آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نئے سپریم لیڈر منتخب: ایرانی سرکاری میڈیا

ایران میں سرکاری خبر رساں ایجنسیوں نے مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کے رہنما اور اپنے والد کے جانشین کے طور پر منتخب کرنے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ ایران کی اعلیٰ ترین مذہبی و سیاسی اتھارٹی کے انتخابی عمل کے بعد سامنے آیا ہے،

خلاصہ

  • ایران کے سرکاری ٹی وی نے نئے رہبر اعلیٰ کے نام کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔
  • ایران اسرائیل امریکہ جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
  • امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اپنے ساتویں فوجی کی ہلاکت کا اعلان کر دیا ہے۔
  • متحدہ عرب امارات نے اتوار کے روز 16 بیلسٹک میزائل اور 113 ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
  • اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حملوں کی تازہ لہر میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی فضائیہ کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا ہے۔
  • تہران میں تیل کے ڈپو کے پھٹنے سے تیزابی بارش کا خطرہ، یہ رجحان جلد کو کیمیکل جلنے اور پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے: ہلال احمر
  • ایران کو ’بہت زیادہ شدت سے نشانہ‘ بنایا جائے گا، فوج نئے اہداف پر غور کر رہی ہے: صدر ٹرمپ کا انتباہ

لائیو کوریج

  1. کویت میں امریکی فوج کے ایک میجر کی ہلاکت، ’یہ موت طبی مسئلے کی وجہ سے ہوئی‘

    @sentdefender

    ،تصویر کا ذریعہ@sentdefender

    نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ (این وائی پی ڈی) نے افسر سورفلی ڈیوئیس کی موت کا اعلان کیا ہے، جو امریکی فوج کی 42ویں انفنٹری ڈویژن میں میجر تھے اور نیویارک نیشنل گارڈ کے تحت خدمات انجام دے رہے تھے۔

    این وائی پی ڈی کے مطابق وہ جمعے کے روز کویت میں آپریشن ’ایپک فیوری‘ کی تعیناتی کے دوران ایک ’طبی مسئلے‘ کے باعث فوت ہوئے ہیں۔ انھوں نے 2014 میں این وائی پی ڈی میں شمولیت اختیار کی، جہاں انھیں 79ویں پریسِنکٹ میں تعینات کیا گیا۔

    این وائی پی ڈی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ سورفلی کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اب تک امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ کے دوران حملوں میں اپنے چھ فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

  2. ایران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کی ابھی بھی گنجائش موجود ہے: ٹرمپ کے خصوصی ایلچی

    Iran, USA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اور امریکہ کے اعلیٰ مذاکرات کار سٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت کے پاس جو کچھ باقی ہے اس کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کی ابھی بھی گنجائش ہے۔

    سٹیو وٹکوف نے کہا کہ ’میرے خیال میں یہ ایک امکان ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میرے خیال میں یہ فیصلہ کرنا ان پر منحصر ہے۔ لیکن بات چیت کے اس پہلے دور میں وہ زیادہ تعاون کرنے والے نہیں لگے۔‘

    وٹکوف نے یورینیم کو افزودہ کرنے سے متعلق ایران کے اصرار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے 60 فیصد افزودگی کے ساتھ ایندھن رکھنے پر بھی فخر کیا جو 11 بموں کے لیے کافی ہے۔‘

    سٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام نے انھیں اور ٹرمپ کے داماد اور ایک اور اعلیٰ امریکی مذاکرات کار جیرڈ کشنر سے کہا کہ ’ہم آپ کو سفارتی طور پر وہ نہیں دیں گے جو آپ فوجی طور پر حاصل نہیں کر سکتے۔ اس لیے میرے خیال میں انھیں رویہ میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔‘

  3. ہمارے پاس موجودہ رفتار سے کم از کم چھ ماہ تک جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت ہے: پاسداران انقلاب

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ’ایران کی مسلح افواج آپریشن کی موجودہ رفتار سے کم از کم چھ ماہ کی شدید جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔‘

    فارس نیوز ایجنسی کے مطابق پاسداران انقلاب کے ترجمان علی محمد نائینی نے کہا کہ ’امریکی اور اسرائیلی اڈوں اور تنصیبات میں 200 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سے تقریباً 60 فیصد علاقے میں امریکی اڈوں کے خلاف اور 40 فیصد اسرائیلی اہداف کے خلاف استعمال ہوئے‘۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اب تک آپریشنز میں استعمال ہونے والے میزائل زیادہ تر پہلی اور دوسری جنریشن سے تعلق رکھتے ہیں اور اگلے مراحل میں زیادہ جدید اور کم استعمال کیے جانے والے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے نئے طرز کے حملے ایجنڈے پر عمل پیرا ہوں گے۔‘

  4. ریاض کے مشرق میں ڈرون حملہ ناکام بنا دیا گیا: سعودی وزارتِ دفاع

    سعودی عرب

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنسعودی عرب کے شہر ریاض کی پانچ مارچ کی تصویر

    ترجمانِ وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ ریاض کے مشرقی علاقے میں ایک ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔

    یہ بیان سعودی وزارتِ دفاع کے سرکاری ترجمان کی جانب سے جاری کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ مسلح افواج نے فضائی حدود میں داخل ہونے والی مسیّرات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

  5. کویت میں امریکی فوجی اڈے اور تنصیبات کو درستگی سے نشانہ بنایا: ایران کا دعویٰ

    @PressTV

    ،تصویر کا ذریعہ@PressTV

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ کویت میں عریفجان بیس پر موجود امریکی فوجیوں کے ہیڈکوارٹر کو درست نشانہ بنانے والے میزائلوں سے حملہ کیا گیا۔ عریفجان بیس کویت میں امریکی افواج کی ایک بڑی اور اہم فوجی تنصیب سمجھی جاتی ہے، جہاں ہزاروں امریکی فوجی تعینات ہیں۔

    یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکی تنصیبات پر حملوں کے بارے میں اطلاعات میں اضافہ ہوا ہے۔ عریفجان بیس کویت میں امریکی افواج کی ایک بڑی اور اہم فوجی تنصیب سمجھی جاتی ہے، جہاں ہزاروں امریکی فوجی تعینات ہیں۔

    کویت میں فوجی اڈے پر ایرانی ڈرون حملے کی امریکی فوجی نے موبائل میں ویڈیو بنا لی

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق امریکی فوجی نے کویت کے علی السالم ایئر بیس پر ایک جدید امریکی فوجی ریڈار سسٹم کو نشانہ بناتے ہوئے ایرانی ڈرون کے حملے کا منظر اپنے موبائل فون کے کیمرے سے ریکارڈ کیا۔

    ’یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ڈرون نے براہِ راست ریڈار سسٹم کو ہدف بنایا، اور فوجی نے حملے کے لمحے کو ویڈیو میں محفوظ کر لیا۔‘

    پریس ٹی وی کے مطابق یہ بیس کویت میں امریکی افواج کی ایک اہم تنصیب ہے، جہاں حالیہ دنوں میں فضائی خطرات کے خلاف دفاعی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔

    کویت ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ، فیول ٹینک متاثر

    کویت کی فوج نے بتایا ہے کہ کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے فیول ٹینک ڈرون حملے کا نشانہ بنے ہیں۔

    وزارتِ دفاع کے ترجمان کے مطابق ’کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے فیول ٹینکوں پر ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا گیا، جو اہم تنصیبات کو براہِ راست نشانہ بنانے کی کوشش تھی۔‘

    ترجمان نے مزید کہا کہ ملک کی مسلح افواج ’دشمن ڈرونز کی ایک لہر سے نمٹ رہی ہیں جو ملک کی فضائی حدود میں داخل ہو گئی تھیں۔‘

