پاکستان: مصدقہ متاثرین 5232، ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 91 ہو گئی

پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی مجموعی تعداد 5232 ہو چکی ہے جبکہ کل اموات 91 ہو گئی ہیں۔ معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ اگر احتیاط نہ کی گئی تو ملک میں کورونا کے باعث شرح اموات مزید بڑھ سکتی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, کراچی: 'مکمل یونین کونسلز کے بجائے صرف متاثرہ علاقے سیل کیے جائیں گے'

    سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی میں آج شام کو ضلع شرقی کی جن 11 یونین کونسلز کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، ان میں مکمل یونین کونسلز کے بجائے صرف متاثرہ علاقے سیل کیے جائیں گے۔

    بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے بتایا کہ مذکورہ یونین کونسلز میں صرف وہ علاقے سیل کیے جا رہے ہیں جہاں سے کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین سامنے آئے ہیں۔

    یاد رہے کہ آج شام کو کراچی کے ضلع شرقی کے ڈپٹی کمشنر نے حکمنامہ جاری کیا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کی وجہ سے ضلعے کی 11 یونین کونسلز کو مکمل طور پر سیل کیا جا رہا ہے۔

    سعید غنی نے بتایا کہ سنیچر کی شام کو جاری کردہ نوٹیفیکیشن ہی نافذ العمل رہے گا لیکن پوری یو سیز مکمل سیل نہیں کی جائیں گی۔

    مذکورہ علاقے مندرجہ ذیل یونین کونسلز میں ہیں:

    • یو سی 6 گیلانی ریلویز
    • یو سی 7 ڈالمیا
    • یو سی 8 جمالی کالونی
    • یو سی 9 گلشن-2
    • یو سی 10 پہلوان گوٹھ
    • یو سی 12 گلزارِ ہجری
    • یو سی 13 صفورہ گوٹھ
    • یو سی 14 فیصل کینٹ
    • یو سی 2 منظور کالونی
    • یو سی 9 جیکب لائن
    • یو سی 10 جمشید کوارٹرز
  2. وفاقی ادارے عوامی مسائل کے حل کے لیے الیکٹرانک کھلی کچہریاں منعقد کریں، وزیرِ اعظم ہاؤس

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہPM House

    وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ وفاقی حکومت کے ذیلی اداروں کو مسلسل بنیادوں پر کھلی کچہریاں منعقد کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ عوام کے مسائل کو حل کیا جا سکے اور حکومتی مشینری پر ان کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔

    وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں افسران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کھلی کچہری کے دوران سکون سے بات سنیں، اچھے سے پیش آئیں، عوامی طور پر مسئلہ حل کریں اور کھلے انداز میں گفتگو کریں۔

    نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ موجودہ دور میں کورونا وائرس کے پیشِ نظر یہ کچہریاں جسمانی طور پر شرکت کے بجائے فیس بک، ریڈیو، کیبل اور ٹی وی کے ذریعے الیکٹرانک کچہریاں منعقد کی جائیں گی۔

  3. پنجاب میں لاک ڈاؤن میں توسیع میں غور

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں صوبے میں لاک ڈاؤن میں توسیع کرنے پر غور جبکہ لاہور کے متعدد علاقے مکمل طور پر سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اجلاس میں کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل ماجد احسان، ڈی جی رینجرز پنجاب میجر جنرل محمد عامر مجید، چیف سیکرٹری میجر (ر) اعظم سلیمان، انسپکٹر جنرل پولیس شعیب دستگیر، سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور اعلیٰ سول و عسکری حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

    وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ حکومت نے کورونا وائرس کے مرض کی تشخیص کے لیے روزانہ 3100 ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے اور صوبے میں ٹیسٹنگ کی استعداد جلد 10 ہزار تک بڑھائی جائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ صوبے میں کورونا کی تشخیص کے لیے آٹھ نئی لیبارٹریاں بنائی جا رہی ہیں جن میں سے تین جلد فعال ہوجائیں گی۔

    وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ قیدیوں کی سکریننگ کاعمل شروع کر دیا گیا ہے جبکہ کمزور طبقے کو ریلیف دینے کے لیے مالی امداد کے پروگرام کا بھی آغاز ہوچکا ہے جس کے تحت پنجاب میں مستحق افراد کو 12ہزار روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔

    عثمان بزدار نے مزید بتایا کہ حکومت ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کر رہی ہے۔

  4. بریکنگ, کورونا وائرس پھیلنے کا خدشہ، لاہور کے متعدد علاقے سیل کرنے کا فیصلہ

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس بڑھنے کے خدشات کے سبب پنجاب حکومت نے لاہور کے متعدد علاقوں کو مکمل طور پر سیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جبکہ صوبے بھر میں دفعہ 144 سختی سے عمل درآمد کرنے کا بھی حکم جاری کیا گیا ہے۔

    فیصلہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔

    صدر، سکندریہ کالونی، سمن آباد، رستم پارک، گلشن راوی، رائیونڈ سٹی، رحمان پورہ، بیگم کوٹ اور شاہدرہ سمیت دیگر متاثرہ علاقوں کو سیل کیا جائے گا۔

    حکومت کے مطابق متاثرہ علاقوں کو کورونا وائرس سے کلیئر ہونے تک سیل رکھا جائے گا جبکہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

  5. عمران خان: لاک ڈاؤن سے بے روزگار ہونے والے افراد کو شجرکاری منصوبے میں بھرتی کیا جائے گا

    وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ جن لوگوں کے روزگار کورونا وائرس کے پیشِ نظر کیے گئے لاک ڈاؤن سے متاثر ہوئے ہیں، انھیں حکومت دس ارب درخت لگانے کے منصوبے میں روزگار دے گی۔

    انھوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اس سے نہ صرف [ان مزدوروں کی] زندگیاں بدلیں گی بلکہ کرہ ارض پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  6. کراچی: ضلع شرقی میں کون کون سے علاقے سیل کیے جا رہے ہیں؟

    سنیچر کی شام جب کراچی کے ضلع شرقی کے ڈپٹی کمشنر نے اپنے ضلعے کی 11 یونین کونسلز سیل کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا، تو اس حوالے سے ایک پیچیدگی سامنے آئی کہ نوٹیفیکیشن میں دیے گئے یو سی نمبر درست ہیں یا نہیں۔

    اس حوالے سے وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کراچی کے ترجمان نے مطلع کیا ہے نوٹیفیکیشن میں دیے گئے یو سی نمبر محکمہ صحت کے نظام کے مطابق ہیں جس کی بنیاد کراچی کے پرانے ٹاؤن نظام پر ہے اور پولیو مہم بھی اسی ترتیب کے اعتبار سے چلائی جاتی ہیں۔

    نوٹیفیکشن میں جاری کیے گئے یو سی نمبر اور ان کے نئے نمبر درج ذیل جدول کے مطابق ہیں۔

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGovernment of Sindh

  7. کراچی: ضلع شرقی کے بعد ضلع جنوبی کے بھی کچھ علاقے سیل کرنے کا فیصلہ

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافے کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں ضلع جنوبی میں بھی کچھ ایسے علاقے سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا جہاں سے زیادہ متاثرین سامنے آئے ہیں۔

    اجلاس میں صوبائی وزرا ڈاکٹر عذرا پیچوہو، سعید غنی، مکیش چاولہ، امتیاز شیخ، ناصر شاہ، مرتضیٰ وہاب، میئر کراچی، آئی جی سندھ، سیکریٹری داخلہ، فیصل ایدھی، کور 5، رینجرز، ایف آئی اے، امیگریشن، پاک بحریہ، اور ڈبلیو ایچ او کے نمائندے شریک ہوئے۔

    اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ صورتحال پریشان کن ہے اور ضلع شرقی میں حکومت نے 11 یونین کونسلز سیل کروائی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ضلع جنوبی میں بھی کچھ علاقے سیل کیے جائیں گے، تاہم ابھی تک اس حوالے سے تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں کہ ان میں کون سے علاقے شامل ہوں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ٹیسٹوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ متاثرین کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ سندھ نے مصدقہ متاثرین کی عمروں کے حوالے سے بتایا کہ 64 افراد کی عمریں 1 تا 10 سال ہے، 104 کی عمریں 11 تا 20 سال، 270 کی 21 تا 30 سال، 227 کی 36 تا 40 سال، 182 کی 41 تا 50 سال، 197 کی 51 تا 60 سال، 135 کی 61 تا 70 سال،41 کی 71 تا 80 سال اور 5 افراد کی عمریں 81 تا 90 سال ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ متاثرہ افراد کی عمروں کا گروپ 21 تا 60 سال کے درمیان ہے۔

  8. کوئٹہ میں احساس پروگرام کے تحت کیش کی ادائیگی شروع

    کورونا، احساس پروگرام، کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سنیچر کے روز احساس پروگرام کے تحت مستحق افراد کو کیش کی ادائیگی شروع کر دی گئی ہے۔

    احساس پروگرام کی فوکل پرسن ثانیہ صافی نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں مختلف مقامات پر 14 سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ تمام سینٹرز پر سخت سیکورٹی انتظامات کیے ہیں تاکہ کوئی بد نظمی نہ ہو۔

    انھوں نے بتایا کہ پیسوں کی تقسیم کو تین مرحلوں میں رکھا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ افراد شامل ہیں، دوسرے مرحلے میں موبائل میسج کرنے والے شامل ہیں، جبکہ تیسرے مرحلے میں ڈپٹی کمشنر کوٹہ کی فہرست والے مستحق افراد شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ شہر کے 50 ہزار سے زائد مستحق افراد اس پروگرام سے مستفید ہو سکیں گے۔

    کورونا، احساس پروگرام، کوئٹہ
  9. بلوچستان: آٹھ مزید افراد میں کورونا کی تصدیق، صوبے میں متاثرین کی کُل تعداد 228

    بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے بتایا ہے کہ بلوچستان میں کورونا وائرس کے مزید آٹھ متاثرہ افراد سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی کُل تعداد 228 ہوگئی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ اب تک صوبے میں صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد 95 ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. خیبر پختونخوا: کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے صحافیوں کے لیے 10 لاکھ روپے فی کس کا اعلان

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    مشیرِ اطلاعات خیبر پختونخوا اجمل وزیر نے بتایا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے صحافی برادری کے لیے کورونا وائرس کے پیشِ نظر خصوصی امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ اگر کسی صحافی کی کورونا کی وجہ سے ہلاکت ہوجائے، تو اس کے خاندان کو حکومت کی طرف سے 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے اور بیماری کی صورت میں تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔

    مشیرِ اطلاعات خیبر پختونخوا نے صوبے میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے اعداد و شمار بھی بتائے جو کچھ یوں ہیں:

    متاثرین کی کُل تعداد: 656

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران نئے متاثرین: 39

    صوبے میں ہلاکتوں کی کُل تعداد: 25

    صحتیاب ہونے والوں کی تعداد: 131

    تشویشناک حالت میں موجود افراد: 25

    صوبے میں طبی سہولیات کا خلاصہ

    اجمل وزیر کے مطابق محکمہ صحت کے عملے کے لیے ڈیڑھ ارب روپے کا حفاظتی سامان خریدا گیا ہے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں طبی سہولیات مندرجہ ذیل ہیں:

    قرنطینہ مراکز: 275، گنجائش 18 ہزار افراد

    ہائی ڈیپینڈینسی یونٹس: گنجائش 480 افراد

    آئسولیشن سینٹرز: 110، گنجائش 3000 افراد

    وینٹیلیٹرز: 583

    یومیہ ٹیسٹ: 450

    مفت سینیٹیائزر کی تقسیم: 20 ہزار لیٹر سے زائد

  11. اسد عمر: وبا سے پہلے کے مقابلے میں ٹیکس وصولی میں ایک تہائی کمی

    وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ وبا سے پہلے اور اس کے دوران اب تک پاکستانی حکومت کی ٹیکس وصولی میں ایک تہائی کمی ہوئی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ایک سال کے دورانیے پر یہ رقم 1400 سے 1500 ارب روپے بنتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت تمام فیصلوں میں معیشت پر بھی اثرات کو مدِ نظر رکھے ہوئے ہے۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ اب تک احساس پروگرام کے تحت 11 لاکھ افراد میں 13 ارب روپے متاثرین میں تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

