باجوڑ میں چیک پوسٹ پر بارود سے بھری گاڑی سے حملہ، ’دس اہلکار ہلاک‘: پولیس

پولیس حکام کے مطابق اس حملے میں ایک پولیس اہلکار سمیت دس ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ تاہم پاکستان کی فوج کی جانب سے ابھی تک اس واقعے اور ہلاکتوں سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ضلع باجوڑ کے ماموند کے علاقے ملنگی میں ایف سی چیک پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

خلاصہ

  • امن بورڈ کے رُکن ممالک نے غزہ استحکام فورس کے لیے ’ہزاروں اہلکار‘ فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے: صدر ٹرمپ کا دعویٰ
  • ایران کے ساتھ کوئی نتیجہ خیز معاہدہ نہیں ہوا، لیکن ہم کوشش کر رہے ہیں: امریکہ
  • ایران پابندیاں ہٹانے کے بدلے امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات میں سمجھوتے پر غور کرنے کو تیار ہے: ایرانی نائب وزیرِ خارجہ
  • اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم عمران خان کا طبی معائنہ مکمل، رپورٹ حکومت کو پیش کی جائے گی: حکام
  • عمران خان کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ہم حکومت کو مجبور کریں گے کہ وہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرے: اسد قیصر

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, عمران خان کی ان کی بیٹوں سے 20 منٹ بات ہوئی ہے: علیمہ خان کی تصدیق

    علیمہ خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے تصدیق کی ہے کہ عمران خان کی ان کی بیٹوں سے بات ہوئی ہے اور وہ اب عمران خان کا فوری علاج شروع کیے جانے کی منتظر ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ ’ہم تصدیق کر سکتے ہیں کہ وہ تقریبا 20 منٹ تک ان سے بات کر سکے۔ اس کے بیٹوں نے بتایا کہ وہ اتنے عرصے بعد ان کی آوازیں سن کر بے حد خوش ہوئے۔‘

    علیمہ خان نے تفصیلی پوسٹ میں لکھا کہ ’ہم اب ان کے فوری طبی علاج کے منتظر ہیں، جو اسلام آباد میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ان کے ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہو، جہاں ماہر ڈاکٹروں کو ان کی بینائی بحال کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔‘

    عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ ’بروقت علاج فراہم کرنے میں جان بوجھ کر تاخیر نے اس کی بینائی کو نقصان پہنچایا ہے۔ ہم مزید تاخیر برداشت نہیں کر سکتے اور نہ ہی کریں گے، اور فوری ماہر علاج کسی بھی مستقل بینائی کے نقصان کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔‘

    واضح رہے کہ اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی جانب سے علاج کے باوجود دائیں آنکھ میں صرف 15 فیصد بینائی رہ جانے کی شکایت کے بعد سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دے رکھا ہے کہ وہ ماہر ڈاکٹروں کی موجودگی میں 16 فروری سے پہلے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کروائیں۔

  2. عمران خان کی صحت پر سابق کرکٹرز اور فنکاروں کو تشویش

    سابق کرکٹرز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی سیاست جماعت تحریکِ انصاف نے رہنما عمران خان کی صحت پر سیاسی رہنماؤں کے علاوہ سابق کرکٹرز اور اداکاروں نے بھی نے بھی تشویش جا اظہار کیا ہے۔

    پاکستان کے سابق فاسٹ بولر وسیم اکرم نے سول میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا ہے کہ ’ یہ دل دکھا دینے والی بات ہے ہمارےکپتان عمران خان صحت کے مسائل سے گزر رہے ہیں۔ میں مخلصانہ امید کرتا ہوں کہ حکام اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور یقینی بنائیں کہ انھیں بہترین طبی سہولیات ملیں۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’ان کے لیے ہمت، جلد صحت یابی اور مکمل صحت کی دعا کرتا ہوں۔ ‘

    اس سے پہلے سابق بولر شعیب اختر نے لکھا ’ گزشتہ تین ماہ سے میں امریکہ میں عمران خان کے شوکت خانم کینسر ہسپتال کے لیے فنڈز جمع کر رہا ہوں۔ مجھے یہ سن کر بہت افسوس ہوا کہ اس کی آنکھ کی بینائی ختم ہو گئی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ اسے بہترین علاج ملے اور میں اسے جلد صحت یابی کی دعا دیتا ہوں۔‘

    یاد رہے کہ اس سے پہلے سابق انڈین کھلاڑیوں نے بھی عمران خان کی صحت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا تھا۔

    سابق انڈین آل راؤنڈر اجے جدیجہ نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’عمران خان کو جیل میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور پورا پاکستان اپنی فوج اور حکمران جماعت کے خوف کی وجہ سے خاموش ہے۔‘

    اس کے بعد انھوں نے ایک پوسٹ یہ بپی کی کہ ’ میں نے بہت سے انڈینز کو عمران خان کی حمایت کرتے دیکھا ہے، لیکن پاکستانی کرکٹرز جنہوں نے ان کے ساتھ کھیلا اور موجودہ پاکستانی کرکٹر جب انھیں ان کی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے تو خاموش رہتے ہیں۔ یہ موجودہ حکمران جماعت اور پاکستانی فوج کے خوف کو ظاہر کرتا ہے جو ملک کو خود چلا رہی ہیں۔‘