    کویت کی فائر بریگیڈ اس وقت کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے فیول ٹینکوں اور پبلک انسٹی ٹیوٹ فار سوشل سکیورٹی کے ہیڈکوارٹر میں لگنے والی آگ بجھانے میں مصروف ہے تاکہ ان پر قابو پایا جا سکے اور آگ کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔

    کویتی فوج نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنرل آرگنائزیشن فار سوشل انشورنس کی عمارت کو فضائی دفاعی نظام کی کارروائی کے دوران دشمن کے فضائی اہداف کو روکنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شیل کے ٹکڑوں اور ملبے سے نقصان پہنچا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صرف عمارت کو نقصان پہنچا ہے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

    فوج کے مطابق آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا ہے۔

    بیان میں وضاحت کی گئی کہ اس عمارت کو براہِ راست ایرانی ہتھیار نے نشانہ نہیں بنایا، بلکہ یہ کامیاب دفاعی کارروائی کے دوران گرنے والے ٹکڑوں سے متاثر ہوئی۔

  6. ایران لڑکیوں کے سکول پر حملے کا ذمہ دار ہے: ٹرمپ

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایران جنوبی ایران کے ایک لڑکیوں کے سکول پر حملے کا ذمہ دار ہے۔ ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان سے گذشتہ ہفتے کے حملے کے بارے میں سوال کیا گیا، جس میں ایرانی حکام کے مطابق 160 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

    سنیچر کی رات ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ اس حملے کا ذمہ دار ہے جو پاسدارانِ انقلاب کے ایک بیس کے قریب ہوا۔ ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’نہیں، میری رائے میں، جو میں نے دیکھا ہے اس کے مطابق یہ ایران نے کیا ہے۔‘

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیسگتھ نے کہا کہ ’ہم تحقیقات کر رہے ہیں، لیکن واحد فریق جو شہریوں کو نشانہ بناتا ہے وہ ایران ہے۔‘ ٹرمپ نے دوبارہ کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایران نے کیا ہے۔۔ ان کے ہتھیار بالکل غیر درست ہیں، ان میں کوئی نشانہ بندی نہیں۔ یہ ایران نے کیا ہے۔‘

    گذشتہ ہفتے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے زور دیا تھا کہ ’امریکہ جان بوجھ کر کسی سکول کو نشانہ نہیں بنائے گا‘ اور کہا تھا کہ امریکی افواج کے پاس ’شہری ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔‘

    یہ سکول مناب شہر میں اس وقت نشانہ بنا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی فوجی تنصیبات اور قیادت پر وسیع حملے کیے۔ ایرانی حکام نے اس حملے کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر لگایا ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ اس علاقے میں کسی کارروائی سے ’آگاہ نہیں‘ لیکن بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے۔

    بی بی سی ویریفائی کی جانب سے سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے میں متعدد حملوں اور جلنے کے نشانات سامنے آئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکول کو ایک سے زیادہ بار نشانہ بنایا گیا۔

  7. اسرائیلی فوج کا بیروت میں ایرانی فورسز پر حملے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ اس نے بیروت میں ایرانی فورسز کو نشانہ بنایا ہے۔ ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ یہ ایک ’درست حملہ‘ تھا جس میں قدس فورس کے لبنان کور کے اہم کمانڈروں کو ہدف بنایا گیا جو بیروت میں سرگرم تھے۔ قدس فورس پاسدارانِ انقلاب کا بیرونِ ملک کارروائیوں کا وِنگ ہے۔

    آئی ڈی ایف نے اس ہفتے کے آغاز میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے لبنان کور کے عبوری کمانڈر داؤد علی زادہ کو ہلاک کر دیا ہے۔ تازہ بیان میں کہا گیا کہ قدس فورس اسرائیل اور اس کے شہریوں کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کو آگے بڑھانے کے لیے سرگرم تھی اور اسرائیلی فوج ’جہاں کہیں بھی ایرانی کمانڈر موجود ہوں، انھیں درستگی کے ساتھ ہلاک کرتی رہے گی‘۔