    اسد عمر نے کہا کہ حکومت 15 اپریل کو فیصلہ کرے گی کہ ملک میں مزید بندشوں میں اضافہ کرنا ہے یا نہیں۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ آج کے ریکارڈ کے مطابق پاکستان میں 50 مریض وینٹیلیٹرز پر ہیں اور گذشتہ چند روز میں وینٹیلیٹرز پر رکھے جانے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. اسد عمر: 25 ہزار ٹیسٹ یومیہ کرنے کا ہدف

    پاکستان کے وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اسلام آباد میں ایک پریس بریفنگ سے خطاب کر رہے ہیں۔

    اس موقع پر اسد عمر نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ اپریل کے آخر تک 20 سے 25 ہزار ٹیسٹ یومیہ کیا جائے جو کہ مارچ میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت سے اب تک 30 گنا اضافہ ہوگا۔

    انھوں نے بتایا کہ اب تک ساڑھے چھ لاکھ دستانے تقسیم کیے جا چکے ہیں جبکہ آئی سی یو عملے کے لیے 10 ہزار فیس شیلڈ دی جا چکی ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ کم از کم 26 لیبارٹریاں فعال ہو گئی ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. بریکنگ, پنجاب: گذشتہ 24 گھنٹے میں 74 نئے متاثرین، صوبے میں متاثرین کی کُل تعداد 2410 ہوگئی

    کورونا، لاہور

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    محکمہ صحت پنجاب کے اعلامیے کے مطابق پنجاب میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 74 مصدقہ متاثرین سامنے آئے ہیں جن کے بعد صوبے میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 2410 ہو گئی ہے۔

    اعلامیے کے مطابق صوبے میں اب تک اس مرض سے 21 اموات ہوچکی ہیں جبکہ 39 افراد اس سے صحت یاب ہوچکے ہیں۔

    ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق 701 زائرین، 747 تبلیغی ارکان، 80 قیدیوں اور 882 عام شہریوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    زائرین کی تفصیل

    ڈیرہ غازی خان میں 221 زائرین، ملتان میں 457 اور فیصل آباد میں 23 زائرین میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    تبلیغی ارکان کی تفصیل

    رائے ونڈ مرکز میں 462، شیخوپورہ میں آٹھ، منڈی بہاؤالدین میں 13، سرگودھا، حافظ آباد اور جہلم میں 35، میانوالی میں سات، وہاڑی میں 25، راولپنڈی اور فیصل آباد میں چھ، ننکانہ، گوجرانوالہ اور خوشاب میں دو، گجرات 10، رحیم یار خان میں چار، بھکر 47، راجن پور میں ایک، سیالکوٹ 19، لیہ 16، نارووال میں تین اور بہاولنگر میں نو تبلیغی ارکان میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے۔

    عام شہریوں میں مریضوں کی تفصیل

    عام شہریوں میں سب سے زیادہ متاثرین لاہور میں 396 ہیں جبکہ ننکانہ میں 16، قصور میں نو، شیخوپورہ اور میانوالی میں 10،راولپنڈی میں 64، جہلم میں 29، اٹک، جھنگ لیہ اور اوکاڑہ میں ایک، چکوال اور ملتان میں چار، گوجرانوالہ میں 38، سیالکوٹ میں 27، نارووال، منڈی بہاؤالدین، سرگودھا اور چنیوٹ میں آٹھ، گجرات میں 129، حافظ آباد میں 12، وہاڑی میں 13، فیصل آباد میں 28، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں دو، رحیم یار خان میں 22، خوشاب میں تین، بہاولنگر اور بہاولپور میں پانچ، لودھراں میں تین، اور ڈیرہ غازی خان میں 18 شہریوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    کورونا
  14. کراچی: مصدقہ متاثرین سامنے آنے پر 11 یونین کونسلز سیل کرنے کا حکم

