انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایل او
سی کے قریبی ضلع راجوری میں عسکریت پسندوں کی تلاش کے لیے دو ہفتوں سے فوجی آپریشن
جاری ہے جہاں انڈین فوج کے ایک افسر لیفٹیننٹ بِریشور گوسوامی ہلاک ہو گئے ہیں۔
ایل او سی کے راجوری اور پونچھ
سیکٹروں میں تعینات انڈین فوج کی وائٹ نائٹ کور نے لیفٹنٹ گوسوامی کی ہلاکت کی
تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آپریشنل ڈیوٹی کے دوران لیفٹیننٹ گوسوامی ایک گہری
کھائی میں گرنے سے ہلاک ہو گئے۔‘
فوج کا کہنا ہے کہ بھاری اسلحے سے لیس دو سے تین عسکریت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں خفیہ اطلاع
ملنے پر 23 مئی کو فوجی مہم راجوری کے منج کوُٹ
سیکٹر میں ڈوری مل اور گھمبیر مغلن نامی جنگلاتی علاقے میں شروع کی گئی۔
آپریشن میں شامل ایک فوجی افسر
نے بتایا کہ ’آپریشن کے دوسرے روز دہشت گردوں کے ساتھ مختصر جھڑپ بھی ہوئی۔ لیکن وہ
گھنے جنگلات اور پہاڑی درّوں کا فائدہ اُٹھا کر فرار ہوگئے۔‘
اس آپریشن میں فوج
کے ہمراہ کشمیر پولیس، سینٹرل ریزرو پولیس فورس اور دیگر نیم فوجی دستے بھی شامل
ہیں۔ انڈین فوج کی شمالی کمان اور کئی دوسرے اعلیٰ فوجی عہدیداروں نے گذشتہ ہفتے
کے دوران راجوری کا دورہ کر کے آپریشن میں شامل فوجیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ چند برسوں کے دوران
عسکریت پسندوں نے آبادی والے علاقوں کو چھوڑ کر جنگلاتی علاقوں میں کمین گاہیں بنا
لی ہیں۔
فوج کا کہنا ہے کہ ان دشوار گزار علاقوں میں عسکریت پسندوں کی تلاش میں کئی
ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیا کی وزارت داخلہ نے اس سال کے آغاز میں
جموں کشمیر پولیس کے دو خصوصی دستے قائم کیے۔ ’سنو لیپرڈ‘ اور ’مارخور‘ نامی ان
کمانڈو دستوں کو جنگل وار فیئر کے لیے خصوصی طور پر تربیت دی گئی ہے۔
جموں کے رہنے والے شیش پال وید کشمیر
پولیس کے سابق سربراہ ہیں۔ انھوں نے دہائیوں تک کشمیر اور جموں میں
عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشنز کی قیادت کی ہے۔
وید نے بی بی سی کو
بتایا کہ ’جنگل وار فیئر ایک چیلنج بن چکا تھا۔ کیونکہ پاکستان کی فوجی قیادت میں
تبدیلی کے بعد سے عسکریت پسندوں نے بھی حکمت عملی بدل دی تھی۔ وہ شہری علاقوں کی
بجائے جموں کے پہاڑی اور گھنے جنگلات والے علاقوں میں سرگرم ہوگئے۔ چند سال سے ہم
نے دیکھا کہ درجنوں مرتبہ دہشت گرد محاصرہ توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے تھے۔ یہ
فیصلہ وقت کی اہم ضرورت ہے، اور اس سے اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ نئی اور مناسب
تربیت والی اس فورس کی وجہ سے جموں کے بھلاور، بسنت گڑھ اور ڈوڈہ میں کامیاب آپریشن
ہوئے۔‘
سابق پولیس سربراہ کا مزید کہنا ہے
کہ جموں کے پہاڑی اور جنگلاتی علاقوں میں ابھی بھی دو درجن سے زیادہ ’خطرناک‘
عسکریت پسند سرگرم ہیں جن کے خلاف مختلف سطحوں پر آپریشن جاری ہے۔ ’پاکستان نے
انھیں امریکہ کی ایم فو بندوقیں
دی ہیں اور ان کے پاس چین کے ایسے مواصلاتی آلات ہوتے ہیں جنہیں اکثر اوقات ٹریک
کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ظاہر ہے نئے لڑکے نہ صرف جنگل وارفیئر کے لیے خصوصی طور پر ٹرین
کیے گئے ہیں بلکہ وہ ان پہاڑوں اور جنگلوں سے اچھی طرح واقف بھی ہیں۔‘
خیال رہے کہ ماضی میں پاکستان کی جانب سے عسکریت پسندوں کی معاونت سے متعلق انڈین الزامات مسترد کیے جاتے رہے ہیں۔