ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر رہنماؤں کی رہائی کے لیے مستونگ میں دھرنا
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی دیگر خواتین رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف مستونگ کے علاقے لک پاس پر دھرنا اتوار کو تیسرے روز بھی جاری رہا۔ لک پاس اور گردونواح کے علاقوں میں انتظامیہ کی جانب سے رکاوٹوں کی وجہ سے کوئٹہ، کراچی شاہراہ اور کوئٹہ، تفتان شاہراہ کے ذریعے کوئٹہ کا بلوچستان کے مغربی اور جنوبی علاقوں سے رابطہ تیسرے روز بھی منقطع رہا۔
خلاصہ
میانمار میں زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری، 100 سے زائد افراد کو بچالیا گیا
میانمار میں جمعے کے روز آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تقریباً 1700 ہو گئی ہے۔
میانمار میں 3400 سے زائد افراد زلزلے کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں جبکہ 300 کے قریب لوگ تاحال لاپتہ ہیں۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں قبائل کے درمیان آٹھ ماہ کے لیے امن معاہدہ پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔ جس کے بعد آمد و رفت کے لیے بند پڑی اہم قومی شاہراہوں کو کھولنے سمیت قیام امن کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے ضلع مردان کے پہاڑی علاقے کاٹلنگ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران خواتین اور بچوں سمیت عام شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
لائیو کوریج
بریکنگ, میانمار میں 7.7 شدت کے زلزلے میں 144 افراد ہلاک، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
میانمار میں آج آنے والے7.7
شدت کے زلزلے کے نتیجے میں اب تک 144 افراد ہلاک اور 732 زخمی ہو چکے ہیں۔
بی بی سی برما کی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار
میانمار کے فوجی رہنما من آنگ ہلائینگ کی جانب سے سامنے آئے ہیں جن کا کہنا ہے کہ ان
اعداد و شمار میں اضافے کا خدشہ ہے۔
فوجی رہنما کا کہنا ہے کہ اب تک نئی پی تو میں نامی
علاقے میں 96،
سیگینگ میں 18 اور
منڈلے میں 30 افراد
ہلاک ہوئے ہیں۔
فوجی اعداد و شمار کے مطابق زخمیوں میں سے 132 نئی پی تو اور 300 سگنگ میں تھے جبکہ دیگر علاقوں میں
اب بھی ان کی تعداد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ادھر تھائی لینڈ میں ایک اونچی عمارت کے گرنے سے تین
افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
میانمار میں آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جمعے کے روز وسطی میانمار میں 7.7
شدت کے زلزلے کی وجہ سے متعدد علاقوں لرز اُٹھے۔ نا صرف میانمار بلکہ تھائی لینڈ
اور جنوب مغربی چین سمیت دیگر علاقوں میں بھی اس زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
امدادی کارروائیوں میں مصروف
امدادی کارکُنان کی جانب سے سیکڑوں افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا
ہے، تاہم اب تک ہلاکتوں کے حوالے سے سرکاری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
ہم اب تک جانتے ہیں۔
زلزلہ کہاں آیا؟
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق
زلزلے کا مرکز میانمار کے شہر ساگانگ سے 16 کلومیٹر شمال مغرب میں تھا اور اس کی
گہرائی 10 کلومیٹر تھی۔
یہ میانمار کے دوسرے سب سے بڑے
شہر منڈلے کے قریب ہے، جس کی آبادی تقریباً 15 لاکھ ہے اور دارالحکومت نی پی تو سے
تقریباً 100 کلومیٹر شمال میں ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
زلزلے سے سب سے زیادہ
کون سے علاقے متاثر ہوئے؟
میانمار بھر میں ہی عمارتوں کو
نقصان پہنچنے کے علاوہ دارالحکومت میں سڑکیں بُری طرح سے ٹوٹ پھوٹ گئی ہیں اور
زلزلے کی وجہ سے ان میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔
تھائی لینڈ اور جنوب مغربی چین
سمیت دیگر علاقوں میں بھی زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔
تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک
میں زلزلے کے مرکز سے سینکڑوں میل دور ایک زیرِ تعمیر عمارت کے گرنے سے اس میں کام
کرنے والے 81 تعمیراتی کارکن لاپتہ ہیں۔
ایک ویڈیو میں بینکاک میں چھت پر
ایک تالاب سے پانی کو گرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ زلزلہ کتنا مہلک
تھا؟
سرکاری طور پر ہلاکتوں کے اعداد و
شمار سامنے آنے میں کچھ وقت لگے گا لیکن منڈلے میں قائم ایک ریسکیو ٹیم کے ایک رکن
نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد ’کم از کم بھی ہوئی تو سینکڑوں
میں ہوں گی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم اس
