آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پاکستان میں متاثرین 27 ہزار کے قریب، سینیٹ اجلاس میں شمولیت کے لیے کورونا ٹیسٹ لازمی

پاکستان میں کورونا کے متاثرین کی مجموعی تعداد 27 ہزار کے لگ بھگ ہے جبکہ ہلاکتوں کی کُل تعداد 611 ہے۔ سینیٹ سیکریٹریٹ نے اپنے اگلے اجلاس کے لیے ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے جس میں تمام سینیٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں آنے سے قبل اپنا اپنا کورونا ٹیسٹ لازمی کروائیں۔

لائیو کوریج

  1. مختلف ممالک میں موجود 180 پاکستانی اب تک کورونا سے ہلاک ہو چکے ہیں: دفتر خارجہ

    پاکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ محتاط اندازوں کے مطابق دنیا بھر کے مختلف ممالک میں لگ بھگ 180 پاکستانی اب تک کورونا سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

    وزارت خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے یہ اعدادوشمار ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ ورچوئل میٹنگ میں بات چیت کرتے ہوئے بتائے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ کسی ملک میں ایک، کسی میں چار اور کسی میں دس پاکستانی ہلاک ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک خاص طور پر مغربی ممالک میں پرائیویسی (مریضوں کی معلومات خفیہ رکھنا) کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے معلومات نہیں مل پا رہی ہیں۔

    عائشہ فاروقی کا مزید کہنا تھا کہ چند ممالک میں مریضوں میں شہریت کی بنیاد پر تفریق نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کی علیحدہ تفصیلات ہمارے سفارت خانوں کو فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے ان 180 پاکستانیوں میں سے 30 پاکستانی سعودی عرب میں ہلاک ہوئے ہیں۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر راجہ علی اعجاز نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے والے ایک اجلاس میں آگاہ کیا تھا کہ سعودی عرب میں کورونا سے اب تک 30 پاکستانی ہلاک جبکہ 150 کے لگ بھگ اس وبا سے متاثر ہو چکے ہیں۔

    وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا ہے کہ 180 پاکستانیوں کی ہلاکت کا اندازہ آزاد ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کی بنیاد پر لگایا گیا ہے کیونکہ بہت سے ممالک اس حوالے سے فی الحال تفصیلات جاری نہیں کر رہے ہیں۔

  2. صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کا دورہ قومی اسمبلی

    صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے جمعہ کے روز پارلیمان کا دورہ کر کے قومی اسمبلی میں آئندہ ہفتے کے آغاز پر ہونے والے اجلاس کے حوالے سے انتظامات کا جائزہ لیا ہے۔

    اس موقع پر ڈاکٹر عارف علوی نے وہاں موجود حکام کو ہدایت کی کہ عالمی ادارہ صحت کی جاری کردہ گائیڈ لائنز کےمطابق اجلاس کے موقع پر سماجی فاصلے کے اصول پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

    انھوں نے کہا کہ سماجی فاصلے پرعمل سے ہی مرض کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔

  3. پی پی پی کے تمام اراکین پارلیمان کے لیے کورونا ٹیسٹ لازمی

    پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیئر رہنما سینیٹر شیریں رحمان نے کہا ہے ان کی جماعت نے اپنے تمام اراکین پارلیمان کے لیے یہ لازمی قرار دیا ہے کہ وہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس میں شمولیت سے قبل اپنا اپنا کورونا ٹیسٹ کروائیں۔

    یاد رہے کہ حزب اختلاف کی ریکوزیشن پر حکومت نے آئندہ ہفتے کے دوران قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس طلب کر رکھا ہے۔

    شیریں رحمان نے چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے درخواست کی ہے کہ وہ تمام اراکین پارلیمان اور پارلیمان کی عمارت میں کام کرنے والے عملے کے ارکان کے لیے سیشن سے قبل کورونا ٹیسٹ کروانے کو لازمی قرار دیں۔

    شیریں رحمان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پارلیمان کی پوری عمارت میں تازہ ہوا کی آمد و رفت کا بندوبست نہیں ہے۔

  4. سندھ: گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید پانچ ہلاکتیں، 598 نئے متاثرین, پاکستان میں مصدقہ متاثرین 26 ہزار سے زائد

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ صوبہ سندھ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 598 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد یہاں مصدقہ مریضوں کی تعداد 9691 ہو چکی ہے۔

    سندھ میں اسی دورانیے میں پانچ مریض ہلاک بھی ہوئے ہیں اور اب صوبے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 176 ہو چکی ہے۔