    ان کی اس پوسٹ کے بعد آج پاکستانی کھلاڑیوں کی جانب سے پوٹس دیکھنے کو ملیں۔

    پاکستانی اداکار اور گلوکار خالد انعم نے ایک طویل پوسٹ میں لکھا کہ ’عمران خان کو اس وقت قیدی کے سب سے بنیادی حقوق، خاص طور پر مناسب طبی دیکھ بھال کا حق، سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ تشویشناک تشویش ان کی بینائی کی خرابی ہے، مبینہ طور پر ناکافی طبی امداد کی وجہ سے دائیں آنکھ کی 85فیصد بینائی کھو بیٹھی۔ سیاسی اختلافات فطری ہیں۔ لوگ ان کے ماضی کے فیصلوں، حکمت عملیوں یا حکمرانی سے اختلاف کر سکتے ہیں۔ تاہم، سیاست سے آگے ایک بنیادی اصول ہے: انسانیت۔‘

    انھوں نے لکھا ’نظریے سے قطع نظر، ہر فرد کو عزت کے ساتھ سلوک ملنا چاہیے اور حراست میں بنیادی طبی سہولیات فراہم کی جانی چاہیں‘۔

  3. پاکستان بار کونسل کا عمران خان کی صحت پر تشویش کا اظہار، بڑے شہروں میں پی ٹی آئی کا احتجاج

    پی ٹی آئی

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان بار کونسل کے نائب چیئرمین پیر محمد مسعود چشتی اور پاکستان بار کونسل کے ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین جناب منیر احمد ملک نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی صحت پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    بار کی جانب سے جاری بیان کے مطابق عمران خان کی صحت کی خرابی ’حکومت کی خاص طور پر جیل سپرنٹنڈنٹ کی بے عملی کی وجہ ہے جنہوں نے نہ تو متعلقہ حکام اور نہ ہی سابق وزیر اعظم کے اہل خانہ سے بات کی۔‘

    انھوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے طبی معائنے کے لیے فوری کارروائی کی جائے اور ان کی آنکھ کے مسئلے کا معائنہ ان کی اپنی پسند کے بہترین ڈاکٹروں سے کیا جائے۔‘

    پاکستان بار کونسل کے عہدیداروں نے اپیل کی کہ ’عمران خان کو سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایات کے مطابق بہترین ممکنہ طبی علاج فراہم کیا جائے۔‘

    واضح رہے کہ اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی جانب سے علاج کے باوجود دائیں آنکھ میں صرف 15 فیصد بینائی رہ جانے کی شکایت کے بعد سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دے رکھا ہے کہ وہ ماہر ڈاکٹروں کی موجودگی میں 16 فروری سے پہلے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کروائیں۔

    اسی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف نے آج ملک کے متعدد شہروں میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ ’ایکس‘ پر پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ سے متعدد شہروں میں سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے لیے اس احتجاج کی کال دی گئی۔

    اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں فیض آباد کے مقام پر پی ٹی آئی کارکنوں کو جمع ہونے کا پیغام دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب آج کراچی میں شام سات بجے ملینیئم مال گلستان جوہر میں عمران خان کی صحت کے لیے یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا۔

    پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ کے مطابق آج لاہور کے مال روڈ پر جی پی او چوک پر بھی احتجاج کیا جائے گا۔

    ادھر پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری اکرام کھتانہ نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیر اللہ خان کو بتایا کہ اس وقت خیبر پختونخوا میں دو مقامات پر احتجاج جاری ہے جن میں موٹروے ایم ون پر صوابی کے مقام پر اور دوسرا ڈیرہ اسماعیل کے مقام پر خیبرپختونخوا کو پنجاب سے ملانے والے راستے پر بھکر پل کے پاس جاری ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ اب ہزارہ موٹروے پر بھی لوگ احتجاج کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

  4. ایران میں خونریزی کو ختم کرنے کا وقت آگیا ہے: رضا شاہ پہلوی

    رضا شاہ پہلوی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے رضا شاہ پہلوی نے میونخ سیکورٹی کانفرنس میں اپنی پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’بیرون ملک ایرانیوں نے ایران کے اندر موجود لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ وہ جمہوری ممالک کے رہنماؤں کو ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا واضح پیغام دے رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کیا دنیا ایرانی عوام کے ساتھ کھڑی ہوگی یا ایسی حکومت کو خوش کرے گی جس نے 40,000 افراد کو ہلاک کیا ہے؟‘

    شہزادہ رضا پہلوی نے مزید کہا کہ ’میرا ملک آج کی جنگی اصلاحات اور انقلاب کے درمیان نہیں ہے، یہ آزادی اور قبضے کے درمیان ہے۔‘

