پاکستان: مصدقہ متاثرین 5232، ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 91 ہو گئی

پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی مجموعی تعداد 5232 ہو چکی ہے جبکہ کل اموات 91 ہو گئی ہیں۔ معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ اگر احتیاط نہ کی گئی تو ملک میں کورونا کے باعث شرح اموات مزید بڑھ سکتی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, سندھ میں 104 نئے مریض، وزیر اعلیٰ کے مطابق ’صورتحال خراب ہو رہی ہے‘, صوبے میں کل 1318 متاثرین، 28 اموات

    sindh

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تصدیق کی ہے کہ صوبے میں 104 نئے مریضوں کے اضافے کے بعد متاثرین کی کل تعداد 1318 ہوگئی ہے۔

    اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بات انتہائی تشویش ناک ہے کہ آج کورونا کے سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔‘

    اب تک صوبے میں کورونا سے 28 اموات ہوئی ہیں جبکہ 371 افراد صحتیاب ہو کر اپنے گھروں کو جا چکے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 104 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔ 531 کورونا ٹیسٹ میں سے 104 لوگوں کے نتائج مثبت آئے ہیں جو پورے دن کی ٹیسٹنگ کا تقریباً 20 فیصد بنتا ہے۔

    ’یہ دنیا کی سب سے زیادہ اوسط ہے جو کہ تشویش کا باعث ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں چھ اموات ہوئی ہیں جو کہ زیادہ ہیں۔ ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صورتحال خراب ہو رہی ہے۔‘

    سندھ میں 104 نئے مریض، وزیر اعلیٰ کے مطابق ’صورتحال خراب ہو رہی ہے‘

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مراد علی شاہ نے بتایا کہ صورتحال خراب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ لاک ڈائون پر سختی سے عمل نہیں ہو رہا۔

    ’ملیر میں لاک ڈائون کافی کمزور تھا۔ آج مزید سخت کرنے کی ہدایت دی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ حیدرآباد میں بھی متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے لاک ڈاؤن سخت کیا جا رہا ہے۔

  2. ’بیرون ملک تبلیغی جماعت کے لوگ ہمارے رابطے میں ہیں‘

    ’بیرون ملک تبلیغی جماعت کے تمام لوگ ہمارے رابطے میں ہیں‘

    ،تصویر کا ذریعہGovt of Pakistan

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت وزارت خارجہ میں سمندر پار وطن واپسی کے منتظر پاکستانیوں کی جلد واپسی کے سلسلے میں ایک خصوصی اجلاس سنیچر کو ہوا۔

    اجلاس میں چیئرمین پارلیمانی سب کمیٹی برائے مسائل تبلیغی جماعت شہریار خان آفریدی، سپیشل سیکرٹری خارجہ معظم علی خان، ڈی جی نیشنل کرایسز مینجمنٹ یونٹ سلمان اطہر اور وزارت خارجہ کے سینیئر افسران نے شرکت کی۔

    اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’ہم نے بیرونی ممالک سے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے متفقہ طور پر واضح ایس او پی اور پروٹوکول مرتب کیے ہیں۔ اب تک ہم 9 خصوصی پروازوں کے ذریعے بیرون ملک مقیم 1600 سے زائد پاکستانیوں کو وطن واپس لا چکے ہیں۔‘

    ’ہزاروں پاکستانی ابھی تک وطن واپسی کے منتظر ہیں۔۔۔ میں نے تمام پاکستانی سفارتخانوں کو اپنے پاکستانی بھائیوں کا خصوصی خیال رکھنے کی ہدایات دی ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ کینیا، تنزانیہ، سوڈان اور ’جہاں جہاں بھی ہمارے تبلیغی جماعت کے لوگ موجود ہیں ہمارے ایمبیسڈرز ان کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں۔۔۔ زائرین کی جلد وطن واپسی کے لیے بھی لائحہ عمل طے کیا جا رہا ہے۔‘