    کراچی کے ضلع شرقی میں 11 یونین کونسلوں کو مکمل طور پر سیل کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر ضلع شرقی کے جاری کردہ حکمنامے کے مطابق یہ اقدام ان علاقوں میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین سامنے آنے کے باعث اٹھایا گیا ہے۔

    پولیس اور رینجرز کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان 11 یونین کونسلوں کو سیل کر دیں جن میں مندرجہ ذیل شامل ہیں:

    • یو سی 6 گیلانی ریلویز
    • یو سی 7 ڈالمیا
    • یو سی 8 جمالی کالونی
    • یو سی 9 گلشن-2
    • یو سی 10 پہلوان گوٹھ
    • یو سی 12 گلزارِ ہجری
    • یو سی 13 صفورہ گوٹھ
    • یو سی 14 فیصل کینٹ
    • یو سی 2 منظور کالونی
    • یو سی 9 جیکب لائن
    • یو سی 10 جمشید کوارٹرز

    ڈپٹی کمشنر کراچی شرقی احمد علی نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ علاقوں میں راشن کی دکانیں اور طبی سہولیات کھلی رہیں گی۔

    کورونا وائرس
  15. عثمان بزدار کا طبی عملے کے لیے تنخواہ کے برابر الاؤنس کا اعلان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ ’کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے میں جس طرح ہمارے فرنٹ لائن ورکرز/پروفیشنلز دن رات لگن سےکام کر رہےہیں وہ قابل تحسین ہے۔ ہم ان کے اخلاص کی قیمت ادا نہیں کر سکتےلیکن ان تمام ہیروز کو تنخواہ کےبرابر الاؤنس اور جانی نقصان کی صورت میں شہید پیکج دیاجائےگا۔‘

  16. کورونا وائرس سے متاثرہ دو افغان پناہ گزین ہلاک, محمد زبیر خان، صحافی

    کورونا وائرس سے متاثرہ دو افغان پناہ گزین ہلاک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں افغان تارکین وطن کے اتاشی عبدالحمید جلیلی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس سے اب تک دو افغان پناہ گزین ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ہلاک ہونے والے ایک شخص کا تعلق مردان اور دوسرے کا پشاور سے تھا۔

    ان کا کہنا ہے کہ مردان اور پشاور دونوں ہلاکتوں کے بعد ان افراد کے علاقوں کو سیل کر دیا گیا ہے اور ان کے تمام اہل خانہ کو قرنطینہ مرکز میں رکھا گیا ہے۔

    انھوں نے بتایا ہے کہ پشاور میں قرنطینہ کیے گئے افغان تارکین وطن افراد کو سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں موجود کسی بھی افغان تارکین وطن کیمپ میں ابھی تک کوئی ایسے ثبوت نہیں ملے کہ پتا چل سکے وہاں کورونا وائرس پھیل گیا ہے۔

    ’وہاں پر لاک ڈاون ہے۔ یہ غریب لوگ ہیں اور گنجان آباد علاقے ہیں۔ اس لیے اس بات کا خدشہ تو موجود ہے۔‘

    انھوں نے وائرس سے بچاؤ کے لیے مطالبہ کیا ہے کہ بین الاقوامی ادارے اور حکومت پاکستان افغان تارکین وطن کے کیمپوں میں فوری اقدامات کریں۔

  17. بلاول بھٹو: وفاقی حکومت سست رفتاری سے کام کر رہی ہے

    بلاول بھٹو: وفاقی حکومت سست رفتاری سے کام کر رہی ہے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی حکومت سست رفتاری سے کام کر رہی ہے۔

