گنگا رام ہسپتال کووڈ-19 سے متاثرہ حاملہ خواتین کے لیے مخصوص
پنجاب کی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ لاہور میں گنگا رام ہسپتال کو کورونا کی ایسی مریض خواتین کے لیے مخصوص کیا گیا ہے جو حاملہ ہیں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان میں کورونا وائرس کے نئے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ جاری ہے اور ملک میں متاثرین کی مجموعی تعداد چار ہزار سے بڑھ گئی ہے جبکہ اموات کی تعداد 60 ہے۔
پنجاب کی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ لاہور میں گنگا رام ہسپتال کو کورونا کی ایسی مریض خواتین کے لیے مخصوص کیا گیا ہے جو حاملہ ہیں۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے پولٹری شاپس کے اوقات سے متعلق ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے۔
اس نوٹیفیکیشن میں وضاحت کی گئی ہے کہ مرغی کے گوشت کی دکانیں صبح 9 بجے سے شام 8 بجے تک کھلی رہیں گی۔
صوبے میں پیر سے بڑی صعنتیں حفاظتی تدابیر کے ساتھ کھلولنے کی اجازت دی گئی تھی۔
کراچی کے ایڈیشنل آئی جی پولیس نے شہر کے عوام سے کہا ہے کہ وہ شبِ برات کے موقع پر اپنے گھروں میں رہ کر عبادت کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ شہری اس موقع پر مساجد کا رخ کرنے سے گریز کریں جبکہ عوام کو قبرستانوں میں جمع ہونے کی بھی اجازت نہیں ہو گی۔
انھوں نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے جاری لاک ڈاؤن کے سلسلے میں واضح احکامات موجود ہیں جن پرعمل درآمد کروایا جائے گا۔
پاکستان میں منگل کی شب 12 بجے تک کورونا کے کل متاثرین کی تعداد 4035 تک پہنچ گئی ہے
پنجاب ملک کا سب سے متاثرہ صوبہ ہے جہاں اب تک 2030 متاثرین سامنے آ چکے ہیں۔
سندھ میں بھی متاثرین کی تعداد ایک ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے اور وہاں اس وقت تک 986 افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
اس کے علاوہ خیبرپختونخوا میں 500 ، بلوچستان میں 206، گلگت بلتستان میں 211 ، اسلام آباد میں 83 اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 19 متاثرین موجود ہیں۔
ملک میں اس وبا کے آغاز کے بعد سے اب تک 55 افراد اس سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 457 ہے۔
پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے 26 ملازمین میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد بحریہ ٹاؤن کے چند علاقوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔
لاہور کے ڈپٹی کمشنر دانش افضل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جن افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ان میں ملک ریاض کے ذاتی ملازمین شامل ہیں جو بحریہ ٹاؤن میں ان کی رہائش گاہ میں کام کرتے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر دانش افضل کا کہنا تھا کہ 40 افراد کو شک کی بنا پر ٹیسٹ کیا گیا تھا جن میں تاحال 20 سے زیادہ افراد میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان افراد میں بحریہ ٹاؤن کے مالک کی رہائش گاہ پر کام کرنے والے سکیورٹی گارڈ، مالی، ڈرائیور اور دیگر گھریلو ملازمین شامل تھے۔
صوبائی محکمہ صحت کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ بحریہ ٹاؤن میں سامنے آنے والے ان افراد کے نمونے محکمہ صحت نے ہی لیے تھے، جنھیں ٹیسٹ کے لیے شوکت خانم لیبارٹری بھجوایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان متاثرہ افراد کی کل تعداد 26 ہے۔
ڈپٹی کمشنر لاہور دانش افضل نے بتایا کہ تمام متاثرہ افراد کو ایکسپو سنٹر لاہور میں قائم فیلڈ ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا جبکہ ان افراد کے رابطے میں آنے والے افراد کو بحریہ ٹاؤن کے اندر ہی قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ایسے مصدقہ مریض سامنے آنے کے بعد اس علاقے کو پولیس کی نفری تعینات کر کے سیل کر دیا جاتا ہے تاکہ وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو محدود کیا جا سکے۔
دانش افضل کا کہنا تھا کہ متاثرہ افراد کے ساتھ رابطے میں آنے والے افراد اور ان کے ساتھ انٹرویوز کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اتنے لوگ ایک ساتھ کیسے متاثر ہوئے اور ان تک وائرس کس طرح پہنچا۔
انھوں نے بتایا ہے کہ علاقے میں مزید متاثرہ افراد کی تلاش جاری ہے۔
پاکستان میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ پنجاب میں اب تک 2004 متاثرین کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 15 اموات اور 25 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔
سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے مریض تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
انھوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں اس طرف اشارہ کیا کہ ملک میں کورونا کا ہزارواں مریض ملک میں وبا پھیلنے کے 29 دن بعد سامنے آیا تھا جبکہ دو ہزارواں اگلے سات دن میں، تین ہزارواں اس کے پانچ دن بعد اور چار ہزارواں مریض اگلے تین دن بعد سامنے آ چکا ہے۔