  3. کورونا ٹیسٹنگ: پاکستان کا موازنہ دوسرے ممالک سے

    کورونا ٹیسٹنگ: پاکستان کا موازنہ دوسرے ممالک سے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موجود سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہر ایک کروڑ افراد میں سے 2475 لوگوں کے کورونا ٹیسٹ ہوئے ہیں۔

    دیگر ممالک، جہاں کووڈ 19 کے زیادہ متاثرین سامنے آئے ہیں، میں یہ تعداد مختلف ہے۔

    چین میں ہر ایک کروڑ افراد میں سے 159,930 افراد کے کورونا ٹیسٹ ہوچکے ہیں۔ یہ تعداد اٹلی میں 141,480، جنوبی کوریا میں 92,310، ایران میں 25,380، جاپان میں 4870، تھائی لینڈ میں 3410 اور سری لنکا میں 1399 ہے۔

    کورونا ٹیسٹنگ: پاکستان کا موازنہ دوسرے ممالک سے

    ،تصویر کا ذریعہWHO

  4. بریکنگ, راولاکوٹ: پانچ سالہ بچی میں وائرس کی تصدیق، پاکستان میں کل مریض 4789, ایم اے جرال، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، صحافی

    پاکستان

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کورونا وائرس سے متعلق قائم محکمہ صحت کے کنڑول روم کے فوکل پرسن ڈاکٹر ندیم کے مطابق راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والی ایک پانچ سالہ بچی میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 35 ہوگی ہے۔

    ضلع راولاکوٹ کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق اس بچی کی عمر پانچ برس ہے جس کے چچا مارچ کے آخری ہفتے میں راولاکوٹ آنے والے کورونا وائرس سے متاثرہ مریض سے ملے تھے۔

    ان کے مطابق اس سے چچا اور بچی دونوں متاثر ہوئے اور ان میں وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے۔ دیگر مزید افراد سمیت انھیں کچھ دن قبل قرنطینہ مرکز منتقل کیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ یہ اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والی پانچ برس کی دوسری بچی ہے۔ اس سے قبل بھمبر سے تعلق رکھنے والی ایک بچی بھی متاثر ہوئی تھی۔

    پنجاب کا صوبائی دارالحکومت لاہور کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ شہر ہے جہاں 373 عام شہریوں اور 80 قیدیوں میں اس وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔

    راولاکوٹ: پانچ سالہ بچی میں وائرس کی تصدیق، پاکستان میں کل مریض 4789

    ،تصویر کا ذریعہMA JARRAL

    دوسری جانب ڈپٹی کمشنر مظفرآباد بدر منیر کے مطابق کئی روز سے ایمز ہسپتال مظفرآباد میں داخل شخص میں کورونا کی تشخیص کے بعد دارالحکومت مظفرآباد سے ان کی تیمارداری کرنے والے 43 مشتبہ افراد کو قرنطینہ مرکز لایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ مذکورہ شخص کے نتائج مثبت آنے پر عباس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسسز کے 61 ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کو قرنطینہ مرکز منتقل کیا گیا تھا۔

    اس خطے کے محکمہ داخلہ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کے تحت زراعت میں استعمال ہونی والی مشینری کی موومنٹ اور اس مشنیری کی ورکشاپ اور سپئیر پارٹس کی دکانیں صبح آٹھ سے شام چھ بجے تک کھلی رہیں گی۔

    لاک ڈاون کے دروان پتنگ بازی کے بڑھتے رجحان کے پیشِ نظر مختلف اضلاع میں انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے پتنگ بازی پر پابندی اور اس کے خلاف ممکنہ قانونی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

    حکام کے مطابق اب تک اس خطے کے 800 کے لگ بھگ مشتبہ افراد کو قرنطینہ مراکز لایا گیا ہے جس میں سے دو افراد کے کورونا ٹیسٹ کے نتائج فی الوقت موصول نہیں ہوئے جبکہ ایک مریض صحتیاب ہوچکا ہے۔

  5. کل متاثرین میں 73.1 فیصد مرد حضرات

    سب سے زیادہ متاثرہ افراد 20 سے 39 سال کی عمر کے درمیان

    ،تصویر کا ذریعہcovid.gov.pk

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں خواتین سے زیادہ مرد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ کل متاثرین میں مردوں کی شرح 73.1 فیصد ہے۔ جبکہ خواتین کی شرح 26.9 ہے۔

