بالاکوٹ حملہ، پاکستانی جواب، انڈین طیارے کی تباہی، پائلٹ کی گرفتاری اور رہائی: کب کیا ہوا؟

پاکستانی حکام نے انڈین پائلٹ ابھینندن کو ابس ے کچھ دیر پہلے واہگہ بارڈر پر انڈین حکام کے حوالے کردیا ہے۔ ابھینندن کے استقبال کے لیے انڈین بارڈر پر عوام کی بڑی تعداد موجود ہے۔

لائیو کوریج

ذیشان حیدر، طاہر عمران، حسن زیدی شجاع ملک، حمیرا کنول

  1. بریکنگ, پاکستان کے پاس جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس میں بدھ کی صبح ہونے والی کارروائی کے بارے میں بتایا ہے کہ پاکستان کے پاس جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔

    اہم ان کا کہنا تھا پاکستان خطے کو جنگ کی طرف لے کر نہیں جانا چاہتے۔

  2. بریکنگ, ایل او سی پر حالات شدید کشیدہ

    انڈیا کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور بالاکوٹ کے علاقے میں بم گرائے جانے کے بعد کشمیر میں دونوں ملکوں کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر حالات شدید کشیدہ ہیں اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر فائرنگ اور گولہ باری کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اطلاعات مشتاق منہاس نے صحافی محمد زبیر کو بتایا کہ علاقے میں اس وقت غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ تمام سرکاری عملے کی چھٹیاں منسوخ ہیں جبکہ ہسپتالوں اور امدادی عملہ ہائی الرٹ پر ہے اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

    loc
  3. بریکنگ, فضائی حدود کی بندش

    پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے پاکستان نے اپنی فضائی حدود خصوصاً شمالی فضائی حدود کمرشل پروازوں کے لیے بند کر دی ہے جس کی وجہ سے تمام بین الاقوامی پروازیں جو پاکستان کے اوپر سے گزر کر یورپ اور مغربی ممالک کی جانب جاتی تھیں وہ اب بحیرۂ عرب کے اوپر یا چین کی جانب سے جا رہی ہیں۔

    ویب سائٹ فلائٹ ریڈار پر دیکھا جا سکتا ہے پاکستان کی فضائی حدود بالکل خالی ہے خصوصاً لاہور، فیصل آباد، ملتان، سیالکوٹ، بہالپور، رحیم یار خان کی ہوائی اڈوں پر پروازوں کی آمدورفت روک دی گئی ہے۔

    سول ایوی ایشن حکام کے مطابق فضائی حدود کو حفظِ ماتقدم اور سویلین طیاروں اور مسافروں کی سہولت کے پیشِ نظر بند کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب انڈیا سے مشرق وسطیٰ اور دوسری جانب جانے والے طیارے سرحد سے ہٹ کر گزر رہے ہیں جبکہ لیہ، جموں، سرینگر اور پٹھان کوٹ کی فضائی حدود کمرشل پروازوں کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔ جس کی وجہ سے کئی کمرشل پروازیں رکی ہوئی ہیں یا واپس جا رہی ہیں۔

    فضائی حدود

    ،تصویر کا ذریعہFlight Radar

  4. پاکستانی کارروائی انڈین جارحیت کا ردعمل نہیں تھی

    اعلامیہ

    ،تصویر کا ذریعہMOFA PAK

    پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ بدھ کی صبح پاکستانی جنگی طیاروں کی ایل او سی کے پار کارروائی انڈیا کی جانب سے جاری جنگی جارحیت کا ردعمل نہیں ہے۔

    بیان کے مطابق پاکستان نے غیر عسکری اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور جانی نقصان اور کولیٹرل ڈیمج سے بچا گیا ہے۔

    دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا واحد مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ پاکستان اپنے دفاع کا حق اور صلاحیت رکھتا ہے۔

  5. صحافی ایم اے جرال کے مطابق انڈین طیاروں کو ضلع بھمبر کے گاؤں پونا میں نشانہ بنایا گیا اور یہ جگہ ایل او سی کے سماہنی سیکٹر میں آتی ہے۔

  6. انڈین طیارے مار گرنے کا دعویٰ

    طیارے کا ملبہ

    پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستان میں داخل ہونے والے دو انڈین طیاروں کو مار گرایا ہے۔