    انھوں نے کہا ’ایرانی حکومت اپنی قانونی حیثیت کھو چکی ہے۔ حکومت انٹرنیٹ بند کر رہی ہے اور اپنے ہتھیار لوگوں کے لیے کھول رہی ہے۔‘

    مسٹر پہلوی نے پھر کہا ’تبدیلی آ رہی ہے۔‘

    ’میں ایران کے خلاف ٹرگر میکانزم کو فعال کرنے پر فرانس، جرمنی اور برطانیہ کی تعریف کرتا ہوں۔ میں یورپی یونین کی ان پابندیوں کی تعریف کرتا ہوں جو اس نے مظاہرین پر جبر کے لیے لگائی ہیں۔‘

    شہزادہ رضا پہلوی نے الزام عائد کیا کہ ’یہ حکومت اپنے ہی شہریوں کو نشانہ بناتی ہے۔ یہ دوسرے ممالک کے شہریوں کو بھی نشانہ بناتی ہے، اس نے دنیا کے مختلف شہروں میں بم دھماکے کیے ہیں۔ ان کے اقدامات کی کوئی سرحد نہیں معلوم۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اب ہمیں جس چیز کی ضرورت ہے وہ ایرانی عوام کے ساتھ آپ کی یکجہتی ہے جو آزاد ہونا چاہتے ہیں۔‘

    شہزادہ رضا پہلوی نے ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ جاری رکھنے، انٹرنیٹ کی بندش کا مقابلہ کرنے میں مدد اور تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی پر زور دیا۔

    شہزادہ رضا پہلوی نے کہا کہ ایران میں خونریزی کو ختم کرنے کا وقت آگیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایس ایس کا ایرانی ورژن ہے اور اسے ختم ہونا چاہیے۔ ایس ایس نازی جرمنی میں ایک خوفناک فوجی اور سکیورٹی تنظیم تھی۔

    اس سوال کے جواب میں کہ خود رضا شاہ پہلوی ان کے گروپ کی فنڈنگ ​​کہاں سے آتی ہے، رضا پہلوی نے کہا ’مالی عطیات نجی اور ایرانیوں کی طرف سے آتے ہیں جو مدد کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ انھیں اب تک کسی حکومت سے کوئی رقم نہیں ملی۔

  5. رضا شاہ پہلوی کی کال پر بیرونِ ملک مقیم ایرانیوں کا احتجاج

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آج دیگر ممالک میں مقیم ایرانی شہری رضا پہلوی کی دعوت پر دنیا کے مختلف شہروں میں ایران میں موجود مظاہرین کی حمایت میں ریلیاں نکال رہے ہیں اور غیر ملکی حکومتوں سے ایرانی حکومت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    رضا شاہ پہلوی نے ایران کے اپنے حامیوں اور مخالفین سے سڑکوں پر آنے کی اپیل کی ہے تاکہ ’بین الاقوامی برادری کو ایرانی قوم کی حمایت میں عملی اور فوری اقدام کرنے پر مجبور کیا جائے۔‘

    انھوں نے آج کی ریلیوں کے لیے چھ مطالبات کا بھی اعلان کیا، جن میں ’تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی‘ اور ’ایران کی جمہوریت کی طرف منتقلی کے لیے قانونی عبوری حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے آمادگی‘ شامل ہیں۔

    مرکزی اجتماعات میونخ، لاس اینجلس اور ٹورنٹو میں ہو رہے ہیں لیکن دنیا کے دیگر شہروں میں بھی مارچ اور ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔ پہلی ریلی اور مارچ آج سڈنی میں منعقد ہوا جس میں آسٹریلیا میں مقیم ہزاروں ایرانیوں نے شرکت کی۔

    شہر میں رضا پہلوی کی موجودگی کے ساتھ ہی میونخ میں سب سے بڑا اجتماع متوقع ہے۔

    رضا پہلوی نے میونخ میں تقریر کے دوران جرمن چانسلر کے ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے خاتمے کے قریب ہے اور وعدہ کیا کہ ’تبدیلی آنے والی ہے۔‘

    شہزادہ رضا پہلوی نے اپنی تقریر میں عالمی برادری سے کئی مطالبات اٹھائے جن کا اعلان پہلے عالمی یومِ عمل کی ریلیوں کے مطالبات کے طور پر کیا گیا تھا۔

    ان مطالبات میں شامل ہیں:

    • ایرانی حکومت کی جبر کو توڑنا اور ایرانی عوام کی حفاظت کرنا
    • ایرانی حکومت کے مالی وسائل کی مکمل کٹوتی
    • ایرانی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنا اور مجرموں پر مقدمہ چلانا۔
    • ایران کی جمہوریت کی طرف منتقلی کے لیے قانونی عبوری حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے آمادگی
  6. سولر صارفین کے بلنگ طریقہ کار میں تبدیلی پر احتجاج کے بعد نیپرا میں نظرثانی درخواست, سارہ حسن، صحافی

    سولر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں پاور ڈویژن نے سولر صارفین کے لیے قوائد و ضوابط اور بلنگ کے طریقہ کار میں تبدیلی پر احتجاج کے بعد نیپرا میں نظرثانی درخواست دائر کی ہے۔