    دوسری طرف 20 سے 30 سال کی عمر کے افراد میں سب سے زیادہ کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی ہے۔ کل مصدقہ متاثرین میں سے 19.71 فیصد افراد ایسے ہیں جن کی عمر 20 سے 29 سال کے درمیان ہے۔ جبکہ 18.05 افراد کی عمر 30 سے 39 کے درمیان ہے۔

  6. گذشتہ روز 190 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی

    متاثرین

    ،تصویر کا ذریعہcovid.gov.pk

    ،تصویر کا کیپشنپاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر کورونا وائرس کے نئے متاثرین

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں پاکستان میں کورونا وائرس کے 190 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ مجموعی تعداد 2788 ہے۔

    جمعے (10 اپریل) کو آنے والے 190 نئے مریض گذشتہ پانچ دنوں کے مقابلے میں سب سے کم ہیں۔

    شہر کورونا

    ،تصویر کا ذریعہcovid.gov.pk

    ،تصویر کا کیپشنشہروں کے اعتبار سے کورونا وائرس کے متاثرین

    ملک کے کل متاثرین میں سے سب سے زیادہ 21.55 فیصد متاثرین کا تعلق لاہور سے ہے۔

    اس کے بعد فہرست میں کراچی، راولپنڈی، کوئٹہ اور حیدر آباد آتے ہیں۔

  7. لاہور میں امدادی رقوم کی تقسیم کا آغاز

    لاہور میں امدادی رقوم کی تقسیم کا آغاز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حکومت کے احساس ریلیف پروگرام کے تحت کورونا وائرس متاثرین کے لیے لاہور میں آج امدادی رقوم کی تقسیم کا آغاز کیا جائے گا۔

    اس سلسلے میں ڈی آئی جی آپریشنز رائے بابر سعید کی زیر صدارت ڈویژنل ایس پیز کا ویڈیو لنک اجلاس ہوا۔ اس میں ایس ایس پی آپریشنز محمد نوید،ایس پی سکیورٹی بلال ظفر سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

    ان کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن سے متاثرہ افراد میں مالی امداد کی تقسیم کے دوران ایمرجنسی کیش امداد مراکز پر سکیورٹی کے سخت انتظامات عمل میں لائے جائیں گے۔

    رائے بابر سعید نے ہدایت جاری کی ہے کہ مراکز پر نظم و ضبط یقینی بنایا جائے اور دفعہ 144 کی پابندی اور قطار مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے مالی امداد کی پُرامن ماحول میں تقسیم کا خیال رکھا جائے۔

    انھوں نے کہا ہے کہ کسی بھی شخص کو بد نظمی اور افراتفری کا باعث نہ بننے دیا جائے اور امداد کی تقسیم کے دوران نقص امن کا باعث بننے والے عناصر سے سختی سے پیش آیا جائے۔

  8. چین کی طرف سے پاکستان کے لیے 50 وینٹی لیٹرز

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    چین میں پاکستان کی سفیر نغمانہ ہاشمی کا کہنا ہے کہ چین کے شہر چینگدو سے اسلام آباد کے لیے جمعے کو ایک جہاز روانہ ہوا جس میں 50 وینٹی لیٹر اور دیگر عطیہ کردہ طبی سامان موجود ہے۔

    یہ جہاز اب اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔

  9. بریکنگ, ’48 فیصد متاثرین میں وائرس کی مقامی منتقلی ہوئی‘

    پاکستان میں 48 فیصد متاثرین میں وائرس کی مقامی منتقلی ہوئی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے مطابق پاکستان میں اس وقت کورونا وائرس کے 4788 متاثرین موجود ہیں۔

    اس کا کہنا ہے کہ متاثرین میں سے 52 فیصد ایسے افراد ہیں جنھوں نے بیرون ملک سفر کیا جبکہ 48 فیصد میں وائرس کی مقامی منتقلی ہوئی۔

