ایرانی صدر کی پڑوسی ممالک سے معذرت، لیکن کیا وہ ایرانی قیادت کی ایما پر بات کر رہے ہیں؟, جان سمپسن، بی بی سی
خلیجی ریاستوں پر حملوں پر ایران کے صدر کی طرف سے معذرت اور یہ وعدہ کہ اگر ان کی سرزمین سے ایران پر حملے نہ کیے گئے تو انھیں نشانہ نہ بنایا جائے، یہ زیتون کی شاخ کی طرح نظر آتا ہے۔
لیکن کیا ایرانی صدر اپنی قیادت کے توسط سے یہ بات کر رہے ہیں؟
اگرچہ وہ منتخب صدر ہیں، لیکن اُنھیں مجتبیٰ خامنہ ای جیسے سخت گیر رہنما جو اب مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے ہیں یا اسلامی انقلابی گارڈز کور کے زندہ بچ جانے والے کمانڈروں جیسا اختیارات حاصل نہیں ہیں۔
صدر مسعود پزشکیان جو دل کے سرجن رہے ہیں، انھیں 2024 میں ایک معتدل رہنما کے طور پر منتخب کیا گیا تھا، لیکن وہ ایرانی قیادت کی درجہ بندی سے باہر رہے ہیں۔
کیا وہ امریکیوں کو یہ دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جب یہ جنگ ختم ہو تو وہ اس کے ساتھ کام کر سکتے ہیں؟
جہاں تک سخت گیر ایرانی رہنماؤؤ کا تعلق ہے، یہ سوچنا مشکل ہے کہ وہ اس مرحلے پر مفاہمت کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔
اُنھوں نے برسوں سے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی منصوبہ بندی کی ہے اور ان کی تعلیم شیعہ اسلام کی روح کے مطابق ہے، جو عقیدے کے لیے خود قربانی پر زور دیتا ہے۔
قیادت میں حقیقی طاقت رکھنے والے افراد یقیناً مزاحمت جاری رکھنے کے ساتھ ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر وہ صرف اسرائیلی اور امریکی حملے سے بچ سکتے ہیں تو یہ فتح کی ایک شکل ہوگی۔