وقت صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کیونکہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
میانمار میں تازہ
ترین صورتحال کا پتہ لگانا کتنا مشکل ہے؟
میانمار جسے پہلے برما کے نام سے
جانا جاتا تھا سے معلومات حاصل کرنا اس وقت انتہائی مُشکل کام ہے۔
میانمار میں سنہ 2021 میں فوجی بغاوت کے بعد سے فوجی حکومت
قائم ہے جس کی وجہ سے معلومات تک رسائی میں مُشکلات کا سامنا ہے۔
ریاست یعنی فوجی حکومت تقریباً
تمام مقامی ریڈیو، ٹیلی ویژن، پرنٹ اور آن لائن میڈیا کو کنٹرول کرتی ہے اور
میانمار میں انٹرنیٹ کا استعمال بھی محدود ہے۔
زلزلے کے بعد سے متاثرہ علاقوں
میں موبائل نیٹ ورک خراب ہیں اور ہزاروں متاثرین بجلی کی بندش کی وجہ سے مُشکلات
کا شکار ہیں۔ اس صورتحال میں بی بی سی کو بھی زمینی حقائق معلوم کرنے میں مُشکلات
کا سامنا ہے۔
پاکستان کا میانمار اور تھائی لینڈ کے زلزلہ متاثرین سے اظہار یکجہتی
،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
پاکستانی دفتر خارجہ نے میانمار،
تھائی لینڈ اور ہمسایہ ممالک میں آنے والے تباہ کن زلزلے پر افسوس کا اظہار کیا
ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے
جمعے کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ’ہماری ہمدردیاں اس سانحے سے
متاثر ہونے والے ہر شخص کے ساتھ ہیں اور ہم تمام متاثرین کے ساتھ ساتھ زخمیوں کی
جلد صحت یابی کے لئے دعا گو ہیں۔‘
دفتر خارجہ نے مُشکل کی اس گھڑی
میں ہنگامی امداد فراہم کرنے والوں کو سراہا جو امدادی کاموں کے لیے اپنی خدمات
پیش کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ میانمار میں جمعے کے
روز آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے سے جہاں مُلک کے اندر بڑے پیمانے پر املاک کو نقصان پہنچا ہے
وہیں امدادی کارکُنان کی جانب سے سینکڑوں ہلاکتوں کا خدشہ بھی ظگہر کیا جا رہا ہے۔
انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں 3 پولیس اہلکار اور 3 عسکریت پسند ہلاک, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو سرینگر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی خطہ جموں میں
انڈیا اور پاکستان کی سرحد کے قریب کٹھوعہ میں وسیع فوجی آپریشن کے دوران صوفیاں
علاقے میں مسلح عسکریت پسندوں اور انڈین فورسز کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی۔
فوج کی رائزنگ سٹار کور کے مطابق جھڑپ میں جموں
کشمیر پولیس کی سپیشل فورسز کے تین اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ ایک پولیس افسر سمیت
سات اہلکار زخمی ہوئے۔
انڈین فوج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں
کہا گیا ہے کہ ’صوفیاں بستی کے قریبی جنگلات میں مسلح عسکریت پسندوں کی خفیہ اطلاع
ملتے ہی فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس کی سپیشل فورسز نے وسیع علاقے کا محاصرہ
کیا۔‘
ایک فوجی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا
کہ ’جنگل کے قریب ایک گہری کھائی میں عسکریت پسندوں کی تلاش میں مصروف فورسز کی
مشترکہ پارٹی پر شدید فائرنگ کی گئی، جس میں تین اہلکار ہلاک ہوگئے تاہم جوابی کارروائی
میں تین غیر کشمیری عسکریت پسند بھی مارے گئے۔‘
واضح رہے کہ اس سے تین روز قبل بھی صوفیاں علاقے سے
تیس کلومیٹر دُور سنیال جنگلات میں فورسز اور مسلح عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ
کا تبادلہ ہوا تھا جس کے بعد سرچ آپریشن کے دوران حملہ آور فرار ہوگئے۔
فوج اور پولیس کی جانب سے ملنے والی اطلاعات کے
مطابق ’یہ بھی ممکن ہے کہ جو عسکریت پسند سرحد عبور کر کے ہیرا نگر کے سنیال میں
آئے تھے وہی صوفیاں جنگلات میں چھپنے کے لئے آئے ہوں۔‘
فوج کے مطابق دراندازوں کی تعداد 5 تھی جن میں سے
تین کو ہلاک کیا گیا ہے۔ باقی دو عسکریت پسندوں کو تلاش کرنے کے لئے وسیع پیمانے
پر آپریشن جاری ہے۔
واضح رہے آپریشن میں انڈیا کی ایلیٹ فورس نیشنل سکیورٹی
گارڈز کے اہلکار بھی شامل ہوگئے ہیں اور عسکریت پسندوں کو تلاش کرنے کے لئے ہیلی
کاپٹر اور ڈرونز سے بھی مدد لی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق مارے جانے والے عسکریت پسندوں کی
لاشوں کو تحویل میں لینے کا عمل آپریشن ختم ہونے کے بعد شروع ہوگا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران
جموں کے کٹھوعہ، ریاسی، راجوری اور پونچھ میں مسلح حملوں میں تیزی آئی ہے، جسکے
بعد پورے خطے میں سکیورٹی کو مزید سخت کیا گیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کی گرفتاری اور تشدد کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی کا لانگ مارچ, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ
ڈاکٹر ماہ رنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی
(بی وائی سی) کے رہنماؤں کی گرفتاری اور تشدد کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی کا لانگ
مارچ کوئٹہ کی جانب رواں دواں ہے۔
پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل
کی قیادت میں لانگ مارچ کا آغاز ضلع خضدار کے علاقے وڈھ سے ہوا تھا۔
جمعے کے روز دوپہر 12 بجے خضدار روانگی
سے قبل سردار اختر مینگل نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ شام 7 بجے تک کوئٹہ میں
سونا خان تھانے کے علاقے میں پہنچیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ لانگ مارچ کسی
سیاسی مقصد کے لیے نہیں اور نہ ہی کسی ایک پارٹی کی ہے بلکہ یہ بلوچستان کے عوام کی
ننگ و ناموس کے تحفظ کے لیے اس لیے لوگ اس میں بھرپور شرکت کریں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’وہ اپنے عید کے
کپڑوں کے علاوہ، کفن اور کدال بھی ساتھ اُٹھا کر اس لانگ مارچ میں شرکت کررہے ہیں۔‘
اس سے قبل انھوں نے اپنے ایک ویڈیو
میں پیغام میں کہا تھا کہ ’اگر گرفتار خواتین کو رہا نہیں کیا گیا تو لانگ مارچ کو
دھرنا میں تبدیل کیا جائے گا۔‘
نجی میڈیکل کالجوں کی ٹیوشن فیس کے لیے حد مقرر کرنے کا اعلان
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی ہدایت
پر تشکیل دی گئی کمیٹی برائے میڈیکل ایجوکیشن ریفارمز، جس کی سربراہی نائب وزیر اعظم
کر رہے ہیں، نے جمعے کے روز نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کی سالانہ ٹیوشن فیس ایم بی
بی ایس اور بی ڈی ایس پروگرامز کے لیے 18 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔
کمیٹی برائے میڈیکل ایجوکیشن ریفارمز
کے جمعے کے روز ہونے والے اجلاس میں ڈاکٹر طارق باجوہ (کو چیئر)، وفاقی وزیر برائے
قومی صحت سروسز، ریگولیشنز اور کوآرڈینیشن این ایچ ایس آر اینڈ سی مصطفی کمال، وزیر
مملکت برائے این ایچ ایس آر اینڈ سی ڈاکٹر مختار احمد بھرت، وفاقی سیکریٹری برائے این
ایچ ایس آر اینڈ سی ندیم محبوب، صدر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل پروفیسر ڈاکٹر
رضوان تاج، کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے نائب صدر پروفیسر ڈاکٹر مسعود گوندل
سمیت دیگر شال تھے۔
اجلاس میں شرکا کا کہنا تھا کہ ’نجی
میڈیکل کالجز میں بڑھتی ہوئی فیسیں عوام، طلبہ اور والدین کے لیے ایک دیرینہ مسئلہ
رہی ہیں۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے پہلے بھی 4 جون 2022، 10 دسمبر 2023،
اور 23 فروری 2024 کے اجلاسوں میں یہ معاملہ زیر بحث آیا تھا۔‘
مزید برآں، 27 فروری 2025 کو کونسل
کے فیصلے کے مطابق پروفیسر ڈاکٹر مسعود گوندل کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی تشکیل
دی گئی جس نے تین اجلاسوں کے دوران نجی اداروں اور پاکستان ایسوسی ایشن آف میڈیکل انسٹی
ٹیوشنز کے نمائندوں سمیت مختلف سٹیک ہولڈرز
سے مشاورت کے بعد جامع تجزیہ پیش کیا۔
تفصیلی مالیاتی جائزے اور ذیلی کمیٹی
کی سفارشات کی روشنی میں کمیٹی برائے میڈیکل ایجوکیشن ریفارمز نے فیصلہ کیا کہ نجی
میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کے لیے سالانہ ٹیوشن فیس 18 لاکھ روپے مقرر کی جائے گی جبکہ
سالانہ فیس میں اضافہ صارف قیمت اشاریہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ ایم بی بی ایس کے
لیے یہ فیس پانچ سال اور بی ڈی ایس کے لیے چار سال تک لاگو ہوگی۔ اس فیس ڈھانچے کو
عوامی سطح پر اعلان کیا جائے گا اور اس کا مکمل نفاذ یقینی بنایا جائے گا تاکہ شفافیت
کو برقرار رکھا جا سکے۔
تاہم، ایسے ادارے جو اپنی مالی ضروریات
کے پیش نظر زیادہ سے زیادہ 25 لاکھ روپے تک کی فیس مقرر کرنا چاہتے ہیں، انھیں پاکستان
میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو تفصیلی مالیاتی جواز پیش کرنا ہوگا۔ اس جواز میں اضافی
تعلیمی سہولیات، مہیا کردہ خدمات، اور دیگر اداروں کے ساتھ فیس کا موازنہ شامل ہونا
چاہیے۔ غیر ضروری اور غیر معقول فیس میں اضافہ ہرگز قابل قبول نہیں ہوگا۔
کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ صرف مناسب
اور معقول دلائل کے ساتھ پیش کیے گئے اضافے ہی قابل غور سمجھے جائیں گے تاکہ تعلیمی
اخراجات میں غیر ضروری بوجھ نہ ڈالا جائے۔
میانمار زلزلہ: بینکاک میں منہدم ہونے والی عمارت میں 3 افراد کی ہلاکت کی تصدیق
،تصویر کا ذریعہGetty Images
تھائی لینڈ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ
فار ایمرجنسی میڈیسن کا کہنا ہے کہ بینکاک میں زلزلے کی وجہ سے زیرتعمیر عمارت کے
منہدم ہونے سے تین افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے۔
فیس بک پر ایک اپ ڈیٹ میں مزید
کہا گیا ہے کہ اس زیر تعمیر عمارت میں کام کرنے والے دیگر 68 کارکُنان زخمی ہوئے
ہیں اور انھیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ زخمی ہونے
والوں میں سے پانچ افراد کی حالت نازک ہے۔
تھائی لینڈ کے نائب وزیر اعظم کے
مطابق سائٹ کے 81 تعمیراتی کارکن اب بھی عمارت کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
شدت پسندوں کے حملے کے 17 روز بعد جعفر ایکسپریس کوئٹہ سے پشاور کے لیے روانہ
شدت پسندوں کے حملے کا نشانہ بننے والی جعفر ایکسپریس 17 روز بعد بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے پشاور کے لیے روانہ ہوئی ہے۔
مسلم لیگ ن کے رکن قومی
اسمبلی جمال شاہ کاکڑ نے ریلوے سٹیشن سے ٹرین کو روانہ کیا۔
دس بوگیوں کے ساتھ
430 مسافروں کو لے کر ٹرین ریلوے سٹیشن سے روانہ ہوئی ۔ ادھر پشاور سے گزشتہ روز روانہ
ہونے والی جعفر ایکسپریس آج شام کوئٹہ پہنچے گی۔
خیال رہے کہ 11مارچ کو
ضلع کچھی میں بولان کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے کے بعد کوئٹہ سے دوسرے
صوبوں کے لیے ٹرین سروس معطل ہوگئی تھی۔
اس حملے میں 18 سکیورٹی
اہلکاروں سمیت 26 مسافر ہلاک ہوئے تھے۔
ڈی ایس ریلویز کوئٹہ ڈویژن
عمران حیات نے ٹرین کی روانگی کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ
’ٹرینوں کی سکیورٹی کے لیے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ٹرین
کے اندر بھی سکیورٹی اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔
بریکنگ, میانمار میں زلزلے کے بعد امدادی کارکنان کو ’بڑے جانی نقصان‘ کا خدشہ
،ویڈیو کیپشنمیانمار میں آنے والے زلزلے کے بعد بینکاک میں بھی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے
میانمار میں منڈلے میں قائم ایک امدادی ٹیم کے
ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’نقصان بہت زیادہ ہوا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’7.7 شدت کے
زلزلے میں خدشہ ہے کہ اموات کی تعداد بھی کافی زیادہ ہو سکتی ہیں۔ ہم ابھی صرف
اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کیونکہ ابھی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔‘
ہلاک ہونے والوں کی صحیح تعداد
ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے لیکن تباہی کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہلاکتوں
کی تعداد سینکڑوں میں ہو سکتی ہے۔
تھائی لینڈ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ
فار ایمرجنسی میڈیسن کا کہنا ہے کہ تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں عمارت گرنے
کے مقام پر 70 تعمیراتی کارکن لاپتہ ہیں۔
فیس بک پر ایک پوسٹ میں یہ دعویٰ
کیا گیا ہے کہ جس وقت یہ عمارت منہدم ہوئی اُس وقت اس سائٹ پر تقریباً 320 مزدور
موجود تھے اور ان میں سے 20 لفٹ شافٹ میں پھنسے ہوئے ہیں۔
اس زیر تعمیر عمارت میں ہلاکتوں
کی تعداد تو ابھی واضح نہیں ہے تاہم جائے حادثہ پر ایک فیلڈ ہسپتال قائم کر دیا
گیا ہے جہاں امدادی کارکن زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
میانمار میں 7.7 شدت کے زلزلے کے بعد چھ علاقوں میں ہنگامی حالت کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق
میانمار میں سنہ 2021 میں فوجی بغاوت کے بعد سے حکومت کرنے والی فوج نے ساگانگ،
منڈلے، میگ وے، باگو، ایسٹر شان ریاست اور نیپیڈو کے علاقوں میں ہنگامی حالت کا
اعلان کر دیا ہے۔
ایک بیان مزید کہا گیا ہے کہ حکام
نقصانات کی تحقیقات کریں گے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کو مربوط کرنا
شروع کریں گے۔
اس سے قبل فوجی حکومت نے کہا تھا
کہ زلزلے کا مرکز میانمار کے دوسرے سب سے بڑے شہر منڈلے کے قریب تھا اور لوگوں کو
اگلے چھ گھنٹوں کے اندر آفٹر شاکس سے متعلق آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق ریاست شان کے جنوبی علاقے منڈلے، ساگانگ میں ایک ہوٹل، پل، نرسری سکول اور اپارٹمنٹس سمیت بہت سی عمارتیں منہدم ہوئی ہیں۔
پلوں سمیت کچھ علاقوں میں ینگون منڈلے شاہراہ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
تاہم بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بندش اور انٹرنیٹ کے معطل ہونے کی وجہ سے شدید مُشکلات کا سامنا ہے۔
بجلی کی بندش اور انٹرنیٹ کے معطل ہونے سے امدادی کارروائیوں میں مُشکلات کا سامنا ہے: ریڈ کراس