    اب تک ملک میں کووڈ 19 کی تشخیص کے لیے 57 ہزار 836 ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 2475 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

    اس بیماری کی روک تھام کے لیے ملک میں 698 ہسپتال کام کر رہے ہیں جبکہ پاکستان بھر میں اس کے لیے 11508 بستر مختص کیے گئے ہیں۔

    کورونا کے 1411 مریض ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ ان میں سے 50 کی حالت تشویشناک ہے۔

    پاکستان میں 350 قرنطینہ مراکز قائم کیے گئے ہیں اور یہاں فی الحال 17393 افراد کو رکھا گیا ہے۔

  10. اسلام آباد میں متاثرین کی تعداد 113 ہوگئی

    اسلام آباد میں متاثرین کی تعداد 113 ہوگئی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا وائرس کے چھ نئے مریضوں کی تصدیق کے بعد یہاں متاثرین کی مجموعی تعداد 113 ہوگئی ہے۔

    اسلام آباد میں اب تک ایک ہلاکت اور 10 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔

  11. ’چھوٹی صنعتیں صوبوں کی مشاورت سے کھولی جائیں گی‘

    ’چھوٹی صنعتیں صوبوں کی مشاورت سے کھولی جائیں گی‘

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر کا دعویٰ ہے کہ وفاقی حکومت نہ صرف بے روزگار اور ضرورت مند لوگوں کو مالی مدد فراہم کر رہی ہے بلکہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے محنت کشوں کے لیے روزگار کی فراہمی کے تناظرمیں تعمیراتی صنعت بھی کھول رہی ہے۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت لاک ڈائون کے دوران روزمرہ استعمال کی اشیا کی فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

    وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ طے شدہ قواعد و ضوابط کے مطابق صوبوں کی مشاورت سے چھوٹی صنعتیں بھی بتدریج کھولی جائیں گی۔

    جمعے کو انھوں نے اعلان کیا تھا کہ حکومت نے ملک بھر میں ضروری سامان کی بلا رکاوٹ نقل و حرکت کی اجازت دے دی ہے۔

  12. لاہور کے کل 80 قیدیوں میں کورونا وائرس کی تصدیق, پنجاب میں متاثرین کی تعداد 2336 ہوگئی

    لاہور کے کل 80 قیدیوں میں کورونا وائرس کی تصدیق

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں کووڈ 19 سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس کے 49 نئے مریضوں کے اضافے کے بعد متاثرین کی کل تعداد 2336 ہوگئی ہے۔

    صوبے میں اب تک کورونا سے 19 اموات پیش آئی ہیں جبکہ 39 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔

    پنجاب میں صوبائی محکمہ صحت کے مطابق ان 2336 متاثرین کی تقسیم کچھ اس طرح ہے: 701 زائرین، 733 رائے ونڈ تبلیغی اجتماع سے منسلک افراد، 80 قیدی اور 822 عام شہری۔

    زائرین کی تفصیل

    • ڈی جی خان میں 221 زائرین، ملتان میں 457 زائرین اور فیصل آباد میں 23 زائرین میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    رائے ونڈ مرکز سمیت تبلیغی ارکان کی تفصیل

    • رائے ونڈ مرکز میں 461، شیخوپورہ 8، منڈی بہاوالدین میں 13، سرگودھا 22، میانوالی 7، وہاڑی 25، راولپنڈی میں 6 اور جہلم میں 35 تبلیغی ارکان میں وائرس تصدیق ہوئی ہے۔
    • ننکانہ 2، گجرات 10، گوجرانوالہ 2، رحیم یار خان 4، بھکر 47، خوشاب 2، راجن پور 1، حافظ آباد 35، سیالکوٹ 19، لیہ 16، ناروال 3، بہاولنگر 9 اور فیصل آباد میں 6 تبلیغی ارکان میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے۔

