آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نئے سپریم لیڈر منتخب: ایرانی سرکاری میڈیا

ایران میں سرکاری خبر رساں ایجنسیوں نے مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کے رہنما اور اپنے والد کے جانشین کے طور پر منتخب کرنے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ ایران کی اعلیٰ ترین مذہبی و سیاسی اتھارٹی کے انتخابی عمل کے بعد سامنے آیا ہے،

خلاصہ

  • ایران کے سرکاری ٹی وی نے نئے رہبر اعلیٰ کے نام کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔
  • ایران اسرائیل امریکہ جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
  • امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اپنے ساتویں فوجی کی ہلاکت کا اعلان کر دیا ہے۔
  • متحدہ عرب امارات نے اتوار کے روز 16 بیلسٹک میزائل اور 113 ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
  • اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حملوں کی تازہ لہر میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی فضائیہ کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا ہے۔
  • تہران میں تیل کے ڈپو کے پھٹنے سے تیزابی بارش کا خطرہ، یہ رجحان جلد کو کیمیکل جلنے اور پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے: ہلال احمر
  • ایران کو ’بہت زیادہ شدت سے نشانہ‘ بنایا جائے گا، فوج نئے اہداف پر غور کر رہی ہے: صدر ٹرمپ کا انتباہ

لائیو کوریج

  1. گزشتہ 48 گھنٹوں میں ایران میں 300 جبکہ لبنان میں 170 اہداف کو نشانہ بنایا گیا: آئی ڈی ایف کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کی دفاعی افواج کی جانب سے ایکس پر جاری ہونے والے ایک تفصیلی بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ایران میں 300 جبکہ لبنان میں 170 سے زائد ’شدت پسندوں‘ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیلی فوج کا ایکس پر جاری بیان میں مزید کہنا ہے کہ ’اس نے تہران میں پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ کے مین ایئر ڈیفنس کمانڈ آپریشن روم پر ایک کامیاب حملہ کیا ہے۔‘

    فوجی ترجمان ایلا واویہ نے ایکس پر ایک بیان میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’گزشتہ شب، فضائیہ نے ملٹری انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ اور ایئر انٹیلی جنس یونٹ کی درست رہنمائی میں ایران کے حکومتی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے ایک وسیع پیمانے پر حملے کیے اور اہم اہداف حاصل کیے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ان میں سے ایک حملہ پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ کے ایئر ڈیفنس کمانڈ آپریشن روم کو نشانہ بنایا گیا جو ایران کے فضائی حدود کے دفاع میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

    واویہ کے مطابق ’یہ مرکز پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ کے لیے سب سے اہم ایئر ڈیفنس کمانڈ سینٹر ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’اسے نشانہ بنانے سے ایرانی حکومت کے دفاعی نظام اور کمانڈ و کنٹرول صلاحیتوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔‘

  2. جنوبی تہران میں ایک آئل ڈپو کو نشانہ بنایا گیا ہے: ایرانی میڈیا کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی تہران میں ایک کارروائی کے دوران تیل کے ایک بڑے ذخیرے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے فارس کے مطابق تہران پر بڑے دھماکوں کی آوازوں کے بعد رپورٹس موصول ہوئی ہیں کہ ’تہران کے جنوبی حصے میں واقع ایک آئل ڈپو پر حملہ ہوا ہے۔

    یہ حملہ اسرائیلی دفاعی افواج کی جانے سے تہران پر حملوں کی نئی لہر کے آغاز سے متعلق سامنے آنے والے بیان کے بعد کیا گیا ہے۔

  3. بریکنگ, دبئی میں ایک گاڑی پر تباہ شدہ میزائل کے ٹکڑے گرنے سے ایک شخص ہلاک: دبئی انتظامیہ