    بیان میں حملے کی درست جگہ نہیں بتائی گئی اور ایرانی حکام نے اب تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ چند گھنٹے پہلے آئی ڈی ایف نے کہا تھا کہ اس نے بیروت کے ضاحیہ علاقے میں حزب اللہ کے ڈھانچے پر حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے۔

  8. برطانیہ کا دبئی سے شہریوں کے انخلا کے لیے خصوصی چارٹرڈ فلائٹ چلانے کا اعلان

    برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ دبئی سے ایک خصوصی چارٹرڈ فلائٹ چلائے گی تاکہ برطانوی شہریوں کا خطے سے انخلا ممکن بنایا جا سکے۔ یہ پرواز اگلے ہفتے کے آغاز میں روانہ ہوگی۔

    متحدہ عرب امارات (یو اے ای) خطے میں جاری تنازع سے متاثر ہے۔ سنیچر کو ایک رہائشی فضائی دفاعی کارروائی کے دوران گرتے ہوئے شیل سے ہلاک ہوا، جبکہ دبئی ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے کی ویڈیو بھی سامنے آئی۔ قطر نے بھی سنیچر کو میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاع دی۔

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران پڑوسی ممالک پر حملہ نہیں کرے گا ’جب تک پہلے حملہ نہ کیا جائے‘۔

    برطانوی حکومت کے مطابق یہ فلائٹ تجارتی بنیاد پر ہوگی اور اس کے لیے مسافروں کو کرایہ ادا کرنا ہوگا۔ برطانوی شہری، ان کے شریکِ حیات یا پارٹنر اور 18 سال سے کم عمر بچے اس فلائٹ کے لیے رجسٹر کر سکتے ہیں۔ غیر برطانوی اہلِ خانہ کے پاس چھ ماہ سے زیادہ مدت کے لیے جاری ویزا یا اجازت نامہ ہونا ضروری ہے۔

    ترجیح اُن مسافروں کو دی جائے گی جو کمزور ہیں، مثلاً جنھیں فوری طبی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے عمان (مسقط) سے دو چارٹرڈ فلائٹس برطانوی شہریوں کو واپس لے جا چکی ہیں، ایک سٹینسٹڈ اور دوسری گیٹ وِک ایئرپورٹ پر اتری۔ تیسری فلائٹ اتوار کو روانہ ہوگی۔

    دبئی ایئرپورٹ پر فضائی سفر شدید متاثر ہوا ہے۔

    گذشتہ ہفتے ایمریٹس نے کچھ وقت کے لیے تمام پروازیں معطل کر دی تھیں۔ بی بی سی کی تصدیق شدہ فوٹیج میں دبئی ایئرپورٹ کے اندرونی حصے میں ڈرون حملے کا منظر دیکھا گیا، جس میں ایک دھماکہ ٹرمینل کے قریب ہوا۔

    برطانوی شہریوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ کس طرح اس کشیدگی کے دوران دبئی میں پھنسے رہے۔ سکاٹ لینڈ کی وکٹوریا کیمرون نے کہا کہ جب ایرانی میزائل دبئی پر گرے تو ہوٹل کے عملے نے انھیں کہا: ’بھاگو، بھاگو، اپنا سامان چھوڑ دو۔‘ وہ بتاتی ہیں کہ سب لوگ خوفزدہ تھے، رو رہے تھے اور کانپ رہے تھے۔

    اسی طرح شمالی آئرلینڈ کے سٹورٹ کارسن دبئی کے فئرمونٹ دی پام ہوٹل میں مقیم تھے جب حملے کے دوران ان کا کمرہ لرز اٹھا۔ انھوں نے کہا کہ صبح ہونے پر کچھ سکون محسوس ہوا اور ناشتہ کیا۔

  9. بیروت کے ایک ہوٹل پر اسرائیلی حملے میں چار افراد ہلاک، دس زخمی: لبنانی حکام

    Lebonan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فضائی حملے میں بیروت کے ایک ہوٹل کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس میں چار افراد ہلاک اور دس زخمی ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ بیروت کے مرکزی علاقے میں پیش آیا۔

    یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب خطے میں کشیدگی پہلے ہی شدید ہے، اور شہری علاقوں پر حملے مزید تشویش پیدا کر رہے ہیں۔ حکام نے بتایا ہے کہ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار ہے۔

    بی بی سی اور دیگر ذرائع کے مطابق مزید اپ ڈیٹس جلد فراہم کی جائیں گی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جس ہوٹل پر فضائی حملہ ہوا اور جہاں چار افراد ہلاک ہوئے، وہاں جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی مضافات میں جاری لڑائی سے بے گھر ہونے والے لوگ رہائش پذیر تھے۔

    کچھ افراد کو عمارت چھوڑتے ہوئے بھی دیکھا گیا کیونکہ انھیں خدشہ تھا کہ مزید حملے ہو سکتے ہیں۔

  10. میں نہیں چاہتا کہ کرد ایران جنگ کا حصہ بنیں: ٹرمپ

    کرد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کرد گروہوں سے متعلق یہ بیان امریکی پالیسی کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ کرد اس میں جائیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ جنگ پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو جائے۔ میں نہیں چاہتا کہ کرد زخمی یا ہلاک ہوں۔ ہمارا ان کے ساتھ اچھا تعلق رہا ہے۔ وہ جانے کے لیے تیار ہیں، لیکن میں نے انھیں صاف کہا ہے کہ میں نہیں چاہتا وہ جائیں۔‘

    یہ بیان اس وقت آیا جب خبر رساں ادارے روئٹرز نے کہا کہ صدر نے جمعرات کو انھیں بتایا تھا کہ وہ ایرانی کرد جنگجوؤں کے حملے کے ’حق میں‘ ہوں گے۔

    اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ کی تردید کی تھی کہ ٹرمپ کردوں کو اسلحہ دینے پر غور کر رہے ہیں۔۔ حالانکہ ان میں سے بہت سے جنگجوؤں کو ماضی میں امریکی افواج نے عراق میں داعش کے خلاف لڑنے کے لیے تربیت دی تھی۔

    بی بی سی نے شمالی عراق میں جلاوطنی اختیار کرنے والے ایرانی کرد مخالف گروہوں سے بات کی، جنھوں نے اس دعوے کی تردید کی کہ ان کے جنگجو پہلے ہی سرحد پار کر چکے ہیں۔

    کردستان فریڈم پارٹی (پی اے کے) کی ہانا یزدان پناہ، جو سب سے بڑی مسلح قوت ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، نے کہا کہ انھوں نے بار بار امریکہ سے کرد جنگجوؤں کے تحفظ کے لیے نو فلائی زون نافذ کرنے کی درخواست کی ہے۔

  11. تہران کے مھرآباد ایئرپورٹ پر حملے کے بارے میں سیٹلائٹ تصاویر کیا کہتی ہیں؟, فرزاد صیفی‌ کاران، بی بی سی ویریفائی

    Press TV

    ،تصویر کا ذریعہPress TV

    بی بی سی کے فیکٹ فائنڈنگ ڈپارٹمنٹ نے تہران کے مھرآباد ایئرپورٹ کی پلینٹ کمپنی کی سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لیا ہے، جن میں بتایا گیا ہے کہ سنیچر سات مارچ کی صبح اسرائیلی اور امریکی حملے میں ایئرپورٹ کے مختلف حصوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 17 طیارے تباہ ہو چکے ہیں۔

    Planet Labs

    ،تصویر کا ذریعہPlanet Labs

    ابھی تک پورے ہوائی اڈے کے علاقے کی کوئی اپ ڈیٹ سیٹلائٹ تصویر نہیں ہے، لیکن سنیچر کو جاری کی گئی سیٹلائٹ تصاویر کے بڑے حصے سے پتا چلتا ہے کہ گذشتہ رات کے حملے میں تباہ ہونے والے طیارے زیادہ تر مسافر طیارے تھے۔