    9 فروری 2026 کو (نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی) نیپرا نے نئے قوائد جاری کیے تھے جس کے تحت سولر استعمال کرنے والے صارفین کے نیٹ میٹرنگ کے لائننس کو نیٹ بلنگ میں تبدیل کر دیا گیا تھا جبکہ نئے صارفین کے لیے معاہدے کی مدت سات سال سے کم کر کے پانچ سال کر دی گئی تھی۔

    پاکستان میں سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کو نیٹ بلنگ سے تبدیل کرنے پر صارفین، اراکینِ پارلیمنٹ سمیت مختلف حلقوں نے بھرپور احتجاج کیا تھا جس کے بعد وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے نوٹس لیا اور پاور ڈویژن کو ہدایت کی کہ وہ بجلی کے شعبے کے نگران ادارے نیپرا میں نظرِثانی درخواست دائر کریں۔

    وزیرِاعظم نے پاور ڈویژن کو ہدایت دی ہے کہ موجودہ سولر صارفین کے معاہدوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔

    پاور ڈویژن نے نیپرا سے درخواست کی ہے کہ وہ 9 فروری کو جاری کی گئی ریگولیشنز پر دوبارہ غور کرے اور نیٹ میٹرنگ لائسنس رکھنے والے صارفین پر نئے قوائد کو نافذ العمل نہ کرے۔ البتہ نئے صارفین کے لیے پروزیومر ریگولیشنز 2026 کے تحت مقرر کردہ فریم ورک اور طریقہ کار لاگو ہو گا۔

    پاور ڈویژن نے نیپرا سے درخواست کی ہے کہ نظرثانی اپیل پر حتمی فیصلے تک ڈسٹریبیوشن کمپنیاں سابق نیٹ میٹرنگ نظام کے تحت کام جاری رکیں۔

    پاکستان میں سولراستعمال کرنے والے صارفین کی تعداد چار لاکھ 66 ہزار ہے تاہم پاور ڈویژن کا مؤقف ہے کہ موجودہ نیٹ میٹرنگ نظام کے باعث بجلی استعمال کرنے والے دیگر صارفین کو 3 روپے 50 پیسے فی یونٹ اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے جبکہ تیزی سے بڑھتی سولرائیزیشن قومی گرڈ سسٹم کے لیے مستقل خطرہ بھی بن سکتی ہے۔

    وزیراعظم نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ سولر صارفین کا مالی بوجھ گرڈ کی بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر منتقل ہونے سے روکنے کے لیے جامع طریقہ کار تشکیل دیں۔

  7. ’عمران خان کی صحت کے لیے یکجہتی کا اظہار‘: پی ٹی آئی کی متعدد شہروں میں احتجاج کی کال

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف نے آج ملک کے متعدد شہروں میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

    ’ایکس‘ پر پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ سے متعدد شہروں میں سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے لیے اس احتجاج کی کال دی گئی۔

    واضح رہے کہ اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی جانب سے علاج کے باوجود دائیں آنکھ میں صرف 15 فیصد بینائی رہ جانے کی شکایت کے بعد سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دے رکھا ہے کہ وہ ماہر ڈاکٹروں کی موجودگی میں 16 فروری سے پہلے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کروائیں۔

    پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ کے مطابق آج اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں فیض آباد کے مقام پر دن دو بجے پی ٹی آئی کارکنوں کو جمع ہونے کا پیغام دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب آج کراچی میں شام سات بجے ملینیئم مال گلستان جوہر میں عمران خان کی صحت کے لیے یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا۔

    پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ کے مطابق آج لاہور کے مال روڈ پر جی پی او چوک پر بھی احتجاج کیا جائے گا۔

    ادھر پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری اکرام کھتانہ نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیر اللہ خان کو بتایا کہ اس وقت خیبر پختونخوا میں دو مقامات پر احتجاج جاری ہے جن میں موٹروے ایم ون پر صوابی کے مقام پر اور دوسرا ڈیرہ اسماعیل کے مقام پر خیبرپختونخوا کو پنجاب سے ملانے والے راستے پر بھکر پل کے پاس جاری ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ اب ہزارہ موٹروے پر بھی لوگ احتجاج کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  8. ’امریکی فوج ایران کے خلاف ہفتوں طویل کارروائی کی تیاری کر رہی ہے‘

    US NAVY

    ،تصویر کا ذریعہUS NAVY

    امریکہ کے دو سرکاری اہلکاروں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے کی صورت میں امریکی فوج ہفتوں تک جاری رہنے والی کارروائیوں کے امکان کے تحت تیاری کر رہی ہے۔

    روئٹرز کے مطابق دونوں اہلکاروں نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر بات کی۔

