آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

امریکہ نے بدھ کی صبح ایران میں 20 اہداف پر حملے کیے: حکام

اس سے قبل مسینٹکام نے ایران پر حملوں کے حوالے سے بیان میں کہا تھا کہ امریکی افواج نے ایک ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کے جواب میں ایران میں کارروائی کی ہے۔ دوسری جانب دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ ’ امریکہ کے آج علی الصبح حملوں کے نتیجے میں سرک میں ایک مواصلاتی ٹاور کو نقصان پہنچا اور شہری سپلائی کے پانی کے دو ٹینک تباہ ہو گئے۔‘

خلاصہ

  • سینٹکام نے اعلن کیا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف جوابی حملوں کا سلسلہ مکمل کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر آدھی رات کے بعد، ایران کے خلاف 'سیلف ڈیفنس سٹرائیکس' شروع کی ہیں
  • یرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 'تشدد کو بڑھاوا دینے والی امریکی حکومت نے آج علی الصبح جسک، سرک اور قشم کے کئی مقامات پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں سرک میں ایک مواصلاتی ٹاور کو نقصان پہنچا اور شہری سپلائی کے پانی کے دو ٹینک تباہ ہو گئے۔'
  • پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متعدد رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد یا ان کے بارے میں اطلاع فراہم کرنے والوں کے لیے ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا گیا ہے
  • جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے منگل کے روز ہڑتال کی کال دی گئی تھی۔ اس کے پیشِ نظر مظفرآباد میں تمام مارکیٹس بند رہیں

لائیو کوریج

  1. ایرانی کیمیکل پلانٹ پر اسرائیلی حملوں کے بعد کا منظر, سارہ جلیلی اور شایان سردارزادہ، بی بی سی ویریفائی

    ہم نے ابھی دو ویڈیوز کی تصدیق کی ہے جن میں اسرائیلی حملوں کے بعد جنوب مغربی ایران میں ایک پیٹروکیمیکل پلانٹ کے اوپر دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    ایک ویڈیو، جو ایک چلتی ہوئی گاڑی کے اندر سے بنائی گئی، ساحلی شہر ماہشہر میں واقع کارون پلانٹ سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک دوسری ویڈیو، جو قریب ہی فلمائی گئی، میں مقام پر موجود چار گول ذخیرہ ٹینکوں کے اوپر دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔

    جیسا کہ ہم نے ابھی رپورٹ کیا، اسرائیلی دفاعی افواج نے ایکس پر ایک پوسٹ میں اس پلانٹ کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ ’ایرانی دہشت گرد حکومت کے میزائل پروگرام کے لیے خام مال تیار‘ کر رہا ہے۔

    صوبہ خوزستان کے گورنر نے ایرانی میڈیا کو بتایا کہ حملے کے بعد پلانٹ کو نقصان پہنچا۔ تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

  2. ایرانی فوج کا اسرائیل کے خلاف حملے روکنے کا اعلان, غنچہ حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    ایران کی اعلیٰ عسکری کمان خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’مسلح افواج کی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کیا جا رہا ہے۔‘

    تاہم اسی بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر جنوبی لبنان اور ایران کے خلاف حملے جاری رہے تو ایران ’پہلے سے زیادہ شدید اور طاقتور‘ جواب دے گا۔

    ایران نے گذشتہ روز جنوبی بیروت پر اسرائیلی حملے کے جواب میں اپنی کارروائیاں شروع کی تھیں۔ اسرائیل نے اس کے جواب میں ایران پر حملہ کیا تھا۔

    سینیئر ایرانی سیاسی اور فوجی عہدیداروں نے گذشتہ شام خبردار کیا تھا کہ ایران ان اقدامات کے جواب میں فوجی کارروائی کرے گا جنھیں انھوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں قرار دیا تھا۔

