فیصل آباد میں 254، چینیوٹ میں 21، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 21، جھنگ میں 59، رحیم یار خان میں 78، سرگودھا میں 97، میانوالی میں 24، خوشاب میں 17، بھکر میں 14، بہاولنگر میں 13، بہاولپور میں 35، لودھراں میں 22، ڈی جی خان میں 38، مظفر گڑھ میں 28، لیہ میں سات، ساہیوال میں 20، اوکاڑہ میں 29 جبکہ پاکپتن میں 26 مصدقہ متاثرین موجود ہیں۔
پنجاب میں اب تک 112007 کورونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
ملک کی صورتحال

پنجاب میں نئے کیسز سامنے آنے کے بعد اب پاکستان میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 24646 ہو گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی کُل تعداد 585 ہو چکی ہے۔
ملک میں مجموعی طور پر 6603 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
9195 مریضوں کے ساتھ صوبہ پنجاب سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے جبکہ 203 ہلاکتوں کے ساتھ صوبہ خیبرپختونخوا سرِفہرست ہے۔
بلوچستان: ضلع سبی میں کورونا مریضوں کی تعداد 13 ہو گئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان کے ضلع سبی میں ایک ڈاکٹر سمیت دو افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر سبی ڈاکٹر یاسر خان بازئی کا کہنا ہے نئے متاثرہ افراد میں محکمہ صحت سبی کے ڈاکٹر علی احمد بلوچ شامل ہیں۔
دو نئے کیسز کے مثبت آنے پر سبی میں مریضوں کی مجموعی تعداد 13 ہو گئی ہے جبکہ مشتبہ افراد کی تعداد آٹھ ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے سبی میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں ۔
اگر شہریوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو پھر بند کرنا پڑے گا، عمران خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں مرحلہ وار کھولے جانے والے لاک ڈاؤن میں اگر شہریوں اور کھولی جانے والی صنعتوں نے ضابطہ کار پر عملدرآمد کرنے میں ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو حکومت کو مجبوراً دوبارہ سب کچھ بند کرنا پڑے گا۔
وزیر اعظم نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ مشکل وقت ہے، آگے چل کی حالات مزید مشکل ہو سکتے ہیں، ہمیں ایک ذمہ دار قوم بن کر اس وبا کا مقابلہ کرنا ہو گا۔
چھوٹی دکانوں سمیت متعدد شعبے اور صنعتیں کھولنے کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر کا کہنا ہے کہ نو مئی سے ملک میں الیکٹرک کی صنعت اور اس سے وابستہ دکانیں، سرامکس اور ٹائیلز کی صنعت اور اس سے وابستہ دکانیں، سٹیل اور ایلومینیم کی صنعت اور اس سے وابستہ دکانیں، پینٹ کی صنعت اور وابستہ دکانیں، ہارڈوئیر صنعت و دکانیں اور دیہی علاقوں سمیت محلے کی تمام چھوٹی دکانیں کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت بڑے شاپنگ مالز کو کھولنے کی اجازت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا ان تمام دکانوں کو ہفتے میں پانچ دن کھولنے کی اجازت ہو گی۔
تاہم فارمیسی اور کھانے پینے کی دکانیں ہفتے میں تمام دن کھلی رہیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام دکانیں سحری کے وقت سے لیکر شام پانچ بجے تک کھلیں رہے گی۔
ہفتے میں ساڑھے سات ہزار افراد وطن واپس لوٹ رہے ہیں، اس تعداد کو بڑھانے پر غور کریں گے: معید یوسف

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیرِ اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف کا کہنا ہے کہ ہر ہفتے ہم ساڑھے سات ہزار افراد وطن واپس لا سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کچھ مخصوص پروازوں اور ممالک سے آنے والے افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ضرور ہوئی ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ تمام افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو رہی ہے تو اس حوالے سے ہمیں ایسے افراد پر سماجی دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ ہم کوشش کریں گے کہ ہم آئندہ لوگوں کو خود ساختہ تنہائی میں رکھنے کی پالیسی پر غور کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو واپس لایا جا سکے۔