    ان میں سے کم از کم سات طیارے مین کنکورس اور رن وے کے آس پاس موجود ہیں۔ باقی سارے ہوائی اڈے پر بکھرے پڑے ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ حملے کے وقت ان میں سے کتنے طیارے فعال تھے۔

    طیاروں کے علاوہ کئی چھوٹی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہPlanet Labs

    کل رات کی تصدیق شدہ ویڈیوز میں ہوائی اڈے کے مختلف حصوں میں آگ بھی دکھائی دے رہی ہے۔

    اسرائیلی فوج نے آج ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس نے مھر آباد ہوائی اڈے پر ’پاسداران انقلاب کی قدس فورس سے تعلق رکھنے والے 16 طیاروں‘ کو تباہ کر دیا ہے، جن کے بارے میں فوج کا کہنا ہے کہ ’حزب اللہ دہشت گرد تنظیم کو ہتھیار پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔‘

  12. ایران کے خلاف جنگ میں ہلاک ہونے والے چھ امریکی فوج کون تھے؟

    US ARMY RESERVE COMMAND

    ،تصویر کا ذریعہUS ARMY RESERVE COMMAND

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سنیچر کے روز ڈوور ایئر فورس بیس پر ایران کے ساتھ جنگ میں ہلاک ہونے والے چھ امریکی فوجیوں کے سوگواران ایئرپورٹ پر موجود تھے۔

    ہلاک ہونے والوں میں 54 برس کے چیف وارنٹ آفیسر تھری رابرٹ ایم مارزان، 45 سال کے میجر جیفری آر اوبرائن، 35 برس کے کیپٹن کوڈی خورک، 42 سالہ سارجنٹ نوح ٹیٹجین، 39 برس کے سارجنٹ نیکول امور، 20 برس کے سارجنٹ ڈیکلن کوڈی، جنھیں بعد از مرگ سپیشلسٹ سے سارجنٹ کے عہدے پر ترقی دی گئی، شامل ہیں۔

    یہ چھ فوجی ریزرو فوج کے رکن تھے اور اتوار کے روز کویت کے پورٹ شعیبہ میں ایک کمانڈ سینٹر پر ایک بغیر پائلٹ والے ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے۔

    USA

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ہمیں ابھی تصاویر موصول ہوئی ہیں جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بعض سینیئر حکومتی اور انتظامی حکام، بشمول وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ، کو ڈیلویئر کے ڈوور ایئر فورس بیس پہنچتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں انھوں نے ایران کے ساتھ کشیدگی میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی لاشوں کا استقبال کیا۔ امریکی صدر کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ بھی اس موقع پر موجود تھیں۔

    ڈوور ایئر فورس بیس سے موصول ہونے والی تصاویر میں صدر ٹرمپ کو امریکی پرچم میں لپٹے تابوتوں کو فوجی طیارے سے اتارتے ہوئے فوجیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ گذشتہ ہفتے کویت میں ہلاک ہونے والے تمام چھ امریکی فوجی آج پہنچی ہیں یا صرف کچھ کی لاشیں ہی آئیں ہیں۔

    ایئرپورٹ پر صدر ٹرمپ کی ہلاک ہونے والے چھ امریکی فوجیوں کے اہل خانہ سے ملاقات بھی ہوئی ہے۔

  13. متعدد امریکی فوجی ہماری قید میں ہیں: علی لاریجانی کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے دعویٰ کیا ہے کہ متعدد امریکی فوجی ایران کی قید میں ہیں۔

    سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے ایکس پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ ’مجھے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ متعدد امریکی فوجیوں کو ایران کی افواج نے قیدی بنا لیا ہے۔‘

    اُنھوں نے ایکس پر اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’اس کے برعکس امریکی انتظامیہ دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ لڑائی کے دوران مارے گئے ہیں۔‘