    ایران کا موقف رہا ہے کہ وہ لبنان میں جنگ بندی کو ایران کے ساتھ امریکی و اسرائیلی جنگ بندی کا حصہ سمجھتا ہے۔

  3. اسرائیل کا ایران میں میزائل تیار کرنے والی تنصیب پر حملہ

    اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ ایرانی شہر ماہشہر میں ایک پیٹروکیمیکل تنصیب پر اس کے حملوں کا مقصد میزائلوں کی تیاری سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا تھا۔

    آئی ڈی ایف کا دعویٰ ہے کہ اس مقام کو ایرانی مسلح افواج ’ہتھیاروں کی تیاری کے لیے خام مال تیار اور برآمد کرنے‘ کے لیے استعمال کر رہی تھیں اور یہ مواد ’بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کے لیے اہم اجزا‘ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

    جنوب مغربی ایران میں واقع ماہشہر پر حملوں کی تصدیق آئی ڈی ایف اور ایرانی سرکاری میڈیا دونوں نے کی ہے۔ تاہم کسی بھی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا اس میں کوئی جانی نقصان ہوا یا نہیں۔

  4. راجوری میں ’آپریشن شیرو والی‘ کے دوران انڈین فوجی افسر ہلاک, ریاض مسرور/ بی بی سی اُردو، سرینگر

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایل او سی کے قریبی ضلع راجوری میں عسکریت پسندوں کی تلاش کے لیے دو ہفتوں سے فوجی آپریشن جاری ہے جہاں انڈین فوج کے ایک افسر لیفٹیننٹ بِریشور گوسوامی ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ایل او سی کے راجوری اور پونچھ سیکٹروں میں تعینات انڈین فوج کی وائٹ نائٹ کور نے لیفٹنٹ گوسوامی کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آپریشنل ڈیوٹی کے دوران لیفٹیننٹ گوسوامی ایک گہری کھائی میں گرنے سے ہلاک ہو گئے۔‘

    فوج کا کہنا ہے کہ بھاری اسلحے سے لیس دو سے تین عسکریت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں خفیہ اطلاع ملنے پر 23 مئی کو فوجی مہم راجوری کے منج کوُٹ سیکٹر میں ڈوری مل اور گھمبیر مغلن نامی جنگلاتی علاقے میں شروع کی گئی۔

    آپریشن میں شامل ایک فوجی افسر نے بتایا کہ ’آپریشن کے دوسرے روز دہشت گردوں کے ساتھ مختصر جھڑپ بھی ہوئی۔ لیکن وہ گھنے جنگلات اور پہاڑی درّوں کا فائدہ اُٹھا کر فرار ہوگئے۔‘

    اس آپریشن میں فوج کے ہمراہ کشمیر پولیس، سینٹرل ریزرو پولیس فورس اور دیگر نیم فوجی دستے بھی شامل ہیں۔ انڈین فوج کی شمالی کمان اور کئی دوسرے اعلیٰ فوجی عہدیداروں نے گذشتہ ہفتے کے دوران راجوری کا دورہ کر کے آپریشن میں شامل فوجیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ چند برسوں کے دوران عسکریت پسندوں نے آبادی والے علاقوں کو چھوڑ کر جنگلاتی علاقوں میں کمین گاہیں بنا لی ہیں۔

    فوج کا کہنا ہے کہ ان دشوار گزار علاقوں میں عسکریت پسندوں کی تلاش میں کئی ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیا کی وزارت داخلہ نے اس سال کے آغاز میں جموں کشمیر پولیس کے دو خصوصی دستے قائم کیے۔ ’سنو لیپرڈ‘ اور ’مارخور‘ نامی ان کمانڈو دستوں کو جنگل وار فیئر کے لیے خصوصی طور پر تربیت دی گئی ہے۔

    جموں کے رہنے والے شیش پال وید کشمیر پولیس کے سابق سربراہ ہیں۔ انھوں نے دہائیوں تک کشمیر اور جموں میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشنز کی قیادت کی ہے۔

