آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’کورونا متاثرین کی نگرانی کے لیے آئی ایس آئی کے نظام کا استعمال‘
پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اس وبا سے 224 افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔ تاہم ملک میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کے باوجود لاہور، کراچی اور اسلام آباد سمیت دیگر شہروں میں سڑکوں پر پہلے کی نسبت زیادہ ٹریفک نظر آ رہا ہے۔
لائیو کوریج
’خبردار! اس گھر میں کورونا کا مریض موجود ہے‘
پنجاب: ماہ رمضان میں دفتری اوقات کار کا نوٹیفیکیشن جاری
حکومتِ پنجاب نے ماہ رمضان کے دوران سرکاری دفاتر کے لیے نئے دفتری اوقات کار کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق ہفتے میں پانچ دن کھلنے والے سرکاری دفاتر میں سوموار سے جمعرات تک روزانہ 10 بجے سے سہہ پہر چار بجے تک دفتری امور سر انجام دیے جائیں گے جبکہ جمعہ کو دفتری اوقات صج 10 بجے سے دوپہر ایک بجے تک ہوں گے۔
اسی طرح ہفتے میں چھ دن کھلے رہنے والے دفاتر میں سوموار سے جمعرات تک صبح 10 بجے سے سہہ پہر تین بجے تک دفتری امور سر انجام دیے جائیں گے جبکہ جمعہ کو دفتری اوقات صبح 10 بجے سے دوپہر ایک بجے تک ہوں گے۔
پاکستان: شرح اموات 2.1 فیصد، صحت یابی کی شرح 22.1 فیصد
پاکستان میں اب تک کورونا وائرس سے متاثرہ 209 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
اگرچہ خیبرپختونخوا میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد پنجاب اور سندھ کی نسبت کافی کم ہے تاہم وبا کے باعث ہونے والی اموات میں یہ صوبہ 80 ہلاکتوں کے ساتھ سرِفہرست ہے۔
ہلاکتوں کی دوسری بڑی تعداد صوبہ سندھ میں رپورٹ ہوئی ہے جہاں اب تک 66 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ پنجاب میں اگرچہ متاثرین کی تعداد سب سے زیادہ ہے تاہم ہلاکتوں کی بات کی جائے تو یہ صوبہ 51 اموات کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔
اسی طرح بلوچستان میں چھ جبکہ گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں اب تک تین، تین افراد کورونا وائرس کے ہاتھوں زندگی سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور پر شرح اموات 2.1 فیصد ہے جبکہ صحت یاب ہونے والوں کا تناسب 22.1 فیصد ہے۔
پاکستان: کورونا سے متاثرہ 2156 مریض اب تک صحت یاب ہو چکے ہیں
تازہ ترین سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 2156 ہو چکی ہے۔
کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے پنجاب میں سب سے زیادہ 742 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
اسی طرح سندھ میں 665، خیبرپختونخوا میں 335، گلگت بلتستان میں 198، بلوچستان میں 167، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 26 جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کورونا کے 23 مریض شفا یاب ہو چکے ہیں۔
اسلام آباد: بھوکے بندروں کے لیے خوراک کا بندوبست
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے مقامی رہنماؤں نے مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع ہل روڈ پر آنے والے بندروں کے لیے خوارک کا بندوبست کیا ہے۔
پشاور: لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر 245 شہری اور دکاندار گرفتار
صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 245 شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ احکامات کی خلاف ورزی پر چھ ڈینٹل کلینک سیل کیے گئے ہیں جبکہ باہر سے دکانوں کے شٹر بند کر کے اندر کام کرنے والے آٹھ درزیوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
پشاور کے مختلف بازاروں میں غیر ضروری اشیا کی دکانیں کھولنے والے بیشتر دکاندار بھی گرفتار ہوئے ہیں۔ پشاور پولیس کے مطابق شہری انتظامیہ کے افسران نے شہر کے مختلف حصوں میں لاک ڈاؤن پر عملدرآمد یقینی بنانے کے سلسلے میں یہ کاروائیاں کی ہیں اور صوبائی حکومت کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف سخت ایکشن لیا گیا ہے۔