    عام شہروں میں مریضوں کی تفصیل

    • عام شہروں میں سب سے زیادہ لاہور میں کورونا وائرس کے 373 مصدقہ مریض ہیں۔
    • ننکانہ میں 8، قصور 9، شیخوپورہ 10، راولپنڈی 64، جہلم 29، اٹک 1،چکوال 4، گوجرانوالہ 38، سیالکوٹ 27، ناروال 8 اور گجرات میں 99 شہریوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
    • حافظ آباد میں 12، منڈی بہاوالدین 8، ملتان 4، وہاڑی 13، فیصل آباد 28، چینیوٹ 8، ٹوبہ 2، جھنگ 1، رحیم یار خان 22 اور سرگودھا میں 8 شہریوں میں کووڈ 19 کی تصدیق ہوئی ہے۔
    • میانوالی میں 10، خوشاب 3، بہاولنگر 5، بہاولپور 5، لودھراں 3، ڈی جی خان 18 اور لیہ اور اوکاڑہ میں ایک، ایک مصدقہ مریض کی تصدیق ہوئی ہے۔
  13. کورونا وائرس: پاکستان کی موجودہ صورتحال, 4782 متاثرین، 72 اموات

    کورونا وائرس: پاکستان کی موجودہ صورتحال

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • اب تک پاکستان میں کورونا وائرس کے 4782 متاثرین کی تصدیق ہوچکی ہے۔
    • کووڈ 19 سے مجموعی طور پر 72 اموات ہوئی ہیں جبکہ 759 افراد اس بیماری کی تشخیص کے بعد اب صحتیاب ہوچکے ہیں۔
    • سب سے زیادہ متاثرین ملک میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ہیں۔ ان کی تعداد 2336 ہے۔
    • پنجاب کا صوبائی دارالحکومت لاہور سب سے زیادہ متاثرہ شہر ہے جہاں 373 عام شہریوں اور 80 قیدیوں میں اس وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔
    • سب سے زیادہ 25 اموات صوبہ خیبرپختونخوا میں پیش آئی ہیں۔
    • صوبہ سندھ میں کورونا وائرس کے 358 مصدقہ متاثرین صحتیاب ہونے کے بعد گھروں میں موجود ہیں۔
    • حکومت نے ملک بھر میں ضروری سامان کی بلا رکاوٹ نقل و حرکت کی اجازت دے دی ہے۔
    • وزیر اعظم عمران خان نے جمعے کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’ہمیں برآمدات کی عادت پڑ چکی ہے۔ ہمارے ملک میں آرام سے یہ چیزیں بن سکتی ہیں، کوئی مشکل نہیں ہے۔ جو ملک ایٹم بم بنا سکتا ہے اس کے لیے وینٹی لیٹر بنانا کتنا مشکل ہے۔‘
    • حکومتِ پاکستان نے پانچ مسافروں تک کی گنجائش والی نجی پروازیں اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں سے بحال کر دی ہیں۔
    • آئندہ ہفتے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور تھائی لینڈ سمیت دیگر ممالک میں پھنسے تقریباً 2000 پاکستانیوں کی وطن واپسی کا اعلان کیا گیا ہے۔
    • خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے تعطیلات 18 اپریل تک بڑھا دی ہیں۔
  14. کورونا وائرس: بیماری کے خوف سے کیسے نمٹیں؟

    کورونا وائرس نے دنیا کو غیر یقینی کی صورتحال میں ڈال دیا ہے اور اس وبا کے متعلق مسلسل خبریں بڑی بے رحم لگ سکتی ہیں۔ یہ سب لوگوں کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہو سکتی ہے، خصوصاً ان افراد کی صحت پر جن میں پہلے ہی اضطراب پایہ جاتا ہے یا انھیں او سی ڈی ہے۔

    کورونا وائرس

    ،تصویر کا ذریعہEMMA RUSSELL

  15. کورونا وائرس: خیبر پختونخوا میں اپنے مریض کی نماز جنازہ خود پڑھوانے والا ڈاکٹر

    کورونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پر موجود ڈاکٹر جہاں اس کڑے وقت میں لوگوں کو طبی امداد فراہم کر رہے ہیں وہاں کچھ ڈاکٹر انسانیت کی خدمت میں چار قدم آگے نظر آتے ہیں۔