    وید نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جنگل وار فیئر ایک چیلنج بن چکا تھا۔ کیونکہ پاکستان کی فوجی قیادت میں تبدیلی کے بعد سے عسکریت پسندوں نے بھی حکمت عملی بدل دی تھی۔ وہ شہری علاقوں کی بجائے جموں کے پہاڑی اور گھنے جنگلات والے علاقوں میں سرگرم ہوگئے۔ چند سال سے ہم نے دیکھا کہ درجنوں مرتبہ دہشت گرد محاصرہ توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے تھے۔ یہ فیصلہ وقت کی اہم ضرورت ہے، اور اس سے اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ نئی اور مناسب تربیت والی اس فورس کی وجہ سے جموں کے بھلاور، بسنت گڑھ اور ڈوڈہ میں کامیاب آپریشن ہوئے۔‘

    سابق پولیس سربراہ کا مزید کہنا ہے کہ جموں کے پہاڑی اور جنگلاتی علاقوں میں ابھی بھی دو درجن سے زیادہ ’خطرناک‘ عسکریت پسند سرگرم ہیں جن کے خلاف مختلف سطحوں پر آپریشن جاری ہے۔ ’پاکستان نے انھیں امریکہ کی ایم فو بندوقیں دی ہیں اور ان کے پاس چین کے ایسے مواصلاتی آلات ہوتے ہیں جنہیں اکثر اوقات ٹریک کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ظاہر ہے نئے لڑکے نہ صرف جنگل وارفیئر کے لیے خصوصی طور پر ٹرین کیے گئے ہیں بلکہ وہ ان پہاڑوں اور جنگلوں سے اچھی طرح واقف بھی ہیں۔‘

    خیال رہے کہ ماضی میں پاکستان کی جانب سے عسکریت پسندوں کی معاونت سے متعلق انڈین الزامات مسترد کیے جاتے رہے ہیں۔

  5. ایران کی نئی حکمت عملی سے ایک اور لڑائی کا جنم, لیز ڈوسیٹ، چیف انٹرنیشنل نامہ نگار/بی بی سی نیوز

    ماضی میں ایسا کہا جاتا تھا کہ ایران کو اپنے ’سٹریٹیجک صبر‘ پر فخر ہے۔ یعنی وہ اپنے خلاف ہونے والی کارروائیوں کا جواب اپنی مرضی کے وقت پر دیتا تھا۔

    اب اسرائیل پر اس کے حملوں اور لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے جواب میں ایک نیا طرزِ عمل سامنے آ رہا ہے۔ تہران میں اس سال سامنے آنے والی نئی قیادت نے گذشتہ سال اسرائیل کے ساتھ ہونے والی 12 روزہ جنگ سے یہ سبق لیا کہ تحمل کو کمزوری سمجھا جائے گا۔

    اس تصادم کے اختتام کے فوراً بعد ایک ایرانی عہدیدار نے مجھے بتایا کہ ’وہ ہم پر سادہ لوح ہونے کا الزام لگا رہے ہیں۔‘ یہ بات انھوں نے سخت گیر حلقوں کی تنقید کے حوالے سے کہی۔

    اب یہی ناقدین فیصلے کر رہے ہیں۔ ایران کے محتاط رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای، جو اس جنگ کے پہلے روز ہلاک ہوئے، اب قواعد طے نہیں کرتے۔

    ایران، جو طویل عرصے تک واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست جنگ سے بچنے کی کوشش کرتا رہا، اب اس جنگ کو قریب سے دیکھ چکا ہے۔

    مزید یہ کہ بڑے فوجی اور معاشی نقصان کے باوجود تہران نے اپنی بقا کو یقینی بنایا۔

    اور کئی دہائیوں تک ’پیشگی دفاع‘ کی اس حکمتِ عملی کے بعد، جو لبنان کی حزب اللہ جیسے اتحادیوں اور حمایتی گروہوں پر انحصار کرتی تھی تاکہ تنازعات ایران تک نہ پہنچیں، اب تہران اپنے اتحادی کے دفاع میں حملے کر رہا ہے۔