    جب وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی سے ممکنہ فوجی آپریشن کی تیاریوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’صدر ٹرمپ کے پاس ایران کے حوالے سے تمام آپشنز موجود ہیں۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’وہ (ٹرمپ) کسی بھی مسئلے پر مختلف نقطہ نظر کو سنتے ہیں لیکن حتمی فیصلہ اس بنیاد پر کرتے ہیں جو ہمارے ملک اور قومی سلامتی کے لیے بہتر ہو۔‘

    پینٹاگون نے اس حوالے سے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

    واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے امریکہ اور ایران نے عمان کے دارالحکومت مسقط میں نئے مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔

    حالیہ ہفتوں میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہوا کیونکہ امریکی فوجی دستے مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کیے جا رہے ہیں اور دونوں اطراف سے ہونے والی بیان بازی بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔

  9. ’عمران خان کی صحت میرے لیے سیاست سے بڑھ کر ہے‘: وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وہ عمران خان کی صحت پر کسی کو سیاست نہیں کرنے دیں گے کیونکہ عمران خان کی صحت ان کے لیے سیاست سے بڑھ کر ہے۔

    سوشل میڈیا سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کوئی معمولی شخص نہیں۔

    ’اُن کی صحت کے ساتھ مذاق کیا گیا، جو ناقابل معافی ہے۔ اب اس وقت اُن کا بہترین علاج ہماری اولین ترجیح ہے۔ کوئی ہرگز یہ نہ سوچے کہ میں عمران خان کے علاج تک آرام سے بیٹھوں گا۔‘

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی جانب سے علاج کے باوجود دائیں آنکھ میں صرف 15 فیصد بینائی رہ جانے کی شکایت کے بعد سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم کا طبی معائنہ کروانے اور اُن کی اپنے بیٹوں سے بات کروانے کا حکم دیا۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے وفاقی حکومت کو حکم دیا گیا کہ ماہر ڈاکٹروں کی موجودگی میں 16 فروری سے پہلے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کروایا جائے۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کی جانب سے عدالت کی طرف سے مقرر کیے گئے ’فرینڈ آف کورٹ‘ سلمان صفدر کی طرف سے عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کی روشنی میں یہ حکم دیا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. طالبان پر پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کے مینڈیٹ میں توسیع: ’یہ ماضی کے ناکام تجربات کو دہرانا ہے‘، ذبیح اللہ مجاہد کا ردعمل

    ذبیح اللہ مجاہد

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنذبیح اللہ مجاہد کے مطابق اقوام متحدہ کے اس طرح کے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ادارہ اپنے فیصلوں میں خود مختار نہیں

    افغانستان میں طالبان حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس قرارداد کی منظوری پر ردعمل دیا ہے جس کے ذریعے طالبان کے خلاف پابندیوں کی نگرانی کرنے والے گروپ کے مینڈیٹ میں مزید 12 ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے۔

    طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ یہ ایک ’غیر منصفانہ فیصلہ‘ اور ’ماضی کے ناکام تجربات کو دہرانا‘ ہے جس کا کوئی واضح نتیجہ نہیں نکلا۔

    واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے طالبان پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی مدت میں ایک سال کی توسیع کر دی ہے۔

    طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے یہ بھی کہا کہ ’افغانستان میں اب سلامتی اور استحکام ہے جو دنیا اور تمام ممالک کے مفاد میں ہے اور ان کی حکومت تمام فریقوں کے ساتھ اچھے روابط اور اچھے تعلقات کی خواہاں ہے۔‘

    ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق اقوام متحدہ کے اس طرح کے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ ’یہ ادارہ اپنے فیصلوں میں خود مختار نہیں اور ان ممالک کے زیر اثر ہے جنھوں نے افغانستان پر قبضہ کیا اور یہاں جنگ جاری رکھی۔‘

  11. ایران پر جوہری معاہدے کے لیے دباؤ: امریکہ کا مشرق وسطیٰ میں دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کا اعلان

    ’یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ‘

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ ایک دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھی مشرق وسطیٰ بھیج رہا ہے تاکہ ایران پر جوہری معاہدے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ‘ کیریبین سے مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے جہاں وہ پہلے سے موجود امریکی جنگی بیڑے میں شامل ہو گا۔

    واضح رہے کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کے ساتھ گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز خطے میں پہلے سے تعینات ہیں۔

    جمعے کو ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی ’سب سے بہترین چیز ہو گی۔‘

    امریکی صدر نے یہ تو نہیں بتایا کہ وہ کس کو ایران کی قیادت کرتے دیکھنا چاہتے ہیں تاہم انھوں نے یہ ضرور کہا کہ ’ایسے لوگ ہیں‘ جو اقتدار سنبھال سکتے ہیں۔

    ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خمینی نے ابھی تک ٹرمپ کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’وہ 47 سال سے صرف باتیں کر رہے ہیں جبکہ اس دوران ہم نے کئی زندگیاں کھو دیں۔‘

  12. بنگلہ دیش انتخابات میں بی این پی کی کامیابی: ’میں آپ کی محبت کا شکر گزار ہوں‘ طارق رحمان

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے عام انتخابات میں دو تہائی سے زائد نشستیں حاصل کر کے پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کر لی ہے۔

