ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر رہنماؤں کی رہائی کے لیے مستونگ میں دھرنا

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی دیگر خواتین رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف مستونگ کے علاقے لک پاس پر دھرنا اتوار کو تیسرے روز بھی جاری رہا۔ لک پاس اور گردونواح کے علاقوں میں انتظامیہ کی جانب سے رکاوٹوں کی وجہ سے کوئٹہ، کراچی شاہراہ اور کوئٹہ، تفتان شاہراہ کے ذریعے کوئٹہ کا بلوچستان کے مغربی اور جنوبی علاقوں سے رابطہ تیسرے روز بھی منقطع رہا۔

خلاصہ

  • میانمار میں زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری، 100 سے زائد افراد کو بچالیا گیا
  • میانمار میں جمعے کے روز آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تقریباً 1700 ہو گئی ہے۔
  • میانمار میں 3400 سے زائد افراد زلزلے کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں جبکہ 300 کے قریب لوگ تاحال لاپتہ ہیں۔
  • پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں قبائل کے درمیان آٹھ ماہ کے لیے امن معاہدہ پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔ جس کے بعد آمد و رفت کے لیے بند پڑی اہم قومی شاہراہوں کو کھولنے سمیت قیام امن کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے۔
  • پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے ضلع مردان کے پہاڑی علاقے کاٹلنگ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران خواتین اور بچوں سمیت عام شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. کوئٹہ دھماکے میں ڈاکٹر مہر اللہ ترین کی ہلاکت پر ہسپتال میں رقت آمیز مناظر، اکلوتے بیٹے کی ہلاکت پر ایک ماں ہوش و حواس کھو بیٹھیں

    کینسر کے امراض کے ماہر اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مہر اللہ ترین

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    ،تصویر کا کیپشنبم دھماکے میں معروف معالج اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مہر اللہ ترین ہلاک

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جمعرات کے روز بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں کینسر کے امراض کے ماہر اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مہر اللہ ترین بھی شامل تھے۔

    پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض نے بتایا کہ دھماکے میں تین افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوگئے زخمیوں میں سے چار کی ہلاکت تشویشناک ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ میں ایک مصروف بازار کے قریب ہونے والے دھما کہ ہوا تھا۔ حکومتی ترجمان کے مطابق کوئٹہ کے وسط میں ڈبل روڑ پر ہونے والے اس دھماکے میں پولیس موبائل وین کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    سینیئر ڈاکٹر کی ہلاکت کے باعث سول ہسپتال کوئٹہ میں جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔

    دھماکہ ڈبل روڈ کے علاقے میں پرانی سبزی منڈی اور بڑیچ مارکیٹ کے درمیان چوک کے قریب ہوا تھا۔

    اس دھماکے کا ہدف پولیس کی گاڑی تھی جس میں دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔

    ڈاکٹر ایک دوسرے کے گلے لگ کے رونے لگے

    بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں بلوچستان کے معروف معالج اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مہر اللہ ترین بھی شامل تھے۔

    وہ کینسر کے امراض کے ماہرتھے اور ان کا شمار بلوچستان کے اچھے اور انسان دوست معالجوں میں ہوتا تھا۔ وہ دھماکے کے وقت وہاں سے گزر رہے تھے کہ دھماکے کی زد میں آکر زخمی ہوگئے۔

    انھیں بھی دیگر زخمیوں کے ہمراہ ٹراما سینٹر کوئٹہ منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کی زخمی ہونے اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر زندگی کی بازی ہارنے کی خبر سن کے ان کے ساتھی ڈاکٹروں کے علاوہ دیگر ڈاکٹر جمع ہوئے تھے۔

    ان کی لاش کو جب ٹراما سینٹر سے نکالا گیا تو ڈاکٹر ایک دوسرے سے گلے لگ کر زور زور سے رونے لگے۔ ایک سینیئر ڈاکٹر پشتو زبان میں بار بار یہ کہتے رہے کہ ’ڈاکٹر مہراللہ اُلاڑے‘ یعنی ڈاکٹر مہر اللہ چلے گئے۔

    خاتون اکلوتے بیٹے کی ہلاکت پر ہوش و حواس کھوبیٹھی

    اس دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک 20 سالہ نوجوان بھی شامل تھا جو اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔

    دھماکے میں ان کے زخمی ہونے کی خبر سن کر بوڑھے والدین ٹراما سینٹر اس امید کے ساتھ پہنچے کہ ان کا بیٹا بچ گیا ہوگا۔