    برطانوی چینل سکائی نیوز کو دیے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’افسوس ہے کہ وفاقی حکومت کورونا سے نمٹنے کے لیے سست رفتاری سے کام کر رہی ہے۔ صوبے اپنے اپنے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وفاقی حکومت سے صوبوں کو بہت کم مدد مل رہی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کا عوام پر بہت بُرا اثر ہوگا۔ ’پاکستان کی اپوزیشن نے وفاقی حکومت کو مشترکہ کاوشوں کی پیشکش کی ہے۔‘

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں صوبائی اور مقامی حکومتیں اپنے محدود وسائل کا استعمال کر کے اس وبا کا مقابلہ کر رہی ہیں۔‘

    ان کے مطابق ’وسائل والے ممالک اور عالمی طاقتوں کو ٹیسٹنگ کٹس اور صحت کی سہولیات کی دنیا بھر میں منصفانہ تقسیم کرنا ہوگی۔‘

  18. بریکنگ, خیبرپختونخوا: 20 مریضوں کی حالت تشویشناک, صوبے میں 656 مصدقہ متاثرین، 25 اموات

    خیبرپختونخوا: 20 مریضوں کی حالت تشویشناک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حکام کے مطابق خیبرپختونخوا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 39 نئے مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد مصدقہ متاثرین کی کل تعداد 656 ہوگئی ہے۔

    صوبے میں 25 اموات اور 131 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔

    مشیر اطلاعات اجمل وزیر کا کہنا ہے کہ کورونا کے 20 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ انھوں نے حفاظتی تدابیر کی پیروی پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ آنے والے ہفتے اہم ہیں۔

    اس کے علاوہ انھوں نے بتایا کہ:

    • صوبے بھر میں 583 وینٹی لیٹرز موجود ہیں جن کی تعداد کو مزید بھی بڑھایا جارہا ہے۔
    • صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں ہائی ڈپنڈنسی یونٹس بنائے گئے ہیں جن میں 480 افراد کی گنجائش ہے جبکہ 110 آئسولیشن سنٹر میں تین ہزار افراد کی گنجائش ہے۔
    • صوبے میں قائم 275 قرنطینہ مراکز میں 18 ہزار افراد کی گنجائش موجود ہے۔
    • محکمہ صحت کے عملہ کے لیے ڈیڑھ ارب روپے کا حفاظتی سامان خریدا گیا ہے۔
    • صوبے میں روزانہ 450 سے زیادہ ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔
    • وزیر اعلیٰ محمود خان نے 32 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے۔
    • محکمہ صحت کے عملے کے بیک اپ کے لیے ’لوکم سکیم‘ متعارف کی گئی ہے۔ اس میں 9500 افراد نے رجسٹریشن کرائی ہے جن میں سپیشلسٹ ڈاکٹر اور طبی عملہ شامل ہے۔
  19. مزید زائرین کو پشاور لانے کی خبروں کی تردید

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر صحت تیمور جھگڑا نے مزید زائرین کو پشاور لانے سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ تفتان کی سرحد سے مزید 25 بسوں میں زائرین کو پشاور لانے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ ’حیات آباد میں ان افراد کے لیے دو قرنطینہ مراکز بنانے کی خبریں بھی جھوٹ پر مبنی ہیں۔‘

    انھوں نے لوگوں سے مطالبہ کیا کہ ’سوشل میڈیا پر اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ خبروں سے گریز کیا جائے۔ ہمیں موجودہ حالات میں صبر اور حوصلے سے کام لینا چاہیے۔‘

    تیمور جھگڑا نے کہا ہے کہ ’مشکل حالات میں دل کھلے رکھنے اور دوسروں کی مدد کرنی ہو گی۔‘

    پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس کے تقریباً 52 فیصد متاثرین ایسے ہیں جنھوں نے بیرون ملک سفر کیا تھا۔

  20. ’انفرادی یا اجتماعی حیثیت میں خیرات کی تقسیم پر پابندی نہیں‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    حکومت پنجاب کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے بھر میں انفرادی یا اجتماعی حیثیت میں خیرات کی تقسیم پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔

    ’صدقات و خیرات کی منظم تقسیم اور کورونا وائرس کے روک تھام کے لیے ایک جامع اور مربوط نظام وضع کیا گیا ہے۔‘