اہلیہ کو ہوش آتے ہی پاکستان آؤں گا: نواز شریف

اسلام آباد میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کرنے والی احتساب عدالت نے پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کو دس،ان کی بیٹی مریم نواز کو سات جبکہ داماد کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنا دی ہے جبکہ نواز شریف کو 80 لاکھ جبکہ مریم نواز کو 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ بھی کیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

ذیشان حیدر، رضا ہمدانی، ذیشان علی، حمیرا کنول

  1. سماعت کا آغاز!

    بی بی سی کے نامہ نگار عابد حسین کے مطابق احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کمرہِ عدالت میں پہنچ گئے ہیں۔

  2. نواز شریف کے نمائندے ظافر خان عدالت میں

    احتساب عدالت میں نواز شریف کے نمائندے ظافر خان پہنچ گئے ہیں۔ گذشتہ برس اکتوبر میں جب اس ریفرنس میں سابق وزیراعظم کی غیر موجودگی میں فرد جرم عائد کی گئی تھی تو اس وقت بھی ظافر خان ان کے نمائندے کے طور پر عدالت میں موجود تھے

  3. کارروائی کا انتظار

    اسلام آباد کی نیب عدالت میں وکلا اور صحافیوں کی بڑی تعداد موجود ہے تاہم ابھی تک سماعت کا آغاز نہیں ہوا ہے۔

    نیب عدالت
    نیب
  4. بریکنگ, ایون فیلڈ ہے کیا؟

    ،ویڈیو کیپشنلندن کے علاقے پارک لین میں واقع ایون فیلڈ فلیٹس کے بارے میں مزید جانیے۔
  5. فیصلے کو 'چند روز' تک مؤخر کرنے کی مخالفت

    سابق وزیراعظم نواز شریف نے احتساب عدالت سے استدعات کی ہے کہ وہ فیصلے کو 'چند روز' تک مؤخر کرے لیکن پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے فیصلے کو مؤخر کرنے کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فیصلہ آج جمعے کو ہی سنانا چاہیے

    تحریک انصاف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  6. احتساب عدالت کے باہر سکیورٹی سخت لیکن مسلم لیگ نون کے کارکن غائب

    اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر موجود نامہ نگار عابد حسین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سکیورٹی کے سخت انتطامات کیے گئے ہیں تاہم ماضی میں اس ریفرنس کی سماعت کے موقع پر دیکھی جانے والی گہما گہمی نہیں ہے اور سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد تو موجود ہے لیکن مسلم لیگ نون کے کارکن دکھائی نہیں دے رہے ہیں

    احتساب عدالت
  7. ریفرنس گذشتہ برس 8 ستمبر کو دائر کیا گیا تھا

    حسین نواز

    ،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

    نیب نے سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کے بچوں اور داماد کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس گذشتہ برس 8 ستمبر میں دائر کیا تھا۔ 23 جنوری کو نیب نے مزید شواہد حاصل ہونے پر ایک ضمنی ریفرنس دائر کیا تھا۔ عدالت نہ 19 اکتوبر کو مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر پر فرد جرم عائد کی تھی جبکہ 8 نومبر کو سابق وزیراعظم نواز شریف پر براہ راست فرد فرم عائد کی تھی۔

    عدالت نواز شریف کے بیٹے حسن نواز اور حسین نواز کو اس ریفرنس میں عدم حاضری پر اشتہاری قرار دے چکی ہے۔ عدالت نے اس ریفرنس کی سماعت 9 ماہ اور 20 دن تک کی اور منگل کو سماعت پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو آج جمعے کو سنایا جا رہا ہے۔

  8. بریکنگ, عدالتی کمپلیکس کے گرد سکیورٹی کے سخت انتظامات

    پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق جوڈیشل کمپلیکس کے گرد 500 رینجرز اور 1400 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

    سخت سکیورٹی
    سخت سکیورٹی
    سکیورٹی
  9. پہلے نواز شریف کی درخواست پر فیصلہ سنایا جائے گا

    سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق عدالت پہلے فیصلہ موخر کرنے کے حوالے سے نواز شریف کی درخواست پر فیصلہ سنائے گی۔ اگر یہ درخواست مسترد ہوگئی تو پھر عدالت ایون فیلڈ کیس کا فیصلہ سنائے گی تاہم اگر یہ درخواست منظور کر لی گئی تو عدالت دوسرا فیصلہ موخر کر دے گی۔

  10. کیا فیصلہ آج آئے گا؟

    ماہرین قانون ایک نکتے پر متفق نظر آتے ہیں کہ عدالتیں ہمیشہ ہمدردی کے جذبے کو ملحوظ خاطر رکھتی ہیں اور اگر ملزم ایسی ٹھوس وجہ بیان کر سکے جس سے یہ ثابت ہو کہ عدالت میں پیش ہونا ملزم کے اختیار میں نہیں ہے تو ایسے میں عدالتیں اپنی صوابدید پر درخواست پر فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔

    نواز شریف

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  11. بریکنگ, ’کیپٹن صفدر کا فون کل سے بند ہے‘

    مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے وکیل امجد پرویز نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا کیس بہت مضبوط ہے امید ہے فیصلہ ہمارے حق میں ہوگا۔ صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کیپٹن صفدر کا فون کل سے بند ہے اور کل سے ان سے رابطہ نہیں ہوا۔

  12. بریکنگ, نیب کی ٹیم عدالت پہنچ گئی

    ،ویڈیو کیپشننیب عدالت
  13. مجرم کا عدالت میں ہونا ضروری نہیں

    ماہرین قانون کا خیال ہے کہ سی آر پی کی سیکشن (3) 366 واضح ہے کہ کسی عدالتی فیصلے کو اس بنیاد پر غیر موثر قرار نہیں دیا جا سکتا ہے کہ عدالتی فیصلے کے وقت ملزم عدالت میں موجود نہیں تھا۔

  14. نواز شریف اور عدالتیں

    ملک کے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے میاں نواز شریف کے ستارے کئی مرتبہ گردش میں رہے ہیں۔ تفصیلات جاننے کے لیے کلک کیجیے۔

    نواز شریف

    ،تصویر کا ذریعہAFP

  15. نہ معافی مانگوں کا نہ بریت کی اپیل کروں گا: نواز شریف

    سابق وزیراعظم نواز شریف ماضی میں یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ کسی بھی کیس میں سزا سنائے جانے کی صورت میں نہ معافی مانگیں گے اور نہ ہی رحم کی اپیل کریں گے۔

  16. پارک لین کے فلیٹس کب خریدے گئے، کب بِکے

    بی بی سی اردو کو حاصل شدہ سرکاری دستاویزات کے مطابق انیس سو نوے کی دہائی سے یہ چار فلیٹس نیسکول اور نیلسن کے نام پر ہی ہیں اور ان دونوں کمپنیوں کی ملکیت کا اعتراف وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کر چکے ہیں۔ تفصیلات پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

    پارک لین کے فلیٹ
  17. نوے کی دہائی سے فلیٹس کی ملکیت تبدیل نہیں ہوئی

    ،ویڈیو کیپشنشریف خاندان کے زیرِ استعمال پارک لین کے فلیٹس کی ملکیت نوے کی دہائی سے تبدیل نہیں ہوئی ہے۔
  18. نواز شریف پر فردِ جرم آٹھ نومبر کو

    نواز شریف پر احتساب عدالت کی جانب سے آٹھ نومبر 2017 کو فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔

  19. کل 18 گواہوں کے بیانات قلم بند

    سرکاری ٹی وی کے مطابق ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں احتساب عدالت میں کل 18 گواہان نے بیانات قلم بند کروائے

  20. نہ معافی مانگوں کا نہ بریت کی اپیل کروں گا: نواز شریف

    سابق وزیراعظم نواز شریف نے مئی میں بیان دیا تھا کہ وہ کسی بھی کیس میں سزا سنائے جانے کی صورت میں نہ معافی مانگیں گے اور نہ ہی رحم کی اپیل کریں گے۔