    یہ انتخابات ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئے ہیں، کیونکہ 18 ماہ قبل عوامی احتجاج کے نتیجے میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی وزیرِاعظم شیخ حسینہ کو اقتدار چھوڑنا پڑا تھا۔

    انتخابات کے ساتھ منعقدہ ریفرنڈم میں عوام نے جمہوری اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا۔ جماعتِ اسلامی دوسری بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی، جبکہ عوامی لیگ کو انتخابی عمل میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔

    بی این پی کے سربراہ طارق رحمان، جو لندن میں 17 برس جلاوطنی کے بعد حال ہی میں وطن واپس آئے، پہلی مرتبہ رکنِ پارلیمان منتخب ہوئے ہیں اور اب وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے جا رہے ہیں۔ وہ ڈھاکہ-17 اور بُگرا-6 سے کامیاب ہوئے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹر ٹرن آؤٹ 59 اعشاریہ 44 فیصد رہا۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طارق رحمان نے جمعہ کی نماز کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں آپ کی محبت کا شکر گزار ہوں۔‘

    انھوں نے کارکنوں کو ہدایت دی کہ جشن منانے کے بجائے اپنی والدہ، سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیاء (جو گزشتہ دسمبر میں وفات پا گئیں تھیں) کی یاد میں دعاؤں کا اہتمام کریں۔

    یہ انتخابات کئی حوالوں سے منفرد رہے۔ پہلی بار عوامی لیگ کے بغیر مقابلہ ہوا اور جماعتِ اسلامی نے نمایاں حیثیت حاصل کی۔ جماعت کے اتحاد کو 77 نشستیں ملیں، جن میں 6 نشستیں نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) نے جیتیں، جو سنہ 2024 کے احتجاج سے ابھر کر سامنے آئی تھی۔

    ماہرین کے مطابق طارق رحمان کو معیشت کی بحالی اور جمہوریت کی مضبوطی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ ان کی کامیابی بنگلہ دیشی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز قرار دی جا رہی ہے۔

    GEtty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ان کی باضابطہ طور پر ملک کے نئے رہنما کے طور پر انتخاب اس وقت ہوگا جب نئے ارکانِ پارلیمان حلف اٹھائیں گے، جو کہ سنیچر کے روز متوقع ہے۔

    رحمان کا خاندانی پس منظر کی بات کریں تو ان کے مرحوم والد بھی بنگلہ دیش کے رہنما رہ چکے ہیں، یاد رہے کہ اگرچہ بی این پی نے تبدیلی کا وعدہ کیا ہے لیکن رحمان بھی حسینہ کی طرح ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  13. کراچی سپر ہائی وے پر آئل ٹینکر اور مسافر بس میں تصادم، 13 افراد ہلاک

    Rescue 1122 Sindh

    ،تصویر کا ذریعہc

    کراچی کے قریب سپر ہائی وی پر ٹریفک حادثے میں کم از کم دس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

    ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان الحبیب کا کہنا ہے کہ کاٹھوڑ کے مقام پر ایک تیز رفتار آئل ٹینکر تیز رفتاری کے باعث مسافر بس سے ٹکرا گیا اور ساتھ میں چلنے والی وین پر گر گیا۔

    انھوں نے بتایا کہ مخالف سمت سے آنے والی مسافر بس سے ٹینکر کے ٹکرا جانے کے باعث 13 افراد ہلاک ہوئے جن میں چار بچیاں دو بچے اور دو خواتین شامل ہیں جبکہ چھ افراد شدید زخمی ہیں۔

    حادثے کے بعد آئل ٹینکر سے تیل سڑک پر پھیل گیا اور ایم نائن پر دونوں اطراف میں گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔

    ایدھی حکام کے مطابق سات لاشیں فاطمہ بقائی پلازہ ہسپتال اور دو بچیوں کی لاشوں سمیت متعدد زخمیوں کو ایدھی ایمبولینس کے مدد سے سول ہسپتال ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا ہے۔

    وزیرِ داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے بھی 13 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ ڈی ایچ اے سٹی کے قریب موٹروے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

    وزیر داخلہ سندھ کے مطابق ریسکیو 1122کی ٹیمیں جائے حادثہ پر موجود ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور زخمیوں کو ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ضیاء الحسن لنجار کے مطابق حادثے کے بعد سڑک کو کلیئر کر دیا گیا، ٹریفک کی روانی بحال ہے۔

    Rescue 1122 Sindh

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122 Sindh

  14. وزیرِ اعظم مودی کا بی این پی رہنما طارق رحمان کو ٹیلی فون، انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما طارق رحمان کو ٹیلی فون کر کے اُنھیں انتخابات میں کامیاب پر مبارکباد دی ہے۔

    طارق رحمان کو بنگلہ دیش کا متوقع وزیر اعظم سمجھا جا رہا ہے۔

    ٹیلی فونک رابطے کے بعد اپنے بیان میں انڈین وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’میں نے طارق رحمان کو فون کیا اور اُنھیں بنگلہ دیش کے انتخابات میں شاندار کامیابی پر مبارکباد دی۔‘

