آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

امریکہ نے بدھ کی صبح ایران میں 20 اہداف پر حملے کیے: حکام

اس سے قبل مسینٹکام نے ایران پر حملوں کے حوالے سے بیان میں کہا تھا کہ امریکی افواج نے ایک ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کے جواب میں ایران میں کارروائی کی ہے۔ دوسری جانب دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ ’ امریکہ کے آج علی الصبح حملوں کے نتیجے میں سرک میں ایک مواصلاتی ٹاور کو نقصان پہنچا اور شہری سپلائی کے پانی کے دو ٹینک تباہ ہو گئے۔‘

خلاصہ

  • سینٹکام نے اعلن کیا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف جوابی حملوں کا سلسلہ مکمل کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر آدھی رات کے بعد، ایران کے خلاف 'سیلف ڈیفنس سٹرائیکس' شروع کی ہیں
  • یرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 'تشدد کو بڑھاوا دینے والی امریکی حکومت نے آج علی الصبح جسک، سرک اور قشم کے کئی مقامات پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں سرک میں ایک مواصلاتی ٹاور کو نقصان پہنچا اور شہری سپلائی کے پانی کے دو ٹینک تباہ ہو گئے۔'
  • پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متعدد رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد یا ان کے بارے میں اطلاع فراہم کرنے والوں کے لیے ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا گیا ہے
  • جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے منگل کے روز ہڑتال کی کال دی گئی تھی۔ اس کے پیشِ نظر مظفرآباد میں تمام مارکیٹس بند رہیں

لائیو کوریج

  1. امریکہ کے ساتھ معاہدے کے متن کو حتمی شکل دینے پر کام جاری ہے: اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر

    اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک ممکنہ معاہدے کے متن کو حتمی شکل دینے کے سلسلے میں امریکہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کر رہا ہے۔

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق امیر سعید ایروانی نے سوموار کے روز کہا کہ ’ہم ابھی حتمی متن تک نہیں پہنچے، تاہم اس سلسلے میں پیش رفت جاری ہے۔‘

    انھوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات بالآخر رواں ماہ جون کے اختتام تک مکمل ہو جائیں گے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سوموار کے روز کہا کہ انھیں یقین ہے کہ امریکہ آئندہ دو ہفتوں کے اندر ایران کے ساتھ جاری جنگ میں ’مکمل فتح‘ کا اعلان کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ ’آپ واقعی اگلے دو ہفتوں میں ایک فتح دیکھیں گے، جب ہم مکمل فتح کا اعلان کریں گے۔ یہ ایک مکمل فتح ہوگی، بہت جلد حاصل ہوگی اور اس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔‘

    امریکی صدر گزشتہ چند ماہ کے دوران بھی امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے جلد خاتمے کے حوالے سے اسی نوعیت کے بیانات دیتے رہے ہیں۔

    انھوں نے فروری کے اواخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد متعدد بار کہا کہ یہ بحران چند ہفتوں کے اندر ختم ہو سکتا ہے۔

    تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کس مرحلے میں ہیں اور دونوں فریق حتمی معاہدے تک پہنچنے کے کتنے قریب ہیں۔

  2. خطے کے پانچ ممالک نے نیتن یاہو پر دباؤ ڈالنے کی درخواست کی: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کو روکنے کے لیے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اپنی کوششوں کے حوالے سے امریکی خبر رساں ادارے اور ویب سائٹ ایگزیوس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ ’مشرقِ وسطیٰ کے پانچ مختلف ممالک نے ان سے رابطہ کیا اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو پر ایران کے خلاف حملے روکنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی درخواست کی۔‘

    ایگزیوس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے گفتگو کے دوران کہا کہ ’یہ ممالک شدید تشویش میں مبتلا تھے۔ وہ اس معاہدے کو پسند کرتے ہیں اور اس کے حامی ہیں کہ جس پر ہم مذاکرات کر رہے ہیں۔‘

    ایگزیوس اور اسرائیل کے چینل 12 کے مطابق ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’سوموار کی صبح ان کی انتظامیہ کو ایران کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے جن میں تہران نے حملے روکنے کے لیے آمادگی ظاہر کی، بشرطیکہ اسرائیل بھی اپنی کارروائیاں بند کر دے۔‘

