آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

امریکہ نے بدھ کی صبح ایران میں 20 اہداف پر حملے کیے: حکام

اس سے قبل مسینٹکام نے ایران پر حملوں کے حوالے سے بیان میں کہا تھا کہ امریکی افواج نے ایک ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کے جواب میں ایران میں کارروائی کی ہے۔ دوسری جانب دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ ’ امریکہ کے آج علی الصبح حملوں کے نتیجے میں سرک میں ایک مواصلاتی ٹاور کو نقصان پہنچا اور شہری سپلائی کے پانی کے دو ٹینک تباہ ہو گئے۔‘

خلاصہ

  • سینٹکام نے اعلن کیا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف جوابی حملوں کا سلسلہ مکمل کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر آدھی رات کے بعد، ایران کے خلاف 'سیلف ڈیفنس سٹرائیکس' شروع کی ہیں
  • یرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 'تشدد کو بڑھاوا دینے والی امریکی حکومت نے آج علی الصبح جسک، سرک اور قشم کے کئی مقامات پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں سرک میں ایک مواصلاتی ٹاور کو نقصان پہنچا اور شہری سپلائی کے پانی کے دو ٹینک تباہ ہو گئے۔'
  • پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متعدد رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد یا ان کے بارے میں اطلاع فراہم کرنے والوں کے لیے ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا گیا ہے
  • جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے منگل کے روز ہڑتال کی کال دی گئی تھی۔ اس کے پیشِ نظر مظفرآباد میں تمام مارکیٹس بند رہیں

لائیو کوریج

  1. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا لانگ مار چ شروع, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، مظفر آباد

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان نے بھمبر سے لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے۔

    مقامی پولیس کے مطابق لانگ مارچ میں حصہ لینے والوں کی تعداد دو ہزار کے لگ بھگ ہے۔

    ایک پولیس اہلکار کے مطابق مظاہرین برنالہ کوٹلی پلندری اور دیگر علاقوں سے میر پور اور رؤلاکوٹ پہنچ رہے ہیں جبکہ پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار سڑکوں اور دیگر علاقوں میں پیٹرولنگ کر رہے ہیں۔

    میر پور سے مظاہرین راولاکوٹ کا سفر شروع کریں گے اور راولاکوٹ سے مظفر آباد کی جانب آئیں گے۔

    مظفر آباد میں عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر تمام مارکیٹیں بند ہیں، سرکاری دفاتر کھلے ہیں لیکن وہاں پر سرکاری اہلکار نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ اور شہر میں واقع تمام پیٹرول پمپس بند ہیں۔

    شہر میں اگرچہ دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے لیکن اس کے باوجود نوجوان ٹولیوں کی شکل میں مخلتف چوراہوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ حکومت کشمیر نے حال ہی میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا تھا۔

    مظفر آباد کے ایک تاجر کا کہنا ہے کہ انھوں نے دوکان اپنی مرضی سے بند کی اور کسی تنظیم یا کسی گروپ نے انھیں ایسا کرنے کو نہیں کہا۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس وقت تک ہڑتال جاری رکھیں گے جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے یا ہڑتال کے خاتمے کا اعلان نہیں کیا جاتا۔

    تاجروں کے ایک دھڑے کے صدر حاجی عبدالرزاق کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ کے حالات ماضی کے مقابلے میں مختلف ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب کوئی زبردستی دکان بند نہیں کروا سکتا۔

    انھوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے انھیں یقین دہانی کروائی ہے کہ کوئی زبردستی ان کی دکانیں بند نہیں کروا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ ہڑتال سے روزانہ ایک ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے اور اس ہڑتال کی وجہ سے ہزاروں افراد جو مختلف ہوٹلوں میں یومیہ اجرت کی بنیاد پر کام کرتے ہیں، گھروں میں بیٹھ گئے ہیں۔

    مظفر آباد میں ابھی تک حالات نارمل ہیں جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دیگر علاقوں میں امن و امان کی صورت حال کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں۔