    جنگ ایک نئی نوعیت کے تنازع کو جنم دے رہی ہے۔

  6. حتمی مذاکرات جہالت یا حماقت سے متاثر ہو سکتے ہیں: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’امن‘ کے قیام کے لیے حتمی مذاکرات جاری ہیں تاہم یہ عمل ’جہالت یا حماقت‘ سے متاثر ہو سکتا ہے۔

    انھوں نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’دونوں فریقین اسرائیل اور ایران فوری جنگ بندی چاہتے ہیں!‘

    انھوں نے کہا کہ ’ناکہ بندی برقرار ہے اور یہ پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی جب تک ایک ’حتمی معاہدہ‘ طے نہیں پا جاتا۔ معاملات تیزی سے آگے بڑھنے چاہییں۔‘

  7. اسرائیل اور ایران دوبارہ جنگ بندی پر عملدرآمد کریں: برطانوی وزیر اعظم

    برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹامر نے ایران اور اسرائیل دونوں سے جنگ بندی پر دوبارہ عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔

    سٹامر نے کہا کہ انھیں مشرقِ وسطیٰ میں ’دوبارہ پُرتشدد واقعات پر گہری تشویش‘ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’پائیدار امن‘ کے لیے ’سنجیدہ مذاکرات‘ جاری ہیں۔

    سٹامر کے مطابق اس تنازعے کا ’دنیا بھر پر بہت بڑا اثر‘ پڑ رہا ہے جس میں برطانیہ بھی شامل ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اس لیے میں تمام فریقین سے کہتا ہوں کہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ جنگ بندی کی طرف واپس آئیں اور یہ بہت اہم ہے کہ ہم اس بارے میں بالکل واضح ہوں۔‘

  8. حزب اللہ کا جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں پر حملوں کا دعویٰ

    حزب اللہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے آج صبح جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی گاڑیوں اور اہلکاروں کے ایک گروپ پر راکٹ حملے کیے ہیں۔

    ٹیلیگرام پر ایک تازہ بیان میں حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بیت یاحون کے مضافات میں اسرائیلی فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ حزب اللہ کے مطابق یہ کارروائی اسرائیل کی جانب سے ’جنگ بندی کی خلاف ورزی اور جنوبی لبنان کے دیہات پر حملوں‘ کے جواب میں کی گئی۔

    اسرائیل نے تاحال اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا اور یہ واضح نہیں کہ حملوں سے کتنا نقصان ہوا ہے۔

    اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں زمینی کارروائیاں کر رہی ہے جن کا مقصد اس کے بقول حزب اللہ کو شمالی اسرائیل پر راکٹ داغنے سے روکنا ہے۔

    دریں اثنا لبنان میں امریکی سفیر نے لبنانی صدر جوزف عون سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ لبنان، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات دوبارہ واشنگٹن میں شروع ہوں گے۔

  9. امریکہ اور ایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ رُکا نہیں: ایرانی وزارت خارجہ, غنچہ حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ بھی کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ’پیغامات کا تبادلہ بند نہیں ہوا ہے۔‘

    بقائی نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا پیغامات کا تبادلہ گذشتہ روز سے جاری ہے یا نہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی دو روز قبل تہران اس لیے پہنچے تھے تاکہ ’مذاکرات جاری رکھنے میں مدد دی جا سکے اور ثالثی سے متعلق امور انجام دیے جا سکیں۔‘

    پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ایک اہم ثالث رہا ہے اور اطلاعات کے مطابق محسن نقوی نے پاکستانی قیادت کی جانب سے ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایک تحریری پیغام پہنچایا تھا۔

    یکم جون سے ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے قریبی سمجھے جانے والے ایرانی ذرائع ابلاغ میں بعض ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاجاً ایران امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ روک دے گا۔