    کورونا وائرس
  16. کینیڈا: لاک ڈاؤن کی کہانی، ایک پاکستانی کی زبانی

    دنیا بھر کی طرح کینیڈا میں بھی کورونا وائرس کے بعد لاک ڈاون جاری ہے۔ کینیڈا میں موجود ایک پاکستانی صحافی محسن عباس نے اس علاقے کے حالات بتائے جہاں مسلم اور ایشیائی کمیونٹی کثیر تعداد میں مقیم ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے دیکھیے ہمارے ساتھی بلال احمد کی یہ رپورٹ۔۔۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  17. پنجاب میں 49 نئے مریض، متاثرین کی کل تعداد 2336 ہوگئی

    پنجاب میں 49 نئے مریض، متاثرین کی کل تعداد 2336 ہوگئی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں کووڈ 19 سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس کے 49 نئے مریضوں کے اضافے کے بعد متاثرین کی کل تعداد 2336 ہوگئی ہے۔

    صوبے میں اب تک کورونا سے 19 اموات پیش آئی ہیں جبکہ 39 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔

    پنجاب میں صوبائی محکمہ صحت کے مطابق ان 2336 متاثرین کی تقسیم کچھ اس طرح ہے: 701 زائرین، 733 رائے ونڈ تبلیغی اجتماع سے منسلک افراد، 80 قیدی اور 822 عام شہری۔

    زائرین کی تفصیل

    • ڈی جی خان میں 221 زائرین، ملتان میں 457 زائرین اور فیصل آباد میں 23 زائرین میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    رائے ونڈ مرکز سمیت تبلیغی ارکان کی تفصیل

    • رائے ونڈ مرکز میں 461، شیخوپورہ 8، منڈی بہاوالدین میں 13، سرگودھا 22، میانوالی 7، وہاڑی 25، راولپنڈی میں 6 اور جہلم میں 35 تبلیغی ارکان میں وائرس تصدیق ہوئی ہے۔
    • ننکانہ 2، گجرات 10، گوجرانوالہ 2، رحیم یار خان 4، بھکر 47، خوشاب 2، راجن پور 1، حافظ آباد 35، سیالکوٹ 19، لیہ 16، ناروال 3، بہاولنگر 9 اور فیصل آباد میں 6 تبلیغی ارکان میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے۔

    عام شہروں میں مریضوں کی تفصیل

    • عام شہروں میں سب سے زیادہ لاہور میں کورونا وائرس کے 373 مصدقہ مریض ہیں۔
    • ننکانہ میں 8، قصور 9، شیخوپورہ 10، راولپنڈی 64، جہلم 29، اٹک 1،چکوال 4، گوجرانوالہ 38، سیالکوٹ 27، ناروال 8 اور گجرات میں 99 شہریوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
    • حافظ آباد میں 12، منڈی بہاوالدین 8، ملتان 4، وہاڑی 13، فیصل آباد 28، چینیوٹ 8، ٹوبہ 2، جھنگ 1، رحیم یار خان 22 اور سرگودھا میں 8 شہریوں میں کووڈ 19 کی تصدیق ہوئی ہے۔
    • میانوالی میں 10، خوشاب 3، بہاولنگر 5، بہاولپور 5، لودھراں 3، ڈی جی خان 18 اور لیہ اور اوکاڑہ میں ایک، ایک مصدقہ مریض کی تصدیق ہوئی ہے۔
  18. کورونا وائرس: پاکستان کی تازہ صورتحال