شب برات کے حوالے سے محکمہ اوقاف و مذہبی امور پنجاب نے ہدایت جاری کی ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر لوگ اپنے گھروں میں رہ کر انفرادی عبادات کریں اور روایتی اجتماعات سے گریز کریں۔
ہدایت میں کہا گیا ہے کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب یعنی 15 شعبان کو لوگ ’انفرادی عبادات کریں اور اس موذی مرض کے تدارک کے لیے انفرادی طورپر دعاؤں کا اہتمام بھی کریں۔‘
محکمہ اوقاف و مذہبی امور پنجاب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ قدم حکومت پنجاب اور طبی ماہرین کی ہدایات کی بنیاد پر لیا گیا ہے۔
ہر سال ملک بھر میں شبِ برات کے موقع پر مساجد میں چراغاں اور خصوصی اجتماعی عبادات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
ایک نجی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ہی ملک میں لاک ڈاؤن کرنا ہوگا۔
انھوں نے وضاحت کی کہ پاکستان میں ایک دن میں تین سے ساڑھے تین ہزار کورونا ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔
انھوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں ٹیسٹنگ زیادہ کرنے کی ضرورت ہے۔‘
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ گذشتہ ایک روز میں کورونا ٹیسٹ کم ہوئی ہے اور اب تک ٹیسٹنگ کم ہونے کی وجہ سے متاثرین کی تعداد کم ہے۔
نجی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ وہ اکیلے نہیں کرتے بلکہ سب مل کر یہ فیصلہ کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ وہ آئندہ اجلاس کے دوران وفاقی حکومت سے اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔
انھوں نے زور دیا کہ پوری دنیا میں اس بات پر غور کیا گیا ہے کہ عالمی وبا کے دوران ’جو بھی فیصلہ کرنا ہے وہ جلد کریں۔‘
مراد علی شاہ نے یہ بھی کہا کہ ان سے ’بہت سے لوگوں نے کہا لاک ڈاون بڑھائیں۔ میں نے کہا یہ صرف میرے بس کی بات نہیں ہے۔‘
وزیراعظم عمران خان نے باہمی امور پر ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور دنیا بھر میں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
عمران خان نے بات چیت کے دوران ترکی میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں پر اظہار افسوس کیا۔
انھوں نے پاکستان کی جانب سے ترکی کے ساتھ مکمل تعاون اور اظہار یکجہتی کا اظہار کیا اور فضائی آپریشنز بند ہونے کے بعد ترک حکام کی جانب سے پھنسے پاکستانیوں کی مدد پر شکریہ ادا کیا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کے بعد اب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی لاک ڈاؤن میں سختی کے احکامات جاری کیے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق ایک اجلاس کے دوران انھوں نے کہا کہ انھیں ’ابتدائی سات روز والا لاک ڈاؤن چاہیے۔‘
اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں سڑکوں اور دکانوں پر لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہونے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔
منگل کو مراد علی شاہ سے نجی ہسپتالوں کے مالکان نے بھی مطالبہ کیا تھا کہ لاک ڈاؤن میں سختی لائی جائے اور اس میں توسیع کی جائے۔
یاد رہے کہ سندھ پولیس کے مطابق صوبے میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے پر 4000 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
صوبے میں اب تک کورونا وائرس کے 986 متاثرین کی تصدیق ہوچکی ہے۔
بلوچستان میں صوبائی محکمہ صحت کے مطابق مزید چار افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں مصدقہ متاثرین کی کل تعداد 206 ہوگئی ہے۔
دوسری طرف کورونا کے مریضوں میں سے مزید 12 افراد صحتیاب ہوگئے ہیں۔ اب تک بلوچستان میں کل 75 افراد کورونا کی تشخیص کے بعد صحتیاب ہوچکے ہیں۔
صوبے میں اس عالمی وبا سے اب تک ایک ہلاکت ہوئی ہے۔
وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کی ہدایات پر محکمہ تعلیم کے ڈائیریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز نے تمام نجی سکولوں کو اپریل اور مئی کی فیسوں میں 20 فیصد رعایت کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔
صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا ہے کہ یہ رعایت کورونا وائرس کے باعث صوبے میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے عوام کی سہولت کے پیش نظر دی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ روز قبل ہم نے تمام نجی سکولز کو والدین کو رعایت کی ہدایات دی تھی تاہم اب تمام طلبہ کو 20 فیصد فیسوں میں دو ماہ تک رعایت دینے کی ہدایات دی گئی ہیں۔‘