  2. حزب اللہ کا جنوبی لبنان میں پیش قدمی کرتی اسرائیلی فوج پر راکٹ فائر کرنے کا دعویٰ

    حزب اللہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے پیر کی رات جنوبی لبنان میں پیش قدمی کرتی اسرائیلی افواج پر راکٹ فائر کیے ہیں۔

    ٹیلی گرام پر ایک تازہ بیان میں حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج البیادہ کے قصبے سے بیت الصیاد کی طرف پیش قدمی کی کوشش کر رہی تھیں لیکن ’مسلسل راکٹ حملوں‘ کے بعد انھیں پسپا ہونا پڑا۔

    اسرائیل نے کسی بھی جھڑپ پر ابھی تک تبصرہ نہیں کیا تاہم اس کی فوج جنوبی لبنان میں زمینی کارروائیاں کر رہی ہے، جسے وہ شمالی اسرائیل پر حزب اللہ کے حملوں کو روکنے کی کوشش قرار دیتی ہے۔

  3. ’آرمی ایئر ڈیفینس فورس‘ کے دو اہلکار کل اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئے: ایرانی میڈیا کا دعویٰ

    ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ’آرمی ایئر ڈیفینس فورس‘ کے دو اہلکار کل اسرائیلی حملے میں ’دشمن کی فائرنگ‘ سے ہلاک ہوئے اور ان کی تدفین آج کی جائے گی۔

    اس سے قبل پیر اور منگل کو ہونے والے اسرائیلی حملوں میں کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی تھی تاہم 15 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی۔

    اسرائیلی فوج نے گذشتہ روز کہا تھا کہ اس نے ایران کے سٹریٹجک دفاعی نظام پر حملہ کیا۔

    اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کے دفاعی نظام کمزور ہو گئے تھے تاہم بعد میں ’دفاعی نظام ایران کے مختلف حصوں میں تعینات کیے گئے‘ تاکہ انھیں بحال کیا جا سکے تاہم ان کو اب حالیہ حملوں میں تباہ کر دیا گیا۔

  4. جنوبی لبنان کے شہر صور پر فضائی حملہ

    اب ہم آپ کو جنوبی لبنان کے شہر صور پر ایک فضائی حملے کی تصویر دکھا رہے ہیں جبکہ لبنانی میڈیا بھی رپورٹ کر رہا ہے کہ اسرائیل نے آج صبح اس شہر پر حملہ کیا۔

    یہ حملہ اسرائیلی فوج کے صور اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر اپنے گھروں سے نقل مکانی کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ہوا۔

    لبنان کے خبر رساں ادارے ’نیشنل نیوز ایجنسی‘ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے صور میں ’بڑا فضائی حملہ‘ کیا۔

    اسرائیلی دفاعی افواج نے اب تک اس علاقے میں حملوں کی تصدیق نہیں کی۔

  5. ’اسرائیل اور حزب اللہ کشیدگی میں کمی نہیں بلکہ مزید تصادم کی راہ ہموار کر رہے ہیں‘, ہیوگو بچیگا، یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا اور سیاسی جماعت حزب اللہ کے خلاف اس کی جنگ لبنان میں جاری رہے گی۔

    یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب حزب اللہ نے علی خامنہ ای کے قتل کے بعد اسرائیل پر راکٹ فائر کیے، جو ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ کے آغاز پر ہوا تھا۔

    اس کے جواب میں اسرائیل نے لبنان میں تباہ کن بمباری شروع کی، جس میں 3,600 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی تھی۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد سرحد کے ساتھ ایک سکیورٹی زون قائم کرنا ہے جو حزب اللہ سے پاک ہو تاکہ اس کے شمالی علاقوں کو اس گروہ کے راکٹوں اور ڈرونز سے محفوظ رکھا جا سکے۔

    اسرائیل میں اس بارے میں عوامی حمایت موجود ہے کہ اس جنگ کو جاری رکھا جائے تاہم چونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کشیدگی کم کرنے کی کوشش میں لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کو محدود کر دیا ہے، اس لیے یہ واضح نہیں کہ آیا اسرائیل کے حملے حزب اللہ کو نمایاں طور پر کمزور کر سکتے ہیں۔