    ٹرمپ کے بقول ’انھوں (ایران) نے ہم سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ مزید حملے نہیں کریں گے اور ہم سے درخواست کی کہ اسرائیل کو بھی مزید حملے نہ کرنے کا کہا جائے۔‘

    یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران بارہا ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع مزید شدت اختیار کرنے سے روکنے کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ حملوں کے تبادلے کے بعد فریقین کو سفارت کاری کی راہ پر واپس آنا چاہیے تاکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان زیرِ مذاکرات معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔

  3. تہران کے امام خمینی ایئرپورٹ پر حالیہ کشیدگی کے بعد پہلی پرواز کی آمد

    ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کے بین الاقوامی امام خمینی ایئرپورٹ کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے اور سعودی عرب سے حجاج کرام کو واپس وطن لے کر آنے والی پہلی پرواز نے منگل نو جون کی علی الصبح ایئرپورٹ پر لینڈ کیا۔

    اتوار کی شب ایران کے اسرائیل پر میزائل حملے اور اس کے بعد اسرائیل کی جانب سے ایران کے متعدد شہروں پر فضائی اور میزائل حملوں کے بعد تہران کے امام خمینی ایئرپورٹ سے آنے اور جانے والی تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی تھیں۔

    امام خمینی ایئرپورٹ کے آپریشنز کے نائب ڈائریکٹر جواد صالحی نے سوموار کے روز پروازوں کی بحالی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ حجاج کرام کو لے کر آنے والی پہلی پرواز امام خمینی ایئرپورٹ پر اتر چکی ہے۔

  4. ہم اگلے دو ہفتوں میں ایران پر ’مکمل فتح‘ کا اعلان کر سکتے ہیں: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیش گوئی کی ہے کہ امریکہ اگلے دو ہفتوں کے اندر ایران پر ’مکمل فتح‘ کا اعلان کر سکتا ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار ’ہمیں سب کچھ دینے کے لیے تیار ہیں۔‘

    امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس کے مطابق صدر ٹرمپ نے پیر کی شام جنوبی کیرولینا سے ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم اور ریاست کی گورنری کی امیدوار پامیلا اوٹ کی حمایت میں ایک ٹیلی فون ریلی میں کہا کہ ’آپ واقعی اگلے دو ہفتوں میں ایک فتح دیکھنے جا رہے ہیں، جب ہم مکمل فتح کا اعلان کریں گے۔ یہ ایک مکمل فتح ہونے والی ہے، یہ بہت جلد ہونے والی ہے، اور تیل کی قیمت ڈرامائی طور پر گرنے والی ہے۔‘

    امریکی صدر نے حالیہ مہینوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے فوری خاتمے کے بارے میں بارہا ایسی ہی پیشین گوئیاں کی ہیں۔ فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے وہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ بحران ہفتوں میں ختم ہو سکتا ہے۔

    تاہم، یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کس مرحلے پر ہیں اور دونوں فریق کسی حتمی معاہدے کے کتنے قریب ہیں۔

    ٹرمپ کے نئے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حالیہ دنوں میں مذاکرات میں پیش رفت کے متضاد اشارے ملے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ایران، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے درمیان فوجی تناؤ بھی جاری ہے۔

  5. اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور نازک, لز ڈوسٹ، چیف بین الاقوامی نامہ نگار

    اسرائیل اور ایران دونوں کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال فائر بندی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ زندگی اب اس مختصر کشیدگی سے پہلے والی حالت میں واپس آ جائے گی۔

    ایران نے اعلان کیا کہ پروازیں دوبارہ شروع کی جائیں گی۔ اسرائیل نے کہا کہ سکول دوبارہ کھل سکتے ہیں اور لوگ کام پر واپس جا سکتے ہیں۔

    تاہم یہ بھی واضح ہے کہ یہ نازک جنگ بندی دوبارہ ٹوٹ سکتی ہے۔ دونوں فریق ایک نئے ’مساواتی فارمولے‘ کا ذکر کر رہے ہیں، یہ تہران کے اس موقف کی طرف اشارہ ہے کہ یہ جنگ بندی، جو اپریل کے اوائل میں نافذ ہوئی، اس میں لبنان بھی شامل ہے۔

    ایران کے مرکزی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر لکھا: ’ہم نے کاغذی جنگ بندی اور میدان میں اس کی بار بار خلاف ورزی کے اس فارمولے کو متاثر کیا ہے۔‘