    وزیر اعلی نے آگاہ کیا ہے کہ صوبے میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 5532 ٹیسٹ کیے ہیں جبکہ مجموعی طور پر اب تک 81610 ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ اس وقت 7575 مریض زیرعلاج ہیں جن میں سے 6421 مریض گھروں میں قرنطینہ ہیں، 627 آئسولیشن مراکز میں جبکہ 527 مریض ہسپتالوں میں زیرِعلاج ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ 91 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 18 وینٹی لیٹرز پر ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ کراچی میں نئے کیسز کی تعداد 413 ہے، ضلع جنوبی میں107، ضلع شرقی میں 98 اورضلع وسطی میں 73 نئے کیسز سامنے آئے ہیں، ملیر میں 58، کورنگی میں47 اور ضلع غربی میں 30 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

  5. وفاق کے فیصلوں پر 99 فیصد عملدرآمد کریں گے: وزیر اعلٰی سندھ

    سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے واضح کیا ہے کہ وہ لاک ڈاؤن کے حوالے سے وفاق کے فیصلوں پر 99 فیصد عملدرآمد کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ اس فیصلے کے مطابق تمام صنعتیں جو 9 مئی سے پہلے بند تھیں بدستور بند رہیں گی ماسوائے تعمیراتی صنعت کے جبکہ شاپنگ مالز، پلازے، بڑی مارکیٹیں اور تعلیمی ادارے بھی بند ہیں گی۔ اسی طرح نو مئی سے پہلے جو دفاتر بند رکھنے کا اعلان کیا گیا تھا وہ نو مئی کے بعد بھی بدستور بند رہیں گے۔

    وزیر اعلی نے کہا ہے کہ ’ریستوران، شادی ہالز، سینما گھر اور دیگر سماجی و مذہبی اجتماعات پر 31 مئی تک پابندی برقرار رہے گی۔

    انہوں نے بتایا کہ معاشی سرگرمی کی بحالی کے سلسلے میں پہلے مرحلے میں تعمیرات کے گرے سٹریکچر سے منسلک صنعت کھولی گئی تھی اور اب دوسرے مرحلے میں تعمیرات سے منسلک دیگر صنعتیں کھولی جائیں گی جو ایس او پیز پر عملدرآمد سے مشروط ہوں گی۔

    سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ مختلف ہسپتالوں کی منتخب او پی ڈیز پہلے سے کھلی ہوئی ہیں، اشیائے خوردو نوش کی دکانیں، گلی محلے کی دکانیں، دیہی علاقوں کے بازار فجر سے شام پانچ بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہو گی جبکہ ہفتہ اور اتوار کو سب کاروبار مکمل طور پر بند ہوں گے ماسوائے اشیائے ضروریہ کی دکانوں کے۔

    مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ تاجر مشکلات میں ہیں اور صوبائی حکومت سے ان کے مذاکرات جاری ہیں۔ انھوں نے وفاقی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے لیے آسان اقساط میں فوری قرضے فراہم کرے۔

    ’ہم تاجروں سے دوبارہ رابطہ کریں گے یہ ہماری طرف سے بندش نہیں ان کی شکایت وفاقی حکثومت تک پہنچائیں گے، صوبائی وزیر سیعد غنی، ناصر شاہ اور مشیر مرتضیٰ وہاب پر مشتمل کمیٹی بنا رہے ہیں میئر کراچی کو بھی درخواست کی ہی کہ وہ بھی اس کمیٹی میں آئیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ جو صنعتیں کھلی ہیں ان کے مالکان کو یہ انڈر ٹیکنگ دینی پڑے گی جبکہ جو ملازمین کام پر آئیں گے ان کے نام اور فون نمبر بھی حکومت کو مہیا کیے جائیں گے۔

  6. لاک ڈاؤن میں وقت گزارنے کا ایک دلچسپ طریقہ۔۔۔

  7. اسلام آباد کے کون کون سے علاقوں میں کورونا وائرس کے کتنے مریض ہیں؟

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے زون اے میں کورونا وائرس کے 260 مصدقہ مریض ہیں جبکہ زون بی میں 261 مریض ہیں۔

  8. سینیٹ کا اجلاس منگل کو طلب

  9. دیگر عارضوں کا شکار کورونا مریض ضرور قرنطینہ مراکز میں داخل ہوں: ڈاکٹر عذرا پیچوہو

  10. صوبے میں آمدورفت بحال کرنے کے حوالے سے ٹرانسپورٹروں سے بات چیت کی جائے گی: اجمل وزیر

    مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا اجمل وزیر کا کہنا ہے کہ قومی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں حکومت خیبر پختونخوا نے لاک ڈاون میں نرمی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ تعمیراتی شعبہ کے فیز دوئم کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں سٹیل اور پی وی سی پائپ، بجلی کا سامان، سٹیل اور المونیم کی اشیا بنانے والی فیکٹریاں، سیرامک اور پینٹ فیکٹریاں شامل ہیں۔

    انھوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سینیٹری، پینٹ، سٹیل اور المونیم، بجلی کے سامان کی دکانیں اور ہارڈ ویئر سٹور مروجہ قواعد ضوابط کے عین مطابق سہ پہر چار بجے تک کھلے رہیں گے اور ہفتے میں دو دن، یعنی ہفتہ اور اتوار کو ان کا ناغہ ہو گا۔

    انھوں نے بتایا کہ اندرونِ ضلع ایک شہر یا قصبے سے دوسرے کو جانے والی مسافر گاڑیوں بشمول بسوں، ویگنوں کی آمدورفت اور بین الاضلاعی کمرشل گاڑیوں کی آمدورفت کے حوالے سے ٹرانسپورٹروں کے نمائندہ وفد سے صوبائی سطح پر اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی جن کے سربراہ کمشنر ہیں کی سطح پر بات چیت کی جائے گی تاکہ مناسب ایس او پیز پر اتفاقِ رائے ہو سکے.

  11. پنجاب: ایک دن میں 961 نئے مریض، متاثرین کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ

    پنجاب میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 961 نئے کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں متاثرین کی تعداد 10033 ہو گئی ہے۔

    پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرڈپارٹمنٹ کے ترجمان کے مطابق کورونا وائرس سے صوبے میں اب تک 183 اموات ہوئی ہیں جبکہ 22 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے اور 4062 افراد صحت یاب ہوئے ہیں۔

    صوبے میں اب تک کل 117206 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق پنجاب میں سب سے زیادہ مریض لاہور میں ہیں جہاں متاثرین کی تعداد 3856 ہے۔اس کے علاوہ مختلف شہروں میں متاثرین کی تعداد کچھ یوں ہے:

    ننکانہ 20، قصور 69، شیخوپورہ 41، راولپنڈی 581، جہلم 73، اٹک 39،چکوال 7، گوجرانوالہ 422، سیالکوٹ 350، ناروال 25، گجرات 436، حافظ آباد 48، منڈی بہاوالدین 38، ملتان 203، خانیوال 8، وہاڑی 56، فیصل آباد 311، چینیوٹ 38، ٹوبہ 22، جھنگ 59، رحیم یار خان 95، سرگودھا 101، میانوالی 24، خوشاب 17، بھکر 14، بہاولنگر 13، بہاولپور 57، لودھراں 16، ڈی جی خان 39، مظفر گڑھ 95، لیہ 7، ساہیوال 24، اوکاڑہ 29 اور پاکپتن میں 26۔

    ترجمان نے بتایا کہ صوبے میں موجود 1252 طبی کارکنوں کے بھی کورونا ٹیسٹ ہوئے جن میں سے 184 مثبت آئے ہیں۔

  12. وفاقی وزیر تعلیم: تمام سوالات کے جواب اگلے ہفتے ملیں گے

    بظاہر ملک کے طالب علموں میں ان کے امتحانات کے حوالے سے بڑھتی بے چینی اور سوشل میڈیا پر چلنے والے ٹرینڈز کے جواب میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ حکومت طلبا کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام لے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ امتحاتات منسوخ کرنے کا فیصلہ بھی طلبا کی حفاظت کے پیش نظر لیا گیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ انھیں پرائیویٹ طلبا اور کمپوزٹ امتحان دینے والے بچوں کے حوالے سے کئی سوالات موصول ہوئے ہیں جن کے جوابات وہ اگلے ہفتے پیر کو دیں گے۔

    یاد رہے کہ وزیر تعلیم شفقت محمود نے گذشتہ روز کورونا وائرس کے باعث ملک میں تمام تعلیمی اداروں کو 15 جولائی تک بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے علاوہ تمام تعلیمی بورڈز کے تحت ہونے والے امتحانات کو منسوخ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس برس تمام طلبہ کو گذشتہ سال کے رزلٹ کی بنیاد پر اگلی جماعتوں میں پروموٹ کیا جائے گا۔

    بورڈ کے امتحانات منسوخ ہونے کے بعد متعدد طلبا وضاحت طلب کر رہے ہیں کہ اس پالیسی کا اطلاق کس طرح ہوگا۔

