وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت بلوچستان میں قائم صنعتوں کو سروسز ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسوں میں چھوٹ دے گی تاکہ پیداوری عمل جاری رہے اور اسکا فائدہ عام آدمی تک پہنچ سکے۔
کوئٹہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ڈیلی ویجرز اور غریب لوگوں کے لیے معاونتی پیکج تیار کیا جارہا ہے اور ایسا میکنزم بنا رہے ہیں کہ مستحق لوگوں تک راشن اور امداد پہنچ سکے۔
مخیر افراد کی طرف سے کچھ نہیں کیا جا رہا ہے
ان کا کہنا تھا کہ صنعت کاروں اور کاروباری لوگوں کی جانب سے ابھی تک کسی قسم کی رفاہی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔
کوروناوائرس سے پیدا ہونے والی معاشی صورتحال میں ہر شعبہ کے لوگوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ایران میں وائرس کے پھیلاؤ کی اطلاعات کے فوری بعد حکومت بلوچستان الرٹ ہوا اور صوبائی حکومت نے فوری طور پر تفتان بارڈر سیل کیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ ایران حکومت سے بزریعہ وفاقی حکومت زائرین کے ٹیسٹ اور قرنطینہ کی درخواست کی تاہم ایران نے ہمارے زائرین کو تفتان روانہ کر دیا۔
انھوں نے بتایا کہ صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے صوبائی حکومت نے اپنے وسائل کے مطابق انتظامات کا آغاز کیا۔ پی ڈی ایم اے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کو فعال کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت کو وفاق، این ڈی ایم اے اور صوبوں کی جانب سے خاطر خواہ معاونت نہیں ملی لیکن ہم نے تفتان میں 5000 زائرین کو سہولیات دیں اور 14 دن قرنطینہ میں رکھنے کے بعد صوبوں کو انکے زائرین ان کے ہاتھ میں دیے۔
پاکستان آنے والوں مسافروں کا ریکارڈ نہیں ہے
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ ایک ماہ میں دیگر راستوں سے پاکستان آنے والے مسافروں کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اب تک ڈاکٹروں اور طبی عملے کے لیے 2000 حفاظتی کٹس خریدی ہیں۔ بلوچستان پہلا صوبہ ہے جس نے ٹیسٹنگ کے لیے جدید مشین خریدی اور اب دن میں 400 سے 500 ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چمن میں 2000 افراد کے لیے قرنطینہ تیار کیا گیا ہے کوئٹہ میں 50 ایکڑ اور تفتان میں 15 ایکڑ پر ریلیف اینڈ ایمرجنسی سینٹر بنائے جا رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ حکومت فوڈ چین کو برقرار رکھنے کے لئے منصوبہ بندی اور اقدامات کر رہی ہے اب تک ڈھائی لاکھ بوری گندم خریدی گئی ہے، جسے اضلاع کو بھجوایا جا رہا ہے خاص طور سے مکران اور رخشاں ڈویڑن میں خوردنی اشیا کی ترسیل اہم ہے جہاں ایران کی سرحد بند ہونے سے اشیا کی قلت ہو سکتی ہے ۔