    وزیر اعظم مودی کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے ٹیلی فونک گفتگو میں بنگلہ دیش اور انڈیا میں رہنے والوں کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کے عزم کا اعادہ کیا۔

    وزیر اعظم مودی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں اور بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ انڈیا میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔

    انڈیا کا الزام رہا ہے کہ بنگلہ دیش میں ہندو کمیونٹی کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، تاہم بنگلہ دیش کی عبوری حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

  15. بنگلہ دیش عام انتخابات کے بعد گارمنٹس انڈسٹری کی نئی قیادت سے اُمیدیں, سورنجنا تیواری، بی بی سی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا کے کچھ مشہور برانڈز بنگلہ دیش میں اپنے کپڑے بناتے ہیں۔ لیکن امریکی ٹیرف اور سیاسی بدامنی کی وجہ سے مسلسل چھ ماہ کی گرتی ہوئی برآمدات کے بعد یہ صنعت بحران کا شکار ہے۔

    ٹیکسٹائل ملک کی معاشی زندگی ہے، جو جی ڈی پی کا 10 فیصد سے زیادہ ہے اور تقریباً 40 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے جن میں زیادہ تر خواتین ہیں۔

    صنعت کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایک حالیہ امریکی تجارتی معاہدہ کچھ ریلیف اور ممکنہ مواقع فراہم کرتا ہے، لیکن وہ یہ بھی انتباہ کر رہے ہیں کہ اہم تفصیلات پر ابھی بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔

    اس دوران، وہ ملک میں استحکام، اجرت کے فریم ورک کو نافذ کرنے، بینکنگ سیکٹر کو بحال کرنے اور توانائی کے اخراجات کنٹرول کرنے کے لیے نئی حکومت سے امیدیں وابستہ کر رہے ہیں۔

    دونوں بڑی جماعتوں کے سیاست دانوں نے ملبوسات پر معیشت کے بھاری انحصار کو کم کرنے اور دیگر صنعتوں میں تنوع لانے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

  16. بنگلہ دیش کے عام انتخابات: کیا کچھ پہلی مرتبہ ہوا؟, میر صابر، بی بی سی بنگلہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بنگلہ دیش کے عام انتخابات سنہ 2024 کی عوامی بغاوت کے بعد ہر لحاظ سے ایک اہم موقع تھا۔ دو اہم جماعتوں بی این پی اور جماعت اسلامی کے رہنما وزارت عظمیٰ کے اُمیدوار کے طور پر آمنے سامنے تھے۔

    یہ بھی پہلی بار ہے کہ جماعت اسلامی قومی انتخابات میں بڑی دعویدار کے طور پر سامنے آئی ہے۔ یہ بڑی حد تک ممکن ہوا ہے کیونکہ عوامی لیگ، جو کہ ملک کی سب سے بڑی جماعتوں میں سے ایک ہے، پر سیاست پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    عوامی لیگ پہلی مرتبہ کسی قومی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکی۔ سنہ 1991 کے بعد یہ پہلا الیکشن ہے جب بنگلہ دیش میں پارلیمانی جمہوریت کی واپسی ہوئی ہے۔

    یہ پہلا الیکشن تھا جو دو سابق وزرائے اعظم خالدہ ضیا اور شیخ حسینہ کے بغیر ہوا۔

  17. عمران خان کے علاج کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے: وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری

    وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ عمران خان کی بیماری ایک حساس معاملہ ہے، اس پر سیاست کرنا اور حقائق کو توڑ مڑوڑ کر پیش کرنا زیادتی ہو گی۔

    اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے طارق فضل کا کہنا تھا کہ عمران خان کی آنکھ کی تکلیف کا ہر ممکن علاج کیا جائے گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بیماری پر سیاست کرنا مجرمانہ فعل ہو گا۔

    طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر یا شفا ہسپتال سمیت جہاں چاہیں، عمران خان کی آنکھ کا علاج کروایا جائے گا۔

    طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ دو دسمبر کو عمران خان کی بہن نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کی اور اس میں آنکھ میں تکلیف کی کوئی شکایت نہیں کی گئی۔ آنکھ میں تکلیف کی شکایت 16 جنوری کو سامنے آئی جس پر اُنھیں پمز منتقل کیا گیا اور فوری علاج کیا گیا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ جیل میں کسی بھی قیدی کے علاج کی ذمے داری حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

  18. اسلام آباد کی جیل مکمل ہو گی تو عمران خان کو وہاں منتقل کیا جائے گا: وزیرِ داخلہ محسن نقوی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی جیل مکمل ہو گی تو عمران خان کو وہاں منتقل کیا جائے گا۔

    اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ دو ماہ میں اسلام آباد جیل مکمل ہو جائے گی اور یہاں آنکھوں کے علاج سمیت تمام سہولیات دستیاب ہوں گی۔

    اُن کا کہنا تھا کہ عمران خان کو سزا اسلام اباد کی عدالت سے ہوئی ہے اس لیے انھیں اسلام اباد جیل منتقل کیا جائے گا۔