    کورونا وائرس: پاکستان کی تازہ صورتحال

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • اب تک پاکستان میں کورونا وائرس کے 4782 متاثرین موجود ہیں۔
    • کووڈ 19 سے کل 72 اموات ہوئی ہیں جبکہ 759 افراد اس بیماری کی تشخیص کے بعد اب صحتیاب ہوچکے ہیں۔
    • سب سے زیادہ متاثرین ملک میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ہیں۔ ان کی تعداد 2336 ہے۔
    • پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور سب سے زیادہ متاثرہ شہر ہے جہاں 373 عام شہریوں اور 80 قیدیوں میں اس وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔
    • سب سے زیادہ 25 اموات صوبہ خیبرپختونخوا میں پیش آئی ہیں۔
    • صوبہ سندھ میں کورونا وائرس کے 358 مصدقہ متاثرین صحتیاب ہونے کے بعد گھروں میں موجود ہیں۔
    • حکومت نے ملک بھر میں ضروری سامان کی بلا رکاوٹ نقل و حرکت کی اجازت دے دی ہے۔
    • حکومتِ پاکستان نے پانچ مسافروں تک کی گنجائش والی نجی پروازیں اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں سے بحال کر دی ہیں۔
    • آئندہ ہفتے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور تھائی لینڈ سمیت دیگر ممالک میں پھنسے تقریباً 2000 پاکستانیوں کی وطن واپسی کا اعلان کیا گیا ہے۔
    • خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے تعطیلات 18 اپریل تک بڑھا دی ہیں۔
  19. عمران خان: جو ملک ایٹم بم بنا سکتا ہے اس کے لیے وینٹی لیٹر بنانا کتنا مشکل ہے

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہRADIO PAKISTAN

    وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے زیادہ تر سامان درآمد کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان ایک جوہری ملک ہے جس نے ایٹم بم بنا لیا تو اس کے لیے وینٹی لیٹرز اور ٹیسٹنگ کٹس بنانا مشکل نہیں ہونا چاہیے۔

    کورونا ریلیف فنڈ کے حوالے سے 92 نیوز چینل کی لائیو ٹیلی تھون میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں برآمدات کی عادت پڑ چکی ہے۔ ہمارے ملک میں آرام سے یہ چیزیں بن سکتی ہیں کوئی مشکل نہیں ہے۔ جو ملک ایٹم بم بنا سکتا ہے اس کے لیے وینٹی لیٹر بنانا کتنا مشکل ہے۔‘

    انھوں نے زور دیا ہے کہ کورونا کے خلاف جنگ کوئی وفاقی یا صوبائی حکومت اور نہ کوئی بیرونی امداد سے جیت سکتے ہیں۔ ’یہ جنگ پوری قوم مل کر باہمی رابطہ سے جیت سکتی ہے، اس سلسلہ میں تمام صوبوں اور متعلقہ اداروں کی ہم آہنگی سے کام کر رہے ہیں۔ کورونا کے حوالہ سے روزانہ کی بنیاد پر تمام صوبوں سے ڈیٹا آتا ہے، اس کا جائزہ لے کر مل جل کر فیصلے کئے جاتے ہیں۔ باہمی رابطہ سے کام ہو رہا ہے۔‘

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا اور لاک ڈاﺅن کی وجہ سے پوری دنیا پر اثرات مرتب ہوئے ہیں اور معیشت کو نقصان پہنچا ہے۔ ’ہم مستقبل میں اس کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں شروع سے ہی مکمل لاک ڈاﺅن کے حق میں نہیں تھا۔ ’ہمارے زمینی حقائق مختلف ہیں۔ یہاں بتدریج لاک ڈاﺅن کی ضرورت تھی کیونکہ روزگار کے ذرائع کی یکدم بندش سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں کورونا کے 26 متاثرین سامنے آئے تو لاک ڈاﺅن شروع کر دیا گیا۔ ’ایک دم لاک ڈاﺅن سے غریب طبقے کی مشکلات بڑھ گئیں۔ پہلے بڑے اجتماعات بند کرنے کے بعد بتدریج اس سلسلہ کو بڑھانا چاہیے تھا۔‘

    ’مجھے احساس تھا کہ غریب علاقوں کے لوگوں کا کیا بنے گا۔ اس لیے مکمل لاک ڈاﺅن کا حامی نہیں رہا ہوں۔‘

    انھوں نے صوبوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک چھوٹے سے امیر طبقہ کے لیے سوچتے ہیں اس لیے عظیم قوم نہیں بن سکے۔ لاک ڈاﺅن کرتے ہوئے نہیں سوچا گیا کہ کچی آبادیوں میں رہنے والے غریب لوگوں کا کیا بنے گا۔‘