    یہ گروہ اندرون ملک تنہائی کا شکار ہے لیکن اب تک اس نے ہتھیار ڈالنے کے مطالبات کو مسترد کیا ہے۔

    لبنان کی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ عمل صرف سفارت کاری کے ذریعے ممکن ہے، طاقت کے ذریعے نہیں۔ چونکہ دونوں فریق پیچھے ہٹنے کے لیے آمادگی کے اشارے نہیں دے رہے، اس لیے وہ کشیدگی میں کمی کے بجائے مزید تصادم کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔

  6. بریکنگ, جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے، تین افراد ہلاک متعدد زخمی: لبنانی ذرائع ابلاغ

    لبنانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی لبنان میں آج صبح اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    سرکاری خبر رساں ادارے نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں شہر صور کے مشرقی علاقے المساکن الشعبیہ میں متعدد عمارتیں نشانہ بنیں، جہاں امدادی کارکنوں نے ملبے سے ایک شخص کی لاش نکالی۔

    لبنانی ویب سائٹ ’لوئرینٹ ٹوڈے‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ اس حملے کے بعد دو دیگر افراد لاپتا ہیں۔

    این این اے کے مطابق دو مزید افراد کفر رمان نامی قصبے میں اسرائیلی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے۔ یہ قصبہ صور کے شمال مشرق میں پہاڑی علاقے میں واقع ہے۔

    رپورٹس کے مطابق آج صبح نبطیہ اور کفر صیر کے علاقوں میں بھی فضائی حملے کیے گئے جبکہ جبشیت پر توپ خانے سے گولہ باری کی گئی۔

    دوسری جانب لبنان کی وزارتِ صحت نے سوموار کے روز بتایا تھا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے جن میں سات افراد کا تعلق ضلع نبطیہ اور پانچ افراد کا تعلق شہر صور سے تھا۔

  7. ممکنہ معاہدہ قریب، لیکن سفارت کاروں کا حد سے زیادہ خوش فہمی سے گریز کا مشورہ, بی بی سی کے انٹرنیشنل ایڈیٹر جیریمی بوون کا تجزیہ

    سینئر عرب ذرائع کے مطابق ایران، امریکہ اور خطے کی صورتحال سے متعلق ایک ممکنہ معاہدہ قریب دکھائی دیتا ہے۔

    تاہم مغربی سفارت کاروں نے خبردار کیا ہے کہ مذاکرات میں شامل فریقین ’حد سے زیادہ خوش فہمی‘ کا شکار ہو سکتے ہیں، یعنی وہ پیش رفت کے امکانات کو زمینی حقائق سے زیادہ مثبت انداز میں دیکھ رہے ہیں۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق اس وقت جس معاملے پر بات چیت ہو رہی ہے وہ کوئی حتمی امن معاہدہ نہیں، بلکہ آئندہ مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک یا ایجنڈا ہے، جس میں ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے طریقۂ کار جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔

    آبنائے ہرمز کی بندش اب بھی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ جوں جوں وقت گزر رہا ہے، اس کے معاشی اثرات مزید شدید ہوتے جا رہے ہیں اور یہ صورتحال صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

    امریکہ میں موسمِ گرما کے دوران ایندھن کی طلب بڑھنے کے ساتھ ساتھ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک اہم سیاسی اور معاشی تشویش کا باعث ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ اب اس بحران کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیل کو خدشہ ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے نتیجے میں جنگ کے دوران ایران کی حاصل کردہ سٹریٹجک برتری کو عملی طور پر تسلیم کر لیا جائے گا اور تہران ایک طرف جبکہ امریکہ اور اسرائیل دوسری طرف خطے میں طاقت کے ایک نئے توازن اور ایک نئی صورتحال کو قبول کرنا پڑے گا۔

    ادھر وہ عام ایرانی شہری، جو امید کر رہے تھے کہ یہ تنازع سیاسی تبدیلی یا ان کے حالاتِ زندگی میں بہتری کا باعث بنے گا، ان کے لیے فی الحال ایسی کسی پیش رفت کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

  8. نیتن یاہو میری بات مانتے ہیں، ہم ایک مضبوط معاہدے کے قریب ہیں: ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوموار کے روز بی بی سی کی شمالی امریکہ کی ایڈیٹر سارہ سمتھ سے گفتگو کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے امکانات اور ایران و اسرائیل کے درمیان کشیدگی پر اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ انھوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کو ایران پر حملے روکنے کے لیے کیسے آمادہ کیا، تو ٹرمپ نے جواب دیا ’میں نے صرف اتنا کہا کہ ہمیں عقل و دانش سے کام لینا ہوگا۔ ہم ایک بہت طاقتور اور بہت اچھے معاہدے پر دستخط کرنے کے انتہائی قریب ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’نہ جوہری ہتھیار ہوں گے اور نہ ہی ایسی کوئی اور چیز۔ آپ جانتے ہیں، ہمیں بہت زیادہ عقل مندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ سب کچھ ٹھیک تھا۔‘

    ٹرمپ سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ نیتن یاہو نے ایران کے حملوں کے جواب میں کارروائی کی، حالانکہ انھوں نے اسرائیل سے جوابی میزائل حملے نہ کرنے کی اپیل کی تھی۔

    اس پر ٹرمپ نے کہا کہ ’نہیں، نہیں۔ وہ حملے پہلے ہی کر چُکے تھے۔ وہ پہلے ہی ایران پر حملے کے لیے راستے میں تھے۔‘

    اسرائیلی وزیرِاعظم کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے بی بی سی سے کہا کہ ’اگر میں ان سے کوئی کام کرنے کو کہوں تو وہ وہی کرتے ہیں۔‘

  9. قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بجٹ اجلاس 10 جون کو طلب کرنے کی سمری ارسال، امکان ہے بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائے گا: وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری

    وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بجٹ اجلاس 10 جون کو طلب کرنے کے حوالے سے تجویز پر مبنی سمری ارسال کر دی گئی ہے۔

    ایکس پر جاری بیان میں اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’امکان ہے کہ بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائے گا۔

    منگل کو ایکس پر جاری بیان میں انھوں نے سینٹ اور قومی اسمبلی کے ہونے والے اجلاسات کے وقت کے بارے میں بھی آگاہ انھوں نے لکھا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس 10 جون کو شام پانچ بجے جبکہ سینیٹ کا اجلاس بھی 10 جون کو شام چار بجے بلانے کی سمری بھیجی گئی ہے۔

  10. اسرائیلی انتباہ کے بعد لبنان کے شہر صور سے انخلا کا آغاز

    لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے انخلا کی وارننگ جاری کیے جانے کے بعد جنوبی لبنان کے شہر صور میں شہریوں کے انخلا کا عمل جاری ہے، جس میں سول ڈیفنس کی ٹیمیں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق بے گھر ہونے والے افراد کے لیے قائم پناہ گاہیں اپنی گنجائش پوری کر چکی ہیں اور انھیں مزید متاثرین کی آمد کے باعث دباؤ کا سامنا ہے۔

    اس سے قبل اسرائیلی فوج نے شہر کے رہائشیوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے اور دریائے زہرانی کے شمالی علاقوں کی جانب منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی تھی۔

  11. لبنان کے شہر صور میں انخلا کی وارننگ کا دائرہ وسیع، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت, بی بی سی کے انٹرنیشنل ایڈیٹر جیریمی بوون کا تجزیہ

    جنوبی لبنان کے شہر صور کے لیے اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کی گئی انخلا کی وارننگ کو غیرمعمولی اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ پہلی بار اس میں شہر کے مسیحی اکثریتی علاقے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ نقشے کے مطابق انخلا کی ہدایت شہر کے بیشتر حصے پر لاگو ہوتی ہے۔

    مبصرین کے مطابق یہ اقدام اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو اور اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے کہ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیروت پر مزید حملوں کو محدود کرنے میں کردار ادا کیا ہو، تاہم اسرائیل اب بھی جنوبی لبنان میں بڑے پیمانے پر کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    دوسری جانب ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ لبنان میں ہونے والی پیش رفت کا خلیجی خطے میں کسی بھی ممکنہ معاہدے سے براہِ راست تعلق ہے۔

    بنیامن نیتن یاہو نے اس مؤقف کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے، تاہم بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ عملاً اس تعلق کو تسلیم کرتے دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ وہ ایک معاہدے کو حتمی شکل دینے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے اور اس کے بعد دیگر ترجیحات پر توجہ مرکوز کرنے کے خواہاں ہیں۔

    سیاسی و عسکری مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے لیے یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ وہ ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے خطے میں قائم کیے جانے والے کسی نئے سٹریٹجک توازن کو خاموشی سے قبول کر لے۔ اسی لیے اسرائیل ممکنہ طور پر ہر اس تاثر کو چیلنج کرے گا کہ ایران فوجی طاقت کے ذریعے اسے روکنے یا محدود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق ایک بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ یہ جنگ مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی و سکیورٹی صورتحال کو نئی شکل دے رہی ہے تاہم یہ تبدیلی اس انداز میں نہیں ہو رہی جس کی توقع اسرائیل اور امریکہ نے 28 فروری کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرتے وقت کی تھی۔

  12. ایران کی تنبیہ کے باوجود اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان کے شہر صور کو خالی کرنے کا حکم

    اسرائیلی دفاعی افواج نے جنوبی لبنان کے شہر صور کے رہائشیوں کے لیے فوری انخلا کا حکم جاری کر دیا ہے۔

    یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب ایران کی جانب سے اسرائیل کو یہ تنبیہ کی جا چُکی ہے کہ وہ اسرائیل پر حملے روک دے گا، تاہم اس نے خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں تو ایران ’سخت جواب‘ دے گا۔

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے سومورا کے روز کہا تھا کہ ان کا ملک ’فی الحال‘ ایران پر حملے روک رہا ہے، تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ ’اگر ایران دوبارہ غلطی کرتے ہوئے ہم پر حملہ کرتا ہے تو ہم بھرپور جواب دیں گے۔‘

    اتوار کے روز ایران نے اسرائیل پر میزائلوں کی ایک لہر داغی، جو اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا حملہ تھا۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایران کے مغربی اور وسطی علاقوں میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوموار کے روز کہا کہ اسرائیل اور ایران کو فوری طور پر ’فائرنگ بند‘ کر دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’امن‘ کے لیے حتمی مذاکرات جاری ہیں، تاہم یہ عمل ’نادانی یا حماقت‘ کی وجہ سے متاثر ہو سکتا ہے۔

  13. قانون کی بالادستی کے ساتھ ساتھ ملکی شہریوں پر بھروسہ بھی ضروری ہے: انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں بی جے پی کے ترجمان, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے میڈیا انچارج ساجد یوسف شاہ نے انکشاف کیا ہے کہ انھیں مہاراشٹرا میں ایک ہوٹل سے رات کے وقت محض اس لئے چلے جانے کو کہا گیا کیونکہ وہ کشمیری ہیں۔

    ایکس پر جاری ایک طویل بیان میں ساجد یوسف نے لکھا کہ ’جب میں مہاراشٹرا کے اورنگ آباد میں ایک ہوٹل میں چیک اِن کیا تو ایک گھنٹے بعد مجھے وہاں سے نکل جانے کو کہا گیا، کیونکہ ہوٹل انتظامیہ کو میرے کشمیری ہونے پر تشویش تھی۔‘

    انھوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’ہوٹل کے مالک صاف گو تھے، انھوں نے مُجھے کہا کہ یہ فیصلہ غلط تھا لیکن ساتھ ہی کہا کہ انھیں جو احکامات ملے وہ تو بس ان کی تعمیل کررہے تھے۔‘