    دوسری جانب وزیرِاعظم نتن یاہو نے اپنے بیانات میں ایران اور اس کے لبنانی اتحادی حزب اللہ پر الزام عائد کیا کہ وہ اسرائیل پر ایک نیا فارمولہ مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کے مطابق یہ ناقابلِ قبول اور ناقابلِ برداشت ہے۔

    لبنان میں جو کچھ ہوتا ہے اس کا براہِ راست اثر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات پر پڑتا ہے، کہا جا رہا تھا کہ ان میں پیش رفت ہو رہی ہے، اگرچہ یہ واضح نہیں تھا کہ وہ کسی معاہدے کے کتنے قریب پہنچ چکے تھے۔

  6. نیتن یاہو جلد ہی ایران کے خلاف ’اکیلے‘ رہ سکتے ہیں: ٹرمپ کی اسرائیلی صدر کو تنبیہ

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نتن یاہو کو خبردار کیا کہ اگر کشیدگی بڑھتی رہی تو وہ جلد ہی ایران کے خلاف اکیلے رہ سکتے ہیں، امریکی صدر نے اسرائیل کے چینل 12 کو ایک انٹرویو میں یہ بات بتائی۔

    اسرائیلی خبر رساں ادارے کے مطابق، نتن یاہو نے اتوار کے روز ایران پر حملہ کرنے کے اپنے حتمی فیصلے کے بارے میں ٹرمپ کو منصوبہ بندی کے بہت آخری مرحلے تک آگاہ نہیں کیا۔

    ٹرمپ نے اتوار کو نتن یاہو سے کہا تھا کہ وہ ایران پر حملہ نہ کریں، یہ حملہ اسرائیل پر لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی کارروائی کے بعد کیے گئے حملوں کے جواب میں کیا جا رہا تھا۔

    چینل 12 کے مطابق یہ گفتگو کسی اتفاقِ رائے کے بغیر ختم ہوئی اور نتن یاہو نے اس معاملے پر اپنے حتمی فیصلے سے ٹرمپ کو آگاہ نہیں کیا۔

    بعد ازاں نتن یاہو نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو مطلع کیا کہ انھوں نے ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    ٹرمپ نے چینل 12 کو بتایا کہ وہ اس حملے کے ’پیمانے کو کم کرنے‘ میں کامیاب رہے۔

    ٹرمپ نے نتن یاہو کو ایران کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کو مکمل جنگ میں تبدیل کرنے سے خبردار کیا اور چینل 12 کو بتایا: ’میں نے بی بی (نیتن یاہو) سے کہا، تمہیں احتیاط برتنی چاہیے کہ تم کیا کرتے ہو، کیونکہ تم بہت جلد ایران کے مقابلے میں اکیلے رہ سکتے ہو۔‘

  7. لبنانی صدر کا ایران پر ان کے ملک کو ’سودے بازی کے مہرے‘ کے طور پر استعمال کرنے کا الزام

    لبنان کے صدر جوزف عون نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان کے ملک کو امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات میں بطور سودے بازی کے ایک مہرے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

    سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عون نے ایران کے پاسدانِ انقلاب کا حوالہ دیا، جو حزب اللہ کے اہم حامی ہیں، اور کہا ’یہ آپ کا ملک نہیں ہے، یہ ہمارا ملک ہے۔‘

    انھوں نے کہا ’(ایران) لبنان کو امریکہ کے ساتھ اپنی مذاکراتی عمل میں ایک سودے بازی کے مہرے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا ’آپ ہماری مدد کرنے کی کوشش نہیں کر رہے۔۔۔ لبنان کے عوام آپ کے مفادات کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔‘

    عون نے کہا کہ وہ اپنے ملک کو تنازع سے بچانے کے لیے ’جو کچھ بھی کرنا پڑا‘ کریں گے اور وہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے لیے ’پرعزم‘ ہیں۔ اسرائیل سے مخاطب ہو کر انھوں نے کہا ’اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو آپ کبھی امن، تحفظ اور سلامتی میں نہیں رہ سکیں گے۔‘

    انھوں نے حزب اللہ کو ختم کرنے کے حوالے سے اسرائیلی فوجی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان سے صرف اسی صورت میں ’نمٹا‘ جا سکتا ہے جب اسرائیل وہاں ے نکل کر لبنانی حکومت کو موقع دے۔