    ٹوئٹر پر سوشل میڈیا صارفین اس حوالے سے پوچھتے نظر آئے کہ اگر ایک طالب علم نے 9ویں میں بہتر کارکردگی نہیں دکھائی تھی تو اس بنیاد پر ان کا 10ویں کا رزلٹ مرتب کرنا کیا ناانصافی نہیں ہوگی۔

    اس حوالے سے کئی طلبا فکر مند نظر آئے کہ اس نئی پالیسی کے تحت یونیورسٹیوں میں داخلے پر کیا اثرات پڑیں گے۔

  13. وزیر قانون پنجاب: ’ایس او پیز پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی‘

    پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے احکامات کے بعد لاک ڈاؤن میں نرمی کی جا رہی ہے۔

    ان کے مطابق اس کے نتیجے میں جو مارکیٹیں اور دکانیں کھلیں گی انھیں ایس او پیز پر سختی سے عملدآمد کرنا ہوگا اور جو ان کی خلاف ورزی کرے گا اس دکان یا مارکیٹ کو بند کر کے سخت سے سخت کارروائی عمل می لائی جائے گی۔

  14. کیا سنیچر سے بیوٹی پارلر بھی کھل رہے ہیں؟, سحر بلوچ، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    پاکستان میں سنیچر سے لاک ڈاؤن میں مرحلہ وار خاتمے کا آغاز ہونے جا رہا ہے اور جہاں ایک طرف اس قدم کے حوالے سے ملا جلا ردِ عمل سامنے آ رہا ہے تو دوسری جانب بیوٹی پارلر مالکان بے چینی سے اپنے کاروباروں کو کھلنے کی اجازت ملنے کے منتظر ہیں۔

    تقریباً آٹھ روز قبل پاکستان کے مختلف شہروں سے 200 نامور بیوٹی پارلر اور سیلون مالکان نے اپنے اپنے صوبوں کے وزرائے اعلٰی کو کورونا وائرس کے دوران پارلرز کے لیے ایک خودساختہ ایس او پیز کی فہرست درخواست کی صورت میں بھیجی تھی۔

    معروف ہیئر سٹائلسٹ نبیلہ مقصود نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان ہئیر اینڈ بیوٹی ایسوسی ایشن کے توسط سے بھیجی گئی یہ درخواست حکام کو موصول ہو چکی ہے تاہم انھیں اب تک پارلر کھولنے کی اجازت نہیں ملی ہے۔

    گذشتہ دنوں میں ان ہی ایس او پیز کو واضح کرنے کے لیے نبیلہ نے اپنے پارلر کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر چند ویڈیوز بھی لگائیں جن میں پارلر کے اندر لیے جانے والے حفاظتی اقدامات دیکھے جاسکتے ہیں۔

    ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پارلر میں کام کرنے والے افراد حفاظتی لباس یعنی پی پی ای پہنے اپنا اپنا کام کر رہے ہیں۔

    لیکن سوشل میڈیا پر ان ویڈیوز کو تنقید کا اس وقت سامنا کرنا پڑا جب صارفین نے نکتہ اٹھایا کہ حفاظتی سامان پارلر میں استعمال کرنے کے بجائے ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کو بھیجنا چاہیے۔

    تاہم نبیلہ کے نزدیک ان کی بات کو غلط رنگ دے کر پیش کیا گیا ہے۔

    ’ویڈیو بنانے کا مقصد اپنی انڈسٹری کے دیگر ساتھیوں کو یہ بتانا تھا کہ ان حالات میں بھی کام کیا جاسکتا ہے۔‘ انھوں نے مثال دی کہ اگر کسی پارلر میں دس کرسیاں ہیں تو اسے چھ تک محدود کردیں اور سٹائلسٹ منھ پر ماسک اور ہاتھوں میں دستانے پہن کر کام کرے، وغیرہ۔

    تاہم یہ سب باتیں تب تک قبل از وقت ہیں جب تک وفاقی یا صوبائی حکومت کی جانب سے بیوٹی پارلر مالکان کو اپنے کاروبار کھولنے کی باقاعدہ اجازت نہیں مل جاتی۔

    وفاقی حکومت کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ پارلرز کھولنے سےمتعلق فیصلہ اب تک نہیں کیا گیا ہے اور جو بھی بات چیت ہوگی وہ بیوٹی پارلرایسوسی ایشن کے ساتھ شیئر کر لی جائے گی۔

  15. کراچی کے کس کس ہسپتال میں کورونا وائرس کے علاج کی سہولیات موجود ہیں؟

  16. بی بی سی اردو کا خصوصی کورونا وائرس راؤنڈ اپ، 8 مئی 2020

  17. ماؤں کے لیے یونیسیف کا پیغام: بچے کو ہاتھ لگانے سے پہلے اور بعد ہاتھ دھونا بہت ضروری

  18. بلوچستان: کوئٹہ کے بعد سب سے زیادہ مریض پشین اور قلعہ عبداللہ میں, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان میں کورونا سے اب تک سب سے زیادہ اموات کوئٹہ شہر میں ہوئی ہیں۔

    بلوچستان کے محکمہ صحت کی یومیہ رپورٹ کے مطابق اب تک بلوچستان میں 24 افراد کورونا سے ہلاک ہوئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ان میں سے 18 افراد کوئٹہ میں ہلاک ہوئے جبکہ چارافراد کوئٹہ سے متصل ضلع پشین میں ہلاک ہوئے۔

    محکمہ صحت کے مطابق باقی دو افراد میں سے ایک کی ہلاکت سبی اور دوسرے کی ہلاکت لسبیلہ میں ہوئی۔

    کوئٹہ شہر کے بعد بلوچستان میں کورونا کے مقامی منتقلی کے سب سے زیادہ کیسز افغانستان سے متصل اضلاع پشین اور قلعہ عبداللہ سے رپورٹ ہوئے ہیں۔

    محکمہ صحت کی یومیہ رپورٹ کے مطابق پشین سے کورونا کے 61 جبکہ قلعہ عبداللہ سے 30 کیسز سامنے آئے ہیں۔

    بلوچستان میں کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 1725 ہے جن میں سے 1569 مقامی منتقلی کے ہیں۔

  19. ڈی جی صحت بلوچستان: ہم نے وزیر اعلی کو کرفیو نافذ کرنے کی تجویز دی ہے, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ڈائریکٹرجنرل صحت ڈاکٹر محمد سلیم ابڑو نے خبردار کیا ہے کہ اگر صوبے میں لاک ڈاﺅن پر صحیح طرح عملدرآمد نہیں ہوا اور لوگوں نے احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کیں تو جولائی تک بلوچستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد تین لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

    کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر حالات تبدیل نہ ہوئے تو 11 جولائی تک متاثرہ افراد کی تعداد 18 لاکھ اور ستمبر کے وسط تک 95 لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

    ڈاکٹر ابڑو نے علما کرام سے کہا کہ وہ مذہبی اجتماعات کو مختصر رکھیں جبکہ سیاسی قیادت سے گزارش کی کہ وہ لوگوں سے ایس او پیز پر عملدآمد کروانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن پرعمل درآمد نہ ہونے کے بعد انھوں نے وزیراعلیٰ کو صوبے میں کرفیو نافذ کرنے اور عید سے قبل کوئٹہ کے داخلی و خارجی راستوں کو بند کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

    تاہم ان کے مطابق ’حتمی فیصلہ حکومت نے کرنا ہے۔ ہمارا کام تجویز دینا ہے عملدآمد کرنا حکومت اور انتظامیہ، سیکیورٹی فورسز کا کام ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ وزیر اعلی کو یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ کورونا کے تمام مریضوں کو ہسپتال منتقل کر لیا جائے۔

    ڈی جی صحت نے بتایا کہ اب تک بلوچستان میں 73 ڈاکٹر، 35 پیرا میڈیکساور 4 نرسز میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے جن میں سے 10 ڈاکٹر صحت یاب ہوچکے ہیں۔

  20. چین سے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے خصوصی پروازوں کی تجویز

    پاکستان کی قومی ایئر لائن چین میں موجود پاکستانی شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے خصوصی پروازیں چلانے پر غور کر رہی ہے۔

    بیجنگ میں پاکستان کے سفارت خانے کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق زیر غور تجاویز کے تحت ان پروازوں پر ٹکٹ کا خرچہ مسافر کو خود برداشت کرنا ہوگا۔

    ان پروازوں پر ایسے پاکستانیوں کو تریح دی جائے گی جن کے ویزا کا معیاد ختم ہو گیا ہے یا جن کی نوکریاں ختم کر دی گئی ہیں۔

    سفارتخانے کا کہنا ہے کہ ان پروازوں پر سفر کرنے میں دلچسپی رکھنے والے افراد بیجنگ میں پی آئی اے کے کنٹری آفس سے رجوع کر سکتے ہیں۔