    علی لاریجانی نے اپنے پیغام کے آخر پر یہ بھی کہا کہ ’اپنی بے سود کوششوں کے باوجود، سچائی وہ چیز نہیں جسے وہ (امریکہ) زیادہ دیر تک چھپا سکے۔‘

  14. ’ایسا لگ رہا تھا جیسے رات دن میں بدل گئی ہو‘: تہران کے لوگوں کی رات کیسی گُزری؟

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جیسا کہ اب دن ہونے کو ہے تو ایسے میں تہران میں رہنے والی ایک 20 سے 30 سال کے درمیان کی عُمر کی خاتون نے بی بی سی فارسی کی غونچہ حبیب زاد کو بتایا کہ ’شہر میں بہت دھواں ہے۔ میں کچھ جلنے کی بو محسوس کر رہی ہوں۔‘

    قومی ایرانی آئل کمپنی کے بیان کے مطابق آج رات تہران اور البرز صوبے میں متعدد تیل کی اہم تنصیبات اور آئیل فیلڈز کو اسرائیلی فوج کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ دونوں صوبوں میں ایندھن کی فراہمی دوسرے ذرائع سے بلا تعطل جاری ہے۔

    البرز صوبے کے شہر کراج میں رہنے والے ایک شخص نے کہا کہ ’میری والدہ بہت پریشان تھیں۔ پہلے ایک سرخ روشنی آسمان کی جانب بلند ہوئی اور ہر جانب روشن ہو گئی تھی۔ پھر ایک سرخ بادل بن گیا۔ ہم اوپر چھت پر گئے تو یہ معلوم ہوا کہ ایک تیل کے ڈپو کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

    اسرائیل کی جانب سے تہران میں آئل فیلڈز پر حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے دھماکوں سے متعلق کراج کے ایک اور 20سے 30سال کے درمیان کے نوجوان لڑکے نے بتایا کہ ’ایسا لگ رہا تھا جیسے رات دن میں بدل گئی ہو۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  15. اسرائیل کی ایرانی تیل کے ڈپو پر حملے کی تصدیق

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی دفاعی افواج نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے تہران میں کئی تیل کے ڈپوں یعنی ’فیول سٹوریج کمپلیکس‘ پر حملے کیے ہیں۔

    آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ’یہ اہم حملہ تھا جس کا مقصد ایندھن کے اُن ذخائر کو نشانہ بنانا تھا جنھیں ایران کے عسکری نظام اور فوجی بنیادی ڈھانچے کو چلانے کے لیے براہِ راست اور بار بار استعمال کیا جا رہا تھا۔‘

  16. ہم اپنے دفاع میں کسی بھی قسم کی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیں گے: قطری امیر کا صدر ٹرمپ سے رابطہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قطر کے امیر نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ قطر ’اپنے دفاع میں کسی بھی قسم کی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لے گا‘، خاص طور پر ایران کی جانب سے جاری حملوں کے بعد۔

    قطر کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ایک ٹیلیفونک گفتگو میں تمیم بن حمد بن خلیفہ آل ثانی نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ خطے میں جاری فوجی کارروائی کی موجودہ شدت کے ’خطرناک نتائج‘ مرتب ہو سکتے ہیں۔

    قطر کے وزارت دفاع نے آج صبح پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ اس نے ایک ’میزائل حملے‘ کو ناکام بنا دیا ہے جو قطر کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔

  17. ایران اسرائیل امریکہ جنگ: ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی لاشوں کی وطن واپسی، صدر ٹرمپ کی ڈیلویئر آمد

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ہمیں ابھی تصاویر موصول ہوئی ہیں جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بعض سینئر حکومتی اور انتظامی حکام، بشمول وزیر دفاع پیٹ ہیگ سیٹھ، کو ڈوور ایئر فورس بیس، ڈیلویئر میں پہنچتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ڈوور ایئر فورس بیس پر صدر نے ایران کے ساتھ کشیدگی میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی لاشوں کا استقبال کیا۔ امریکی صدر کی اہلیہ میلیانیا ٹرمپ بھی اُن کے ساتھ اس موقع پر موجود تھیں۔

