اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی میں کورونا
وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں
لاک ڈاؤن کو ایک مہینے سے زیادہ کا وقت گزر گیا ہے۔
شروع میں تو اس لاک ڈاؤن پر عمل
درآمد دیکھنے کو ملا یعنی اگر کوئی شخص اسلام آباد کی حدود میں داخل ہوتا تو پہلے اس
کا شناختی کارڈ چیک کیا جاتا اور اگر اس کا پتہ جڑواں شہروں کا نہیں ہوتا تو پھر اس سے اسلام آباد
آنے کی وجوہات پوچھی جاتیں۔
تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان قواعد پر عملدرآمد میں نرمی آ گئی ہے۔
پہلے مرحلے میں مختلف شاہراہوں پر لگائے گئے ناکے
اور ان پر تعینات عملے کی تعداد میں کمی کی گئی اور پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے
ان افراد سے بھی پوچھ گچھ کرنا چھوڑ دی جو وفاقی دارالحکومت میں داخل ہو رہے ہیں۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے ایکسائز اینڈ رجسٹریشن
افس کے مطابق دونوں شہروں میں 30 لاکھ سے زیادہ نجی گاڑیاں رجسٹر ہیں۔
عام دنوں میں ہر روز پانچ لاکھ سے زیادہ گاڑیاں وفاقی دارالحکومت میں داخل ہوتی تھیں تاہم اب یہ تعداد لاک ایک لاکھ کے قریب ہے۔
جڑواں شہروں کی مختف مارکیٹس بھی دوبارہ کھلنا شروع ہوگئی ہیں اور ایسے کاروبار بھی کھل رہے ہیں جن پر اب تک پابندی عائد ہے مثلاً ملبوسات، زیورات اور بچوں کے کھلونوں کی دوکانیں۔
اس معاملے پر جب اسلام آباد اور راولپنڈی کی انتظامیہ کے حکام سے رابطہ
کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بساط کے مطابق لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کروا رہے ہیں اور خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گیے ہیں۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ لاک
ڈاؤن پر اس وقت تک عمل درآمد نہیں ہوسکتا جب تک عوام انتظامیہ کا ساتھ نہ دے۔
اس عرصے کے دوران اگر کسی معاملے میں لاک ڈاؤن پر مکمل عمل درآمد ہوتا
ہوا دکھائی دیا ہے وہ پبلک ٹرانسپورٹ کا محکمہ ہے اور جڑواں شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ
مکمل طور پر بند ہے۔