    اطلاعات کے مطابق آٹھ اپریل کو جنگ بندی کے بعد سے تہران اور واشنگٹن ابتدائی مرحلے میں ایک مفاہمتی یادداشت تک پہنچنے کے لیے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔

    پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے وفود کے درمیان بالمشافہ مذاکرات کا ایک دور 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا۔

  10. چین کو ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پر ’گہری تشویش‘

    اپریل کے بعد پہلی بار ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کے تبادلے پر چین نے ’گہری تشویش‘ کا اظہار کرتے ہوئے جنگ بندی پر عملدرآمد اور سفارتی عمل جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’موجودہ صورتحال پر چین کو گہری تشویش ہے‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ دوبارہ حملے شروع ہونا ’کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔‘

    چینی ترجمان نے کہا کہ بیجنگ کو امید ہے کہ تمام متعلقہ فریقین جنگ بندی سے متعلق اپنے وعدوں کو پورا کریں گے، مذاکرات برقرار رکھیں گے اور سیاسی و سفارتی ذرائع سے اختلافات کا حل جاری رکھیں گے جس سے چین کے بقول ’ایک مکمل اور پائیدار جنگ بندی کی راہ ہموار ہوگی۔‘

    کشیدگی میں اضافے کے دوران اسرائیل میں چینی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو صورتحال میں پیش رفت سے خبردار کرتے ہوئے انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔

    چینی سفارتخانے نے کہا ہے کہ شہری اسرائیلی حکام کی ’ہدایات پر عمل کریں، فوجی تنصیبات اور حساس مقامات سے دور رہیں، غیر ضروری سفر کم سے کم کریں اور سائرن بجنے یا موبائل فون پر الرٹ موصول ہونے کی صورت میں فوری طور پر پناہ گاہوں میں چلے جائیں۔‘

  11. بریکنگ, اسرائیل اور ایران فوراً ’فائرنگ‘ بند کر دیں: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ اسرائیل اور ایران کو فوری طور پر ’فائرنگ‘ بند کر دینی چاہیے۔

    اسرائیلی جوابی حملوں سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو سے ایرانی حملے کا جواب نہ دینے کا مطالبہ کریں گے۔

  12. ایران سے داغے گئے میزائل کی تصدیق شدہ ویڈیو, شایان سردارزادہ اور پال براؤن، بی بی سی ویریفائی

    بی بی سی ویریفائی نے دو ویڈیوز کا جائزہ لیا ہے جن میں بظاہر گذشتہ رات ایران سے اسرائیل کی جانب داغے گئے میزائل دکھائے گئے ہیں۔

    ایک ویڈیو کلپ مغربی ایران کے شہر کرمانشاہ میں حکومت حامی حلقوں کی طرف سے فلمایا گیا۔ اس میں آسمان میں دو پروجیکٹائل دیکھے جاسکتے ہیں جبکہ ایرانی اور حزب اللہ کے جھنڈے اٹھائے ہوئے لوگ ’اللہ اکبر‘ کے نعرے لگاتے ہیں۔

    اسی طرح ایک اور ویڈیو میں شہر کے اوپر سے گزرتا ہوا پروجیکٹائل دیکھا جا سکتا ہے۔

    ہم نے تصدیق کی ہے کہ یہ دونوں ویڈیوز نئی ہیں اور انھیں اے آئی کے ذریعے تخلیق یا تبدیل نہیں کیا گیا۔

    ’تہران کی فضا میں ڈرون مار گرایا گیا‘

    دریں اثنا ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق ایرانی فضائی دفاعی نظام نے تہران کے اوپر پرواز کرنے والے ایک ڈرون کو مار گرایا ہے۔

    یہ خبر ایرانی دارالحکومت میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاعات کے بعد سامنے آئی ہے۔

