تین بھی بج گئے
احتساب عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کی تیاریاں مکمل ہو گئی ہیں اور ایک بار پھر عدالت لگ گئی ہے۔
اسلام آباد میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کرنے والی احتساب عدالت نے پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کو دس،ان کی بیٹی مریم نواز کو سات جبکہ داماد کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنا دی ہے جبکہ نواز شریف کو 80 لاکھ جبکہ مریم نواز کو 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ بھی کیا گیا ہے۔
ذیشان حیدر، رضا ہمدانی، ذیشان علی، حمیرا کنول
احتساب عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کی تیاریاں مکمل ہو گئی ہیں اور ایک بار پھر عدالت لگ گئی ہے۔
ایون فیلڈ ہاؤس کے باہر موجود بی بی سی اردو کے نامہ نگار جاوید سومرو کے مطابق فیصلہ سننے کے لیے میاں نواز شریف، مریم نواز کے علاوہ اسحاق ڈار بھی ان اپارٹمنٹس میں موجود ہیں۔
احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سنائے جانے میں مزید آدھے گھنٹے کی تاخیر کا اعلان کیا گیا ہے اور نامہ نگار عابد حسین کے مطابق اب عدالت یہ فیصلہ شام تین بجے سنائے گی
ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ آنے میں تو ابھی کچھ دیر ہے لیکن اس سارے معاملے کا آغاز کہاں سے ہوا تھا یہ جاننے کے لیے بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ دیکھیے۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سننے نہیں آئے بلکہ اپنے حلقے میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ مسلم لیگ نون کی جانب سے جاری کی جانے والی ویڈیو میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے لوگوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر فیصلہ کسی جج نے لکھا تو نواز شریف صاحب کو انصاف ملے گا اور اگر فیصلہ کسی جرنیل نے لکھ دیا تو نواز شریف کے ساتھ وہ ہی ہو گا جو 28 جولائی کو ہوا تھا۔۔۔ آج قوم نواز شریف کے ساتھ کھڑی ہے

،تصویر کا ذریعہPMLN
نواز شریف کی بیٹی اور ایون فیلڈ ریفرنس کی شریک ملزمہ مریم نواز نے فیصلے کے اعلان سے قبل اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں مسلم لیگ ن کے کارکنوں کو مخاطب کیا ہے اور کہا ہے کہ فیصلہ جو بھی وہ گھبرائیں نہیں کیونکہ اصل فیصلہ تو 25 جولائی کو ہونا ہے جو کہ ملک میں عام انتخابات کا دن ہے
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
نامہ نگار عابد حسین کے مطابق احتساب عدالت نے فیصلہ سنانے میں مزید دو گھنٹے کی تاخیر کا اعلان کیا ہے۔ اب فیصلہ دن ڈھائی بجے سنایا جائے گا۔ اس بات کا اعلان ایک عدالتی اہلکار نے کیا اور جج صاحب دوبارہ عدالت میں نہیں آئے ہیں۔


،تصویر کا ذریعہEPA
گذشتہ برس 28 جولائی کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے پاناما لیکس کے معاملے میں اپنے متفقہ فیصلے میں وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان کے اور ان کے خاندان کے افراد کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے احتساب عدالتوں میں زیر سماعت آنے والے مقدمات کی نگرانی کے لیے جسٹس اعجاز الاحسن کو نگراں جج مقرر کیا تھا۔ اس وقت نواز شریف نے بیان دیا تھا کہ ملک کو صحیح ڈگر پر لانے اور ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نو مئی کو سپریم کورٹ نے نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف اسلام آباد کی احتساب عدالت میں دائر مقدمات کی سماعت میں مزید ایک ماہ کی توسیع کرتے ہوئے احتساب عدالت کے جج کو نو جون تک ان ریفرنسز کی سماعت مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اس سے پہلے سات مارچ کو نیب کی درخواست پر ریفرنسز کو مکمل کرنے کی مدت میں دو ماہ کی توسیع کی تھی۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے میں تاخیر کی درخواست مسترد کرتے ہوئے جمعے کو ساڑھے بارہ بجے فیصلہ سنانے کا اعلان کیا ہے۔

عدالت میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے عدالت سے کہا کہ چونکہ کلثوم نواز کی حالت ٹھیک نہیں اسی لیے وہ عدالت سے فیصلہ موخر کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے امجد پرویز نے عدالت میں کلثوم نواز کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹ جو کہ تین جولائی کی ہے، عدالت میں جمع کروائی۔
امجد پرویز نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت صرف اُس صورت میں ملزم کی عدم موجودگی میں فیصلہ سنا سکتی ہے جب ملزم اشتہاری ہو۔ ان کا کہنا تھا ہک ’ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ فیصلہ سنائیں نہیں، ہم کہہ رہے ہیں کہ سات دن کے لیے مؤخر کر دیں۔‘
دوسری جانب ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی کا کہنا تھا کہ قانون میں ایسی کوئی مثال نہیں ہے جس میں عدالت فیصلہ سنانے کی تاریخ دے اور پھر اس کو موخر کرنے کی درخواست پر غور کرے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایسی مثال قائم کی گئی تو پھر تمام ملزمان اس عدالتی فیصلے کو نظیر بناتے ہوئے اپنے خلاف سنائے جانے والے عدالتی فیصلوں کو کچھ دیر کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست دیا کریں گے۔ انھوں نے استدعا کی کہ عدالت اس درخواست کو مسترد کر دے۔
احتساب عدالت کے جج نے نواز شریف کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس کا محفوظ فیصلہ مزید ایک ہفتے تک نہ سنائے جانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت ایک گھنٹے کے لیے موخر کر دی ہے۔
پہلے تو جج محمد بشیر کو میاں نواز شریف کی اس درخواست پر فیصلہ پہلے کرنا ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ شریف خاندان کی لندن میں جائیدادوں کے حوالے سے مقدمے کا فیصلہ اس وقت تک موخر کیا جائے جب تک لندن میں زیر علاج بیگم کلثوم نواز کی صحت سنبھل نہیں جاتی۔
دوسرا فیصلہ جج محمد بشیر کو یہ کرنا ہے کہ انھیں اپنی اعلان کردہ تاریخ پر شریف خاندان کے بارے میں مقدمے کا فیصلہ کرنا ہے یا نہیں۔