بین الاقوامی امدادی تنظم ریڈ
کراس کی جانب سے میانمار میں آنے والے زلزلے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ادارے سے
منسلک امدادی کارکُنان زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف
ہیں۔
تاہم تنظیم کا کہنا ہے کہ زلزلے
سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بندش اور انٹرنیٹ کے معطل ہونے کی وجہ سے شدید
مُشکلات کا سامنا ہے۔
امدادی تنظیم کا کہنا ہے کہ منڈلے
اور ساگانگ کے علاقوں میں ٹیلی فون نیٹ ورک بھی بند ہے۔
اس کے باوجود ریڈ کراس کا کہنا ہے
کہ وہ نقصان کے نتیجے میں ’انسانی ضروریات‘ کے بارے میں معلومات جمع کرنا کی
بھرپور کوشش میں ہیں۔
میانمار میں جمعے کی صبح آنے والے
زلزلے اور اُس کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلے جاری ہے۔ زلزلے کے بعد بی بی سی کو موصول
ہونے والی تصاویر میں منہدم ہونے والی رہائشی عمارتوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے نے زلزلے
کے مرکز کی نشاندہی کی ہے جس کے قریب منڈلے نامی شہر ساگانگ سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
،تصویر کا ذریعہBBC Burmese Service
،تصویر کا ذریعہBBC Burmese Service
،تصویر کا ذریعہBBC Burmese Service
،تصویر کا ذریعہBBC Burmese Service
میانمار میں 7.7 شدت کے زلزلے کے بعد آفٹر شاکس، بینکاک میں زیر تعمیر عمارت گرنے سے درجنوں افراد لاپتہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق
میانمار میں آنے والے پہلے زلزلے کے 12 منٹ کے بعد ایک اور زلزلہ آیا ہے۔
دوسرے زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر
6.4 ریکارڈ کی گئی جو اس سے قبل 7.7 کی شدت سے کم تھی۔
دوسرے زلزلے کا مرکز ساگانگ سے 18
کلومیٹر جنوب میں تھا۔
تھائی حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے
کے نتیجے میں بینکاک میں 30 منزلہ زیر تعمیر عمارت منہدم ہونے کے بعد 43 تعمیراتی
کارکن لاپتہ ہیں۔
میانمار میں زلزلے کے مرکز سے
سینکڑوں میل دور چتوچک پارک کے قریب عمارت کے اندر پچاس افراد موجود تھے۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ایمرجنسی
میڈیسن نے ایک فیس بک پوسٹ میں بتایا کہ سات افراد زلزلے کے وقت اس زیرِ تعمیر عمارت
سے نکلنے میں کامیاب ہوئے جبکہ 43 دیگر ابھی بھی پھنسے ہوئے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے
پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ 43 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
بانگ سو ضلع کے ڈپٹی پولیس چیف
ورپت سختائی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’جب میں جائے وقوعہ کا
معائنہ کرنے کے لیے پہنچا تو میں نے لوگوں کو مدد کے لیے پکارتے ہوئے سنا۔‘
میانمار میں آنے والے 7.7 شدت کا زلزلہ، بینکاک میں عمارتیں لرز اُٹھیں
میانمار میں آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے کے جھٹکوں کی وجہ سے بینکاک میں کثیر منزلہ عمارت کے اُپر
بنے سوئمنگ پول سے پانی کے گرنے کے مناظر
میانمار میں زلزلے کے بعد معلومات تک رسائی محدود
میانمار میں آنے والے 7.7 شدت کے
زلزلے کے بعد بینکاک میں عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے اور میانمار کے دارالحکومت
نیپیڈو میں سڑکیں آمد و رفت کے لیے بند ہیں۔
بینکاک میں عمارتیں عام طور پر
زلزلوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ڈیزائن نہیں کی جاتی ہیں لہذا نقصان کا خدشہ ہے۔
میانمار میں سنہ 2021 میں فوجی
بغاوت کے بعد سے فوجی حکومت قائم ہے جس کی وجہ سے زلزلے کے بعد معلومات تک رسائی
میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ریاست تقریباً تمام مقامی ریڈیو، ٹیلی ویژن، پرنٹ اور آن
لائن میڈیا کو کنٹرول کرتی ہے۔
ایسے میں مُلک بھر میں انٹرنیٹ کا
استعمال بھی محدود ہے جس کی وجہ سے بی بی سی کو بھی زلزلے کے بعد امدادی سرگرمیوں
میں مصروف اداروں تک رسائی میں مُشکلات کا سامنا ہے۔
بی بی سی کی جانب سے میانمار سے
معلومات جمع کرنے اور آن لائن شیئر کی جانے والی فوٹیج کی تصدیق کرنے کا سلسلہ
جاری ہے۔
زلزلہ سے متاثرہ علاقوں سے موصول ہونے والی چند تصاویر:
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
میانمار میں 7.7 شدت کا زلزلہ، جھٹکے چین اور تھائی لینڈ تک محسوس کیے گئے
،تصویر کا ذریعہReuters
میانمار میں آنے والے زلزلے سے
متعلق امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کا کہنا ہے کہ زلزلے کی شدت ریکٹر
سکیل پر 7.7 ریکارڈ کی گئی ہے۔
میانمار میں آنے والے زلزلے کے