    عون نے اسرائیل کے بارے میں مزید کہا کہ ’وہ پورے ملک پر حملہ کر سکتے ہیں، اسے تباہ کر سکتے ہیں، لیکن وہ کبھی اپنے مقصد حاصل نہیں کر سکیں گے۔‘

    اس انٹرویو کے جواب میں ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کہا کہ اگر لبنان ایران کے لیے واقعی ایک سودے بازی کا مہرہ ہوتا تو ’ہم بہت پہلے کوئی معاہدہ کر چکے ہوتے۔‘

    انھوں نے کہا ’جناب عون کے بیانات کی بنیاد پر یوں لگتا ہے جیسے لبنان کے ایک پانچویں حصے پر ایران نے قبضہ کیا ہو، ایک چوتھائی لبنانیوں کو بے گھر کیا ہو اور روزانہ اس کے ملک پر بمباری کر رہا ہو۔‘

  8. ہم دوسرے فریق پر اعتماد نہیں کرتے: باقر قالیباف

    ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ایک نیا بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے ’حالیہ کشیدگی‘ کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے بحری ناکہ بندی کے ذریعے جنگ بندی کی ’خلاف ورزی‘ کی ہے۔

    قالیباف نے ٹیلیگرام پر لکھا کہ ’ہمارا مقصد جنگ کا خاتمہ کرنا اور دیرپا سکیورٹی قائم کرنا ہے، نہ کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا، اور ہمیں دوسری طرف پر اعتماد نہیں ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ایران اس ناکہ بندی کو امریکہ کے لیے ’ایک اور شکست‘ میں بدل دے گا۔

    یاد رہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر کنٹرول حاصل کرنے اور ان سے ٹول وصول کرنے کی کوشش کے بعد امریکی بحریہ نے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی کوشش کی تھی۔

  9. ن لیگ کے رُکن صوبائی اسمبلی ایوب خان گادھی پر قاتلانہ حملے کے تین نامزد ملزمان ’اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ‘ سے ہلاک: سی سی ڈی, احتشام احمد شامی، صحافی

    صوبہ پنجاب میں سی سی ڈی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے رُکن صوبائی اسمبلی کرنل (ریٹائرڈ) ایوب خان گادھی پر قاتلانہ حملہ میں نامزد تین ملزمان مبینہ پولیس مقابلے کے دوران اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ ملزمان اور پولیس کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں یہ افراد مارے گئے۔ سی سی ڈی کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان میں سہیل افضل گادھی، عمران گادھی اور وہاڑی سے تعلق رکھنے والا غلام شبیر شامل ہیں۔

    سی سی ڈی کے مطابق واقعے میں ایک پولیس اہلکار زخمی بھی ہوا جسے طبی امداد کےلئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے

    پولیس حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان کے چار ساتھی اس دوران فرار ہونے میں کامیاب ہوئے، جن کی گرفتاری کےلیے سرچ آپریشن اور چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ ماہ 10 مئی کو ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاقے چک 184 گ ب میں مسلح حملہ آوروں نے رُکن صوبائی اسمبلی کرنل ریٹائرڈ ایوب گادھی کے ڈیرے پر اندھا دھند فائرنگ کر دی تھی جس کے نتیجے میں ان کے وہاں موجود چار افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ ایم پی اے ایوب گادھی سمیت تین افراد زخمی ہوئے تھے۔

    ایوب گادھی اس حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے جنھیں ابتدائی طبی امداد کے بعد لاہور کے سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا تھا۔

    اس واقعہ کے بعد ٹوبہ ٹیک سنگھ کے تھانہ رجانہ میں پولیس نے نو ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ مقدمے میں چھ ملزمان نامزد اور تین ملزمان نامعلوم ظاہر کیے گئے تھے۔ نامزد ملزمان میں واصف، راشد، سہیل افضل، تصویر افضل، فرمان علی اور عمران علی شامل تھے جبکہ اس مقدمے میں قتل، اقدام قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعہ 7 اے ٹی اے لگائی گئی تھی۔ مقدمے کے مدعی زخمی ہونے والے ایم پی اے کے بھائی سردار محمد مسعود خان ہیں جو خود بھی پنجاب اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان سنگین جرائم میں ملوث خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو کہ قتل ڈکیتی بھتہ خوری، منشیات فروشی جیسے جرائم میں ملوث ہیں۔

