بالاکوٹ حملہ، پاکستانی جواب، انڈین طیارے کی تباہی، پائلٹ کی گرفتاری اور رہائی: کب کیا ہوا؟

پاکستانی حکام نے انڈین پائلٹ ابھینندن کو ابس ے کچھ دیر پہلے واہگہ بارڈر پر انڈین حکام کے حوالے کردیا ہے۔ ابھینندن کے استقبال کے لیے انڈین بارڈر پر عوام کی بڑی تعداد موجود ہے۔

لائیو کوریج

ذیشان حیدر، طاہر عمران، حسن زیدی شجاع ملک، حمیرا کنول

  1. پروازوں کی منسوخی: بینکاک میں پھنسے مسافروں کی قطاریں

    مسافر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنانڈیا اور پاکستان کے اوپر سے اڑنے والی پروازیں منسوخ ہونے کی وجہ سے بینکاک ایئرپورٹ پر پھنسے مسافروں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں
    مسافر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنیہ شخص انتظار کرتے کرتے اپنے سامان کا سہارا لے کر سستا رہے ہیں
  2. ’ٹرین چلے گی تو کب؟‘, فرقان الٰہی، بی بی سی اردو، لاہور

    سمجھوتہ

    پاکستان اور انڈیا میں جاری کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے درمیان چلنے والی ریل سروس، سمجھوتہ ایکسپریس، معطل کر دی گئی ہے جس کے وجہ سے درجنوں مسافر شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

    سمجھوتہ ایکسپریس نے آج صبح آٹھ بجے لاہور سے انڈیا کے لیے روانہ ہونا تھا تاہم ایسا نہ ہو سکا۔

    لاہور ریلوے سٹیشن میں واقع گرین لائن سروس کے ویٹنگ روم میں لگ بھگ 45 انڈیا جانے والے مسافر موجود ہیں اور ان میں بچے بھی شامل ہیں۔

    ان پھنس جانے والے مسافروں کو پاکستان ریلوے کی جانب سے صرف بیٹھنے کی سہولت دی گئی ہے اور کوئی خاطر خواہ بندوبست نہیں ہے۔ ان مسافروں میں سے کچھ کے پاس ٹکٹس ہیں جبکہ کچھ نے ابھی ٹکٹ خریدنے تھے۔

    مسافروں کو بتایا گیا ہے کہ حکام کے درمیان اس حوالے سے بات چیت جاری ہے، تاہم انھیں حتمی طور پر یہ نہیں بتایا جا رہا کہ ٹرین کب چلے گی۔

    سمجھوتہ

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دہلی کے عبدل مجیب خان نے بتایا کہ وہ کراچی ایک شادی میں شمولیت اور رشتہ داورں سے ملنے کے لیے آئے تھے۔

    ’میرا ویزہ 2 مارچ کو ختم ہو رہا ہے۔ ہم پرسوں کراچی سے روانہ ہوئے تھے کل رات چار بجے لاہور سٹیشن پہنچے تھے۔ یہاں آ کر پتا چلا کہ سمجھوتہ ایکسپریس بند کر دی گئ ہے۔‘

    انھوں نے حکام سے اپیل کی ہے کہ انھیں ان کے ملک واپس بھجوایا جائے۔

    مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والے محمد یونس نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خالو کا انتقال ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی آئے تھے۔

    محمد یونس کی بیگم کا تعلق پاکستان سے ہے۔ ’میری بیگم کے ویزے کی معیاد 90 دن ہے اور ان کو ہر حال میں بارڈر کراس کرنا ہے۔ ان کے ویزے کی معیاد نہیں بڑھ سکتی اور اگر اس کا ویزہ ختم ہو گیا تو نہ وہ انڈیا کی رہیں گی نہ پاکستان کی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ ان کی فیملی بھی آئی ہے۔

    ’میری والدہ 70 سال کی ہیں۔ وہ اپنے بہن بھائیوں سے ملنے 18 سال کے بعد پاکستان آئی ہیں۔ ایک بچہ ڈھائی سال کا ہے اور ایک ڈھائی ماہ کا جبکہ میری بیٹی کی طبعیت خراب ہے۔‘