نوٹیفیکیشن کے مطابق صوبے بھر کے تمام نجی تعلیمی ادارے اپنے تمام طلبہ کی فیس میں 20 فیصد لازمی رعایت دیں گے۔ یہ رعایت اپریل اور مئی کے مہینوں کی فیسوں میں طلبہ کو دی جائے گی۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ کوئی بھی سکول کسی بھی تدریسی یا غیر تدریسی عملے کو اس دوران ملازمت سے نہیں نکالے گا۔ ’اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کو اس دوران مکمل تنخواہ کی ادائیگی کرنا ہوگی۔ ایسا نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔‘
نوٹیفیکیشن کے مطابق اس سلسلے میں اگر اساتذہ کو اپنی شکایات کا اندراج کرانا ہے تو وہ ڈائیریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹیٹیوشن سندھ کو کرسکے گا۔
خیبر پختونخوا میں چھ اضلاع ایسے ہیں جہاں اب تک کورونا وائرس کا ایک بھی مریض سامنے نہیں آیا اور دو اضلاع ایسے ہیں جہاں کل 500 میں سے 200 مریض سامنے آئے ہیں۔
صوبے میں کل 34 اضلاع میں سے چھ اضلاع ایسے ہیں جہاں کورونا سے متاثرہ کوئی بھی مریض سامنے نہیں آیا ہے۔ ان میں اپرکوہستان، لوئر کوہستان، کولائی پاس، بٹگرام، چترال اور ٹانک کے اضلاع شامل ہیں۔
صوبے کے چھ اضلاع ایسے ہیں جہاں صرف ایک ایک مریض کی ہی تشخیص ہوئی ہے۔ ایسے اضلاع میں مالا کنڈ، مہمند، اورکزئی، ٹانک، جنوبی وزیرستان اور تورغر (کالا ڈھاکہ) شامل ہیں۔
نامہ نگار عزیزاللہ خان کے مطابق صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ ان اضلاع میں جہاں آبادی کم ہے یا وہاں زیادہ ہجوم نہیں ہوتا تو وہاں اس وائرس کے پھیلنے کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں۔
ذیادہ متاترہ اضلاع کون سے ہیں؟
صوبائی دارالحکومت پشاور میں کل 105 مریض سامنے آئے ہیں جبکہ مردان شہر میں 100 کے قریب مریضوں میں اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
کوہاٹ میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 35، سوات میں 24، ایبٹ آباد میں 18، لوئر دیر میں 15 جبکہ اپر دیر میں 22 بنتی ہے۔ ضلع نوشہرہ میں 13 جبکہ مانسہرہ میں ایسے مریضوں کی تعداد 12 تک بنتی ہے۔
صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس جب شروع ہو رہا تھا اس کے بعد سے بڑی تعداد میں لوگ باہر ممالک سے آئے اور ان میں بیشتر میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔ تاہم ان کے دعوے کے مطابق صوبائی حکومت بڑی حد تک اس وبا پرقابو پانے میں کامیاب رہی ہے۔
منگل کو وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرِ صدارت کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے قائم کابینہ کمیٹی کا ویڈیو لنک پر اجلاس ہوا۔
اجلاس کے دوران کورونا سے پیدا ہونے والی صورتحال، روک تھام کے اقدامات، مریضوں کے علاج کی سہولیات اور ڈاکٹروں اور نرسوں کے لیے حفاظتی لباس کی فراہمی سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
حکومتِ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبے بھر میں دفعہ 144 پر سختی سے عملدر آمد کا حکم دیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں مجموعی طورپرتقریباً 19ہزار کورونا ٹیسٹنگ کٹس موجود ہیں اور ایک دن میں 3100 افراد کی ٹیسٹ ہوسکتی ہے۔
پاکستان میں صوبہ پنجاب کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے جہاں متاثرین کی تعداد 2004 ہے جبکہ اس بیماری سے 15 اموات اور 25 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔
پشاور میں ایسے 130 زائرین جو ایران سے تفتان آئے تھے انھیں 14 دن تک قرنطینہ مرکز میں رہنے کے بعد حکومت کی جانب سے گھروں کو روانہ کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ان میں سے کسی بھی شخص میں کورونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی ہے۔
قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس ایک عالمی وبا ہے اور اسے ’کسی مذہب یا مسلک سے جوڑنا غیر مناسب ہوگا اور اس وبا سے نمٹنے کے لیے ہمیں متحد ہونے کی ضرورت ہے۔‘
ایک اجلاس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک مشکل وقت سے گزر رہے ہیں اس وقت قوم میں تقسیم کے ہم متحمل نہیں ہوسکتے۔‘
سپیکر قومی اسمبلی نے تمام زائرین کے مسائل کے حل کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس کی سربراہی شہریار آفریدی کریں گے اور زائرین سے متعلق کام اور بیرون ملک پھنسے زائرین اور ان کی آمد کے بعد کی صورتحال کو سنبھالیں گے۔
اسد قیصر نے کہا ہے کہ وہ وطن واپس لوٹنے والے زائرین سے ملاقات کریں گے۔
خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے جاری کردی ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کے دوران بیوٹی پارلر اور حجام کی دکانیں 14 اپریل تک بند رہیں گی۔
تاہم یہ کہا گیا ہے کہ گھر کے ضروری سامان کی دکانیں، تندور، ملک شاپس، پھل و سبزی کی دکانیں اور دوا خانے 24 گھنٹے کھلے رکھے جائیں گے۔
رقم کی منتقلی کے مراکز بھی حفاظتی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے کھولے جا سکتے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں اب تک کورونا وائرس کے 500 متاثرین کی تصدیق ہو چکی ہے۔
صوبے بھر میں اس بیماری سے 17 اموات اور 69 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