جھٹکے چین اور تھائی لینڈ میں بھی محسوس کیے گئے، سوشل میڈیا پر شئیر کی جانے والی
ویڈیوز میں لوگوں کو بینکاک میں عمارتوں کو خالی کرتے اور سڑکوں پر جمع ہوتے ہوئے
دیکھا جا سکتا ہے۔
یو ایس جی ایس کے مطابق زلزلے کا
مرکز میانمار کے شہر ساگانگ سے 16 کلومیٹر شمال مغرب میں منڈلے شہر کے قریب تھا۔ یہ
دارالحکومت نیپیڈو سے تقریباً 100 کلومیٹر شمال میں واقع علاقہ ہے۔
نیپیڈو میں خبر رساں ادارے اے ایف
پی کے صحافیوں کا کہنا ہے کہ زلزلے کے جھٹکوں کی وجہ سے سڑکیں لرز گئیں اور متعدد
عمارتوں کو جزوی نقصان پہنچا تاہم بعض مقامات سے سامنے والے والی تصاویر میں دیکھا
جا سکتا ہے کہ کُچھ عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو گئیں۔
بینکاک میں موجود بی بی سی کے نامہ
نگاروں کا کہنا ہے کہ ’زلزلے کے وقت عمارتیں بُری طرح سے ہل رہی تھیں اور انھوں نے
لوگوں کو اپنے گھر، کاروباری مراکز اور دیگر جگہوں سے جان بچانے کے لیے کھلے
مقامات کی جانب پریشانی کے عالم میں بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
آئی ایم ایف کی پاکستان کو بجلی کی قیمت میں ایک روپے فی یونٹ کمی کی اجازت, تنویر ملک ، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بین الااقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) نے پاکستان کو بجلی کی قیمت میں ایک روپے فی یونٹ کمی کی اجازت دے دی ہے تاہم آئی ایم ایف نے بجلی پر ٹیکسوں میں کمی کی پاکستان کی تجویز کو مسترد کیا ہے۔
پاکستان کے مقامی میڈیا کے مطابق پاکستان میں آئی ایم ایف کے مشن چیف نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ادارے نے بجلی کی قیمت میں کمی پر اتفاق کیا ہے جو ایک روپے فی یونٹ ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ اس کمی کے لیے کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی لگا کر اضافی ریونیو اکٹھا کیا جائے گا تاکہ بجلی کے شعبے پر اس کمی سے بوجھ نہ پڑے۔
انھوں نے کہا کہ اس کمی کا فائدہ تمام صارفین کو ہوگا اگر اس کا منفی اثر بجٹ میں مالی اہداف پر نہ ہو۔
واضح رہے کہ چند روز قبل پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدے طے پایا جس کی آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری کے بعد توسیعی فنڈ فیسیلیٹی کے تحت ایک ارب ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔
پرو گرام کے تحت مجموعی قرض کی رقم دو ارب ڈالر ہوجائے گی۔
اس کے علاوہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی اور آفات سے نمٹنے کے لیے 28 ماہ کی ارینجمنٹ کے تحت 1.3 ارب ڈالر ملیں گے۔
فلسطین کے حامی مظاہرین کے خلاف کارروائی، امریکہ نے 300 غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کر دیے, میڈیلائن ہیلپرٹ، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے تصدیق کی ہے کہ فلسطین کے حامی مظاہرین کے خلاف کارروائی کے تحت امریکہ نے کم از کم 300 غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں۔
گیانا کے دورے کے دوران مارکو روبیو سے صحافیوں نے جب پوچھا کہ حکومت نے یونیورسٹیوں میں اسرائیل مخالف بیانیے کے خلاف کتنے ویزے منسوخ کیے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’شاید یہ تعداد اب 300 سے بھی زیادہ بڑھ چکی ہے کیونکہ یہ کام روزانہ کی بنیاد پر ہو رہا ہے جب بھی مظاہرین میں سے کسی کے بھی بارے میں علم ہوتا ہے۔‘
مارک روبیو کا یہ بیان اس واقعے کے بعد سامنے آیا ہے جب امریکی حکام نے ٹفٹس یونیورسٹی کی ڈاکٹریٹ کی ایک ترک طالبہ کو گرفتار کیا۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد احتجاج
یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر رومیسا اوزترک نامی طالبہ کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں انھیں میساچوسٹس بوسٹن میں سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں کی طرف سے بغیر نمبر والی گاڑی میں لے جاتے دکھایا گیا ہے۔
ان کی اس گرفتاری کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید احتجاج کیا گیا۔
یاد رہے کہ رومیسا اوزترک ایک فل برائٹ سکالر ہیں جو ٹفٹس یونیورسٹی میں چائلڈ سٹڈی اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ میں ڈاکٹریٹ پروگرام کر رہی ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارک روبیو نے جمعرات کو میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ’اگر آپ امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے ویزا لیتے ہیں اور آپ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آپ یونیورسٹیوں میں توڑ پھوڑ کریں، طلبہ کو ہراساں کریں، عمارتوں پر قبضہ کریں اور انتشار پھیلائیں، تو ہم آپ کو ویزا نہیں دیں گے۔‘
ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ رومیسا اوزترک پر کیا الزام عائد کیا گیا ہے
دوسری جانب مارکو روبیو نے رومیسا اوزترک پر لگائے گئے مخصوص الزامات کی تفصیل نہیں بتائی تاہم رومیسا نے گزشتہ سال یونیورسٹی کے اخبار میں ایک ایسا مضمون بھی لکھا تھا جس میں اسرائیل سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں سے یونیورسٹی کی سرمایہ کاری واپس لینے اور فلسطینی نسل کشی کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اوزترک کی وکیل مہسا کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات سے ایسا لگتا ہے کہ ان کی گرفتاری ان کی آزادانہ اظہارِ رائے کی وجہ سے ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ واضح کر چکی ہے کہ امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ کے تحت ان غیر شہریوں کو ملک بدر کیا جا سکتا ہے جو امریکی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے مفادات کے خلاف کام کریں۔
جنوری میں صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے اینٹی سیمیٹزم (یہود مخالف سرگرمیوں) کے خلاف کارروائی کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سے گرفتاریوں کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا تھا۔
ضلع کرم میں ساڑھے پانچ ماہ گزرنے کے بعد بھی حالات میں خاطر خواہ بہتری نہ آ سکی, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں ساڑھے پانچ ماہ بعد بھی حالات میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں آ سکی۔ پاڑہ چنار کے لیے سکیورٹی اہلکاروں کے کانوائے میں بھی مکمل سامان نہیں پہنچ رہا جبکہ لوئر کرم میں لوگ اپنے مطالبات پر عمل درآمد کے انتظار میں ہیں۔
اپر کرم کے علاقے پاڑہ چنار کے لیے اشیائے خورد و نوش کے 200 سے زائد ٹرکوں کا قافلہ گزشتہ روز پہنچا دیا گیا تھا جبکہ مقامی لوگوں کے مطابق بڑی تعداد میں ٹرک نا معلوم وجوہات کی بنا پر واپس کر دیے گئے تھے۔
ٹرکوں کی واپسی پر تاجروں اور عمائدین نےافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کنوائی کے نام پر لوگوں کو مشکلات میں ڈالا جا رہا ہے۔
تاجر رہنما نذیر احمد کا کہنا تھا کہ طویل انتظار کے بعد گزشتہ روز امید تھی کہ ماہ رمضان اور اب عید کے لیے سامان پہنچ جائے گا لیکن بڑی تعداد میں گاڑیوں کو چھپری سے پہلے روک کر واپس کر دیا گیا ہے۔
پاڑاچنار میں احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے سماجی راہنما مسرت بنگش اور ملک زرتاج کا کہنا تھا کہ جہاں رمضان المبارک کے موقع پر سحری و افطاری کے لیے سامان موجود نہیں تھا اور دیر سے کنوائیوں کی وجہ سے لوگ خوراک و علاج سے محروم رہے۔
وہاں عید کے موقع پر لایا جانے والا سامان بھی نہ پہنچ سکا جو کہ انتہائی افسوسناک امر ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ اگر آمدورفت کے راستے نہ کھولے گئے تو عید کے بعد وہ ملک بھر میں احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ اور پولیس کا کہنا ہے کہ سکیورٹی خدشات کی باعث کنوائی میں شامل کچھ گاڑیوں کو واپس کیا گیا ہے اور انھیں لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ادھر لوئر کرم سے تعلق رکھنے والے افراد کا پشاور پریس کلب کے سامنے دھرنا دو روز پہلے ختم کر دیا گیا ہے اور انھیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ان کے مطالبات تسلیم کیے جائیں گے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
یاد رہے کہ پشاور میں لوئر کرم کے لوگوں کا دھرنا 32 دن تک جاری رہا۔
ان دھرنا منظمین کا کہنا تھا کہ حکومت نے عید کے بعد لوئر کرم کے علاقے بگن میں 22 نومبر کو حملے سے نقصانات کا معاوضہ دینے اور گرفتار افراد کو رہا کرنے کا کہا ہے۔
ادھر لوئر کرم کے علاقوں سے آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی اب تک واپسی نہیں ہو سکی۔
بگن، اچت، مندوری اور دیگر علاقوں سے لوگوں کو نقل مکانی کا کہا گیا تھا اور بڑی تعداد میں لوگ قریبی اضلاع میں کیمپوں اور اپنے رشتہ داروں کے ہاں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
صحافی وحید مراد کو 50 ہزار کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہSocial Media
اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے پاکستانی صحافی وحید مراد کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں 50 ہزار کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ان کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی ہے۔
یاد رہے کہ صحافی وحید مراد کو منگل کی شب نامعلوم افراد ان کی رہائش گاہ سے زبردستی لے گئے تھے جس کے بعد بدھ کی صبح ان کی بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔
درخواست میں صحافی وحید مراد کو فوری بازیاب کرانے اور غیر قانونی طور پر اٹھانے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دینے کی استدعا کی گئی تھی۔
جمعے کے روز صحافی وحید مراد کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے کی۔
دوران سماعت جج عباس شاہ نے ایف آئی اے سے استفسار کیا کہ آپ نے کیا میٹریل برآمد کیا ہے۔ جس پر ایف آئی اے نے بتایا کہ اختر مینگل کی جس پوسٹ کی بات کی جارہی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ بلوچ نسل کشی کی جا رہی ہے۔
وحید مراد کی وکیل ایمان مزاری نے کہا کہ انھوں نے اختر مینگل کے الفاظ کو کوٹ کر کے پوسٹ کی ہے۔ پہلی ٹویٹ اختر مینگل کا بیان تھا۔
عدالت نے 50 ہزار مچلکوں کے عوض صحافی وحید مراد کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی اور انھیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کی جانب سے سائبر کرائم ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں ضمانت کے بعد وحید مراد کی وکیل ایمان مزاری نے یڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ سے استدعا کی کہ فیصلے کے بعد صحافی وحید مراد کے جسمانی ریمانڈ کو چیلنج کرنے کی درخواست غیر موثر ہو گئی ہے۔
ایمان مزاری نے استدعا کی کہ درخواست غیر موثر ہونے پر وہ پٹیشن واپس لینا چاہ رہی ہیں جس کے بعد عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ چیلنچ کرنے کی درخواست نمٹا دی۔
بحیرہ احمر میں آبدوز ڈوبنے سے چھ روسی سیاح ہلاک، چار زخمیوں کی حالت تشویشناک, لینا لیم اور کیشیلا سمتھ، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہDavid McArthur MBE/Reuters
مصر کے شہر الغردقة کے قریب بحیرہ احمر میں ایک آبدوز ڈوبنے کے واقعے میں چھ روسی سیاح ہلاک ہو گئے ہیں۔
حکام کے مطابق سندباد نامی آبدوز ڈوبنے کا واقعہ مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے پیش آیا۔
حکام نے اس واقعے میں اب تک چھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ریسکیو آپریشن کے دوران اس میں سوار 39 افراد کو بچا لیا گیا ہے تاہم اس میں نو افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ چار کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
روسی خبر رساں ایجنسی تاس نے ایک روسی عہدیدار کا حوالے دیتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں۔
حکام کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کی جا رہیں ہیں تاہم تاحال حال آبدوز کے ڈوبنے کی اصل وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔
تاہم روس کی ٹور آپریٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق، ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبدوز ایک چٹان سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں 20 میٹر کی گہرائی میں دباؤ کم ہو گیا اور حادثہ پیش آیا۔
یہ بحیرہ احمر میں سیاحتی کشتی کو پیش آنے والا یہ دوسرا بڑا واقعہ کہا جا رہا ہے۔
اس سے قبل نومبر میں بھی ایک کشتی الٹنے سے 11 افراد لاپتہ ہو گئے تھے جن کے زندہ بچنے کی امید اب ختم ہوتی جا رہی ہے۔
سندباد آبدوز سیاحوں میں مقبول کیوں ہے
سندباد سب مرینز نامی کمپنی گزشتہ کئی سالوں سے سیاحوں کو الغردقہ کے ساحل کے قریب سمندری حیات اور مونگے کی چٹانیں (کورل ریف) دکھانے کے لیے آبدوز کے ذریعے سمندر کی سیر کرواتی ہے۔
بحیرہ احمر کے گورنر عمر حنفی کے مطابق سندباد پر سوار 45 مسافروں کا تعلق روس، انڈیا ناروے اور سویڈن سے تھا جبکہ عملے کے پانچ افراد مصری شہری تھے۔
انھوں نے تصدیق کی کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد روسی تھے تاہم مرنے والوں کی مکمل تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئی ہیں۔
ہلاک ہونے والوں میں ایک جوڑے میں میاں بیوی دونوں ڈاکٹر تھے جبکہ ان کی بیٹیاں زخمی ہیں اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
برطانیہ کے ڈاکٹر جیمز آلڈرج نے فروری 2025 میں اسی آبدوز کے سفر کیا تھا۔ انھوں نے اپنے تجربے کے حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ یہ آبدوز اچھی حالت میں تھی اور اس پر جدید آلات نصب تھے۔
ان کے مطابق مسافروں کو لائف جیکٹس فراہم نہیں کی گئیں تھیں تاہم ان کے تجربے کے مطابق آبدوز کا عملہ پیشہ ور اور ذمہ دار تھا۔