  13. ایران اور اسرائیل کے حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    ایران اور اسرائیل میں حملوں کے تبادلے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    برینٹ خام تیل کی قیمت 4.5 فیصد اضافے سے 97.30 ڈالرز فی بیرل ہو گئی جبکہ امریکی خام تیل 4.3 فیصد اضافے سے 94.50 ڈالرز فی بیرل پر جا پہنچا۔

    پیر کے روز کاروبار کے آغاز پر ایشیا کی مارکیٹیں بھی شدید گراوٹ کا شکار ہوئیں اور جنوبی کوریا کا کوسپی جیسا اہم انڈیکس تقریباً آٹھ فیصد تک گر گیا۔

  14. بریکنگ, تہران میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں

    ایران کے دارالحکومت تہران سے متعدد دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دی ہیں، تاہم فوری طور پر ان کی نوعیت اور مقام کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

    ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ دھماکے حالیہ اسرائیلی حملوں سے متعلق ہیں یا نہیں۔ اسرائیل گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایران کے مختلف علاقوں میں حملوں کا دعویٰ کر چکا ہے۔

    حکام کی جانب سے تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کے بارے میں سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

  15. اسرائیلی اقدامات کی مکمل ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے: اسماعیل بقائی

    ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ’اسرائیل امریکی اجازت کے بغیر خطے میں کوئی حرکت نہیں کرسکتا، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جو کچھ بھی ہوا اس کا ذمہ دار امریکہ ہے۔‘

    تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ’موجودہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی براہِ راست ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے، اسرائیل کے اقدامات کو امریکی پالیسیوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا، کوئی مان نہیں سکتا کہ اسرائیل امریکہ کے ساتھ کے بغیر خطے میں حرکت کرسکتا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا ’جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ امریکہ کی طرف سے ترتیب دیا گیا تھا، اور یہی کشیدگی میں دوبارہ اضافےکا باعث ہے، امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی واضح ہے، ہم جنگ بندی کے پابند تھے اور وہی اس کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، ہم ملکی سلامتی اور مفادات کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔‘

    ایک سوال کے جواب میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’ڈائریکٹر جنرل آئی اے ای اے نے ہمارے ایٹمی پروگرام کے بارے میں جانبدارانہ اور غیر تکنیکی مؤقف اپنایا، امریکہ اور ’صہیونی ادارے‘ دوبارہ کشیدگی کا بنیادی عنصر تھے، لیکن آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل نے ان کی مذمت تک نہیں کی۔‘

    ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسمائیل بقائی نے کہا کہ ’لبنان میں جنگ کا خاتمہ معاہدے کا حصہ تھا، جب جنگ بندی کی شق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو سفارتی ٹریک بھی متاثر ہوتا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا ’امریکہ کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے اب تک سفارتی راستے کو متاثر کیا ہے، ہم انتہائی بے اعتمادی کے ماحول میں امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کر رہے تھے، 24 گھنٹوں کے دوران جو کچھ ہوا اس سے سفارتی عمل میں مزید مشکل پیدا ہو جائے گی۔‘

    ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی اہداف پر کیے گئے حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ’حقِ دفاع‘ کے دائرے میں آتے ہیں۔

    وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ تہران کی یہ کارروائی لبنان میں جنگ بندی کی بار بار مبینہ اسرائیلی خلاف ورزیوں اور لبنان کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے بعد کی گئی۔

    بیان میں مزید خبردار کیا گیا کہ اگر لبنان یا ایرانی مفادات پر مزید اسرائیلی حملے کیے گئے تو ایران اس کا جواب زیادہ وسیع اور سخت انداز میں دے گا۔

    ایرانی وزارت خارجہ کا مؤقف ہے کہ اس کی حالیہ فوجی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی تھیں اور انھیں بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے دفاع کے حق کے استعمال کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