    کرنل ریٹائرڈ سردار ایوب خان گادھی اس حلقے سے لگاتار چار مرتبہ ممبر صو بائی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں، گذشتہ دور میں صوبائی وزیر انسداد دہشت گردی کا قلمدان بھی ان کے پاس رہا ہے جبکہ قبل ازیں ان کے چھوٹے بھائی سردار مسعود خان گادھی اور ان کے والد سردار مراد خان گادھی بھی اسی حلقہ سے ایم پی اے منتخب ہو تے رہے ہیں جو کہ صوبائی وزیر اور ضلع کونسل فیصل آباد کے چیئرمین بھی رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ پنجاب میں سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کی مشتبہ حالات میں ’اپنے ہی ساتھیوں‘ کے ہاتھوں ہلاکت کی خبریں آئے روز سامنے آتی رہتی ہیں۔

    رواں سال کے آغاز پر پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کی جانب سے جاری کی گئی ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے مبینہ مقابلوں کی ایک دانستہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے جو بہت سے معاملات میں ماورائے عدالت ہلاکتوں پر منتج ہوتی ہے جو صوبے میں قانون کی حکمرانی اور آئینی تحفظات کو بنیادی طور پر کمزور کرتی ہے۔

    مقامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس کی بنیاد پر، ایچ آر سی پی نے 2025 کے ابتدائی آٹھ ماہ کے عرصے میں کم از کم 670 سی سی ڈی مقابلوں کو دستاویزی شکل دی تھی، ان مبینہ مقابلوں میں سنگین جرائم میں ملوث 924 ملزم ہلاک ہوئے جبکہ اسی مدت میں صرف دو پولیس اہلکار مارے گئے۔

    ایچ آر سی پی کے مطابق ہلاکتوں کا یہ شدید عدم توازن یعنی اوسطاً روزانہ دو سے زیادہ جان لیوا مقابلے اور مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے انداز میں یکسانیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ انفرادی بے ضابطگی کے واقعات نہیں بلکہ ایک ادارتی طرزِ عمل ہے۔

  10. اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے رہائشیوں کو انخلا کی ہدایت جاری کر دی

    اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے رہائشیوں، خصوصاً زیقوق المفدی کے علاقے میں موجود افراد کو ایک ’ہنگامی انتباہ‘ جاری کیا ہے، جس میں انھیں اپنے گھروں کو خالی کرنے اور شمال کی جانب منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    اسرائیلی فوج کے عربی زبان کے ترجمان نے ایکس پر لکھا: ’حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے پیش نظر، فوج اس کے خلاف بھرپور کارروائی کرنے پر مجبور ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا: ’جو کوئی حزب اللہ کے عناصر، ان کی تنصیبات اور ان کے عسکری وسائل کے قریب موجود ہے وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہا ہے!‘

  11. مغربی کنارے میں میزائل حملے سے ہونے والے نقصان کے مناظر

    ہمیں خبر رساں ادارے روئٹرز کی جانب سے تصاویر موصول ہوئی ہیں جن میں اسرائیل کے زیرِ قبضہ مغربی کنارے میں ایک اسرائیلی بستی کی عمارت کو پہنچنے والا نقصان دیکھا جا سکتا ہے۔

    ایران نے اسرائیل کے وسطی اور جنوبی علاقوں کی جانب میزائل داغے تھے، اسرائیل کے مطابق جنھیں روک لیا گیا تھا۔

  12. اسرائیل ’فی الحال‘ ایران پر حملے روک رہا ہے: نیتن یاہو

    ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے بیان میں نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل فی الحال ایران پر حملے روک رہا ہے تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حزب اللہ اور ایران سے لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی۔

    اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ اگر ایران کی جانب سے مزید حملے ہوئے تو ان کی حکومت حقِ دفاع استعمال کرتے ہوئے بھرپور جواب دے گی۔

  13. لبنان میں اسرائیلی فوجیوں کے قریب حملے کی اطلاعات

    آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ایک پروجیکٹائل جنوبی لبنان میں اس علاقے میں گرا جہاں اس کے فوجی کارروائی کر رہے ہیں۔

    فوج نے ٹیلیگرام پر ایک بیان میں کہا کہ اس حملے کے باعث شمالی اسرائیل میں سرحد کے قریب واقع علاقے زرعیت میں سائرن بجائے گئے تاہم کسی زخمی کی اطلاع نہیں ملی۔

  14. تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں، حتمی مقصد حصول کے قریب ہے: شہباز شریف