    لیکن جب انھوں نے بیٹے کو وہاں نہیں پایا اور انھیں یہ بتایا گیا کہ ان کا بیٹا ہلاک ہوگیا ہے تو ان کی والدہ زور زور سے رونے لگیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق جب خاتون بیٹے کی لاش دیکھنے کے لیے ٹراما سینٹر پہنچی تو وہاں اپنی ہوش و حواس کھو بیٹھیں۔

    بلوچستان میں شدت پسندوں کا ٹرین پر حملہ: بی ایل اے کیا ہے اور اس کی قیادت سرداروں سے متوسط طبقے تک کیسے پہنچی؟

    ’دھماکے کے بارے زخمی افراد نے کیا بتایا‘

    حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے بتایا کہ ڈبل روڈ پر دھماکہ پولیس موبائل کے پاس ہوا۔ دھماکے کے باعث پولیس کی گاڑی کو نہ صرف نقصان پہنچا بلکہ اس میں آگ بھی بھڑک اٹھی۔

    دھماکے میں دیگر گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کے علاوہ پولیس کی گاڑی کے قریب ایک موٹر سائیکل بھی تباہ ہوگئی۔

    پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض نے ٹراما سینٹر کے باہر میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جو دھماکے کا نشانہ بننے والی گاڑی میں سوار تھے۔

    دھماکے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکار کامران ایوب نے بتایا کہ وہ گشت کے بعد واپس آرہے تھے کہ دھماکہ ہوا۔ انھوں نے کہا کہ دھماکے میں چار پولیس اہلکار دھماکے جُھلس گئے۔

    دھماکے میں زخمی ہونے والے عبدل شفیق نے بتایا کہ وہ جائے وقوع کے پاس کھڑے تھے کہ پولیس کی گاڑی کے گزرنے کے ساتھ دھماکہ ہوا۔

    انھوں نے کہا کہ وہ دھماکے کی وجہ سے بے ہوش نہیں ہوئے تاہم زخمی ہونے کی وجہ سے خون زیادہ بہہ گیا۔

    زخمی ہونے والے ایک پولیس اہلکار عطااللہ کا کہنا تھا کہ ’وہ گشت پر تھے کہ زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکے کے بعد مجھے پتہ نہیں چلا اور گاڑی میں اندھیرا چھا گیا۔‘

    کوئٹہ ہڑتال

    24 گھنٹوں کے دوران نو افراد کی ہلاکت

    بلوچستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تشدد کے واقعات میں نو افراد ہلاک اور 28 سے زائد زخمی ہوگئے۔

    کوئٹہ میں بم دھماکے سے قبل بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب نامعلوم مسلح افراد نے مختلف علاقوں میں شاہراہوں پر ناکہ بندی کی۔

    گوادر میں پولیس کے حکام کے مطابق گوادر اور کراچی کے درمیان ساحلی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ناکہ بندی کے دوران ایک مسافر بس سے چھ غیر مقامی مسافروں کو اتار کر انھیں گولی ماردی جس کے نتیجے میں ان میں سے پانچ ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔

    اسی طرح کوئٹہ کراچی شاہراہ کی مستونگ کے علاقے میں ناکہ بندی کے دوران سی ٹی ڈی کے دو اہلکاروں کو گولی ماری گئی تھی جس میں سی ٹی ڈی کا ایک سب انسپکٹر ہلاک اور دوسرا اہلکار زخمی ہوگیا تھا۔

    مسلح افراد کی فائرنگ سے مستونگ میں لیویز فورس کا ایک اہلکار بھی زخمی ہوا تھا۔جبکہ مستونگ کے علاقے سے نامعلوم مسلح افراد پنجاب سے تعلق رکھنے والے دو ڈرائیوروں کو اغوا کرکے لے گئے تھے۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ دہشت گردی کے ان واقعات میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

  2. کوئٹہ میں موبائل فون پر انٹرنیٹ سروس معطل، بلوچ یکجہتی کمیٹی کا ماہ رنگ بلوچ اور دیگر رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج جاری, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    پریس کلب کوئٹہ کے سامنے سڑکیں سیل

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک مرتبہ پھر موبائل فون پر انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی ہے جبکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کا ماہ رنگ بلوچ اور دیگر رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

    کوئٹہ میں موبائل فون پر انٹرنیٹ کی سروس کی معطلی کا سلسلہ جمعرات کی شام شروع ہوگیا تھا تاہم سرکاری حکام کی جانب سے شہر میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس کی معطلی کی وجہ نہیں بتائی گئی۔