  16. پاسدارانِ انقلاب کا ایرانی پیٹروکیمیکل تنصیبات پر حملے کے جواب میں حیفہ کی پیٹروکیمیکل تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ایران کی پیٹروکیمیکل تنصیبات پر اسرائیلی حملے کے جواب میں حیفہ کی پیٹروکیمیکل تنصیبات پر میزائل حملہ کیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’شہری اہداف اور تیل و توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا ایک ’خطرناک کھیل‘ ہے جو پورے خطے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔‘

    اسرائیلی حملے کا نشانہ بننے والی تنصیبات میں ماہشہر میں واقع کارون پیٹروکیمیکل کمپنی بھی شامل تھی، اگرچہ پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں اس کا نام براہِ راست نہیں لیا گیا۔

    پیٹروکیمیکل سپیشل اکنامک زون آرگنائزیشن کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے اپنے بیان میں کہا کہ کارون پیٹروکیمیکل کمپنی پر دو حملے کیے گئے، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور نقصانات کی نوعیت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    اس سے قبل اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ اس نے ماہشہر کے پیٹروکیمیکل کمپلیکس میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    حملے کے بعد ماہشہر سپیشل اکنامک زون کی انتظامیہ نے بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ پیٹروکیمیکل سپیشل اکنامک زون کے اعلیٰ حکام برائے سول دفاع اور مینجمنٹ کے فیصلے کے تحت تمام ڈیوٹی پر موجود ملازمین کو فوری طور پر علاقے سے نکال لیا گیا ہے۔

    کارون پیٹروکیمیکل کمپنی سنہ 2002 میں ایران کی پہلی پیٹروکیمیکل کمپنی کے طور پر قائم کی گئی تھی۔ کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق یہ سالانہ 200 ہزار ٹن سے زائد پیٹروکیمیکل مصنوعات تیار کرتی ہے۔

  17. بریکنگ, اسرائیلی دفاعی افواج کا درجنوں جنگی طیاروں کی مدد سے ایران کے دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیلی دفاعی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران میں ’سٹریٹجک دفاعی نظاموں‘ کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے مکمل کر لیے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے ایک نئے بیان کے مطابق وسطی اور مغربی ایران میں ہونے والی کارروائیوں میں اسرائیلی فضائیہ کے درجنوں جنگی طیاروں نے حصہ لیا۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان حملوں کے دوران ایران کے متعدد دفاعی نظاموں کو نشانہ بنا کر انھیں غیر مؤثر کر دیا گیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کا مزید کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں ایرانی فضائی حدود میں اسرائیلی فضائیہ کی کارروائی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

  18. ایرانی وزیر خارجہ کے متعدد ممالک کے اعلیٰ حکام سے رابطے، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنان میں جنگ بندی کی مبینہ اسرائیلی خلاف ورزیوں کے جواب میں ایران کی کارروائیوں اور خطے کی تازہ صورتحال پر برطانیہ، ترکی، فرانس، قطر، عراق، مصر، سعودی عرب اور پاکستان کے اعلیٰ حکام سے ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق عراقچی نے برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر، ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان، فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئیل بارو، قطری وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی، عراقی وزیر خارجہ فواد حسین، مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے الگ الگ گفتگو کی۔

    ان رابطوں کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے لبنان کے محاذ پر جنگ بندی کی بار بار مبینہ خلاف ورزیوں کے جواب میں ایران کے مؤقف سے آگاہ کیا اور خطے میں جاری پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

    عراقی وزیر خارجہ کے ساتھ گفتگو میں آٹھ اپریل کی جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں اور لبنان کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کے تناظر میں ایران کے ردعمل پر بات چیت کی گئی۔

    مصری وزیر خارجہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں خطے کی مجموعی صورتحال، لبنان کے خلاف اسرائیلی حملوں اور مختلف محاذوں پر جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور عباس عراقچی کے درمیان ہونے والی بات چیت میں بھی ایران کی مسلح افواج کے ردعمل، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور لبنان سمیت خطے میں اسرائیلی کارروائیوں پر گفتگو ہوئی۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق یہ رابطے تہران کی جانب سے جاری سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہیں، جن کا مقصد لبنان کے خلاف اسرائیلی اقدامات کے اثرات اور خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لینا ہے۔