    اس سے قبل پولیس لائن ہیڈ کوارٹر میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس دہشت گردوں سے لڑنے کے لیے جو فورس موجود تھی اس کی ٹریننگ نہیں تھی۔

    اُن کا کہنا تھا کہ جو سہولیات ہم دے رہے ہیں باہر سے آنے والے جوان اور افسران بھی یہاں تربیت حاصل کریں گے۔ موجودہ صورتحال اور دہشت گردی کی لہر سے نمٹنے کے لیے یہ فورس بہت ضروری تھی۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’مجھے بہت امید ہے ان جوانوں سے، دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے کوئی کمی نہیں چھوڑیں گے۔ آئندہ دنوں میں ٹریفک پولیس اور ڈرائیونگ لائسنس میں ریفارمز کریں گے۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی سیکیورٹی کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

  19. بنگلہ دیش عام انتخابات: بی این پی 209 نشستیں لے کر دو تہائی اکثریت سے کامیاب، جماعت اسلامی کی 68 نشستیں

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    الیکشن کمیشن آف بنگلہ دیش کے مطابق عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے 209 جبکہ جماعتِ اسلامی نے 68 نشستیں حاصل کی ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے سیکریٹری اختر احمد نے جمعے کو صحافیوں کو بتایا کہ 297 مجموعی نشستوں میں سے 209 بی این پی جبکہ 68 پر جماعت اسلامی کے اُمیدوار کامیاب ہوئے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق نیشنل سٹیزن پارٹی این سی پی نے چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ خلافت مجلس پارٹی نے دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔

    پانچ جماعتوں اسلامی اندولن، گنا اودھیکار پریشد، بنگلہ دیش جاتیہ پارٹی، گنا سنگھتی آندولن نے ایک ایک سیٹ جیتی۔ سات نشستوں پر آزاد امیدواروں نے بھی کامیابی حاصل کی۔

    سیکریٹری الیکشن کمیشن کے مطابق چٹاگانگ کے دو حلقوں کے نتائج اس وقت تک جاری نہیں کیے جائیں گے جب تک کہ لون کیس میں اپیل ہائی کورٹ میں حل نہیں ہو جاتی۔

    بی این پی کے سرور عالمگیر غیر سرکاری طور پر چٹاگانگ-2 (فٹیک چھڑی) سے اور بی این پی کے اسلم چودھری چٹاگانگ-4 (سیتا کنڈا) کے حلقے پر کامیاب ہوئے ہیں۔

    سیکریٹری الیکشن کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ ریفرنڈم میں چار کروڑ 80 لاکھ افراد نے ہاں میں ووٹ دیا اور 2 کروڑ 25 لاکھ 65 ہزار 627 افراد نے نفی میں ووٹ دیا۔

    چٹاگانگ کے ان دو حلقوں کے ریفرنڈم کے نتائج بھی اس میں شامل کیے گئے ہیں۔

  20. ’ادھر ہم، ادھر تم‘ کا نعرہ میرا نہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو کا تھا: سردار اختر مینگل کی انڈین ٹی وی پر نشر ہونے والی رپورٹ پر وضاحت

    تصویر

    بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے انڈین چینل پر نشر ہونے والی رپورٹ پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُنھوں نے صرف یہ کہا تھا کہ ریاست کے پاس فیصلے کا اختیار ہے جیسا کہ اس نے 1970 میں کیا تھا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’میں نے سوال اُٹھایا تھا کہ بلوچستان کے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ریاست اب بھی یہ اختیار استعمال کر سکتی ہے۔ میں نے اس انٹرویو میں اپنے طور پر کوئی دعوی نہیں کیا تھا۔‘

    سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اگر یہ نظام واضح طور پر کام نہیں کر رہا تو ریاست کے پاس یہ اتھارٹی ہے کہ وہ اپنے ہی کیے ہوئے فیصلے پر دوبارہ نظرثانی کرے، جیسا کے اس نے پہلے کیا تھا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ سنہ 1971 میں ’ادھر ہم، ادھر تم‘ کا نعرہ ذوالفقار علی بھٹو نے ہی لگایا تھا۔ یہ ریاست کی اپنی ہی پالیسیاں ہیں جس کی وجہ سے ایسے سوالات دوبارہ جنم لیتے ہیں۔ بھٹو نے تو یہاں تک کہا تھا کہ اگر کوئی رُکن اسمبلی ڈھاکہ گیا تو میں اس کی ٹانگیں توڑ دُوں گا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔

    اُن کا کہنا تھا اس فورم پر یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ کیا بلوچستان کے مسائل کے سیاسی حل کے لیے ریاست سنجیدہ ہے تو اس پر میرا جواب تھا کہ بالکل نہیں، ریاست اس معاملے میں بالکل سنجیدہ نہیں ہے۔

    خیال رہے کہ اختر مینگل نے چند روز قبل لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں بلوچستان کی صورتحال پر اظہار خیال کیا تھا۔