باجوڑ میں چیک پوسٹ پر بارود سے بھری گاڑی سے حملہ، ’دس اہلکار ہلاک‘: پولیس
پولیس حکام کے مطابق اس حملے میں ایک پولیس اہلکار سمیت دس ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ تاہم پاکستان کی فوج کی جانب سے ابھی تک اس واقعے اور ہلاکتوں سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ضلع باجوڑ کے ماموند کے علاقے ملنگی میں ایف سی چیک پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔
خلاصہ
امن بورڈ کے رُکن ممالک نے غزہ استحکام فورس کے لیے ’ہزاروں اہلکار‘ فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے: صدر ٹرمپ کا دعویٰ
ایران کے ساتھ کوئی نتیجہ خیز معاہدہ نہیں ہوا، لیکن ہم کوشش کر رہے ہیں: امریکہ
ایران پابندیاں ہٹانے کے بدلے امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات میں سمجھوتے پر غور کرنے کو تیار ہے: ایرانی نائب وزیرِ خارجہ
اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم عمران خان کا طبی معائنہ مکمل، رپورٹ حکومت کو پیش کی جائے گی: حکام
عمران خان کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ہم حکومت کو مجبور کریں گے کہ وہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرے: اسد قیصر
لائیو کوریج
یوکرین کے سابق وزیر توانائی ملک سے فرار ہوتے ہوئے گرفتار, ریچل ملر ہائنڈیک، بی بی سی
،تصویر کا ذریعہReuters
حکام کے مطابق یوکرین کے سابق وزیر
توانائی جرمن گالاشوچینکو کو ملک چھوڑنے کی کوشش کے دوران حراست میں لے لیا گیا ہے۔
گذشتہ سال بد عنوانی کے ایک سکینڈل
میں نام آنے کے بعد گالاشوچینکو ان کے عہدے سے ہٹا گیا گیا تھا۔ مبینہ طور پر وہ ایک
ٹرین کے ذریعے یوکرین سے فرار ہو رہے تھے جب گرفتار
کیے گئے۔ یہ واضح
نہیں کہ وہ جانا کہاں چاہتے تھے۔
نومبر میں گالاشوچینکو اور دیگر
سرکاری شخصیات پر 10 کروڑ ڈالرز (ساڑھے سات کروڑ پاؤنڈ) کی مبینہ خردبرد میں ملوث
ہونے کا الزام لگا تھا۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی بد عنوانی
مکمل طور پر ختم کرنے کے وعدے پر اقتدار میں آئے تھے اور اس سکینڈل کی وجہ سے ان
کی حکومت شدید دباؤ میں تھی۔
زیلنسکی کے چیف آف اسٹاف آندرے یرماک
اپنے گھر کی تلاشی کے بعد استعفیٰ دے چکے ہیں۔ صدر زیلنسکی اور آندرے یرماک پر کسی
قسم کی غلط کاری کا الزام عائد نہیں کیا گیا ہے۔
تاہم اس سکینڈل کے بعد امریکہ نے یوکرین
میں انتخابات کرانے کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ سنہ 2022 میں جنگ کے آغاز کے بعد
یوکرین کے آئینی ضوابط کے تحت ملک میں انتخابات معطل کر دیے گئے تھے۔
یوکرین کے انسداد بد عنوانی بیورو (نابو) نے اتوار
کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کے تفتیش کاروں نے سابق وزیر توانائی کو ’ریاستی
سرحد عبور کرتے ہوئے‘ حراست میں لیا ہے۔ نابو کے مطابق یہ گرفتاری میڈاس کیس کا
حصہ ہے۔
نابو کے بیان میں گالاشوچینکو کا نام
واضح طور پر نہیں لیا گیا لیکن یوکرین کے کئی نمایاں میڈیا اداروں نے ان کی شناخت
کی ہے۔
گالاشوچینکو مختصر وقت کے لیے وزیر
انصاف بھی رہ چکے ہیں، پھر نومبر میں صدر زیلنسکی نے انھیں مسعتعفی ہونے کا حکم
دیا تھا۔ اس سے قبل وہ تین سال تک وزیر توانائی رہے۔ ان کی جانشین سویتلانا ہرنچک
نے بھی اسکینڈل میں نام آنے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔
نابو اور یوکرین میں خصوصی انسداد بد
عنوانی پراسیکیوٹرز آفس (ایس اے پی) کے مطابق 15 ماہ کی تحقیقات کے بعد انسداد بد
عنوانی کا ایک بڑا آپریشن کیا گیا، جسے آپریشن میڈاس کا نام دیا گیا۔
نابو اور ایس اے پی نے کئی افراد پر
الزام لگایا کہ انھوں نے یوکرین کے توانائی کے شعبے اور قومی جوہری ادارے انرگوایٹم
سے رقوم کی خردبرد کا منصوبہ بنایا۔
گالاشوچینکو ان افراد میں شامل تھے
جن پر الزام ہے کہ انھوں نے انرگوایٹم کے ٹھیکیداروں سے کمیشن وصول کیا، جو
معاہدوں کی مالیت کے 10 سے 15 فیصد کے برابر تھا۔
انسداد بدعنوانی اداروں نے یہ بھی
کہا کہ اس منصوبے میں بھاری رقوم کی منی لانڈرنگ کی گئی۔ انھوں نے نقدی سے بھرے
بیگوں کی تصاویر بھی جاری کیں۔ نابو کے مطابق یہ رقوم بعد ازاں یوکرین سے باہر روس
اور دیگر ممالک میں منتقل کی گئی۔
اس سے پہلے گالاشوچینکو نے کہا تھا
کہ وہ الزامات کے خلاف اپنا دفاع کریں گے۔
امن بورڈ کے رُکن ممالک نے غزہ استحکام فورس کے لیے ’ہزاروں اہلکار‘ فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے: صدر ٹرمپ کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ
کیا ہے 16 فروری کو واشنگٹن میں ہونے والے غزہ امن بورڈ کے اجلاس میں وہ اعلان کریں گے کہ رُکن ممالک نے غزہ میں انسانی امداد اور تعمیر نو کی کوششوں کے لیے پانچ ارب ڈالر سے زیادہ دینے کا وعدہ کیا ہے جبکہ بین الاقوامی استحکام فورس اور مقامی پولیس کے لیے ہزاروں اہلکار فراہم کرنے کا بھی عہد کیا ہے۔
یہ بات صدر ٹرمپ نے سماجی رابطوں کے
اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کی ہے۔
امن بورڈ امریکی صدر کے اس منصوبے کا
حصہ ہے جو غزہ میں تنازع کے مستقل خاتمے کے لیے انھوں نے پیش کیا ہے۔ پاکستان کے علاوہ مصر، اردن، متحدہ عرب امارات،
انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب او قطر بھی اس ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہیں۔
16 فروری کو واشنگٹن میں ہونے والے امن بورڈ کے اجلاس میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف بھی شریک ہوں گے۔ یہ امن بورڈ غزہ میں ٹیکنوکریٹس پر
مبنی نئی فلسطینی حکومت اور جنگ کے بعد تعمیر نو کی نگرانی کرے گا۔
اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی جانب سے
امن بورڈ کو ایک بین الاقوامی استحکام فورس بنانے کا اختیار حاصل ہے۔ ایسی فورس جو
غزہ کے سرحدی علاقوں کو محفوظ بنائے اور حماس کو غیر مسلح کرنے کے ساتھ ساتھ اس
علاقے کو غیر فوجی بھی بنائے۔
اس امن فورس کے لیے انڈونیشیا غزہ
میں آٹھ ہزار تک کی تعداد میں فوجی تعینات کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔
ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ
امن بورڈ لا محدود صلاحیت رکھتا ہے اور تاریخ میں سب سے زیادہ نتیجہ خیز بین
الاقوامی ادارہ ثابت ہو گا۔
صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ گذشتہ اکتوبر میں امن بورڈ نے غزہ میں مستقل امن کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا، جسے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی متفقہ طور پر منظور کیا۔ اور اس کے فوراً بعد امن بورڈ نے ریکارڈ وقت میں انسانی امداد فراہم کی اور تمام زندہ و ہلاک ہونے والے یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنایا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’اس منصوبے کی ایک اہم شرط یہ ہے کہ حماس فوری اور مکمل غیر عسکریت پسندی کے اپنے وعدے پر قائم رہے۔‘
صدر ٹرمپ نے زور دیا کہ امن بورڈ تاریخ کا سب سے مؤثر بین الاقوامی ادارہ ثابت ہو گا اور بطور چیئرمین اس میں خدمات سرانجام دینا اُن کے لیے اعزاز کی بات ہے۔
ایران کے ساتھ کوئی نتیجہ خیز معاہدہ نہیں ہوا، لیکن ہم کوشش کر رہے ہیں: امریکہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنا ’پیچیدہ‘ ہے لیکن واشنگٹن کوشش کر رہا ہے۔
ایران کے ساتھ گفت و شنید کی پیچیدگی کی وضاحت کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ’ہم بنیاد پرست شیعہ علما کے ساتھ نمٹ رہے ہیں۔ ہم ایسے لوگوں سے نمٹ رہے ہیں جو اپنے جغرافیائی سیاسی فیصلے صرف فقہ اور الہیات کی بنیاد پر کرتے ہیں۔‘
امریکی وزیر خارجہ نے سلواکیہ کے دارالحکومت براٹیسلاوا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن ایک نتیجہ خیز سمجھوتے تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ابھی تک کوئی بھی ایران کے ساتھ کامیاب معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوسکا، لیکن ہم کوشش کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں سٹیو وٹیکر اور جیرڈ کشنر ابھی ایران سے متعلق اہم اجلاسوں میں حصہ لیے کے جا رہے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ کیسے ہوتا ہے۔ سٹیو وٹیکر اور جیرڈ کشنر جنیوا میں منگل کو ہونے والے مذاکرات میں امریکی مذاکرات کار ہیں۔
،تصویر کا ذریعہ@s_a_araghchi
ایران کے خلاف سخت پابندیاں لگانے کی تجویز دہشت گردی کی ایک مثال ہے: اسماعیل بقائی
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی ایوان نمائندگان کی ڈیموکریٹک رکن نینسی پلوسی کی جانب سے ایران کی معیشت کو ’مفلوج‘ کرنے کے لیے سخت پابندیاں عائد کرنے کی تجویز پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’انسانیت کے خلاف جرم‘ قرار دیا ہے۔
اسماعیل بقائی نے سنیچر کے روز ایکس پر انگریزی زبان کی ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’سیاسی لیور کے طور پر شہریوں کو جان بوجھ کر دکھ اور تکلیف پہنچانا۔۔ دہشت گردی کی ایک مثال ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
نینسی پیلوسی نے جمعے (13 فروری) کو پولیٹیکو کے زیر اہتمام پینل مباحثے میں کہا کہ وہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کی مخالفت کرتی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’صرف ان کی معیشت کو کمزور کریں۔۔۔ کیونکہ انھیں دیہی علاقوں میں حمایت حاصل ہے۔۔۔ ہمیں انھیں درد کا احساس دلانا ہوگا۔‘
نینسی پیلوسی کے تبصروں کے جواب میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’صرف ایک شریر اور متکبر ذہنیت ہی اپنے آپ کو ایسی پالیسیاں تجویز کرنے کا حقدار سمجھ سکتی ہے جو کسی دوسرے ملک میں شہریوں کی تکالیف پر مبنی ہوں۔‘
نینسی پیلوسی کے بیانات اور اسماعیل بقائی کا ردعمل خطے میں مزید امریکی فوجیوں کی تعیناتی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان کے حوالے سے بار بار دھمکیوں کے درمیان سامنے آیا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات عمان کے دارالحکومت مسقط میں ایک ہفتہ سے زیادہ پہلے دوبارہ شروع ہوئے تھے اور توقع ہے کہ مذاکرات کا دوسرا دور منگل کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں منعقد ہوگا۔
چین کا برطانیہ اور کینیڈا کے شہریوں کے لیے ویزا فری سفر کی سہولت کا اعلان, ایڈم گولڈ سمتھ، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
چین نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ اور کینیڈا کے شہری 17 فروری سے مین لینڈ چین میں 30 دن تک بغیر ویزا کے سفر کر سکیں گے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق ویزا فری داخلہ سیاحت، کاروبار یا اہلِ خانہ اور دوستوں سے ملاقات کے لیے ہوگا، اور یہ پالیسی ابتدائی طور پر 31 دسمبر تک نافذ رہے گی۔
یہ فیصلہ برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر سٹارمر کے گذشتہ ماہ چین کے سرکاری دورے کے بعد سامنے آیا، جہاں ان کی ملاقات صدر شی جن پنگ سے ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے سفر کے قوانین میں نرمی پر اتفاق کیا تھا۔
سر کیئر سٹارمر نے کہا کہ اس معاہدے سے برطانوی کاروباروں کو چین میں توسیع کرنے میں آسانی ہوگی، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت بیجنگ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش میں انسانی حقوق اور قومی سلامتی کے خدشات کو نظر انداز کر رہی ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ نے اتوار کو پالیسی کے آغاز کی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ’چین اور دیگر ممالک کے درمیان عوامی روابط کو مزید آسان بنائے گا۔‘
اس فیصلے کے بعد برطانیہ اور کینیڈا کے پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے قوانین 50 دیگر ممالک کے برابر ہو گئے ہیں، جن میں فرانس، جرمنی، اٹلی، آسٹریلیا اور جاپان شامل ہیں۔
برطانیہ کے دفترِ شماریات کے مطابق سنہ 2024 میں تقریباً چھ لاکھ 20 ہزار برطانوی شہری چین گئے تھے، اور اب لاکھوں افراد اس نئی پالیسی سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
جنوری میں چین کے دورے کے دوران برطانوی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ برطانوی کاروبار ’چین میں اپنی موجودگی بڑھانے کے طریقوں کے لیے بے تاب ہیں۔‘ اس دورے میں دونوں ممالک نے خدمات، صحت، گرین ٹیکنالوجی اور مالیات کے شعبوں میں تجارتی تعلقات کو گہرا کرنے پر اتفاق کیا، تاہم کوئی جامع آزاد تجارتی معاہدہ نہیں ہوا۔
یہ دورہ سنہ 2018 میں وزیرِاعظم ٹریزا مے کے بعد کسی برطانوی وزیرِاعظم کا پہلا دورہ تھا، جسے کچھ حزب اختلاف کے رہنماؤں نے تنقید کا نشانہ بنایا۔
دورے سے قبل سر کیئر سٹارمر کی حکومت نے لندن کے مرکزی علاقے میں ایک بڑے نئے چینی سفارتخانے کے منصوبے کی منظوری دی تھی، جس پر مخالفین نے اعتراض کیا کہ یہ جاسوسی کے لیے استعمال ہو سکتا ہے اور سلامتی کے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
ایران کے خلاف متعدد ممالک میں مظاہرے، لاکھوں افراد کی شرکت
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
دنیا بھر میں لاکھوں افراد نے ایرانی حکومت کے خلاف مظاہروں میں شرکت کی ہے۔ یہ مظاہرے سابق شاہ ایران کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی کی جانب سے ’گلوبل ڈے آف ایکشن‘ کی نسبت سے دی گئی کال پر منعقد ہوئے۔
میونخ میں اندازاً ڈھائی لاکھ افراد سے خطاب کرتے ہوئے رضا پہلوی نے حالیہ مظاہروں پر حکومتی کریک ڈاؤن کی مذمت کی اور حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ سنیچر کے روز میونخ، لاس اینجلس اور ٹورنٹو میں سب سے بڑے اجتماعات ہوئے، جبکہ تل ابیب، لزبن، سڈنی اور لندن سمیت دیگر شہروں میں بھی مظاہرے کیے گئے۔
ان مظاہروں میں شریک افراد نے ایران میں بڑھتی مہنگائی اور حکومتی جبر کے خلاف آواز بلند کی۔ انسانی حقوق کے امریکی ادارے ھرانا کے مطابق اب تک 6,872 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 150 سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔
ایرانی حکام نے کم از کم 3,000 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ ان میں کچھ سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔
،تصویر کا ذریعہEPA
لاس اینجلس میں رضا پہلوی کی بیٹی نور پہلوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام ’اس اسلامی حکومت سے آزادی کے اتنے قریب پہلے کبھی نہیں آئے۔‘ انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ ایران کی قیادت کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات ختم کیے جائیں۔
ٹورنٹو میں تقریباً ساڑھے تین لاکھ افراد نے مظاہرے میں شرکت کی اور کہا کہ وہ ایران میں موجود اپنے دوستوں اور اہلِ خانہ کی آواز بننے کے لیے باہر نکلے ہیں۔
ایران میں مظاہرے 28 دسمبر کو شروع ہوئے، جو ابتدا میں معاشی بحران کے خلاف تھے لیکن جلد ہی حکومت مخالف تحریک میں بدل گئے۔ یہ مظاہرے ملک کے تمام صوبوں کے 100 سے زائد شہروں اور قصبوں تک پھیل گئے۔
کئی مظاہرین نے رضا پہلوی کے حق میں نعرے بلند کیے اور ان کی سیاست میں واپسی کا مطالبہ کیا۔ رضا پہلوی، جو 1979 کے انقلاب کے وقت 18 برس کے تھے، تقریباً 50 سال بعد ایک بار پھر ایران کے مستقبل میں کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم عمران خان کا طبی معائنہ مکمل، رپورٹ حکومت کو پیش کی جائے گی: حکام, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اڈیالہ جیل حکام کے مطابق عمران خان کا طبی معائنہ کرنے والی میڈیکل ٹیم جیل سے واپس روانہ ہو گئی ہے۔
جیل حکام نے بتایا کہ ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم نے سابق وزیرِاعظم کا ایک گھنٹے سے زائد تفصیلی معائنہ کیا۔ حکام کے مطابق عمران خان کی آنکھوں کا خصوصی معائنہ کیا گیا، جبکہ بلڈ سیمپلنگ، بلڈ پریشر اور دیگر ٹیسٹ بھی کیے گئے۔ میڈیکل بورڈ میں ڈاکٹر آفاق، ڈاکٹر سکندر اور ڈاکٹر عارف شامل تھے۔
حکام نے مزید بتایا کہ عمران خان کی مکمل طبی رپورٹ میڈیکل بورڈ حکومت کو پیش کرے گا۔
پاکستان میں فری لانسنگ سے حاصل آمدن میں نمایاں اضافہ, سارہ حسن، صحافی
،تصویر کا کیپشنایمن سروش
پاکستان میں رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران بیرونِ ملک خدمات فراہم کرنے والے فری لانسرز نے مجموعی طور پر 50 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کی سروسز فراہم کی ہیں۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے ابتدائی چھ ماہ میں فری لانسنگ سے متعلق خدمات کی برآمدات سے پاکستان کو 557 ملین ڈالر حاصل ہوئے، جبکہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ آمدن 352 ملین ڈالر تھی۔
پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں رجسٹرڈ فری لانسرز کی تعداد 23 لاکھ ہے۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائن، ای کامرس اور کانٹینٹ کری ایشن جیسے شعبوں میں بیرونِ ممالک کمپنیوں کو خدمات فراہم کر رہی ہے۔
حکومت اور نجی شعبے نے فری لانسنگ کے فروغ کے لیے تربیتی پروگرامز شروع کیے ہیں، جبکہ مرکزی بینک کی ہدایات پر کمرشل بینکوں نے فری لانسرز کے لیے بینکاری سہولیات کو آسان بنانے کے اقدامات کیے ہیں۔
پاکستان کی نوجوان آبادی کے باعث ملک عالمی فری لانسنگ مارکیٹ میں انڈیا کے بعد ایک بڑی مارکیٹ کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اشیا کے مقابلے میں خدمات کے شعبے میں برآمدات میں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
رواں مالی سال کے دوران جولائی سے نومبر تک خدمات کی برآمدات میں 16 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ آئی ٹی کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہے۔ اس عرصے میں خدمات کی برآمدات سے پاکستان کو مجموعی طور پر تین ارب 83 کروڑ ڈالر حاصل ہوئے۔
عمران خان کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ہم حکومت کو مجبور کریں گے کہ وہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرے: اسد قیصر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
قومی اسمبلی کے سابق سپیکر اسد قیصر نے کہا ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ عمران خان کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ہم حکومت کو مجبور کریں گے کہ وہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’ہمارا مطالبہ بالکل سادہ ہے اور ہمارا دھرنا عمران خان کی صحت کے لیے ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ عمران خان کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے۔‘
ان کے مطابق عمران خان نے خود ناصر عباس اور محمود اچکزئی کو ذمہ داری سونپی ہے، اور ہم نے عمران خان کے حکم پر ان دونوں شخصیات کا ساتھ دینا ہے۔ محمود خان نے کہا ہے کہ اگر انھیں اکیلے بھی بیٹھنا پڑا تو وہ بیٹھیں گے۔‘
اسد قیصر نے کہا کہ ’ہم تین دن سے پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود ہیں۔ ہم نے تحریکِ انصاف میں تیس سال تک بڑی جدوجہد کی ہے۔ اس دوران بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں اور اپنی جوانی اس تحریک کے نام وقف کی ہے۔ عمران خان کے ساتھ ہمارا تعلق بڑے اور چھوٹے بھائیوں جیسا ہے۔ ہم ایک مقصد کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور عمران خان کے ساتھ ہمارا رشتہ بھی اسی مقصد کے لیے ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’محمود خان اچکزئی صاحب نے تمام اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی کو مشاورت کے لیے بلایا۔ مشاورت کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ ہم نے پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینا ہے۔ ہم نمازِ جمعہ کے بعد یہاں آئے تو پارلیمنٹ ہاؤس کو تالے لگا دیے گئے۔ پارلیمنٹ لاجز اور خیبر پختونخوا ہاؤس کی بھی تالہ بندی کی گئی، جس کے بعد ہم تین مختلف مقامات پر بیٹھ گئے۔‘
’شاہراہِ دستور پر کرفیو کا سماں، پارلیمانی رپورٹرز کو بھی داخلے سے روک دیا گیا‘
اسد قیصر نے ایک اور ٹویٹ میں کہا ہے کہ اسلام آباد میں شاہراہِ دستور پر صورتحال کشیدہ ہے، جہاں پارلیمانی رپورٹرز کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے قوم کے حقیقی نمائندوں تک کھانے، پینے اور ادویات پہنچانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ اقدامات ماضی کے مارشل لا ادوار سے بھی زیادہ سخت اور جابرانہ ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے عوامی مینڈیٹ کی کھلم کھلا توہین کی ہے اور جمہوریت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ن لیگ، پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں نے محض دو دن کے اقتدار کے لیے جمہوریت کا جنازہ نکال دیا ہے۔‘
پی ٹی آئی کارکنان نے کوہالہ پل بند کر دیا، عمران خان کی آنکھ کے مناسب علاج کا مطالبہ, پاکستان کے زیرانتظام کشمیر سے بی بی سی اردو کی نامہ نگار تابندہ کوکب
سابق وزیر اعظم عمران خان کے علاج کے مطالبے پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان نے پاکستان کو پاکستان کے انتظام کشمیر سے ملانے والے رابطہ پل کو کوہالہ کے مقام پر اتوار کے روز دن دو بجے سے بند کر رکھا ہے۔
یہ مظاہرین پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی حدود میں ہیں تاہم دونوں جانب سے آنے جانے والی ٹریفک کا راستہ بند کر رکھا ہے۔
دونوں اطراف پر گاڑیوں کے طویل قطاریں ہیں۔ کئی لوگ پیدل مظاہرین کو کراس کر کے دوسری جانب جا رہے ہیں تاکہ اپنی منزل کو پہنچ سکیں تاہم بیشتر لوگ رش ہو جانے کی وجہ سے پھنس گئے ہیں۔
اس مقام پر پہلے سے بندش کی کال نہیں دی گئی تھی اس لیے کئی گاڑیاں اس وقت یہاں رش میں پھنسی ہوئی ہیں۔ یہاں مظاہرین پُرامن ہیں اور پیدل گزرنے والوں کو روکا نہیں جا رہا ہے۔
امریکی عوام ایران میں جمہوریت دیکھنا چاہتے ہیں: امریکی رُکن کانگریس بریڈ شرمین
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈیموکریٹک کانگریس مین بریڈ شرمین نے لاس اینجلس میں ’گلوبل ڈے آف ایکشن‘ کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام اور کانگریس ایران میں جمہوریت چاہتے ہیں۔ انھوں نے ہمارے نامہ نگار، خشیعار جنیدی کو بتایا کہ ’پابندیاں سخت کر کے اور امریکی ٹیکنالوجی اور بی بی سی کے پروگراموں کی مدد سے، ہم لوگوں کو مفت معلومات سے محروم کرنے کی حکومتی کوششوں کو ناکام بنا رہے ہیں۔‘
،تصویر کا کیپشنلاس اینجلس
لاس اینجلس کی پولیس کے مطابق تین لاکھ سے زائد ایرانی مظاہرین سڑکوں پر نکلے۔ اس اجتماع میں شہزادہ رضا پہلوی کی بڑی صاحبزادی نور پہلوی نے بھی خطاب کیا۔
ایران پابندیاں ہٹانے کے بدلے امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات میں سمجھوتے پر غور کرنے کو تیار ہے: ایرانی نائب وزیرِ خارجہ, بی بی سی کی چیف انٹرنیشنل نامہ نگار لیز ڈوسیٹ
ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے کہا ہے کہ ان کا ملک س بات پر غور کرنے کو تیار ہے کہ اگر امریکہ پابندیاں اٹھانے پر بات کرے تو جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے سمجھوتے کیے جا سکتے ہیں۔ یہ بات انھوں نے بی بی سی کی چیف انٹرنیشنل نامہ نگار لیز ڈوسیٹ کو تہران میں دیے گئے ایک انٹرویو میں بتائی۔
واضح رہے کہ امریکی حکام بار بار زور دیتے رہے ہیں کہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھنے سے روکنے والا فریق ایران ہے، امریکہ نہیں۔
سنیچر کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک معاہدہ چاہتے ہیں لیکن ایران کے ساتھ ایسا کرنا ’انتہائی مشکل‘ ہے۔
تاہم تہران میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے کہا کہ گیند ’امریکہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ ثابت کرے کہ وہ معاہدہ چاہتے ہیں‘، اور مزید کہا کہ ’اگر وہ مخلص ہیں تو مجھے یقین ہے کہ ہم معاہدے کی راہ پر ہوں گے۔‘
صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے کوئی معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران پر حملے کر سکتے ہیں، اور اسی مقصد کے لیے امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے۔
امریکہ اور ایران نے رواں فروری کے اوائل میں عمان میں بالواسطہ مذاکرات کیے تھے۔ مجید تخت روانچی نے تصدیق کی کہ دوسرا دور منگل کو جنیوا میں ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ مذاکرات ’کم و بیش مثبت سمت میں ہیں لیکن ابھی کچھ حتمی نتیجہ نکالنا قبل از وقت ہوگا۔‘ ٹرمپ نے بھی ان مذاکرات کو مثبت قرار دیا ہے۔
نائب وزیر خارجہ نے ایران کی جانب سے 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کو کم کرنے کی پیشکش کو سمجھوتے کی آمادگی کی علامت قرار دیا۔
افزودگی کی یہ سطح ہتھیاروں کے معیار کے قریب ہے، جس سے شبہات گہرے ہوئے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کی وہ ہمیشہ تردید کرتا آیا ہے۔
مجید تخت روانچی نے کہا کہ ’ہم اس پر اور اپنے پروگرام سے متعلق دیگر امور پر بات کرنے کو تیار ہیں اگر وہ (امریکہ) پابندیوں پر بات کرنے کو تیار ہوں۔‘ تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس کا مطلب تمام یا کچھ پابندیوں کا خاتمہ ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ایران اپنے 400 کلوگرام سے زائد افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ملک سے باہر بھیجنے پر تیار ہوگا، جیسا کہ سنہ 2015 کے معاہدے میں کیا گیا تھا، تو انھوں نے کہا ’ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مذاکرات کے دوران کیا ہوگا۔‘
روس، جس نے سنہ 2015 کے معاہدے کے تحت 11 ہزار کلوگرام کم سطح پر افزودہ یورینیم قبول کیا تھا، دوبارہ ایسا کرنے کی پیشکش کر چکا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران نے افزودگی کو عارضی طور پر معطل کرنے کی پیشکش کی ہے۔
ایران کا ایک اہم مطالبہ یہ رہا ہے کہ بات چیت صرف جوہری معاملے پر مرکوز ہو۔ تخت روانچی نے کہا کہ ’ہمارا خیال ہے کہ وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اگر معاہدہ کرنا ہے تو جوہری مسئلے پر ہی توجہ دینی ہوگی۔‘
اگر یہ بات درست ثابت ہوئی تو ایران کے لیے یہ ایک اہم پیش رفت ہوگی، کیونکہ وہ واشنگٹن کے زیرو افزودگی کے مطالبے کو کسی بھی معاہدے کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔
ایران اسے اپنی ’ریڈ لائن‘ قرار دیتا ہے اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت اپنے حقوق کی خلاف ورزی سمجھتا ہے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ ’زیرو افزودگی کا معاملہ اب کوئی مسئلہ نہیں رہا اور ایران کے نزدیک یہ مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔‘ یہ بات ٹرمپ کے حالیہ بیان سے متضاد ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’ہم (کسی بھی سطح کی) افزودگی کو نہیں چاہتے۔‘
ایرانی مذاکرات کار نے اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بات کرنے سے بھی انکار کیا، جو اسرائیل کا اہم مطالبہ رہا ہے۔
انھوں نے زور دے کر کہا کہ ’جب ہم پر اسرائیل اور امریکہ نے حملہ کیا تو ہمارے میزائل ہماری مدد کو آئے، تو ہم اپنی دفاعی صلاحیتوں سے محروم ہونے کو کیسے قبول کر سکتے ہیں۔‘
مجید تخت روانچی نے امریکی صدر کے متضاد بیانات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم سن رہے ہیں کہ وہ مذاکرات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔‘ انھوں نے یہ بات عوامی طور پر بھی کہی ہے اور نجی پیغامات میں بھی، جو عمان کے ذریعے پہنچائے گئے ہیں۔
لیکن ٹرمپ نے اپنی تازہ گفتگو میں ایک بار پھر حکومت کی تبدیلی پر زور دیا اور کہا: ’یہی سب سے بہتر چیز ہوگی۔‘
نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ نجی پیغامات میں ایسا نہیں کہا جا رہا، جو عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد البوسعیدی کے ذریعے پہنچائے جا رہے ہیں۔ قطر سمیت دیگر علاقائی طاقتیں بھی اس عمل میں کردار ادا کر رہی ہیں۔
انھوں نے امریکی فوجی تیاریوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک اور جنگ ’سب کے لیے تباہ کن ہوگی۔۔۔ سب کو نقصان ہوگا، خاص طور پر ان کو جنھوں نے جارحیت کی ابتدا کی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر ہمیں لگا کہ ہمارے وجود کو خطرہ ہے تو ہم اس کے مطابق جواب دیں گے۔‘ تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے خطرناک منظرنامے پر سوچنا بھی دانشمندانہ نہیں کیونکہ ’پورا خطہ انتشار کا شکار ہو جائے گا۔‘
ایران بارہا کہہ چکا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی اڈے اس کے نزدیک جائز ہدف ہیں۔
جب ان سے خطے میں تعینات 40 ہزار امریکی فوجیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو مجید تخت روانچی نے کہا کہ ’یہ ایک مختلف کھیل ہوگا۔‘
انھوں نے کہا کہ خطے میں تقریباً متفقہ رائے ہے کہ جنگ سے بچنا چاہیے۔ ایران نے بارہا اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مجید تخت روانچی نے کہا کہ ’ہم امید رکھتے ہیں کہ یہ کام سفارت کاری کے ذریعے ہو جائے، اگرچہ ہم سو فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتے۔ ہمیں چوکس رہنا ہوگا تاکہ حیران نہ ہوں۔‘
یہ اشارہ اسرائیل کے گذشتہ جون کے اچانک حملے کی طرف تھا، جس نے 12 روزہ جنگ کو جنم دیا، اور اس وقت ایران چھٹے دور کے مذاکرات کے لیے تیاری کر رہا تھا۔ اس پیشرفت نے ایران کے مذاکراتی عمل پر اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
ایرانی حکام بشمول صدر مسعود پزشکیان اس بات پر تنقید کرتے رہے ہیں کہ ایک دور میں طے شدہ نکات اگلے دور میں بدل دیے جاتے ہیں۔
فروری کے اوائل میں مذاکرات میں صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی موجودگی کو ایران نے امریکہ کی سنجیدگی کی مثبت علامت سمجھا ہے۔
دوسری جانب یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا ایران وہ مشکل سمجھوتے کرنے کو تیار ہے جو کسی معاہدے کے لیے ضروری ہیں۔
بہت سے مبصرین اب بھی شکوک میں ہیں کہ نیا معاہدہ ممکن ہے، لیکن تخت روانچی نے کہا کہ ایران جنیوا میں مذاکرات کے اگلے دور میں امید کے ساتھ جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم اپنی پوری کوشش کریں گے لیکن دوسرے فریق کو بھی ثابت کرنا ہوگا کہ وہ مخلص ہیں۔‘
لیز ڈوسیٹ ایران سے اس شرط پر رپورٹنگ کر رہی ہیں کہ ان کا کوئی بھی مواد بی بی سی کی فارسی سروس پر استعمال نہیں ہوگا۔ یہ پابندیاں ایران میں کام کرنے والی تمام بین الاقوامی میڈیا تنظیموں پر لاگو ہوتی ہیں۔
’حکومت نے ہمارا کھانا پینا بند کر رکھا ہے،‘ مطالبات کی منظوری تک پارلیمنٹ کے اندر دھرنا جاری رہے گا: پی ٹی آئی رہنما کا اعلان, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہAon Abbas
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سینیٹر عون عباس نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اپنے مطالبات پر قائم ہے جب تک عمران خان کے علاج سے متعلق ہمارے مطالبات پورے نہیں ہو جاتے، پارلیمنٹ میں دھرنا جاری رہے گا۔
میڈیا کو بھیجے گئے ایک آڈیو پیغام میں سینیٹر عون عباس نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے دھرنے والوں کا کھانا پینا بند کر رکھا ہے۔ اس وقت 25 کے قریب ارکان پارلیمان دھرنے پر بیٹھے ہیں۔
اُن کے بقول پارلیمنٹ میں ڈیوٹی پر آنے والے اہلکاروں کی بھی جامہ تلاشی لی جا رہی ہے، تاکہ وہ دھرنے والوں کو پانی کی بوتل، بسکٹ یا کوئی ٹافی نہ پہنچا سکیں۔
عون عباس کا کہنا تھا کہ ’پارلیمنٹ کا ایک طرح سے محاصرہ کیا گیا ہے، اس وقت جو راشن اندر موجود ہے، صرف اسی پر مشکل سے گزارہ ہو رہا ہے۔ لیکن ہمارے مطالبات اپنی جگہ پر موجود ہیں۔‘
اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ پارلیمنٹ کے اردگرد سیکیورٹی کو سخت کیا گیا ہے اور یہاں تک آنے والے راستے بھی بند ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعلی سہیل آفریدی خیبر پختونخوا ہاؤس کے اندر ہیں جبکہ کچھ لوگ کے پی ہاؤس کے باہر دھرنا دیے ہوئے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور جو لوگ باہر ہیں انھیں اندر نہیں جانے دیا جا رہا۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ عمران خان کی آنکھوں کا علاج بہترین معالجین کے ذریعے کسی اچھی طبی مرکز میں کیا جائے گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائی گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ قیاس آرائیوں اور سیاسی بیان بازی کے ذریعے فائدے اُٹھانے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔
حکومت عمران خان کے علاج میں ’تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے اور اس کے ارادے ٹھیک نہیں لگتے‘ سہیل آفریدی کا الزام
،تصویر کا ذریعہPTI
عمران خان کی
صحت کے معاملے پر تحریک انصاف کا احتجاج جاری ہے۔ اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس
کے اندر اور خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر بھی احتجاج کیا جا رہا ہے۔ پولیس نے کے پی ہاؤس کی طرف جانے والے راستے کو
ٹینٹ لگا کر بند کردیا ہے اور خار دار تاریں بھی لگائی گئی ہیں۔
وزیر اعلیٰ
خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ حکومت احتجاج کرنے والے تحریک انصاف کے
کارکنوں میں انتشار پھیلانے والے افراد شامل کر کے نو مئی جیسا ایک اور واقعہ
کرانا چاہتی ہے۔
گذشتہ شب خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد کے
باہر صحافیوں سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا ’تحریک انصاف کا مطالبہ ہے
کہ عمران خان کا علاج ان کے اہل خانہ کو اعتماد میں لے کر ان کے ذاتی معالج کی
نگرانی میں کرایا جائے۔‘
سہیل آفریدی
کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت سیاست سے بالا تر ہے اور ’سپریم کورٹ کے واضح
احکامات کے باوجود وفاقی حکومت کا رویہ سمجھ نہیں آ رہا۔‘
انھوں نے الزام لگایا کہ حکومت ’تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے اور اس کے ارادے ٹھیک نہیں لگتے۔‘
صحافیوں سے گفتگو
میں سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’حکومت سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کرنے میں
جتنی تاخیر کرے گی، اتنے ہی حالات خراب ہوں گے اور اس کی ذمہ دار حکومت ہو گی۔‘
وزیر اعلیٰ
خیبر پختونخوا نے کہا کہ اگر حکومت سے عمران خان کے علاج میں کوئی کوتاہی یا غلطی
ہو چکی ہے تو تاخیری حربے استعمال کر کے اسے چھپایا نہیں جا سکے گا۔
سہیل آفریدی
کا کہنا تھا کہ حکومت افراتفری پھیلانا چاہ رہی ہے لیکن کارکن پر امن رہیں۔
ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی: امریکی وزیرِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ بالکل واضح ہے۔ کیونکہ یہ امریکہ، یورپ، خطے اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔
میونخ میں بلوم برک کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم خطے میں افواج رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ ایران نے ماضی میں دکھایا ہے کہ وہ خطے میں امریکی اہداف کو نشانہ بناتے ہیں اور اس کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ خطے میں ہمارے اتحادی ہیں اور یہاں امریکہ کے فوجی اڈے بھی ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکہ اس لیے اپنی فوجی قوت رکھنا چاہتا ہے، تاکہ ایران کی کسی غلطی کے نتیجے میں یہاں کوئی بڑا تصادم نہ ہو جائے۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے واضح کر رکھا ہے کہ اُن کی ترجیح ایک معاہدے تک پہنچنا ہے۔ اُن کے بقول یہ کافی مشکل ہے، لیکن امریکہ اس کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یہ تاثر غلط ہے کہ پی ٹی آئی سے کوئی ڈیل یا مذاکرات ہو رہے ہیں: عطا تارڑ
وفاقی
وزیر عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ ’عمران خان کی آنکھ کے جاری علاج کے تسلسل میں مزید معائنہ اور علاج ایک خصوصی طبی ادارے میں ماہرینِ امراضِ چشم کریں گے۔‘
وفاقی
وزیر عطا تارڑ کا کہنا ہے کہنا ہے کہ ’عمران خان کی بہترین طبی معاونت کے حساب سے
حکومت انھیں جہاں بھی لے جانا ہے بھیجا جائے گا۔ کہاں جائیں گے ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔
‘
’عمران
خان کی نظر کبھی بھی مکمل صحیح سکس بائی سکس نہیں تھی۔ ‘
نجی
ٹیلی وژن سے بات کرتے ہوئے عطا ترڑ کا کہنا تھا کہ ’انھیں جلد لے جایا جائے گا۔ پہلے بھی
بروقت پمز لے جایا گیا تھا۔ اور فی الحال
بہترین معالج فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ذاتی معالجین میں آنکھوں کے ڈاکٹر نہیں ہیں۔ ‘
انھوں
نے کہا کہ ’جو بھی ہو گا مریض کے بہترین مفاد میں ہوگا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ بظاہر دیکھنے سے آنکھ کا مسئلہ دکھائی نہیں دے سکتا۔
اس معاملے میں تو مزید تحقیقات کی ضرورت ہوتی ہے۔
یاد
رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے وفاقی حکومت
کو حکم دیا گیا ہے کہ ماہر ڈاکٹروں کی موجودگی میں 16 فروری سے پہلے عمران خان کی
آنکھ کا معائنہ کروایا جائے۔
چیف
جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کی جانب سے عدالت کی
طرف سے مقرر کیے گئے ’فرینڈ آف کورٹ‘ سلمان صفدر کی طرف سے عدالت میں پیش کی گئی
رپورٹ کی روشنی میں یہ حکم دیا۔ عمران خان نے جیل میں اپنی مصروفیات، مشکلات اور
سہولیات سے متعلق بیرسٹر سلمان صفدر کو کیا بتایا اور انھوں نے خود کیا دیکھا، یہ
انھوں نے اپنی رپورٹ میں درج کیا ہے۔
عدالت
میں جمع کرائی گئی بیرسٹر سلمان صفدر کی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بتایا کی کہ
گذشتہ تین ماہ سے انھیں نظر میں کمی کی شکایت ہے ’حالانکہ اکتوبر 2025 تک ان کی
نظر بالکل ٹھیک تھی۔‘
رپورٹ
میں وکیل نے لکھا تھا کہ عمران خان اپنی بینائی کم ہونے اور بر وقت طبی امداد نہ
ملنے پر واضح طور پر پریشان تھے۔ ’ملاقات کی دوران ان کی آنکھوں سے پانی بہتا رہا
اور وہ ٹشو سے اسے صاف کرتے رہے۔‘
جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے
عظا تارڑ کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کو جیل میں پر تعیش ماحول حاصل ہے۔‘
انھوں
نے وضاحت کی کہ ’کسی دوسرے قیدی کو کو ٹریڈ میل نہیں دی جاتی۔ اس لیے انھیں ملنے
والی سہولیات پر تعیش کہلائیں گی۔‘
ان کا
کہنا تھا کہ ’مزید چیک اپ ہو گا تو معاملات کلیئر ہو جائیں۔‘
حکومت
اور تحریکِ انصاف میں برف پگھنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ انسداد دہشت گردی
کے معاملے پر تھا۔ وہ انتظامی معاملات ہیں۔
عطا
تارڑ نے کہا کہ ’یہ تاثر غلط ہے کہ کوئی ڈیل یا مذاکرات ہو رہے ہیں۔ ‘
حکومت کے زیر انتظام سرکاری اداروں کا مجموعی خسارہ 832 ارب روپے رہا, سارہ حسن، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والے 25 سرکاری اداروں کا خسارہ 832 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ نے ان اداروں کی کارکردگی پر تفصیلی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق 30 جون 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران سب سے زیادہ خسارہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) میں ہوا۔
مالی سال 2025 کے اختتام پر این ایچ اے کا مجموعی خسارہ 294 ارب 90 کروڑ روپے ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دوسرے اور تیسرے نمبر پر نقصان میں جانے والے ادارے کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کارپوریشن اور پشاور الیکٹرک سپلائی کارپوریشن رہے، جنھوں نے بالترتیب 112 ارب 70 کروڑ اور 92 ارب 70 کروڑ روپے کا خسارہ کیا۔
اسی مالی سال کے دوران پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کا خسارہ 48 ارب 90 کروڑ روپے اور پاکستان ریلویز کا خسارہ 60 ارب روپے رہا۔ وزارتِ خزانہ کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 کے اختتام تک 52 حکومتی اداروں نے نقصان کے بجائے منافع کمایا، جس کا مجموعی حجم 709 ارب روپے تھا۔
اس طرح حکومت کے زیر انتظام سرکاری اداروں کا نیٹ خسارہ 123 ارب روپے رہا، جو سال 2024 میں 30 ارب 60 کروڑ روپے تھا۔ یوں موجودہ حکومت کے دور میں سرکاری اداروں کے خسارے میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ منافع بخش ادارہ آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کارپوریشن رہا، جس نے جون 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال میں 169.9 ارب روپے کا منافع کمایا۔ دوسرے نمبر پر پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ رہا، جس کا منافع 89.9 ارب روپے اور تیسرے نمبر پر نیشنل بینک رہا، جس کا منافع 52 ارب 23 کروڑ روپے ریکارڈ کیا گیا۔
اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2025 کے دوران حکومت نے ان اداروں کو چلانے کے لیے 2078 ارب روپے جاری کیے، جو گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں 37 فیصد زیادہ ہیں۔
یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب رواں ماہ کے اختتام پر آئی ایم ایف کا جائزہ مشن پاکستان آ رہا ہے۔ آئی ایم ایف سمیت کئی عالمی مالیاتی ادارے پاکستان میں سرکاری اداروں کی ناقص کارکردگی اور غیر منافع بخش کاروباری ماڈلز پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کا بھی اصرار ہے کہ حکومت ان اداروں کی نجکاری کرے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ نجکاری کے پہلے مرحلے میں پی آئی اے کی فروخت کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے اور اس کے بعد بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں نیلام کی جائیں گی۔ نجکاری کمیشن کے مطابق سال 2024 سے 2025 کے دوران مختلف مراحل میں 24 حکومتی اداروں کی نیلامی کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
سونے کی قیمت میں فی تولہ 7 ہزار روپے اضافہ, تنویر ملک، صحافی
پاکستان میں ہفتے کے روز سونے کی قیمت میں فی تولہ 7 ہزار روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت بڑھ کر 5 لاکھ 26 ہزار 962 روپے ہو گئی۔
اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 6 ہزار ایک روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 51 ہزار 784 روپے ہو گئی۔ ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 70 ڈالر اضافے کے بعد 5 ہزار 42 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔ پاکستان میں سونے کی قیمتوں کا تعین عموماً عالمی نرخوں کے مقابلے میں فی اونس تقریباً 20 ڈالر پریمیم کے ساتھ کیا جاتا ہے، جو شرح تبادلہ، درآمدی لاگت اور مقامی مارکیٹ کی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسری جانب چاندی کی قیمت میں کمی دیکھی گئی۔ فی تولہ چاندی 105 روپے سستی ہو کر 8 ہزار 219 روپے ہو گئی، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 90 روپے کم ہو کر 7 ہزار 46 روپے رہ گئی۔
عمران خان کے علاج کے لیے بین الاقوامی برادری اپنا کرادر ادا کرے: تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان
پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے متحدہ محاذ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے عمران
خان کے علاج کے لیے بین الاقوامی برادری کو اپنا کرادر ادا کرنے کی اپیل کی۔
تحریکِ
کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سلمان اکرم راجہ، سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی نے پاکستان کی صورتحال
پر بین الاقوامی برادری اور سفارتی برادری کو پیغام بھیجا ہے۔
مطالبے
میں کہا گیا ہے کہ ’یہ علاج کی نگرانی عمران خان کے خاندان کی جانب سے تجویز کردہ ڈاکٹروں
کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔ ‘
عمران خان کی آنکھ کا علاج ایک خصوصی طبی ادارے میں ماہرینِ امراضِ چشم کریں گے: وفاقی وزیر اطلاعات
،تصویر کا ذریعہPTI Official
پاکستان کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ عمران خان کی آنکھ کے جاری علاج کے تسلسل میں مزید معائنہ اور علاج ایک خصوصی طبی ادارے میں ماہرینِ امراضِ چشم کریں گے اور اِس کی تفصیلی رپورٹ بھی سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے گی۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر مزید لکھا کہ ’اس معاملے پر قیاس آرائیوں، بے بنیاد خبروں اور ذاتی مفاد کے لیے اسے سیاسی رنگ دینے کی کوششوں سے گریز کیا جائے۔‘
عمران خان کو کسی بھی دوسرے قیدی سے زیادہ مراعات حاصل ہیں: عطا تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ ’جیل میں عمران
خان کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے حوالے سے عمران خان کے خاندان کے افراد کی جانب سے
غلط بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے۔‘
عطا
تارڑ نے کہا کہ ’روزمرہ کی روٹین اور غذا کے منصوبے سے متعلق رپورٹ نے تمام ابہام کو
دور کر دیا ہے۔‘
انھوں
نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو جیل میں ’ تمام سہولیات دستیاب ہیں اور انھیں کسی بھی
دوسرے قیدی سے زیادہ مراعات حاصل ہیں۔‘
یاد
رہے کہ اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی جانب سے علاج کے باوجود دائیں آنکھ میں
صرف 15 فیصد بینائی رہ جانے کی شکایت کے بعد سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دے
رکھا ہے کہ وہ ماہر ڈاکٹروں کی موجودگی میں 16 فروری سے پہلے عمران خان کی آنکھ کا
معائنہ کروائیں۔
ان کی
صحت سے متعلق خدشات کے بعد ملک بھر کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے
ہیں جبکہ سابق کھلاڑیوں اور فنکاروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے
تصدیق کی ہے کہ سنیچر کے روز عمران خان کی
ان کی بیٹوں سے بات ہوئی ہے اور وہ اب عمران خان کا فوری علاج شروع کیے جانے کی منتظر
ہیں۔