  19. ’نیتن یاہو کو اسرائیل میں بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے‘, ہیوگو بچیگا، نامہ نگار برائے مشرق وسطیٰ

    موجودہ ایرانی حکومت کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ’بڑا خطرہ‘ قرار دیتے ہیں اور یہ واضح ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی حالیہ جنگ نے اس حکومت کو کمزور ضرور کیا ہے مگر یہ تاحال اس کا خاتمے کا باعث نہیں بن سکی ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ موجودہ ایرانی قیادت پہلے سے زیادہ خوداعتماد اور شاید مزید جارحانہ نظر آتی ہے۔

    ایسے اشارے موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ نیتن یاہو امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے فکرمند ہیں، اور اس ممکنہ معاہدے کو وہ اسرائیل کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ نیتن یاہو ایسی صورتِحال پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے جنگ دوبارہ شروع ہو جائے۔

    نیتن یاہو کو اندرونِ ملک بڑھتے ہوئے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔

    حزب اللہ کے مسلسل حملوں پر بے اطمینانی کے باوجود لبنان میں جنگ جاری رکھنے کی حمایت موجود ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ اسرائیلی حملے اس گروہ کو مزید کمزور کرنے کے لیے اور کیا حاصل کر سکتے ہیں، خصوصاً جب صدر ٹرمپ نے تنازع کو کم کرنے کی کوشش میں اسرائیلی کارروائیوں کو محدود کر رکھا ہے۔

    اسرائیل میں اکتوبر سے پہلے انتخابات ہونا ہیں اور اگر یہ صورتحال ایسے ہی جاری رہتی ہے تو وزیرِاعظم نیتن یاہو اپنی حکومت سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔

  20. ایران نے ایک بار پھر اپنی فوجی برتری ثابت کر دی: پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ ایران نے ایک بار پھر پاسدارانِ انقلاب کی ایرو سپیس فورس کی میزائل صلاحیتوں کے ذریعے مقبوضہ علاقوں پر اپنی فوجی برتری ثابت کر دی ہے۔

    سوموار کی صبح سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں جنرل محبی نے دعویٰ کیا کہ ایران نے بارہا ثابت کیا ہے کہ مقبوضہ علاقوں اور خطے کی فضائی حدود اس کے اثر و رسوخ میں ہیں اور پاسدارانِ انقلاب کے تباہ کن میزائلوں کی زد میں ہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر اسرائیلی حملوں اور آٹھ اپریل کی جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے بعد اسرائیلی فوجی اہداف پر میزائل حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔

    اتوار کی شب پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ اس نے بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے رامات ڈیوڈ ایئربیس کو نشانہ بنایا ہے، جسے اس نے لبنان کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کا مرکز قرار دیا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ حملہ جنوبی لبنان اور بیروت کے علاقے ضاحیہ میں شہریوں کی ہلاکتوں اور بے دخلی کے جواب میں کیا گیا۔

    سوموار کی صبح پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیلی کے خلاف کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے تل نوف اور نواتیم ایئربیسز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ ایرانی فورس کے مطابق یہ کارروائی ایران کے اندر متعدد ریڈار تنصیبات پر اسرائیلی میزائل حملوں کے جواب میں کی گئی۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے ان حملوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ’جائز دفاعی اقدام‘ قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران کا ردعمل اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں اور لبنان کے خلاف مسلسل کارروائیوں کے بعد سامنے آیا۔

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ لبنان یا ایرانی مفادات پر کسی بھی مزید اسرائیلی حملے کا جواب زیادہ وسیع اور سخت انداز میں دیا جائے گا۔