پشاور کے ڈپٹی کمشنر محمد علی اصغر کا کہنا ہے کہ تمام شہری صوبائی حکومت اور انتظامیہ سے تعاون کریں اور گھروں سے غیرضروری طور پر باہر نکلنے اور دکانیں کھولنے سے گریز کریں۔
مستحق متاثرین کے لیے بڑا پیکج متوقع
وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ آج یعنی بدھ کو نیشل کوآرڈینینن کمیٹی کے اجلاس میں کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن سے متاثرہ ضرورت مند طبقے کے لیے ایک بڑا پیکج پیش کرے گی۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق اس حکومتی پیش رفت کے بارے میں ومیر مملکت برائے صنعت و تجارت حماد اظہر نے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزاتِ خزانہ اور سٹیٹ بینک کے ساتھ ان لوگوں کے لیے قرض سکیم متعارف کروانے کے لیے کام کر رہی ہے جن کے پاس نقصان پورا کرنے کے لیے کوئی اور ذریعہ نہیں ہے۔
بریکنگ, پاکستان میں متاثرین 10 ہزار کے قریب، اموات 209, 66 فیصد متاثرین کو وائرس مقامی طور پر لگا
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے بدھ کی صبح جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9749 تک پہنچ گئی ہے۔
مجموعی تعداد میں اضافہ اسلام آباد میں نو نئے مریضوں کی تصدیق کے بعد ہوا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں کووڈ-19 کی مقامی منتقلی کی شرح 66 فیصد ہو چکی ہے جبکہ بیرونِ ملک سے وائرس کی منتقلی 34 فیصد ہے۔
اب تک سامنے آنے والے 9,749 متاثرین کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
- پنجاب: 4328
- سندھ: 3053
- خیبر پختونخوا: 1345
- بلوچستان: 495
- گلگت بلتستان: 283
- اسلام آباد: 194
- پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر: 51
منگل کو 17 ہلاکتوں کے اضافے کے بعد پاکستان میں اب تک 209 افراد اس وبا میں ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 58 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا 80 ہلاکتوں کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ سندھ میں 66 اور پنجاب میں 50 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
اس کے علاوہ بلوچستان میں چھ جبکہ اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں تین، تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق اس وقت ملک کے 597 ہسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کا علاج ہو رہا ہے اور 2521 مریض زیر علاج ہیں۔
جہاں تک کورونا ٹیسٹوں کی بات ہے تو 21 اپریل تک 118020 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
’روبینہ کی موت کے بعد گاؤں میں راشن آ گیا‘
مفتی منیب: میرے چاند کو کچھ نہ کہو
عوام کو ریلیف پہنچانے کے لیے دن رات کوشاں ہوں، سپیکر قومی سمبلی
سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ٹوئٹر پر اپنی سماجی سرگرمیوں اور کورونا کی وبا کے دوران نادار اور مستحق طبقے میں امداد کی تقسیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عوام کو ریلیف پہنچانے کے لیے کوشاں ہیں۔
کووڈ 19 کے خلاف جنگ میں کام کرنے والے ایدھی فاؤنڈیشن کے رضاکار
پاکستان میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ کے بعد ملک کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس ایدھی فاؤنڈیشن نے اپنی خصوصی ٹیمیں تیار کی ہیں۔ ان میں تین اقسام کی ٹیمیں ہیں ایک مریض کو ہسپتال منتقل کرتی ہے، دوسری انتقال کے بعد میت پلاسٹک میں لپیٹ کر سرد خانے پہنچاتی ہے جہاں انھیں غسل و کفن دیا جاتا ہے۔
مکمل خبر پڑھیے: ’کوئی کھانسے بھی تو کال آتی ہے کہ کورونا کامریض ہے‘
راولپنڈی و اسلام آباد میں ’سپر سپریڈرز‘ کی بےاحتیاطی نے کیسے درجنوں افراد کو متاثر کیا؟
راولپنڈی کے علاقے گوجر خان میں ایک ہی خاندان کے 16 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے۔ انھیں یہ وائرس اس وقت منتقل ہوا جب ان کی ایک رشتہ دار شائمہ طفیل (فرضی نام) فرانس سے پاکستان پہنچیں۔
مکمل خبر پڑھیے: ’خبردار! اس گھر میں کورونا کا مریض موجود ہے‘
اگر رمضان میں کورونا پھیلا تو مساجد بند کرنا پڑیں گی، عمران خان
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عوام کو مساجد میں جانے سے زبردستی نہیں روکا جا سکتا لیکن اگر رمضان کے مہینے میں کورونا وائرس پھیلا تو مساجد بند کرنا پڑیں گی۔
منگل کو کورونا وائرس کے حوالے سے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری قوم مساجد میں جانا چاہتی ہے تو کیا ہم ان لوگوں سے زبردستی کہیں کہ آپ مساجد میں نہ جائیں اور کیا پولیس مساجد میں جانے والوں کو جیلوں میں ڈالے۔ ایک آزاد معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا بلکہ لوگ خود فیصلہ کرتے ہیں کہ ملک کے لیے کیا بہتر ہے اور کیا نہیں‘۔
عمران خان نے پاکستانی عوام سے درخواست کی کہ وہ اپنے گھروں میں رہ کر ہی عبادت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے باقی مسلمان ممالک میں بھی عوام کو گھروں میں عبادت کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے لیکن اگر عوام نے مسجد میں جانا ہے تو طے شدہ شرائط پر مکمل طریقے سے عمل کرنا ہو گا ورنہ ’اگر رمضان میں وائرس پھیلتا ہے تو ہمیں ایکشن لیتے ہوئے مساجد کو بند کرنا ہو گا۔‘
لاک ڈاؤن کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ وہ ممالک جہاں روزانہ سینکڑوں لوگ مر رہے ہیں وہاں بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کی بات کی جا رہی ہے۔
’جن ملکوں میں دن میں 500، 600 لوگ مر رہے ہیں، انھوں نے بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کیا ہے، کئی چیزیں کھول دی ہیں، آسانیاں پیدا کی ہیں تاکہ لوگ باہر نکل سکیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی معاشرے میں لاک ڈاؤن غیر معینہ مدت تک نہیں چل سکتا کیونکہ کسی کو بھی علم نہیں کہ کورونا کی وبا پر قابو پانے میں کتنا وقت لگے گا۔
’کسی کو بھی نہیں پتا کہ ایک یا دو مہینے کے بعد کیا ہو گا اور یہ بھی نہیں پتا کہ اگر بالفرض آج یہ کیس کم بھی ہو گئے تو ان کے ایک مہینے بعد دوبارہ بڑھنے کا بھی اندیشہ ہے، اس لیے دنیا کی تمام اقوام لاک ڈاؤن کر کے عوام کو بچانے کے ساتھ ساتھ ملک چلانے کے بارے میں بھی سوچ رہی ہیں۔‘
جبکہ دوسری جانب فیصل ایدھی کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد وزیرِ اعظم عمران خان نے کورونا کا ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیرِ اعظم کے فوکل پرسن برائے کورونا وائرس ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے یہ فیصلہ کیا ہے۔
۔یاد رہے کہ فیصل ایدھی 15 اپریل کو وزیر اعظم سے ملے تھے اور انہیں کورونا ریلیف فنڈ کے لیے رقم عطیہ کی تھی۔
اپریل میں کورونا کے متاثرین اور ہلاکتوں میں تیزی سے اضافہ
بریکنگ, پاکستان میں متاثرین 9740، ہلاکتیں 209 ہو گئیں, 2150 صحت یاب
پنجاب میں منگل کی شب 73 نئے مریضوں کی تصدیق کے بعد پاکستان میں کووڈ-19 کے متاثرین کی کل تعداد 9740 تک پہنچ گئی ہے جبکہ ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بھی 209 ہو گئی ہے۔
منگل کو ملک میں کورونا کے 529 مریض سامنے آئے جبکہ ہلاکتوں میں بھی 17 کا اضافہ دیکھا گیا۔
پنجاب میں 73 نئے مریض، ہلاکتیں 51 ہو گئیں
بریکنگ, پاکستان میں منگل کو نئے 452 مریض اور مزید 14 ہلاکتیں
منگل کی رات 12 بجے تک کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں کووڈ-19 کے متاثرین کی کل تعداد 9666 تک پہنچ گئی ہے جبکہ ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بھی 200 سے بڑھ گئی ہے۔
منگل کو پاکستان میں 452 نئے مریض سامنے آئے جبکہ اس وائرس سے مزید 14 افراد ہلاک ہوئے۔
کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے؟
کووڈ 19 کی وبا 2019 کےآخر میں پھیلی۔ لیکن ایسی علامات موجود ہیں کہ اس کے کچھ مریضوں کو مکمل صحت یاب ہونے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔
ایک مریض کورونا سے صحت یاب کب ہوتا ہے یہ بیماری کی شدت پر منحصر ہے۔ کچھ لوگ اس بیماری سے جلدی صحت یاب ہوجاتے ہیں لیکن یہ ممکن ہے کہ کچھ مریضوں میں اس سے پیدا ہونے والے مسائل طویل مدتی ہوں۔