    دبئی میں مقامی انتظامیہ کے میڈیا آفس نے اعلان کیا ہے کہ دبئی کے ایک رہائشی کی موت میزائل کے ٹکڑے لگنے سے ہوئی ہے۔ مزید تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ ایسا اُس وقت ہوا کہ جب دبئی کے دفاعی نظام نے اس کی جانب بڑھنے والے ایک میزائل کو فضاہ میں تباہ کر دیا، تاہم زمین پر اس کے ٹکڑے ایک گاڑی پر گرے جس کی وجہ سے اس گاڑی میں سوار ڈرائیور ہلاک ہو گیا۔

    بیان کے مطابق یہ واقعہ شہر کے ال بارشا علاقے میں پیش آیا۔

    واضح رہے کہ اب سے کُچھ ہی دیر قبل متحدہ عرب امارات کی انتظامیہ کی جانب سے یہ خبر بھی سامنے آئی تھی کہ وہ منیبہ طور پر ایران کی طرف سے آنے والے ’میزائل اور ڈرونز‘ کو فضا میں تباہ کرنے کی کوشش میں ہیں۔

  4. ایران کے اقدامات میں شدت کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی: ایرانی وزیر خارجہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ’ایران کی ’تنازعہ کم کرنے پر آمادگی‘ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ختم کر دیا ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران کے اقدامات میں شدت کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی۔‘

    سنیچر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ بیانات کے بعد ایک بیان میں عراقچی نے کہا کہ ’ٹرمپ نے ایران کی ’صلاحیتوں، عزم اور ارادے‘ کا غلط اندازہ لگایا اور اس کی تشریح غلط انداز میں کی۔‘

    ایرانی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ ’اگر ٹرمپ کشیدگی بڑھانے کی کوشش کریں تو اس کے لیے ہماری طاقتور مسلح افواج طویل عرصے سے تیار ہیں۔‘

    انھوں نے خبردار کیا کہ ’ایران پر جنگ مسلط کیے جانے کے بعد اب اگر اُس کے حقِ دفاع کے دوران جاری کارروائیوں میں شدت آتی ہے تو اس کی مکمل طور پر ذمہ داری امریکی انتظامیہ پر ہوگی۔‘

    عراقچی نے اس کے بعد کہا کہ ایران کی جانب سے اس شرط پر ’تنازعہ کم کرنے پر آمادگی‘ کہ ہمسایہ ملک کی زمین ایران پر حملے کے لیے استعمال نہ ہو گی کو ٹرمپ نے غلط انداز میں لیا اور ایران کی صلاحیتوں پر شق کیا۔‘

    واضح رہے کہ اس سے قبل سنیچر کے روز امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کو ’بہت زیادہ شدت سے نشانہ‘ بنایا جائے گا اور فوج نئے اہداف پر غور کر رہی ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر نے ایرانی صدر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے ’معافی مانگی ہے اور اپنے مشرق وسطیٰ کے پڑوسیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں جبکہ وعدہ کیا ہے کہ وہ اب ان پر حملہ نہیں کرے گا۔‘

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی صدر نے یہ وعدہ صرف امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے کیا ہے۔

  5. شہزادہ سلطان ایئر بیس کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی: سعودی وزارتِ دفاع کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کی جانب سے ایک اعلان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ الخرج کے قریب واقعے شہزادہ سلطان ایئر بیس کی جانب ایک بیلسٹک میزائل داغا گیا۔ تاہم یہ میزائل ایک غیر آباد علاقے میں گرا جس کی وجہ سے ایئر بیس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

    سعودی وزارتِ دفاع کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بھی بیان سامنے نہیں آیا ہے کہ یہ بیلسٹک میزائل کیس کی جانب سے اور کہاں سے داغا گیا۔

  6. اسرائیلی فوج کے حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 294 ہو گئی: لبنانی وزارتِ صحت

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ ملک میں اسرائیل کی حالیہ فوجی کارروائیوں کے آغاز سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 294 ہو گئی ہے۔