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امن کے حصول کے لیے تحمل کا مظاہرہ کریں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ’حتمی مقصد حاصل ہونے کے قریب ہو۔‘

    اس سے قبل ایران کی فوج نے کہا تھا کہ وہ اسرائیل پر حملے روک دے گی تاہم اس نے خبردار کیا تھا کہ اگر لبنان پر حملے جاری رہے تو ایران پہلے سے زیادہ سخت جواب دے گا۔ اسرائیلی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل ’ٹرمپ کی درخواست پر‘ ایران پر حملے روک دے گا۔

    ایکس پر ایک پوسٹ میں شہباز شریف نے کہا کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں تشدد میں حالیہ اضافہ اس خطرے کی واضح یاد دہانی ہے جو ایک نازک جنگ بندی سے وابستہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ناقابلِ برداشت نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔‘

    ’جب ہم اپنے بھائیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس تنازع کے پرامن سفارتی حل کے لیے سنجیدگی اور مسلسل کوششوں میں مصروف ہیں اور خاص طور پر ایسے وقت میں جب حتمی مقصد حاصل ہونے کے قریب ہو، تو ہم خلوصِ دل سے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور امن کو ایک اور موقع دینے کی اپیل کرتے ہیں۔‘

    پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ایک اہم ثالث رہا ہے۔

    پاکستان کی ثالثی میں ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان مذاکرات کا ایک دور 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا۔

    اسلام آباد نے اسی ماہ کے آخر میں ایک اور مذاکراتی دور کے لیے تیاری بھی کی تھی تاہم یہ نہیں ہو سکا تھا۔

  15. ایران نے تمام پروازیں منسوخ کر دیں

    ایران ایئرپورٹس اینڈ ایئر نیویگیشن کمپنی نے کہا ہے کہ ایران میں تمام پروازیں تا حکم ثانی منسوخ کر دی گئی ہیں۔

    ایک بیان میں ایرانی سول ایوی ایشن کے ترجمان نے گذشتہ شب اعلان کیا تھا کہ ملک کی فضائی حدود کے مغربی حصے کو بند کر دیا گیا ہے۔

    ایران نے آٹھ اپریل کو ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد اپریل کے اواخر سے کچھ مسافر پروازیں دوبارہ بحال کرنا شروع کی تھیں۔

    28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں ملک نے بڑی حد تک اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں۔

    جنگ کے دوران ایران کے بعض ہوائی اڈوں، جن میں تہران کا مہرآباد ایئرپورٹ بھی شامل ہے، پر حملے کیے گئے تھے۔

  16. یورپی یونین کی آبنائے ہرمز پر ایران کے خلاف نئی پابندیاں

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کا کہنا ہے کہ رکن ممالک نے آبنائے ہرمز میں ’بحری آمد و رفت روکنے کرنے‘ پر ایران کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں۔

    کایا کلاس نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’مشرقِ وسطیٰ امن مذاکرات اور نازک جنگ بندیوں کے مراحل میں الجھا ہوا ہے۔

    ’تہران کے ڈرون اب بھی آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ وزرا نے واضح کیا کہ ایران کے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں۔ اس کے جواب میں آج برسلز میں یورپی یونین کے رکن ممالک نے آبنائے میں بحری آمد و رفت محدود کرنے پر ایرانی شخصیات پر پابندیاں عائد کیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ یورپی یونین نے اس خلل میں ملوث ایرانی افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔

    اے ایف پی کے مطابق ان پابندیوں میں پاسدارانِ انقلاب کی بحری شاخ کے ترجمان محمد اکبرزادہ کو بلیک لسٹ کرنا اور ایران کی آئل ایکسپورٹرز یونین کے نمائندے حمید حسینی کے اثاثے منجمد کرنا اور ویزا پابندی عائد کرنا شامل ہے۔

    کلاس نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب یورپی یونین اپنے نئے ’آزادیِ جہاز رانی‘ سے متعلق پابندیوں کے نظام کا اطلاق کر رہی ہے۔

  17. حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فورسز پر تین میزائل داغے: آئی ڈی ایف

    اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فورسز کو نشانہ بنانے کے لیے ایرانی حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کی جانب سے تین میزائل داغے گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق ’کچھ میزائلوں کو اسرائیلی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک لیا گیا‘ جبکہ ایک اور میزائل ’فورسز کے قریب گرا۔‘ فوج نے مزید کہا کہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    فوج نے کہا کہ اس واقعے کے بعد سائرن بجائے گئے جبکہ فوج کی ہوم فرنٹ کمانڈ نے شمالی اسرائیل کی کئی بستیوں کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات میں جانے کی ہدایت کی۔

    تقریباً چار منٹ بعد جاری کیے گئے ایک اور بیان میں رہائشیوں کو بتایا گیا کہ وہ محفوظ مقامات سے باہر آ سکتے ہیں۔

  18. بریکنگ, اسرائیل ٹرمپ کی درخواست پر ایران کے خلاف کارروائیاں روک دے گا: اسرائیلی میڈیا

    اسرائیل کے چینل 12 نیوز کے مطابق اسرائیل ’ٹرمپ کی درخواست پر‘ ایران کے خلاف کارروائیاں روک دے گا۔ یہ دعویٰ ایک سینیئر اسرائیلی عہدیدار کی جانب سے کیا گیا ہے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر حزب اللہ اسرائیل پر حملے جاری رکھتی ہے تو جنوبی لبنان میں بھی اسرائیلی حملے جاری رہیں گے۔

    اسرائیلی اور امریکی میڈیا میں آج ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ایک ٹیلیفونک رابطے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں تاہم اس بات چیت کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

  19. ایران اور اسرائیل کے ایک دوسرے پر حملے: اب تک کیا ہوا؟

    ایران کی اعلیٰ عسکری کمان خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر نے اسرائیل کے خلاف کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا ہے۔

    تاہم اس نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیلی حملے ’بشمول جنوبی لبنان میں‘ جاری رہے تو ایران ’پہلے سے زیادہ شدید اور طاقتور‘ جواب دے گا۔

    آئیے گذشتہ ایک روز کی اہم پیش رفت پر نظر ڈالتے ہیں۔

    اسرائیل اور ایران نے گذشتہ رات اور آج حملوں کا تبادلہ کیا۔ ایران نے اتوار کو لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں فوجی کارروائیوں کا اعلان کیا۔

    حزب اللہ نے آج صبح کہا کہ اس نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں کے ایک گروپ پر راکٹ داغے جہاں اسرائیلی دفاعی افواج ایسے زمینی آپریشن کر رہی ہیں جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد حزب اللہ کو شمالی اسرائیل پر راکٹ داغنے سے روکنا ہے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شمالی اسرائیل میں ایک پیٹروکیمیکل پلانٹ پر میزائل حملہ کیا۔ یہ دعویٰ اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ایران کی ایک پیٹروکیمیکل تنصیب پر ’متعدد اہداف‘ کو نشانہ بنایا ہے۔

    آئی ڈی ایف نے یہ بھی کہا کہ اس نے ایران میں میزائل تیار کرنے والی تنصیبات پر حملے کیے جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اس نے اسرائیل میں دو فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جارحیت کی ذمہ داری امریکہ پر بھی عائد ہوتی ہے اور کشیدگی میں اضافے کے نتائج ’امریکہ پر بھی پڑیں گے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ’پیغامات کا تبادلہ بند نہیں ہوا‘۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ آیا یہ تبادلہ گذشتہ روز سے جاری ہے یا نہیں۔

    آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور ایران ’فوری جنگ بندی‘ چاہتے ہیں اور معاملات کو تیزی سے آگے بڑھنا چاہیے۔ اس سے پہلے وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران اور اسرائیل کو فوری طور پر حملے بند کر دینے چاہییں۔

  20. ایران نے میدان چھوڑا نہ مذاکرات کی میز: مسعود پزشکیان

    ایران کے صدر کا کہنا ہے کہ ملک نے ’نہ میدان چھوڑا ہے اور نہ ہی مذاکرات کی میز۔‘

    مسعود پزشکیان نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ملک کی ترجیح ’قومی سلامتی اور عوام کا امن‘ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ’کسی بھی خطرے کے سامنے پسپائی اختیار نہیں کرے گا۔‘

    یہ بیان ایران کی اعلیٰ عسکری کمان خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کی جانب سے اپنی ’مسلح افواج کی کارروائیوں‘ کے خاتمے کے اعلان کے بعد سامنے آیا۔

    عسکری کمان نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر حملے جاری رہے تو ایران ’پہلے سے زیادہ شدید اور طاقتور‘ جواب دے گا۔