    انھوں نے مذید کہا کہ انھیں بتایا گیا ہے کہ مذاکرات چل رہے ہیں اور انڈیا میں ٹرین رکی ہے جس کی وجہ سے پاکستان سے بھی نہیں گئی ہے۔

    ’ہمیں بتایا گیا ہے کہ بات چیت چل رہی ہے اور اگر مسئلہ حل ہوتا ہے تو سوموار کو واپس بھیج دیا جائے گا۔ ایک افسر نے بتایا ہے کہ یہاں سے بات کرنے گئے ہیں اور ہو سکتا ہے کل ہمیں انڈیا بھیج دیا جائے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین نہیں دلایا جا رہا ہے کہ ٹرین چلے گی تو کب چلے گی۔

  3. ’دہشت گردی ہو پھر بھی قانون کسی ملک کی سرحد پار کر کے کارروائی کی اجازت نہیں دیتا‘, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    ڈاکٹر فیصل

    ،تصویر کا ذریعہTwitter/@ForeignOfficepk

    پاکستانی حکومت نے کہا ہے کہ وہ بدھ کے روز پکڑنے جانے والے انڈین پائلٹ کے بارے میں جلد فیصلہ کرے گی کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی جنیوا کنونشن کے تحت ہوگی یا کسی اور قانون کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

    جمعرات کے روز دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے میڈیا کے ارکان کو بتایا کہ گرفتار ہونے والے انڈین پائلٹ ابھینندن کی حالت بہت بہتر ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جس جگہ انڈین طیارے کا ملبہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے میں گرا، وہاں سے لوگوں نے بھارتی پائلٹ کو پکڑا اور سیکیورٹی فورسز کے حوالے کیا۔

    اُنھوں نے کہا کہ دہلی نے پائلٹ کی حوالگی کے بارے میں بھی پاکستان کو بھی آگاہ کیا ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ دو روز قبل انڈین طیاروں نے پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بالا کوٹ میں جس جگہ کارروائی کی تھی وہاں پر اقوام متحدہ ملٹری ابزرور گروپ برائے انڈیا پاکستان کے نمائندوں کو لے جایا جا رہا ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ بھارتی حملے کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے کا فیصلہ ایک دو روز میں کرلیا جائے گا۔

    اُنھوں نے کہا کہ بھارت کے اندر مودی کی پالیسی پر آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ پورے خطے کو تباہی کے راستے پر لے کر جارہے ہیں اور خود بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کے اندر سے بھی آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ محض 22 سیٹوں کے لیے خطے کو جنگ میں دھکیلا جارہا ہے۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر کہیں دہشت گردی ہو بھی رہی ہے تو پھر بھی دنیا کا کوئی قانون کسی ملک کی سرحد پار کرکے کارروائی کی اجازت نہیں دیتا۔

    ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے دفاع سے غافل نہیں ہے اور ملکی قیادت اس بارے میں کسی اور ملک کی طرف نہیں دیکھ رہی۔

    اُنھوں نے کہا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پلوامہ میں ہونے والے خودکش حملے سے متعلق بھارتی حکومت کی طرف سے بھیجا گیا ڈوزئیر پاکستان کو موصول ہوگیا ہے اور متعلقہ حکام اس کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ پاکستان قابل عمل انٹیلیجنس اور ثبوتوں پر کارروائی کے لئے تیار ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فیصل نے بتایا کہ اگلے ماہ دبئی میں ہونے والی اسلامی ملکوں کی تنظیم کے اجلاس میں اگر بھارتی وزیر خارجہ شرکت کریں گی تو پاکستانی وزیر خارجہ اس میں شرکت نہیں کریں گے۔

  4. جنیوا کنونشن کیا ہے؟, سلیم احمد، بی بی سی اردو سروس، لندن

    جنیوا کنونشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جنگی قیدیوں کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین میں سب سے معتبر دستاویز جینوا میں طے پانے والا ایک معاہدہ ہے جسے عرف عام میں ’جنیوا کنونشن‘ کہا جاتا ہے۔ اس دستاویز پر پہلی مرتبہ سنہ 1929 میں اتفاق کیا گیا تھا، تاہم دوسری جنگ عظیم کے بعد سنہ 1949 میں پہلے معاہدے میں خاصی تبدیلیاں کی گئیں اور اس میں جنگی قیدیوں سے سلوک کے حوالے سے کئی شقوں کا اضافہ کیا گیا اور اس معاہدے کو تیسرا جنیوا معاہدے یا ’تھرڈ جنیوا کنونشن‘ کہا جاتا ہے۔

    اب تک دنیا کے 149 فریق اس معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں، جن میں انڈیا اور پاکستان بھی شامل ہیں۔

    جنیوا کنونشن ہر رکن ملک کو پابند کرتا ہے کہ وہ کسی جنگی قیدی سے تفتیش کے دوران ہر قسم کے جسمانی یا ذہنی تشدد یا کسی بھی قسم کے دباؤ سے پرہیز کرے گا، اور جس قدر جلد ممکن ہو گا، قیدی کو جنگ کے مقام سے دُور لے جائے گا۔

    کنونشن کی شق نمبر49 تا 57 کا تعلق ایسے قیدیوں سے ہے جنھیں جلد اپنے ملک کے حوالے نہیں کیا جاتا۔ ایسے قیدیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ ان سے کوئی ایسا کام یا مشقت بھی نہیں لی جا سکتی جو ان کے فوجی عہدے کے شایان شان نہ ہو۔

    یعنی نہ صرف ان کے عہدے، عمر اور جنس کا لحاظ کرنا ضروری ہے بلکہ ان سے کوئی ایسا کام بھی نہیں کرایا جا سکتا ہے جو مضر صحت یا خطرناک ہو سکتا ہے۔

  5. انڈیا متحد ہو کر لڑے گا اور جیتے گا: مودی

    انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے بی جے پی کارکنوں سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’دشمن انڈیا کے خلاف دہشتگردی کی معاونت کرتا ہے تاکہ ہماری ترقی کو روکا جا سکے۔ ملک اس وقت امتحان سے گزر رہا ہے۔ اس مرحلے پر ہمیں اپنی سیکوریٹی فورسز کا حوصلہ بلند رکھنا ہے۔‘

    انڈین وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ’انڈیا متحد کھڑا رہے گا، متحد ہو کر کام کرے گا، متحد ہو کر ترقی کرے گا، انڈیا متحد ہو کر لڑے گا اور جیتے گا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  6. تجزیہ: پائلٹ پاکستان کی حراست میں – اگلا قدم کیا؟, شکیل اختر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

    مودی

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    امریکہ کے صدر ڈونلد ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ وہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کی کوشش کررہا ہے اور جلد ہی ٹکراؤ کی صورت ختم ہونے کی امید ہے، انڈیا کی بیشتر توجہ سفارتی اقدامات پر مرکوز ہے۔

    صورتحال میں کچھ تبدیلی کا اشارہ کل اس وقت ملا جب انڈیا نے موجودہ کشیدگی کے دوران پہلی بار جیش محمد کی سرگرمیوں کے بارے میں کچھ دستاویزات پاکستان کے ہائی کمشنرکو سونپے اور پاکستان سے کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔

    انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال نے برطانیہ کے قومی سلامتی کے مشیر سے موجودہ صورتحال پر مفصل بات کی ہے اور انھوں نے یورپی ممالک کے بعض دیگر ہم منصبوں سے بھی رابطہ قائم کیا ہے۔

    تینوں افواج کے سربراہوں نے آج صبح وزیر دفاع نرملا سیتا رمن سے ملاقات کی ہے اور انھیں صورتحال کے بارے میں بریف کیا۔

    انڈیا میں بیشتر بحث و مباحثے اب اس انڈین پائلٹ پر مرکوز ہیں جو پاکستان کے قبضے میں ہے۔ آج شام پانچ بجے بری فوج اور فضائیہ کی کی ایک مشترکہ پریس کانفرنس ہو رہی ہے۔

    انڈیا نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن وردمان کو صحیح سلامت انڈیا کے حوالے کیا جائے۔ انڈیا میں اس بات پر اطمینان ہے کہ اس کا پائلٹ محفوظ ہے۔

    ملک میں بالاکوٹ آپریشن کے بعد ہر طرف جو جوش و خروش اور جارحانہ لب و لہجہ تھا وہ پاکستان میں انڈین پائلٹ کی گرفتاری اور انڈین طیارہ گرائے جانے کی خبر کے بعد مدھم پڑ چکا ہے۔

    ٹی وی پر بحث و مباحثے میں اب پائلٹ کی رہائی کے سوال کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس دوران ملک کی 21 اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعضم نریندر مودی پر تنقید کی ہے کہ وہ موجودہ کشیدگی اور سیکورٹی فورسز کی قربانیوں پر سیاست کر رہے ہیں۔

    بدھ کی شام ایک پروگرام میں کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے انڈیا اور پاکستان پر زور دیا کہ وہ موجودہ کشیدگی ختم کرنے کے لیے قدم اٹھائیں۔

    انھوں نے کہا کہ جنگ دونوں ملکوں کے لیے تباہ کن ہوگی۔ منموہن سنگھ نے کہا ’ہماری اصل لڑائی غربت اور افلاس سے ہے۔ہمیں اپنی توجہ معیشت پر مرکوز کرنی ہوگی۔ جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔‘

  7. شاہ محمود قریشی: ’صدر ٹرمپ کے بیان پر ان کا شکریہ‘

    امریکی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مہذب دنیا میں واحد راستہ مذاکرات کا ہی ہے۔

    انھوں نے صدر ٹرمپ کے بیان پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستانیوں کو اس بیان کو اچھے انداز میں لینا چاہیے۔

  8. بریکنگ, صدر ٹرمپ: کوئی ’معقول خبر‘ جلد ملنے والی ہے

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں پاکستان اور انڈیا کی جانب سے ’پرکشش اور معقول خبریں‘ مل رہی ہیں۔

    شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ ان کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کے دوران انھوں نے کہا ’ہم دونوں ممالک کو روکنے کے لیے ان کی مدد کررہے تھے اور ہمیں معقول خبریں مل رہی ہیں کہ یہ سب، جو ایک لمبے عرصے سے جاری ہے، سب جلد ختم ہو جائے گا۔‘

    اس سے پہلے قائم مقام امریکی سیکرٹری دفاع پیٹرک شیناہین نے کہا تھا کہ پاکستان اور انڈیا مزید فوجی کارروائیوں سے گریز کریں۔

  9. صحت اور بلدیاتی اداروں میں خصوصی اقدامات

    اقدامات

    پاکستان اور انڈیا میں جاری حالیہ کشیدگی کے باعث ملک میں صحت اور بلدیات سے متعلقہ بعض سرکاری اداروں میں خاص اقدامات کیے گئے ہیں۔

    نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق محکمہ بلدیات سندھ نے ایمرجنسی کا نفاذ کرتے ہوئے تمام افسران وملازمین کی چھٹیاں منسوخ کردی ہیں۔

    بلدیاتی اور شہری اداروں کو باہمی رابطے کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہیوی مشینری تیار رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

    سول ہسپتال کوئٹہ میں بھی ایمرجنسی کا نفاذ کیا گیا ہے۔

  10. پاکستان کے شہروں میں فضائی حملے کی تیاری کے لیے مشقیں

    انڈیا کے ساتھ بڑھتے فوجی تناؤ اور بدھ کے روز دونوں ملکوں کے درمیان فضائی جھڑپ کے بعد پاکستان اور اس کے زیرانتظام کشمیر کے بعض علاقوں میں گزشتہ رات فضائی حملے کی صورت میں ردعمل کی تیاری کی مشقیں کی گئیں۔

    نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے بعض شہروں میں بجلی کی فراہمی بند کر دی گئی اور کراچی چھاؤنی کے علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اعلانات کر کے رات گئے گھروں اور کمرشل مقامات پر بتیاں بند کروائیں۔

    ان مشقوں کے بارے میں شہریوں کو پہلے سے اطلاع نہیں دی گئی تھی اس لیے شہریوں میں رات بھر خاصا خوف و حراس پھیلا رہا۔

  11. بی جے پی رہنما: ’فضائی حملوں کی وجہ سے ہم 22 مزید نشستیں جیت سکیں گے‘

    انڈیا میں بی جے پی کرناٹک کے لیڈر بی ایس ییدی رپّا کے ایک حالیہ بیان پر انڈیا میں کافی تنقید ہو رہی ہے۔

    انڈین میڈیا کے مطابق بی جے پی کے رہنما نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ حالیہ فضائی حملوں سے وزیراعظم مودی کے لیے حمایت بڑھ رہی ہے اور بی جے پی کے لیے نوجوان بہت سرگرم ہیں۔

    ’اس سے ہمیں کرناٹک سے 22 لوک سبھا کی نشستیں جیتنے میں مدد ملے گی۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    ان کے اس بیان پر ہر جانب سے تنقید ہوئی، اور جلد ہی ان کا اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے اپنے بیان کی توجیح پیش کرنا پڑی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

  12. مسعود اظہر کو ’بلیک لسٹ‘ کرنے کا مطالبہ؟

    مسعود اظہر

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو تجویز دی ہے کہ شدت پسند تنظیم جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو ’بلیک لسٹ‘ کیا جائے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ یہ تنظیم انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پلوامہ میں نیم فوجی اہلکاروں پر ہونے والے پر حملے کی ذمہ دار ہے۔

    روئٹرز کے مطابق اس بات کا امکان ہے کہ چین اس تجویز کی مخالفت کرے گا۔

    اس سے قبل سنہ 2016 اور سنہ 2017 میں چین کی مخالفت کی وجہ سے سلامتی کونسل مسعود اظہر پر پابندیاں عائد کرنے میں ناکام رہی تھی۔ تاہم چین نے ابھی تک اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار نہیں کیا ہے۔

  13. وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع

    نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق پاکستان کی وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیرِ اعظم عمران خان کی صدارت میں شروع ہو گیا ہے۔

  14. ’آج حکومت پورے پارلیمان کو اعتماد میں لے گی‘

    پارلیمان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس آج طلب کر لیا ہے۔ مشترکہ اجلاس آج سہ پہر تین بجے اسلام آباد کے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہو گا۔

    یہ اجلاس پاکستان اور انڈیا کے درمیان جاری کشیدگی کے پسِ منظر میں بلایا گیا ہے۔

    حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما سینیٹر شبلی فراز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا کی جانب سے حالیہ فضائی خلاف ورزیوں اور اس پر پاکستان کے ردِعمل پر کل اداروں کی جانب سے ان کیمرہ بریفنگ دی گئی تھی۔

    ’آج حکومت کی طرف سے اس بریفنگ کے حوالے سے پورے پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے گا اور موجودہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے پارلیمان کی رائے بھی حاصل کی جائے گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ حکمران جماعت اس مشترکہ نشست کے ذریعے بالعموم پاکستانی عوام اور بالخصوص دینا کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ انڈیا کے ساتھ جاری کشیدگی کے معاملے پر ملک کی تمام سیاسی جماعتوں میں اتفاقِ رائے ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے بھی سیاسی جماعتوں سے رائے طلب کی جائے گی

  15. پاکستانی وزیر اطلاعات کی ٹویٹ: ’انتہا پسندی کی جیت سے پاکستان، بھارت اور پوری دنیا ہار جائے گی‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے ٹویٹ کیا ہے کہ ’دنیا کو سمجھنا چاہیے کہ پاک بھارت تصادم پہلے خطے اور بعد میں دنیا کو غیر مستحکم کر سکتا ہے اس صورتحال سے تقسیم اور انتہا پسندی نئی انتہا کو پہنچ سکتی ہے۔‘

    ’انتہا پسندی کی جیت سے پاکستان، بھارت اور دنیا ہار جائے گی۔ آئیں کشیدگی کو کم کرنے کیلئے مل کر آگے بڑھیں۔‘

    ان کے مطابق پاکستان اور بھارت میں ٹکراؤ خطے اور دنیا میں عدم استحکام پیدا کرے گا۔ دونوں ملکوں کے درمیان محاذ آرائی سے دنیا میں انتہا پسندی مزید بڑھے گی۔

  16. اقوامِ متحدہ، ایران کی ثالثی بننے کی پیشکش

    اقوام متحدہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے پاکستان کو جاری کشیدگی کے حل کے لیے اپنی ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ یہ پیشکش انھوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کی۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینٹونیو گوتیریز نے پاکستان اور انڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ’زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ‘ کریں۔

    اقوام متحدہ کے ترجمان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ سیکرٹری جنرل موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور انھوں نے دونوں ہمسایہ ملکوں پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات کریں جن کی بدولت جاری کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

    اس کے علاوہ بیلجیئم کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے بھی شاہ محمود قریشی سے رابطہ کیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے کے مطابق شاہ محمود قریشی نے انھیں پاکستان اور انڈیا کے درمیان جاری کشیدگی پر بریفنگ دی۔

    بیلجیئم کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ وہ سلامتی کونسل میں موجود یورپی یونین کے اراکین سے بات کریں گے کہ وہ اس صورتحال میں اپنا کردار ادا کریں۔

  17. پاکستان میں جنگ کے خلاف مظاہرے

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    انڈیا اور پاکستان کی فضائی کاروائیوں کے بعد پیدا ہوجانے والی کشیدگی پر جمعرات کو پاکستان کے بڑے شہروں کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے پریس کلبوں کے باہر ممکنہ جنگ کے خلاف مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

    اس مظاہرے کی کال گذشتہ رات سماجی کارکن عمار راشد نے ایکے ٹویٹ کے ذریعے دی۔

    ان کا کہنا تھا ’آئیں اپنی آوازوں کو سڑکوں پر بھی سنائیں۔ مستقل اور پائیدار امن کیلئے آئیں اس موقع کو ضائع نہ ہونے دیں۔‘

  18. کشمیر کے پونچھ سیکٹر میں گولہ باری, ریاض مسرور، نامہ نگار، سرینگر

    گزشتہ شب ایل او سی کے تقریباً سبھی سیکٹروں پر حالات قدرے پرسکون رہے۔

    تاہم دفاعی ترجمان دیوندر آنند نے جمعرات کی صبح چھ بجے بتایا کہ پاکستانی افواج نے پونچھ کے کرشنا گھاٹی سیکٹر میں شدید گولہ باری کی۔

    ترجمان کے مطابق بھارتی فوج نے بھی اس کا جواب دیا جسکے بعد سات بجے یہ سلسلہ تھم گیا۔

    راجوری، پونچھ اور سانبہ اضلاع میں کنٹرول لائن کے پانچ کلومیٹر دائرے میں سبھی تعلیمی ادارے بند کردیے گئے ہیں۔

    دریں اثنا کشمیر، لداخ اور جموں کے ہوائی اڈوں پر سول پروازیں بحال کردی گئی ہیں۔

  19. انڈیا، پاکستان مذید فوجی کارروائیوں سے گریز کریں: امریکہ

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    قائم مقام امریکی سیکرٹری دفاع پیٹرک شیناہین نے جاری کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے پاکستان اور انڈیا مذید فوجی کارروائیوں سے گریز کریں۔

    پینٹاگون سے بدھ کو جاری ہونے والے اعلامیے میں اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا کہ آیا سیکرٹری دفاع کی پاکستان یا انڈیا میں اپنے کسی ہم منصب سے بات ہوئی ہے یا نہیں۔

    اعلامیے کے مطابق سیکرٹری دفاع کی اس صورتحال کے بارے میں سینئیر امریکی فوجی افسران سے بات چیت ہوئی ہے۔

  20. پاکستان اور انڈیا کے درمیان ریل سروس معطل

    سمجھوتا ایکسپریس

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    پاکستان اور انڈیا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث سمجھوتا ایکسپریس کو معطل کر دیا گیا ہے۔ سمجھوتا ایکسپریس نے آج صبح آٹھ بجے لاہور سے انڈیا کے لیے روانہ ہونا تھا تاہم ایسا نہ ہو سکا۔

    پاکستان ریلوے کے جانب سے ایک بیان سامنے آیا ہے جس کے مطابق سمجھوتا ایکسپریس کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر آج لاہور سے روانہ نہیں کیا گیا۔

    ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ جن بھارتی شہریوں کے ویزے کی معیاد اس دوران ختم ہوئی انھیں انہی ویزوں پر بھارت بھیجا جائے گا۔