    ساجد نے مزید لکھا ہے کہ ’دہائیوں سے لاتعداد کشمیریوں نے انڈیا اور کشمیر کے درمیان رشتے مضبوط کرنے کے لئے جدوجہد کی ہے۔ اکثر شہروں میں انڈین گرمجوشی اور عزت کے ساتھ ہمارا خیرمقدم کرتے ہیں، لیکن ایسے واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ کشمیریوں کی شناخت کو لے کر اب بھی غلط فہمیاں موجود ہیں۔‘

    انھوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ انڈیا اور اس کے شہریوں سے متعلق اُن کا اعتماد غیر متزلزل ہے، ’مجھے امید ہے کہ ہم ایسے مستقبل کی جانب بڑھیں کہ جہاں کسی بھی شہری کو اس کے مذہب، شناخت یا علاقائی وابستگی کی بنیاد پر روئیے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔‘

    مہاراشٹرا میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے رہنما انیش گوانڈے نے اپنے ردعمل میں اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ’مہاراشٹرا شِواجی، مہاتما پھولے اور ڈاکٹر امبیدکر جیسے عظیم لوگوں کے دکھائے راستے پر چلتا ہے۔ میں معذرت چاہتا ہوں کہ آپ ہماری ریاست میں مہمان تھے مگر آپ کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا۔‘

    گوانڈے نے ریاست کے وزیراعلیٰ سے اس معاملے میں مداخلت اور اس کی تحقیقات کی اپیل بھی کی۔

  14. گلگت بلتستان کے الیکشن کمیشن کا پانچ انتخابی حلقوں کے نتائج روکنے کا حکم

    الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے پانچ انتخابی حلقوں کے نتائج روکنے کا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے متعلقہ ریٹرننگ افسران کو حتمی نتائج جاری کرنے سے روک دیا ہے۔

    الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق مخصوص پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کے انعقاد تک نتائج روک دیے گئے ہیں۔

    نوٹیفیکیشن میں جن حلقوں کے نتائج روکے گئے ہیں اُن میں ضلع دیامر کے حلقوں جی بی اے 15، جی بی اے 16 اور جی بی اے 17 شامل ہیں جبکہ اسی طرح سکردو کے حلقہ جی بی اے 8 اور استور کے حلقہ جی بی اے 13 کے نتائج بھی تاحکمِ ثانی جاری نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    جاری حکم نامے میں الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسران کو یہ احکامات بھی جاری کیے ہیں کہ وہ پوسٹل بیلٹس کی جانچ پڑتال اور گنتی کا عمل بھی نہ کریں۔

    اعلامیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  15. ایران سے بہت اچھی ڈیل کے حتمی مراحل میں ہیں: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں امن سے متعلق ایک معاہدے تک پہنچنے کے ’آخری مراحل‘ میں ہیں۔

    صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ’ہم ایک بہت، بہت اچھے معاہدے تک پہنچنے کے آخری مراحل میں ہیں۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ معاہدے کو حتمی شکل دینے میں مزید کتنے دن یا ہفتے لگ سکتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا ’دو یا تین دن۔‘

    اس سے قبل اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے بھی تصدیق کی تھی کہ ایران ممکنہ معاہدے کے متن کو حتمی شکل دینے کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کر رہا ہے۔

    انھوں نے امید ظاہر کی تھی کہ یہ مذاکراتی عمل رواں ماہ جون کے اختتام تک نتیجہ خیز ثابت ہوگا اور دونوں فریق کسی حتمی سمجھوتے تک پہنچ جائیں گے۔

  16. آبنائے ہرمز کے قریب امریکی ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار: ’دونوں پائلٹ محفوظ ہیں‘ صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فوج کے ایک اپاچی ہیلی کاپٹر کے حادثے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہیلی کاپٹر کے دونوں پائلٹ محفوظ ہیں۔‘

    منگل کے روز واشنگٹن واپسی سے قبل جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ’کسی بھی شخص کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔‘

    انھوں نے مزید بتایا کہ امریکی حکومت اس واقعے کے بارے میں تفصیلی رپورٹ منگل کے روز بعد میں جاری کرے گی۔

    اس سے قبل امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے گزشتہ شب دو باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی فوجی اپاچی ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا، تاہم اس میں سوار دونوں پائلٹس محفوظ رہے اور انھیں بچا لیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہیلی کاپٹر ایرانی فورسز کی فائرنگ کا نشانہ بنا، کسی فنی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہوا یا حادثے کی کوئی اور وجہ تھی۔

  17. لبنانی مسلح افواج کے سربراہ کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات

    لبنانی مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف جنرل روڈولف ہائیکل نے منگل کے روز راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز یعنی جی ایچ کیو کا دورہ کیا، جہاں انھوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ملاقات کے دوران دونوں عسکری رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال، دفاعی تعاون اور دوطرفہ فوجی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔‘

    بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’بات چیت میں پیشہ ورانہ روابط، تربیتی تعاون اور دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان ادارہ جاتی تعلقات کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔‘

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیاہے کہ ’فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس موقع پر لبنان کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ اور خوشگوار تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے لبنانی مسلح افواج کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔‘

    بیان کے مطابق جنرل روڈولف ہائیکل نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور عملی مہارت کو سراہا اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے ساتھ ساتھ عالمی امن مشنز میں ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

    یہ دورہ دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان فوجی سطح پر تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی روابط کے فروغ کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

  18. قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس تاخیر کا شکار، 10 جون کو پیش کیے جانے والے بجٹ میں تاخیر کا امکان, سارہ حسن، صحافی

    پاکستان کی وفاقی حکومت اور صوبوں کے مابین وسائل کی تقسیم میں عدم اتفاق کے باعث وفاقی بجٹ کے اعلان سے قبل نیشنل اقتصادی کونسل کا منگل کو بلایا گیا اجلاس ایک بار پھر ملتوی ہو گیا ہے جس کے بعد 10 جون کو پیش کیے جانے والے بجٹ میں تاخیر کا امکان ہے۔

    این ای سی کا اجلاس ملتوی ہونے پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ بجٹ سے متعلق کچھ اُمور پر ابھی حتمیٰ فیصلہ ہونا باقی ہے اس لیے لگتا یہی ہے کہ بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کرنا ہو گی۔

    بجٹ پیش کیے جانے سے پہلے وزیراعظم کی صدارت میں نیشنل اقتصادی کونسل کا اجلاس ہوتا ہے جس میں چاروں صوبوں کے وزارئے اعلیٰ شریک ہوتے ہیں۔ سال میں ایک بار بجٹ کے اعلان سے قبل ہونے والے این ای سی کے اجلاس صوبے وفاق کے جانب سے ملنے والے وسائل سے اپنے ترقیاتی بجٹ کو حتمیٰ شکل دیتے ہیں۔

    وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے مابین سالانہ ترقیاتی منصوبوں پر مشاورت مکمل ہو گئی ہے۔

    گذشتہ روز صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے مابین ملاقات ہوئی جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بھیشریک تھے۔ ایوان صدر کے اعلامیے کے مطابق اس ملاقات میں بجٹ تجاویز، عوامی ریلیف اور صوبوں کے حقوق پر بات ہوئی ہے۔

    صدر نے ہدایت کی کہ آنے والے بجٹ میں شرحِ ترقی اور عوامی فلاح کی سکیموں کو ہم آہنگ کرنے کی پوری کوشش کی جائے۔

    بجٹ کے اعلان میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟

    سنئیر صحافی مہتاب حیدر کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے اتحادی حکومت کے مابین کئی اُمور جیسے سالانہ ترقیاتی بجٹ کے معاملے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