    اس سے قبل بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاج کے دوران موبائل فون انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی تھی تاہم 23 مارچ کی شام اسے بحال کردیا گیا تھا۔

    حکومت کی جانب سے شہر میں ایک مرتبہ پھر انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے لوگوں کو ایک مرتبہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    دوسری جانب ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے گرفتار ہونے والے دیگر رہنماوں اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

    جہاں ان گرفتاریوں کے خلاف بی وائی سی کے زیر اہتمام بلوچستان کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوں گے وہیں بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام ضلع خضدار کے وڈھ سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کیا جارہا ہے۔

    مختلف مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے اس لانگ مارچ کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

    بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے اگر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماوں اور کارکنوں کو رہا نہیں کیا گیا تو لانگ مارچ کو دھرنے میں تبدیل کیا جائے گا۔

    تاہم حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ دفعہ 144کے نفاذ کے باعث شاہراہوں پر احتجاج کی اجازت نہیں اور بی این پی کو احتجاج کے لیے انتظامیہ سے اجازت لینی پڑے گی۔

    پریس کلب کوئٹہ کے سامنے سڑکیں سیل

    پریس کلب کوئٹہ کے سامنے سڑکیں سیل

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاج کے پیش نظر جمعرات کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پریس کلب کے سامنے تمام راستوں کو سیل کردیا گیا۔

    پولیس کی جانب سےسختی کے باعث صحافیوں کو بھی پریس کلب آنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    بدھ کے روز کوئٹہ شہر میں کارکنوں کی گرفتاری اور شیلنگ کی وجہ سے بی وائی سی کوئٹہ شہر میں احتجاج نہیں کرسکی تھی جبکہ جمعرات کو بی وائی سی کے پریس کلب کے باہر احتجاج کے پیش نظر پولیس نے پریس کلب کے سامنے نہ صرف شارع عدالت کو دونوں اطراف سے سیل کیا تھا بلکہ اس کے سامنے والی روڈ کو سیل کیا گیا تھا۔

    جمعرات کو پریس کلب میں جماعت اسلامی کے رہنماوں کو پریس کانفرنس کرنی تھی لیکن پارٹی کے متعدد مقامی رہنمائوں کو پولیس نے پریس کلب آنے نہیں دیا۔

    پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی بلوچستان کے رہنما زاہد اختر نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے بلوچستان کو ویسے جیل میں تبدیل کردیا ہے اب پریس کلب کے سامنے بھی پرامن احتجاج کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

    دوسری جانب بی وائی سی کے رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کا کہنا ہے کہ حب سے بی وائی سی کی دو خواتین کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔

  3. بلوچ راجی آجوئی سنگر کا بلوچستان میں 48 حملے کرنے کا دعویٰ

    بلوچ راجی آجوئی سنگر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بلوچستان میں 48 حملے کیے ہیں۔

    یاد رہے کہ ’بلوچ راجی آجوئی سنگر‘ یا براس بلوچ شدت پسند تنظیموں کے ایک اتحاد کا حصہ ہے اور بی ایل اے بھی حصہ بنی تھی۔

    براس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے ’جنگجو‘ پاکستانی فوج، اس کی ذیلی فورسز، معدنی وسائل لے جانے والی گاڑیوں اور فوجی تنصیبات پر منظم اور مربوط حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    بیان کے مطابق ’یہ حملے 27 مارچ 1948 کے سیاہ دن کی یاد میں کیے جا رہے ہیں جب پاکستان نے بلوچستان پر زبردستی قبضہ کر لیا تھا۔ یہ حملے گزشتہ روز سے جاری ہیں، اور اب تک براس کے جنگجو بلوچستان بھر میں 48 سے زائد کارروائیاں کر چکے ہیں۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کے دوران قابض فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے متعدد اہلکار ہلاک کر دیے گئے جبکہ پاکستانی نیم فوجی دستوں کی کئی چوکیوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔

  4. خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 11 شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

    سکیورٹی فورسز

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق خیبر پختونخوا کے چار مختلف اضلاع میں سکیورٹی فورسز نے کارروائیاں کرتے ہوئے 11 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسندوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔

    آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق 26 اور 27 مارچ کی درمیانی شب سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا میں چار علیحدہ علیحدہ کارروائیاں کیں جس کے نتیجے میں 11 شدت پسند مارے گئے۔