    وزارت نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ 1023 افراد اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    تاہم بی بی سی لبنانی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری ہونے والے ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

  7. بریکنگ, بحرین میں امریکی فوجی اڈے کو میزائلوں نشانہ بنایا گیا ہے: ایرانی فوج کا دعویٰ

    ایران میں پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے بحرین میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے کو ’میزائلوں‘ کی مدد سے نشانہ بنایا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ حملہ ان غیر مصدقہ اطلاعات کے ردعمل میں کیا گیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ایک جزیرے پر واقع میٹھے پانی کے پلانٹ کو نشانہ بنایا ہے۔

    دوسری جانب بحرین کی وزارتِ داخلہ کے مطابق ملک میں حملے کے خطرے کے پیشِ نظر سائرن بجائے گئے ہیں اور شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔

    چند لمحے قبل بحرین کی وزارتِ داخلہ نے ایکس پر اپنے ایک پیغام میں بتایا تھا کہ دارالحکومت منامہ میں ایک گھر اور اس کے آس پاس کی عمارتوں کو جزوی طور پر ایک حملے میں نقصان پہنچا ہے۔ وزارت کے مطابق ملک کا سول ڈیفنس آگ پر قابو پانے کے لیے اپنی کارروائی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

  8. برطانیہ کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہیے: ایرانی سفیر

    BBC

    ایران کے سفیر نے برطانیہ کو ایران پر حملوں میں شامل ہونے سے احتیاط کرنے کا کہا ہے۔

    برطانیہ میں ایران کے سفیر سید علی موسوی نے برطانوی حکومت کو ایران پر حملوں میں شامل ہونے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’اس بات میں کوئی شق والی بات نہی کہ ہم ہر حال میں اپنا دفاع کریں گے۔‘

    سنڈے وِد لورا کونزبرگ نامی پروگرام کو دیے گئے ایک انٹرویو میں موسوی سے پوچھا گیا کہ اگر برطانوی طیارے ایرانی میزائلوں یا ڈرونز کو مار گرائیں تو کیا انھیں جائز ہدف سمجھا جائے گا؟

    اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم اپنا دفاع کریں گے اور ’ہم توقع کرتے ہیں کہ دوسرے لوگ، جن میں برطانوی حکومت بھی شامل ہے، اپنی سرگرمیوں میں بہت نرمی اور بہت احتیاط سے کام لے گی۔‘

    ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ یہ ’اچھی بات‘ یہ ہے کہ برطانیہ اس ’جارحیت‘ میں شامل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں برطانوی حکومت نے عراق پر حملے سے سبق سیکھا ہے اور ’وہ اس جارحیت کی غیر قانونی حیثیت کو جانتے ہیں۔‘

  9. اسرائیلی فوج کا جنوبی بیروت کے رہائشیوں کو انخلا کا حکم

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کے رہائشیوں کو اسرائیلی فوج کی طرف سے علاقہ خالی کرنے کے حوالے سے ایک اتباہ جاری کیا گیا ہے۔

    ایک تازہ بیان میں اسرائیلی دفاعی افواج کے عربی ترجمان اوِخای ادراعی نے بیروت کے جنوبی علاقوں کے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’اپنی جانیں بچائیں اور فوراً اپنے گھروں سے نکل جائیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’داحیہ کے علاقے میں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کی سرگرمیاں ’اسرائیلی دفاعی افواج کو اس کے خلاف سخت کارروائی کرنے پر مجبور کر رہی ہیں۔‘

    فوجی ترجمان نے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کا نقشہ بھی شیئر کیا اور خبردار کیا ’ان ہدایات پر عمل نہ کرنے اور اس علاقے میں رہنے سے آپ کی اور آپ کے خاندان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  10. میزائلوں سے قطر کو نشانہ بنانے کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا: قطری وزارتِ دفاع کا دعویٰ

    قطری وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے قطر کو نشانہ بنانے والے ایک ’میزائل حملے‘ کو ناکام بنا دیا ہے۔

    قطر کی وزارتِ دفاع کے مطابق ملک کی فضائی دفاعی نظام نے اس میزائل حملے کو روکنے کے لیے کارروائی کی۔ تاہم بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ میزائل کس ملک یا فریق کی جانب سے داغے گئے تھے۔

    یہ واقعہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے اس بیان کے بعد پیش آیا ہے کہ جس میں انھوں نے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ ’ایران اپنے پڑوسی ممالک پر اُس وقت تک حملہ نہیں کرے گا کہ جب تک دوسری جانب سے اس پر پہلے حملہ نہ کیا جائے۔‘

  11. ایران کے نئے رہبر اعلیٰ کا انتخاب 24 گھنٹوں میں ہو سکتا ہے: ایرانی میڈیا

    ایران کے اگلے سپریم لیڈر کا انتخاب کرنے والے ادارے کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ انھیں ’قوی امید ہے‘ کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں ملک کے رہبر اعلیٰ کا انتخاب کر لیا جائے گا۔

    یہ خبر پاسدران انقلاب سے منسلک خبر رساں ایجنسی فارس نے دی ہے۔

    فارس کی خبر کے مطابق ایران کے ماہرین کی اسمبلی کے رکن حسین مظفری نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اس حوالے سے قیاس آرائیوں سے گریز کریں۔

    واضح رہے کہ برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے دو ایرانی ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو اب ملک کا نیا رہبرِ اعلیٰ بننے کی دوڑ میں سب سے آگے سمجھا جا رہا ہے تاہم ایسے دعوؤں کی تصدیق کرنا اب بھی مشکل ہے۔

    دریں اثنا مجلسِ رہبری (جو 88 ارکان پر مشتمل مذہبی ادارہ ہے اور رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کا ذمہ دار ہے) کے اجلاس کے انعقاد کو ’فیصلے پر پہنچنے کے قریب‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

  12. اسرائیل کا تہران میں ہوائی اڈے پر حملہ، 16 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے تہران کے مہرآباد ہوائی اڈے پر حملہ کر کے ایرانی 16 طیارے تباہ کر دیے ہیں۔

    اسرائیل کے مطابق انھوں نے تہران کے مہرآباد ہوائی اڈے پر پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس سے تعلق رکھنے والے 16 طیارے تباہ کر دیے ہیں۔

    جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب ہونے والے اس اسرائیلی حملے کے بعد دھماکوں کی آوازیں اور فضا میں اُٹھتے دھوئیں کے گہرے سیاہ بادل دیکھے گئے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے مہرآباد کے جس ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے یہ ایران کا مصروف ترین اور اندرونِ ملک پروازوں کا مرکز ہے۔

    اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ مہرآباد سے ایسے طیارے پرواز کر رہے تھے جو ’ہتھیاروں اور نقد رقم سے لدے ہوئے‘ تھے اور ایران کے حمایت یافتہ گروہوں، جن میں حزب اللہ بھی شامل ہے کو سپلائی فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

    اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ حملے میں تباہ کیے گئے 16 طیارے حزب اللہ کو ہتھیار منتقل کرنے میں مصروف تھے مزید یہ کہ ہوائی اڈے پر اس حملے میں ’کئی ایرانی لڑاکا طیاروں‘ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

  13. ایران کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں اور ڈرونز کو روکے جانے کا سلسلہ جاری ہے: وزارتِ دفاع یو اے ای

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں اور ڈرونز کو روکے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ’وہ ایران کی طرف سے آنے والے ’میزائل اور ڈرون‘ حملوں کو روکنے کے ساتھ ساتھ اس کا جواب بھی دے رہا ہے۔‘

    ملک کی وزارتِ دفاع کی جانب سے شہریوں کو محتاط رہے کے ساتھ ساتھ پُرامن رہنے کا کہا گیا ہے کہ اور انھیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ’ایران کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے فضائی دفاعی نظام فعال کر دیے گئے ہیں۔‘

    یہ بیان اُس وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا تھا کہ ’ایران اپنے پڑوسی ممالک پر ’پہل کر کے حملہ نہیں کرے گا جب تک اس پر پہلے حملہ نہ کیا جائے۔‘

  14. ترکی شمالی قبرص میں لڑاکا طیاروں ’ایف 16‘ کی تعیناتی پر غور کر رہا ہے: مقامی میڈیا کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قبرض میں ترک میڈیا کی جانب سے ایسی خبریں سامنے آرہی ہیں کہ ترکی جزیرہ قبرص میں ایف 16 فائٹنگ فالکن طیارے تعینات کرنے کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔ واضح رہے کہ ترکی کی جانب سے ایسا کرنے کو دفاعی حکمتِ عملی کی طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    ترکی کی وزارتِ دفاع کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ خطے میں حالیہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر اس علاقے کی سکیورٹی مضبوط کرنے کے حوالے سے منصوبے بندی کی جا رہی ہے۔ تاہم دیگر زیرِ غور آپشنز یا تجاویز میں ایف 16 لڑاکا طیاروں کی ممکنہ تعیناتی بھی شامل اسی میں شامل ہے۔

    انھیں ذرائع کا مزید یہ بھی کہنا ہے کہ اس منصوبے کا جائزہ خطے کی وسیع تر صورتحال کے تناظر میں لیا جا رہا ہے اور اسے اُن بدلتی ہوئی سکیورٹی ضروریات کا حصہ سمجھا جا رہا ہے جن کا ذکر انقرہ میں ہو رہا ہے۔

  15. لندن میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ، ایران میں کارروائی روکنے کا مطالبہ

    EPA/Shutterstock

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے خلاف ہزاروں مظاہرین لندن میں امریکی سفارت خانے کی طرف مارچ کیا۔

    امریکہ اور اسرائیل مخالف اس مظاہرے میں بہت سے مظاہرین نے امریکی صدر کے خلاف نعرے بازی بھی کی اور انھوں نے ایسے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے کہ جن پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق تنقیدی جملے بھی درج تھے۔

    لندن میں اس مظاہرے کے منتظمین کا کہنا تھا کہ ’یہ مظاہرہ ایرانی حکومت کی حمایت میں نہیں ہے، بلکہ اس بات کا مطالبہ ہے کہ جسے وہ ’غیر قانونی، بلا اشتعال اور بلا جواز‘ کارروائی قرار دیتے ہیں اور فوری طور پر اسے ختم کرنے کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’برطانیہ کو امریکہ کی اندھی تقلید نہیں کرنی چاہیے اور ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے کسی حملے کی کوئی بنیادی وجہ موجود نہیں ہے۔‘

  16. امریکہ کا پانی کے پلانٹس کو نشانہ بنانا سنگین نتائج کا باعث بنے گا: ایرانی وزیر خارجہ

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں واقع قشم جزیرے پر ایک ’نمکین پانی کو میٹھے پانی میں پراسس کرنے کے پلانٹ‘ پر حملہ کیا ہے۔

    انھوں نے اس حملے کو افسوسناک اور مایوس کن کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اس امریکی حملے کی وجہ سے 30 دیہات کو میٹھے پانی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔‘

    یہ واضح نہیں ہے کہ عراقچی کس مخصوص حملے کا حوالہ دے رہے تھے لیکن نیویارک ٹائمز کی سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ہفتے کے شروع میں قشم جزیرے پر ایک ایرانی بحری اڈے پر ہونے والے حملے کے بعد نقصان کے آثار واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔

    عراقچی نے سوشل ایکس پر اپنے بیان میں امریکہ پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کرنا ایک خطرناک قدم ہے جس کے سنگین نتائج ہوں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ مثال امریکہ نے قائم کی ہے، ایران نے نہیں۔‘

  17. صدر ٹرمپ کا ایران میں ’بہت اچھا کرنے‘ اور اس کے 42 بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ’ایران میں بہت اچھا‘ کر رہا ہے۔ ’یہ حیرت انگیز‘ ہے۔

    فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’امریکہ نے تین روز میں ایران کے 42 بحری جہازوں کو تباہ جبکہ ایرانی فضائیہ اور ٹیلی کمیونیکیشن کو بھی ناکارہ کر دیا ہے۔‘

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اس تقریر میں امریکی فوج کے اہلکاروں کے اہلخانہ کو سلام کرتے ہیں، جو اس تنازعے میں مارے گئے ہیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ وہ سب ہمارے ملک کے عظیم ہیرو ہیں۔ جو ایران سے اس سے مختلف انداز میں واپس آ رہے ہیں، جس کے بارے میں اُنھوں نے سوچا تھا کہ وہ وطن واپس آئیں گے۔

    اُنھوں نے کہا کہ امریکہ اپنے فوجیوں کی ہلاکت کو کم سے کم رکھے گا۔

  18. برطانیہ کے طیارہ بردار بحری جہاز کو تیار رہنے کی ہدایت

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہAndrew Matthews/PA

    بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ کے دو طیارہ بردار بحری جہازوں میں سے ایک ’ایچ ایم ایس پرنس آف ویلز‘ کو پورٹسماؤتھ بندرگاہ پر پیشگی طور پر تیار رہنے کا کہا گیا ہے۔

    دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ جہاز کے عملے کو کہا گیا ہے کہ وہ پانچ روز میں نکلنے کے لیے تیار رہیں۔

    اس سے یہ قیاس آرائیاں بڑھ سکتی ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے دوران برطانوی مفادات کے دفاع میں مدد کے لیے بحری بیڑے کو بحیرہ روم میں تعینات کیا جا سکتا ہے۔

    حکومت پر الزام ہے کہ وہ قبرص کو دشمن کے ڈرون اور میزائلوں سے بچانے کے لیے تیزی سے کام نہیں کر رہی ہے۔

    ٹائپ 45 ڈسٹرائر، ایچ ایم ایس ڈریگن کو خطے میں تعینات کر دیا گیا ہے لیکن وہ اگلے ہفتے تک بندرگاہ چھوڑنے کے لیے تیار ہو جائے گا۔

    ایچ ایم ایس پرنس آف ویلز اس سال کے آخر میں شمالی بحر اوقیانوس اور آرکٹک میں منصوبہ بند تعیناتی سے قبل پورٹسماؤتھ میں معمول کے مطابق موجود ہے۔

    اسے امریکہ، کینیڈین اور یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ہائی نارتھ میں روسی جارحیت کو روکنے کے لیے آپریشن ’فائر کرسٹ‘ میں حصہ لینا تھا۔

    ایک دفاعی ذریعے نے بی بی سی کو بتاتا ہے کہ پرنس آف ویلز نے ’پانچ دن کے نوٹس کی تیاری میں اضافہ کیا ہے۔‘

    وزارتِ دفاع نے بحری بیڑے کی حیثیت میں تبدیلی کی تصدیق کی ہے۔

    وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہم جنوری سے مشرق وسطیٰ میں اپنی برطانیہ کی فوجی موجودگی کو تقویت دے رہے ہیں، اور ہم نے پہلے ہی خطے میں برطانوی عوام اور اپنے اتحادیوں کی حفاظت کے لیے فوجی طاقت بڑھائی ہے۔ جس میں ایف-35 جیٹ طیارے، فضائی دفاعی نظام، قبرص میں 400 اہلکاروں کی تعیناتی شامل ہے۔

    ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ جب سے حملے شروع ہوئے ہیں، ہمارے جیٹ طیاروں نے ڈرونز کو نشانہ بنایا ہے اور اپنے فضائی دفاع کو مزید تقویت دینے کے لیے خطے میں مزید فوجی سازو سامان بھیجا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’ایچ ایم ایس پرنس آف ویلز ہمیشہ سے بہت زیادہ تیاریوں پر رہا ہے اور ہم اس بیڑے کی تیاری میں اضافہ کر رہے ہیں۔‘

  19. ایرانی صدر کا بیان: ایک مزاحمتی معافی لیکن ہتھیار نہ ڈالنے کا اعلان, عامر عظیمی، بی بی سی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان اس سے قبل ایک سادہ سفید دیوار کے سامنے ایک سادہ کرسی پر بیٹھے ہوئے، بظاہر غیر تحریری خطاب میں نمودار ہوئے۔ ان کے ساتھ ہی اب وفات پا جانے والے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصویر تھی۔ قریب ہی ایک چھوٹا ایرانی جھنڈا اور ایک پودا ہے۔

    یہ ترتیب ایران کی عبوری قیادت پر دباؤ کو ظاہر کرتی ہے۔

    ایران کی عبوری قیادت کونسل کے رکن کی حیثیت سے مسعود پزشکیان نے دو اہم پیغامات دیے۔ اُنھوں نے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران ’آخر تک لڑے گا۔‘

    اس کے ساتھ ہی، اُنھوں نے حالیہ دنوں میں نشانہ بنائے گئے پڑوسی ممالک سے معافی مانگی، یہ بتاتے ہوئے کہ کچھ حملے گذشتہ سنیچر کے روز شروع ہونے والے حملوں کے بعد جاری کردہ ’اپنی مرضی سے فائر‘ کے احکامات کے بعد ہوئے۔

    اُنھوں نے کہا کہ کونسل نے مسلح افواج کو حکم دیا ہے کہ وہ پڑوسی ریاستوں کو نشانہ بنانا بند کر دیں جب تک کہ ایران پر حملے ان کی سرزمین سے شروع نہ ہوں۔

    ایران کے اندر اس پیغام کا مجموعی طور پر خیر مقدم نہیں کیا گیا۔ کچھ سخت گیر لوگوں نے لہجے کو کمزور قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے، جو ایک نئے سیاسی لمحے کی عکاسی کرتی ہے جس میں کئی سینئر سخت گیر شخصیات ختم ہو چکی ہیں جبکہ نچلے درجے کے لوگ ملک کی سمت کے بارے میں بے چین ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریر کی مختلف تشریح کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے معافی مانگ لی ہے اور اپنے ہمسایوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

    فرق ایک سوال پیدا کرتا ہے: کیا یہ تحمل کا حقیقی اشارہ ہے، یا محض ایک عبوری قیادت کی طرف سے وقت حاصل کرنے کی کوشش ہے جس کو سنجیدگی سے لیا جائے۔

  20. تباہ ہونے والے مقامات کی تصاویر شیئر کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا: ایران کی انٹیلی جنس وزارت کا انتباہ

    ایران کی انٹیلی جنس وزارت نے خبردار کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں تباہ ہونے والے مقامات کی تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرنے والے ہر شخص کے ساتھ ’سختی سے نمٹا جائے گا۔‘

    وزارت کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ لوگ متاثرہ علاقوں کی تصویریں کھینچ رہے ہیں اور یہ تصاویر ’دہشت گرد سیٹلائٹ نیٹ ورکس، ورچوئل پیجز اور دشمن ہیومن میڈیا آؤٹ لیٹس‘ کو بھیج رہے ہیں جو اسرائیل کے لیے کام کر رہی ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایران سے اسرائیل کی طرف داغے گئے میزائلوں کی نشاندہی کر لی ہے۔

    اسرائیل کی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ ’دفاعی نظام خطرے کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘

    اُنھوں نے مزید کہا کہ کچھ موبائل فونز پر الرٹس بھیجے گئے ہیں جس میں رہائشیوں کو محفوظ جگہوں پر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