    انھوں نے بتاتا آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وفاقی حکومت صوبوں سے 1700 ارب روپے لینا چاہتی ہے تاکہ اس رقم سے کوئی ایسا طریقہ کار بنایا جائے جس سے اہم خرچے جیسے دفاعی اخراجات اور سوشل سکیورٹی کا اہم منصوبہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ادائیگی کے لیے وفاق پر پڑنے والے بوجھ میں صوبے بھی اپنا حصہ ڈالیں۔

    مہتاب حیدر کے مطابق ان دو چیزوں پر اتفاق رائے نہ ہونے کے سبب وزارتِ خزانہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے حتمیٰ اعدادوشمار جیسے ٹیکس کی آمدن، ترقیاتی بجٹ وغیرہ سے آئی ایم ایف آگاہ نہیں کر پار رہی ہے۔ اُن کے بقول یہی سبب ہے کہ اب دوسری بار بجٹ کے اعلان کی تاریخ میں تبدیلی کا امکان ہے اور ممکنہ طور پر اب 10 جون کے بجائے 12 جون کو بجٹ پیش کیا جائے گا۔

    تاہم دوسری جانب پاکستان کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے بجٹ پیش کیے جانے کے لیے نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

  19. تہران کو امریکہ بالخصوص صدر ٹرمپ میں اگر ’سنجیدگی‘ نظر آئے تو مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں: ابراہیم عزیزی

    ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’اگرچہ ایران اور امریکہ کے درمیان بداعتمادی کی فضا موجود ہے، تاہم اگر تہران کو امریکہ، بالخصوص اس کے صدر کی جانب سے ’سنجیدگی‘ نظر آئے تو ایران کو مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔‘

    ابراہیم عزیزی نے مزید کہا کہ ’اعتماد کی بحالی کی صورت میں ایران مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔‘

    دوسری جانب تہران کے حکام نے سوموار کے روز ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ایران کے منجمد اثاثوں پر سے رکاوٹ ہٹایا جانا اور ملک پر عائد پابندیوں کا خاتمہ، واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں ایران کے لیے بنیادی اور ناگزیر مطالبات ہیں۔‘

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے متن کو حتمی شکل دینے اور ممکنہ معاہدے کے حوالے سے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔

  20. فلپائن کے جنوبی جزیرے منڈاناؤ کے قریب آنے والے 7.8 شدت کے زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 35 ہو گئی

    فلپائن کے حکام کے مطابق جنوبی جزیرے منڈاناؤ کے ساحل کے قریب آنے والے 7.8 شدت کے خطرناک زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 35 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    زلزلہ سوموار کی صبح مقامی وقت کے مطابق 7 بج کر 37 منٹ پر آیا جس کے بعد فلپائن، انڈونیشیا، جاپان اور آسٹریلیا میں سونامی کی وارننگ جاری کر دی گئی۔

    سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں متعدد عمارتوں کو منہدم ہوتے دیکھا جا سکتا ہے، جن میں ’جولی بی‘ فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کی ایک شاخ بھی شامل ہے جو مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ بعض علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

    سوموار کی سہ پہر جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ میں فلپائن کے دفتر برائے شہری دفاع نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے 31 افراد کا تعلق ’سوکسارگن‘ ریجن سے ہے، جبکہ چار اموات ’داواؤ‘ میں رپورٹ ہوئی ہیں۔

    فلپائنی حکام کے مطابق زلزلے کے باعث کم از کم 134 افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ تقریباً 10 ہزار خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔

    حکام نے اس سے قبل ہلاکتوں کی تعداد 32 بتائی تھی، جبکہ 12 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی تھیں۔

    منڈاناؤ فلپائن کا رقبے اور آبادی دونوں اعتبار سے دوسرا بڑا جزیرہ ہے، جہاں تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ افراد آباد ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ جانی نقصان کے اعداد و شمار کی قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کی جانب سے ابھی تصدیق ہونا باقی ہے، جو مختلف مقامی ذرائع سے موصول ہونے والی رپورٹس کا جائزہ لے کر ان کی توثیق کرتی ہے۔ ادارے کی جانب سے آئندہ چند روز میں باضابطہ تازہ رپورٹ جاری کیے جانے کی توقع ہے۔