صوبہ پنجاب میں سی سی ڈی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ضلع ٹوبہ ٹیک
سنگھ میں پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق
رکھنے والے رُکن صوبائی اسمبلی کرنل (ریٹائرڈ) ایوب خان گادھی
پر قاتلانہ حملہ میں نامزد تین ملزمان مبینہ پولیس مقابلے کے دوران اپنے ہی
ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔
پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ ملزمان اور پولیس کے درمیان
فائرنگ کے تبادلے میں یہ افراد مارے گئے۔ سی سی ڈی کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان
میں سہیل افضل گادھی، عمران گادھی اور وہاڑی سے تعلق رکھنے والا غلام شبیر شامل ہیں۔
سی سی ڈی کے مطابق واقعے میں ایک پولیس اہلکار زخمی بھی ہوا
جسے طبی امداد کےلئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے
پولیس حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان کے چار ساتھی اس
دوران فرار ہونے میں کامیاب ہوئے، جن کی گرفتاری کےلیے سرچ آپریشن اور چھاپوں کا
سلسلہ جاری ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ ماہ 10 مئی کو ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاقے چک
184 گ ب میں مسلح حملہ آوروں نے رُکن صوبائی اسمبلی کرنل ریٹائرڈ ایوب گادھی کے ڈیرے
پر اندھا دھند فائرنگ کر دی تھی جس کے نتیجے میں ان کے وہاں موجود چار افراد ہلاک
ہوئے تھے جبکہ ایم پی اے ایوب گادھی سمیت تین افراد زخمی ہوئے تھے۔
ایوب گادھی اس حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے جنھیں ابتدائی طبی
امداد کے بعد لاہور کے سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا تھا۔
اس واقعہ کے بعد ٹوبہ ٹیک سنگھ کے تھانہ رجانہ میں پولیس نے نو
ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ مقدمے میں چھ ملزمان نامزد اور تین ملزمان
نامعلوم ظاہر کیے گئے تھے۔ نامزد ملزمان میں واصف، راشد، سہیل افضل، تصویر افضل،
فرمان علی اور عمران علی شامل تھے جبکہ اس مقدمے میں قتل، اقدام قتل اور انسداد
دہشت گردی کی دفعہ 7 اے ٹی اے لگائی گئی تھی۔ مقدمے کے مدعی زخمی ہونے والے ایم پی
اے کے بھائی سردار محمد مسعود خان ہیں جو خود بھی پنجاب اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان سنگین جرائم میں ملوث
خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو کہ قتل ڈکیتی بھتہ خوری، منشیات فروشی جیسے جرائم میں
ملوث ہیں۔
کرنل ریٹائرڈ سردار ایوب خان گادھی اس حلقے سے لگاتار چار
مرتبہ ممبر صو بائی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں، گذشتہ دور میں صوبائی وزیر انسداد
دہشت گردی کا قلمدان بھی ان کے پاس رہا ہے جبکہ قبل ازیں ان کے چھوٹے بھائی سردار
مسعود خان گادھی اور ان کے والد سردار مراد خان گادھی بھی اسی حلقہ سے ایم پی اے
منتخب ہو تے رہے ہیں جو کہ صوبائی وزیر اور ضلع کونسل فیصل آباد کے چیئرمین بھی رہے ہیں۔
یاد رہے کہ پنجاب میں سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کی مشتبہ
حالات میں ’اپنے ہی ساتھیوں‘ کے ہاتھوں ہلاکت کی خبریں آئے روز سامنے آتی رہتی ہیں۔
رواں سال کے آغاز پر پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ
آر سی پی) کی جانب سے جاری کی گئی ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا
گیا ہے کہ پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے مبینہ مقابلوں کی ایک
دانستہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے جو بہت سے معاملات میں ماورائے عدالت ہلاکتوں پر
منتج ہوتی ہے جو صوبے میں قانون کی حکمرانی اور آئینی تحفظات کو بنیادی طور پر
کمزور کرتی ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس کی بنیاد پر،
ایچ آر سی پی نے 2025 کے ابتدائی آٹھ ماہ کے عرصے میں کم از کم 670 سی سی ڈی
مقابلوں کو دستاویزی شکل دی تھی، ان مبینہ مقابلوں میں سنگین جرائم میں ملوث 924
ملزم ہلاک ہوئے جبکہ اسی مدت میں صرف دو پولیس اہلکار مارے گئے۔
ایچ آر سی پی کے مطابق ہلاکتوں کا یہ شدید عدم توازن یعنی
اوسطاً روزانہ دو سے زیادہ جان لیوا مقابلے اور مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے
انداز میں یکسانیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ انفرادی بے ضابطگی کے واقعات
نہیں بلکہ ایک ادارتی طرزِ عمل ہے۔