    ڈوور ایئر فورس بیس سے موصول ہونے والی تصاویر میں صدر ٹرمپ کو امریکی پرچم میں لپٹے تابوتوں کو فوجی طیارے سے اتارتے ہوئے فوجیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ گزشتہ ہفتے کویت میں ہلاک ہونے والے تمام چھ امریکی فوجی آج پہنچیں گے یا صرف کچھ کی لاشیں ہی آئیں ہیں۔

    ڈوور ایئر فورس بیس، ڈیلویئر میں صدر ٹرمپ نے ذاتی طور پر ہلاک ہونے والے چھ امریکی فوجیوں کے اہل خانہ سے ملاقات بھی ہوئی ہے۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  18. بریکنگ, ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں جو جنگ جیتنے کے بعد شامل ہوں: امریکی صدر ٹرمپ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب سے کُچھ دیر قبل اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام پوسٹ کیا جس میں انھوں نے برطانوی وزیرِاعظم کو مخاطب کیا اور لکھا کہ ’برطانیہ، جو کبھی ہمارا عظیم اتحادی تھا شاید سب سے بڑا، اب آخرکار مشرقِ وسطیٰ میں دو طیارہ بردار جہاز بھیجنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’کوئی بات نہیں، وزیرِ اعظم سٹارمر اب ہمیں ان کی ضرورت نہیں رہی لیکن ہاں ہم یہ سب یاد رکھیں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں جو جنگ میں اس وقت شامل ہوں جب ہم پہلے ہی اس جنگ کو جیت چکے ہوں۔‘

  19. تہران میں آئل ریفائنری پر حملے اور اس سے لگنے والی آگ کے مناظر

    اب سے کُچھ دیر قبل ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے حوالے سے یہ خبر آپ تک پہنچائی گئی تھی کہ جنوبی تہران میں ایک آئل ڈپو یا تیل کے ایک بڑے ذخیرے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    اب تہران سے آن لائن شیئر کی گئی ویڈیو فوٹیج سامنے آئی ہے کہ جس میں شہر میں جنوب کی جانب آگ کے شعلے آسمان کی جانب بلند ہوتے دیکھی جا سکتے ہیں۔ یہ جو ویڈیو بی بی سی اردو اپنے لائیو پیج میں شامل کر رہا ہے اس کی تصدیق بی بی سی ویریفائی کی جانب سے کی گئی ہے۔

    تاہم ابھی تک اس واقعے میں جانی نقصان کے حوالے سے کوئی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔

    ،ویڈیو کیپشنآئل ریفائنری میں ہونے والے دھماکے اور بلدن ہوتے شعلے اس ویڈیو میں دیکھے جا سکتے ہیں
  20. ہم نے اپنے سفیر اور سفارتی عملے کو تہران سے نکال لیا ہے: ہسپانوی وزیرِ خارجہ

    Europa Press via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہEuropa Press via Getty Images

    ایسے میں کہ جب تہران مسلسل امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کی زد میں ہے سپین نے ایرانی دارالحکومت میں اپنے سفارت خانے میں باقی رہ جانے والے عملے کو بھی وہاں سے واپس بلا لیا ہے۔

    سپین کے وزیر خارجہ خوسے مانوئل الباریس نے سنیچر کی رات سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ’ہم نے ابھی ایران میں ہسپانوی سفارت خانے کو کامیابی کے ساتھ خالی کروا لیا ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ تہران میں موجود سفیر اور دیگر ضروری عملہ اب سرحد پار کر کے آذربائیجان پہنچ چکے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’خطے میں ہمارے باقی سفارت خانے اور کرائسس روم ہنگامی فون لائنوں کے ذریعے 24 گھنٹے مکمل طور پر فعال رہیں گے۔‘

    دوسری جانب سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور کہا ہے کہ ان کی حکومت کا مؤقف ’جنگ کے خلاف ہے۔‘