    آئی ایس پی آرکے مطابق ’سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کی۔ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے ان شدت پسندوں کے ٹھکانے کو نشانہ بناتے ہوئے پانچ دہشت گرد مارے گئے۔جبکہ اسی علاقے میں کیے گئے دوسرے آپریشن میں مزید تین عسکریت پسند مارے گئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ایک اور آپریشن شمالی وزیرستان کے ضلع میران شاہ میں کیا گیا جہاں کارروائی کرتے ہوئے دو شدت پسند ہلاک کر دیے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جانب سے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں چوتھا آپریشن کیا گیا جہاں فورسز نے ایک شدت پسند ہلاک کر دیا۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ علاقے میں پائے جانے والے کسی بھی دوسرےشدت پسند کو ختم کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    دوسری جانب وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا میں چار کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کو 11 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے پر خراج تحسین پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

    محسن نقوی نے بیان میں دعویٰ کیا کہ پاکستان میں امن و استحکام کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  5. توہین مذہب کے مقدمات پر کمیشن تشکیل دینے کی درخواست: مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے لیے تیار فریق جوڈیشل کمیشن کے لیے کیوں تیار نہیں؟ اسلام آباد ہائی کورٹ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے توہین مذہب کے مقدمات کے اندراج سے متعلق کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے درخواستوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان درخواستوں میں چند فریق، جو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے لیے تو تیار ہیں، جوڈیشل کمیشن بنانے کے لیے کیوں تیار نہیں ہیں؟

    واضح رہے کہ توہین مذہب کے قانون کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں گرفتار 134 متاثرین کے اہلخانہ نے وفاقی حکومت کو ایک تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کے لیے درخواست دی تھی۔ تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے کمیشن کی تشکیل نہ کرنے پر ان 134 میں سے 101 افراد کے اہلخانہ نے کمیشن کی تشکیل سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹس میں درخواستیں دائر کی تھیں۔

    ان درخواستوں میں موقف اپنایا گیا تھا کہ توہین مذہب کے قوانین کا غلط استعمال کرتے ہوئے ان کے عزیزوں کو پھنسایا گیا لہذا جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کی جائیں۔اسی حوالے سے حال ہی میں نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق نے اکتوبر 2023 سے اکتوبر 2024 کے درمیان درج ہونے والے توہین مذہب کے مقدمات پر ایک مفصل رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق چند افراد کو سوشل میڈیا کے ذریعے ٹریپ کیا گیا۔

    یاد رہے کہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران توہین مذہب کی دفعات کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں 450 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا جن پر الزام تھا کہ انھوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹس پر ایسا مواد شیئر کیا جو توہین مذہب کے ذمرے میں آتا ہے۔ ان 450 گرفتار ملزمان میں 99 فیصد مسلمان ہیں جبکہ 90 فیصد طالب علم ہیں۔

    جمعرات کے دن جب ان درخواستوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے سماعت کی تو ان درخواستوں میں بنائے گئے ایک فریق، سعید انور، کے وکیل نے جوڈیشل کمیشن کی مخالفت میں موقف اپنایا کہ توہین مذہب کے مقدمات میں سزائیں پانے والے 30 سے زیادہ افراد نے اپیلیں دائر کر رکھی ہیں، اس لیے ان کے ورثا کمشین کی تشکیل کے لیے درخواست نہیں دے سکتے۔ واضح رہے کہ سعید انور کی مدعیت میں بھی توہین مذہب کا ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    سعید انور کے وکیل کا کہنا تھا کہ توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اگر کمیشن تشکیل دیا جاتا ہے تو وہ صرف ایک رپورٹ بنا دے گا جس پر عمل درآمد کرنا کسی بھی ادارے کا ایک صوبدیدی اختیار ہوگا جبکہ جے آئی ٹی کسی بھی معاملے کی تحقیقات کر سکے گی جس میں تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل ہوں گے جو کہ ایسے معاملات کی چھان بین کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات سے متعلق جے آئی ٹی بنانے پر تو وہ متفق ہیں لیکن کمیشن بنانے پر اعتراض سمجھ سے بالاتر ہے۔

    واضح رہے کہ نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کے نمائندگان نے ملک کی مختلف جیلوں میں جا کر ان ملزمان سے ملاقاتیں کی ہیں جو توہین مذہب کے مقدمات میں قید ہیں۔ نیشنل کمیشن نے بھی توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے جے آئی ٹی بنانے کی تجویز دی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جواب طلب کیے جانے پر وزارت داخلہ کے ایک نمائندہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ ان کی وزارت کمیشن تشکیل دینے کو تیار ہے اور چونکہ کمیشن کی تشکیل کا اختیار وفاقی کابینہ کے پاس ہے تو اس لیے عدالت نہ صرف انھیں مہلت دے بلکہ کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے گائیڈ لائن بھی دے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس کے بعد وزارت داخلہ کو جو گائیڈ لائن دی تھی اس کے مطابق کمیشن سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں قائم کیا جائے جبکہ اس کمیشن میں ایف آئی اے سائبر کرائم کے علاوہ آئی ٹی ایکسپرٹ اور ایک مذہنی سکالر کو بھی شامل کیا جائے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ سارا معاملہ آن لائن ہو رہا ہے اس لیے کمیشن یہ طے کرے کہ توہین مذہب کا غلط استعمال نہ ہو۔

    توہین مذہب کے قانون کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں نامزد 101 درخواست گزاروں کے وکیل عثمان وڑائچ نے بی بی سی کو بتایا کہ توہین مذہب کا معاملہ پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے اور جو معاملہ اتنا حساس اور پورے ملک میں پھیلا ہوا ہو، اس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی کیسے تشکیل دی جا سکتی ہے۔

    عثمان وڑائچ کا کہنا تھا کہ توہین مذہب سے متعلق جو مقدمات بنائے گئے ہیں ان کی تحقیقات کے لیے اگر جے آئی ٹی بنائی جاتی ہے تو ان میں سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کا جج ہوگا نہ ہی کوئی ریٹائرڈ پولیس افسر ہوگا۔

    عدالت نے کمیشن کی تشکیل سے متعلق درخواستوں کی سماعت 7 اپریل تک ملتوی کر دی ہے۔

  6. گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    اس سے پہلے کہ ہم آج کی تازہ خبروں کو شامل کریں یہاں پہلے گزشتہ روز کی اہم خبروں پر نظر ڈال لیتے ہیں۔

    • بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ میں ایک مصروف بازار کے قریب ہونے والے دھماکے میں تین افراد ہلاک اور 21 زخمی ہو گئے ہیں۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کے مطابق کوئٹہ کے وسط میں ڈبل روڑ پر ہونے والے اس دھماکے میں پولیس موبائل وین کو نشانہ بنایا گیا۔
    • پاکستان کے دفتر خارجہ نے بلوچستان سے متعلق اقوام متحدہ کے بعض ماہرین کے بیان پر رد عمل میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے بعض ماہرین کے تبصرے یکطرفہ، غیر متوازن اور غیر مصدقہ میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں۔ دہشت گرد حملوں میں شہری ہلاکتوں کو کم کرکے پیش کیا گیا ہے۔ شرپسند عناصر کے جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نظر انداز نہیں کی جا سکتیں۔
    • امریکہ میں مقیم پاکستانی صحافی احمد نورانی کے نو دن سے لا پتا دو بھائیوں کی بازیابی کی درخواست کی سماعت کے دوران آئی جی اسلام آباد نے دو ہفتوں کا وقت مانگ لیا۔
    • پشاور سے کوئٹہ کے دوران ٹرین کا سفر تقریبا دو ہفتے معطل رہنے کے بعد جمعرات کے روز بحال کر دیا گیا ہے جس کے بعد پشاور کے ریلوے سٹیشن سے جعفر ایکسپریس کوئٹہ کے لیے روانہ کر دی گئی ہے۔
    • امریکہ کے کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی ایک رپورٹ میں انڈیا کی انٹیلیجنس ایجنسی ’را‘ پر مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کے خلاف پابندیوں کی سفارش کی ہے۔
    • وزیر اعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے علاقے کلمت میں بس سے اتار کر مسافروں پر فائرنگ کر کے پانچ افراد کو ہلاک کرنے کوافسوسناک قرار دیتے ہوئے اس واقعے شدید مذمت کی ہے۔ پانچ افراد کی ہلاکت کا واقعہ گزشتہ روز ضلع گوادر میں کوسٹل ہائی وے پر پسنی اور کلمت کے درمیان پیش آیا تھا۔
  7. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ یہاں ہم آپ کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تازہ ترین تجزیوں کو شامل کریں گے۔

    تاہم اگر آپ 27 مارچ کی خبروں کو پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں