ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر رہنماؤں کی رہائی کے لیے مستونگ میں دھرنا
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی دیگر خواتین رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف مستونگ کے علاقے لک پاس پر دھرنا اتوار کو تیسرے روز بھی جاری رہا۔ لک پاس اور گردونواح کے علاقوں میں انتظامیہ کی جانب سے رکاوٹوں کی وجہ سے کوئٹہ، کراچی شاہراہ اور کوئٹہ، تفتان شاہراہ کے ذریعے کوئٹہ کا بلوچستان کے مغربی اور جنوبی علاقوں سے رابطہ تیسرے روز بھی منقطع رہا۔
خلاصہ
میانمار میں زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری، 100 سے زائد افراد کو بچالیا گیا
میانمار میں جمعے کے روز آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تقریباً 1700 ہو گئی ہے۔
میانمار میں 3400 سے زائد افراد زلزلے کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں جبکہ 300 کے قریب لوگ تاحال لاپتہ ہیں۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں قبائل کے درمیان آٹھ ماہ کے لیے امن معاہدہ پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔ جس کے بعد آمد و رفت کے لیے بند پڑی اہم قومی شاہراہوں کو کھولنے سمیت قیام امن کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے ضلع مردان کے پہاڑی علاقے کاٹلنگ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران خواتین اور بچوں سمیت عام شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
لائیو کوریج
میانمار زلزلہ: تقریباً 30 گھنٹے بعد خاتون کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سے قبل ہم نے اطلاع دی تھی کہ
امدادی کارکن میانمار کے شہر منڈلے میں ایک کثیر منزلہ عمارت تلے پھنسے 90 افراد
کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اب خبر رساں ادارے اے ایف پی کا
کہنا ہے کہ ایک 30 سالہ خاتون کو 7.7 شدت کے زلزلے کے تقریباً 30 گھنٹوں بعد ملبے سے
زندہ نکال لیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق خاتون کو
ملبے سے نکالنے کے بعد سٹریچر کی مدد سے ایمبولینس تک پہنچایا گیا جہاں جہاں موجود
اُن کے شوہر نے گلے لگایا اور پھر سپتال لے جایا گیا۔
ان کے شوہر نے اے ایف پی کو بتایا
کہ ’شروع میں تو تباہی دیکھ کر لگ نہیں رہا تھا کہ وہ بچ جائیں گی مگر انھیں زندہ
دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔‘
بریکنگ, مردان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے دوران خواتین اور بچوں سمیت غیر مسلح افراد ہلاک ہوئے: ترجمان خیبرپختونخوا حکومت
،تصویر کا ذریعہPTV
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومت
کے ترجمان بیرسٹر سیف نے ضلع مردان کے پہاڑی علاقے کاٹلنگ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے
دوران خواتین اور بچوں سمیت عام شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
بیرسٹر سیف کی جانب سے جاری بیان میں کہا
گیا ہے کہ ’اس علاقے
میں دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک انسداد دہشت گردی کارروائی
کی گئی۔
’بعدازاں موصول معلومات کے مطابق کارروائی کے مقام کے اطراف میں
بعض غیر مسلح شہری موجود تھے۔ کارروائی میں غیر مسلح افراد کے مارے جانے کا افسوس ہے،
جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔‘
بیرسٹر سیف کی جانب سے جاری بیان میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں
کی تعداد اور ان کی شناخت نہیں بتائی گئی ہے تاہم بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ
خان کو ٹائپ ڈی ہسپتال کاٹلنگ کے میڈیکل سپرانٹینڈنٹ لقمان نے بتایا ہے کہ ’لاشوں
میں دو خواتین اور ایک نو عمر لڑکے سمیت سات مرد شامل ہیں جنھیں بظاہر بلاسٹ برن
انجریز آئی ہیں اور ان کے جسم جھلسے ہوئے ہیں۔‘
خیال
رہے کہ سنیچر کو حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین اور مقامی افراد نے
لاشیں سوات ایکسپریس ہائی وے پر رکھ کر احتجاج کیا تھا جس کے بعد مقامی عمائدین حکام نے
مذاکرات کیے مقامی افراد کے مطابق حکام کی جانب سے ایف آئی آر کے اندراج، ہلاک
ہونے والوں کے ورثا کو شہدا پیکج دینے اور آئندہ اس قسم کی کارروائیاں نہ کرنے کے
مطالبات تسلیم کرنے پر یہ احتجاج ختم کیا گیا۔
ڈپٹی
کمشنر ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر کے مطابق ان مذاکرات میں ڈی پی او ظہور بابر افریدی،
رکن صوبائی اسمبلی زرشاد انجم اور مفتی حماد یوسفزئی سمیت دیگر افراد شامل تھے اور
مذاکرات کی کامیابی کے بعد موٹروے ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
بیرسٹر سیف نے اپنے بیان میں اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے
کہا ہے کہ ’یہ ایک دلخراش اور افسوسناک واقعہ ہے جو دہشت گردوں کو مارے جانے کے نتیجے
میں رونما ہوا۔ حکومت متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتی ہے اور
ان کے ساتھ اس غم کی گھڑی میں کھڑی ہے۔‘
بیرسٹر سیف کے بیان کے مطابق ’ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین
کے لیے امداد اور معاوضے کی فراہمی یقینی بنا رہے ہیں۔ کارروائی کے دوران کئی اہم مطلوبہ
دہشت گردوں کو کامیابی سے ہدف بنایا گیا جو کہ علاقے میں جاری دہشتگرد سرگرمیوں میں
ملوث تھے۔‘
بیرسٹر سیف کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ ’ایسی کارروائیوں
کے دوران عام شہریوں کے تحفظ کو ہمیشہ اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ بعض اوقات پیچیدہ جغرافیہ،
دہشت گردوں کی جانب سے شہری آبادی میں چھپنے کی حکمت عملی، اور آپریشن کی ہنگامی نوعیت
کے باعث ناخواسته نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔‘
خیال رہے کہ کارروائی کی نوعیت کے حوالے سے بیرسٹر سیف کی جانب سے تفصیل نہیں بتائی گئی ہے تاہم مردان سے ایک سرکاری افسر نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ’بابزئی کے پہاڑوں میں مشتبہ افراد گھنے درختوں میں چھپے ہوئے تھے جن کے خلاف جمعے کی رات سکیورٹی فوسرز نے کارروائی کی۔
’اس کارروائی کے دوران تین مشتبہ مقامات پر ڈرون کے ذریعے بمباری کی گئی جس میں شدت پسندوں کا جانی نقصان ہوا ہے۔‘ تاحال آئی ایس پی آر کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
میانمار زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 1600 سے تجاوز کر گئی، 3400 سے زائد زخمی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
میانمار کی فوجی حکومت کا کہنا ہے
کہ مُلک میں آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 1644 ہوگئی ہے جبکہ
زخمیوں کی تعداد 3408 ہوگئی ہے جبکہ 139 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
میانمار میں زلزلے کے مرکز کے
قریب واقع شہر منڈلے میں 90 افراد ایک کثیر منزلہ عمارت تلے دبے ہوئے ہیں جنھیں نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس شہر میں مجموعی طور پر 1500 سے زائد گھروں کو نقصان
پہنچا ہے۔
منڈلے کے ایک رہائشی کا کہنا ہے
کہ انھوں نے ’سب کچھ کھو دیا ہے۔‘
بین الاقوامی برادری میانمار اور
تھائی لینڈ دونوں کو انسانی امداد اور مدد کی پیش کش کر رہی ہے، جیسا کہ جنوب
مشرقی ایشیائی ممالک کی ایسوسی ایشن (آسیان) کا کہنا ہے کہ وہ امدادی کارروائیوں
کو آسان بنانے کے لئے کام کریں گے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
تاہم بینکاک میونسپل اتھارٹی نے
بھی تازہ ترین اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔
میونسپل ایتھارٹی کے مطابق بینکاک
میں زیرِ تعمیر عمارت کے منہدم ہو جانے کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 10 تک جا پہنچی
ہے جبکہ 42 کے زخمی ہوئے ہیں اور 78 افراد کے لاپتہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
تاہم متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
مردان میں سکیورٹی فورسز کی ’شدت پسندوں کے خلاف کارروائی‘، لواحقین کا لاشوں کے ساتھ موٹروے پر احتجاج مذاکرات کے بعد ختم, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو پشاور
،تصویر کا ذریعہSocial Media
،تصویر کا کیپشنمقامی افراد کے مطابق سوات ایکسپریس ہائی وے پر احتجاج میں شامل مظاہرین سے حکام نے مذاکرات کیے اور مطالبات تسلیم ہونے پر احتجاج ختم کیا گیا
پاکستان کے صوبہ
خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کی تحصیل کاٹلنگ میں عسکری ذرائع اور ایک سینیئر اہلکار کے مطابق بابزئی کے پہاڑوں
میں شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں متعدد شدت پسند ہلاک ہوئے
ہیں۔
ایم ایس ٹائپ ڈی ہسپتال کاٹلنگ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہسپتال میں
حملے کے بعد جو نو لاشیں لائی گئی ہیں ان میں دو خواتین اور ایک نوعمر لڑکے کی لاش شامل
ہے۔
ٹائپ ڈی ہسپتال
کاٹلنگ کے میڈیکل سپرانٹینڈنٹ (ایم ایس) ڈاکٹر لقمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ لاشوں میں دو خواتین
اور سات مرد شامل ہیں جنھیں بظاہر بلاسٹ برن انجریز آئی ہیں اور ان کے جسم جھلسے ہوئے
ہیں۔
سنیچر کو مقامی
لوگوں نے لاشیں سوات ایکسپریس ہائی وے پر رکھ کر احتجاج کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ اس
حملے میں عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں تاہم عسکری ذرائع نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے
کہا ہے کہ ’ان دور دراز علاقوں میں شدت پسندوں اور ان کے سہولت کاروں کے علاوہ کسی
بھی عام شہری کی موجودگی ممکن نہیں اور اگر یہاں پر کوئی عام شہری موجود تھا تو وہ
ممکنہ طور پر ان شدت پسندوں کا سہولت کار ہو سکتا ہے۔‘
سکیورٹی
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ’سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہیں کہ سکیورٹی فورسز کی
اس کارروائی میں عام شہری مارے گئے ہیں درست نہیں کیونکہ زمینی حقائق اس کے برعکس
ہیں۔‘
مقامی افراد
کے مطابق سوات ایکسپریس ہائی وے پر احتجاج
میں شامل مظاہرین سے حکام نے مذاکرات کیے جس کے بعد مقامی افراد کے مطابق حکام کی
جانب سے ایف آئی آر کے اندراج، ہلاک ہونے والوں کے ورثا کو شہدا پیکج دینے اور آئندہ
اس قسم کی کارروائیاں نہ کرنے کے مطالبات تسلیم کرنے پر یہ
احتجاج ختم کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر کے مطابق ان مذاکرات میں ڈی پی او ظہور بابر افریدی، رکن صوبائی اسمبلی زرشاد انجم اور مفتی حماد یوسفزئی سمیت دیگر افراد شامل تھے اور مذاکرات کی کامیابی کے بعد موٹروے ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
تاحال اس
بارے میں آئی ایس پی آر کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے تاہم مردان سے ایک
سرکاری افسر نے بی بی سی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ’بابزئی کے پہاڑوں
میں مشتبہ افراد گھنے درختوں میں چھپے ہوئے تھے جن کے خلاف جمعے کی رات سکیورٹی فوسرز
نے کارروائی کی۔
’اس کارروائی
کے دوران تین مشتبہ مقامات پر ڈرون کے ذریعے بمباری کی گئی جس میں شدت پسندوں کا جانی
نقصان ہوا ہے۔‘
سرکاری افسر
نے بتایا کہ ’اُن کی اطلاع کے مطابق ایک مقام پر تین شدت پسند اور دوسری جگہ پر سات
شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں لیکن اب تک اس کی باقاعدہ تصدیق نہیں ہو سکی۔‘ ان کا کہنا تھا
کہ ’یہ علاقہ انتہائی دشوار گُزار ہے اور یہاں جانے کے لیے پیدل سفر کرنا پڑتا
ہے۔‘
عسکری ذرائع
کے مطابق ’ان دہشت گردوں نے عید کے دوران بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔
ان دہشت گردوں کے مقامی سہولت کار بھی ان کے ساتھ اس کارروائی میں ہلاک ہوئے ہونے
کی اطلاعات ہیں۔‘
سینیئر سرکاری
اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ علاقہ ماضی میں بھی شدت پسندوں کا اہم مرکز رہا
ہے جہاں سوات اور شانگلہ سے مشتبہ افراد اس علاقے میں پناہ لیتے رہے ہیں۔
’اس علاقے میں
شدت پسندوں کے مختلف گروہ متحرک رہے ہیں۔ یہاں اس سے پہلے بھی سکیورٹی فورسز کی
جانب سے کارروائیاں کی جا چکی ہیں اور سنہ 2009 سے شدت پسندوں کے مختلف گروہ اس علاقے
میں رہ کر دیگر علاقوں میں کارروائیاں کیا کرتے تھے۔‘
بلوچستان میں بی این پی کے دھرنے کے قریب دھماکہ: ’ہمیں کسی تنظیم سے نہیں سرکار سے خطرہ ہے‘، سردار اختر مینگل
ڈاکٹر ماہ رنگ
بلوچ اور سمی بلوچ سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کے گرفتار خواتین رہنماؤں اور کارکنوں کی
رہائی کے لیے دیئے جانے والے دھرنے کے قریب خود کش دھماکہ ہوا ہے۔
حکومت بلوچستان
کے ترجمان شاہد رند نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں کوئی جانی نقصان نہیں
ہوا۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ
ذوہیب کبزئی نے بتایا کہ خود کش دھماکے میں پانچ سے چھ لوگ معمولی زخمی ہوئے ہیں۔
بلوچستان نیشنل
پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے بتایا کہ ’روکے جانے کے باعث خود کُش حملہ آور
نے اپنے آپ کو دھرنے سے چار سو گز کے فاصلے پر اڑا دیا۔‘
’دھماکے کے بارے
میں تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔‘
یہ خود کش دھماکہ
ضلع کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ کی حدود میں ہوا۔
مستونگ کے ڈپٹی
کمشنر ذوہیب کبزئی نے بتایا کہ ’خودکش دھماکے میں جو لوگ زخمی ہوئے ہیں انھیں صرف معمولی
خراشیں آئی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا
کہ دھماکے کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے جاری ہے۔
دھماکے کے حوالے
سے حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا تھا کہ ’جائے وقوعہ کے نزدیک بلوچستان
نیشنل پارٹی کا دھرنا جاری تھا تاہم اس کے شرکا، سردار اختر مینگل اور بی این پی کی
تمام سیاسی قیادت محفوظ ہے۔‘
ان کا مزید کہنا
تھا کہ ’بلوچستان حکومت واقعے کی مکمل چھان بین کررہی ہے اور انکوائری کے نتائج سے
عوام کو جلد آگاہ کیا جائے گا۔‘
میڈیا کے نمائندوں
سے بات کرتے ہوئے بی این پی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ساتھیوں نے ایک شخص کو
مشکوک جان کر اسے دھرنے کے قریب نہیں آنے دیا۔ تاہم پکڑے جانے کے خوف سے خودکش حملہ
آور نے اپنے آپ کو دھرنے سے چار سو گز کے فاصلے پر اڑا دیا جس کے باعث ہمارے کچھ ساتھی
زخمی ہوئے۔‘
خود کش دھماکے
کے باوجود دھرنا جاری ہے
یہ دھرنا ضلع
مستونگ میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام کوئٹہ کراچی ہائی وے اور کوئٹہ تفتان
ہائی وے کے سنگھم پر دیا جارہا ہے۔
اس دھرنے میں
بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل، نواب محمد خان شاہوانی، سردار علی محمد قلندرانی،
سردار نادر خان لانگو اور خان آف قلات کے چچا پرنس موسیٰ جان کے علاوہ دوسرے سیاسی
اور قبائلی عمائدین بھی شریک ہیں۔
خیال رہے کہ
دھرنا کے شرکا کوئٹہ کی جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی کی گرفتار خواتین کی رہائی کے لیے لانگ
مارچ کررہے تھے لیکن انتظامیہ کی جانب سے لکپاس ٹنل اور دیگر راستوں کو بند کر دیے
جانے کے باعث اس مقام پر عارضی طور پر دھرنا دیا جارہا ہے۔
یہ لانگ مارچ
گزشتہ روز ضلع خضدار کے علاقے وڈھ سے بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کی قیادت
میں شروع کیا گیا تھا۔
دھماکے کے حوالے سے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے کہا ’ہمیں کسی تنظیم سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ہمیں اگر کسی سے خطرہ ہے تو وہ سرکار سے ہے۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ شب دھرنے پر بکتر بند گاڑی چڑھانے کی کوشش کی گئی جبکہ دھرنے کے شرکا پر شیلنگ بھی کی گئی۔
انھوں نے کہا کہ ’حکومت جان بوجھ کر حالات کو خراب کرنا چاہتی ہے لیکن ہمارا احتجاج پر امن طور پر جاری رہے گا اور اگر حالات خراب ہوئے تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔‘
دوسری جانب بی این پی کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ گزشتہ شب لک پاس ٹنل کی کوئٹہ والی سائیڈ پر پولیس نے ان کے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا ہے لیکن تاحال حکومت نے کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی ہے۔
’بی این پی کی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہیں‘
حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے کہا کہ ’حکومت گزشتہ رات سے بی این پی کی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ بی این پی کے ایک وفد کی گزشتہ رات بھی انتظامیہ سے ملاقات ہوئی جس کے بعد آج حکومتی وفد کا سردار اختر مینگل سے ملاقات پر اتفاق ہوا۔
انھوں نے کہا کہ دھرنے کے شرکا بشمول سردار اختر مینگل، دیگر قیادت اور عوام کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔
حکومت کے ترجمان نے سردار اختر مینگل، بی این پی اور عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں اور بات چیت سے صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد کریں۔
چولستان کینال سمیت چھ کینالز کی منظوری کے منٹس غلط ہیں، صدر زرداری کسی صوبائی منصوبے کی منظوری نہیں دے سکتے: مُراد علی شاہ, ریاض سہیل، بی بی سی اردو کراچی
سندھ کے وزیر
اعلیٰ مراد علی شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کسی بھی صوبائی منصوبے کی
منظوری نہیں دے سکتے چولستان کینال سمیت چھ کینال کی منظوری کے منٹس غلط جاری کیے گئے
ہیں۔
پاکستانی فوج
کے زیرِ انتظام ایس آئی ایف سی کی ٹیم نے صدر پاکستان آصف علی زرداری سے ملاقات کی
تھی اس میٹنگ کے منٹس جو حکومت سندھ کو بھی بہیجے گئے تھے ان میں بتایا گیا کہ 8 جولائی
2024 کو صدر پاکستان آصف زرداری کو گرین انیشیٹو کی جانب سے بریفنگ دی گئی جس میں تھر
کینال، رینی کینال، کچھی کینال، چشمہ رائیٹ بینک کینال، چولستان کینال اور تھر گریٹر
کینال اور سٹریجک کینال قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی تعمیر ایک ساتھ ضروری ہے۔
بریفنگ منٹس
کے مطابق یہ کینال پاکستان گرین انیشیٹو کے تحت اہم ہیں اور زراعت اور فوڈ سکیورٹی
کے لیے بھی اہم ہیں۔ منٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر نے ان کی اصولی منظوری دی۔
سندھ میں ان
کینالز کی تعمیر پر شدید احتجاج کیا گیا اور اس کا ذمہ دار صدر آصف علی زرداری کو قرار
دیا گیا، وزیر اعلی مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ منٹس
غلط بنائے گئے ہیں صدر کو منظوری کا اختیار نہیں ہے۔‘
جب وزیر اعلیٰ
سے سوال کیا گیا کہ ’ان ہی منٹس میں یہ بھی شامل ہے کہ کراچی سے مونا باؤ تک ٹرین چلائی
جائیگی، گرین انیشیٹو کے تحت سندھ میں زمین دی جائیگی اور اس پر عملدرآمد کیا گیا ہے۔
ایک طرف آپ کہہ رہے ہیں کہ منٹس غلط ہے دوسری طرف اس پر عمل بھی ہو رہا ہے تو انھوں
نے ایک غیر واضح جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’جو اچھے منصوبے ہیں ان پر عمل کیا گیا ہے،
سندھ میں 54 ہزار ایکڑ زمین گرین انیشیٹو کو دی گئی ہے جس کے لیے نہری پانی نہیں زیر
زمین پانی استعمال کیا جائیگا۔‘
انھوں نے یہ
بھی واضح کیا کہ گرین انیشیٹو کے تحت حکومت سندھ نے قرضہ بھی فراہم کیا ہے۔
یاد رہے کہ صدر
کے ساتھ گرین انیشیٹیو کی میٹنگ میں بھی صوبائی حکومت کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ گرین
انشیٹو کو زمین کے ساتھ آبادکاری کے لیے قرضہ بھی فراہم کرے۔
وزیر اعلی مراد
علی شاہ نے واضح کیا کہ ’چولستان کینالز نہیں تعمیر ہو رہیں اور نہ ہی تعمیر کی جائیں
گی، وزیر اعظم یا وزیر پانی و بجلی کو اعلان کرنا چاہیے کہ وفاقی حکومت اس سے لاتعلقی
کا اعلان کرتی ہے۔‘
میانمار میں زلزلے کے مرکز منڈلے نامی شہر کے مناظر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
میانمار کی فوجی انتظامیہ کے
مطابق مُلک میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہیں جبکہ زخمیوں کی
تعداد 2389 ہو گئی ہے۔۔
فوج کی جانب سے جاری بیان میں یہ
بھی کہا گیا ہے کہ زلزلے کے مرکز منڈلے میں 1591 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا
ہے۔
منڈلے سے موصول ہونے والی چند
تازہ ترین تصاویر:
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
میانمار میں سکول کی عمارت گرنے سے ایک اُستاد سمیت 12 بچے ہلاک
،تصویر کا ذریعہGetty Images
میانمار میں منڈلے کے علاقے
کیاوکسے میں گرنے والی عمارتوں میں ویسٹ مائی مائی چی پری سکول کی عمارت بھی شامل ہے۔
امدادی کارکُنان کا کہنا ہے کہ سنیچر
کی صبح 12 پری سکول بچوں اور ایک ٹیچر کی لاشیں ملی ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ منہدم ہونے والی
سکول کی عمارت کے اندر مزید افراد پھنسے ہوئے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ان کے
بچنے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔
غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ عمارت
گرنے کے بعد تقریباً 50 بچے اور چھ اساتذہ لاپتہ ہیں۔
کیوکسے ڈیم انتظامیہ، ریڈ کراس
اور سماجی امدادی گروپ امدادی کاموں میں مدد کر رہے ہیں۔ کیوکسے شہر میں بھی زلزلے
کی وجہ سے مکانات اور دکانیں منہدم ہوئی ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم ریڈ کراس کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ میانمار کے شہر منڈلے میں ایک کثیر منزلہ رہائشی عمارت کے منہدم ہونے سے 90 سے زائد افراد کے اس میں پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔
میانمار میں فوجی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ میانمار میں ہلاکتوں کی تعداد 1007 ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 2389 ہو گئی ہے جن میں سے 30 لاپتہ ہیں۔
میانمار کی فوج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’زلزلے کے مرکز منڈلے علاقے میں 1591 مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔‘
بینکاک میں زیرِتعمیر عمارت کے منہدم ہونے سے 50 افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کا کام جاری ہے: تھائی نائب وزیراعظم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
تھائی لینڈ کے نائب وزیراعظم نے بینکاک
میں منہدم ہونے والی کثیر منزلہ زیرِ تعمیر عمارت کے مقام کا دورہ کرنے کے بعد
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حکام کا ماننا ہے کہ اب بھی اس عمارت میں کام کرنے
والے تقریباً 50 افراد لاپتہ ہیں۔‘
تھائی لینڈ کے نائب وزیراعظم انوتن
چرنویراکل کا کہنا تھا کہ ’ہم پُر اُمید ہیں کہ ہیں امدادی کارکُنان اب بھی اس بات
کو یقینی بنانے کے لئے 24 گھنٹے کام کر رہے ہیں کہ 50 لاپتہ افراد کی جانوں کو
بچایا جا سکے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’تھائی
لینڈ کے ہمسایہ ممالک کی جانب سے اور دیگر بیرونی دُنیا سے بھی امداد کی پیشکش کی
گئی ہے۔‘
’ہمارے پاس افرادی قوت اور وسائل کی کمی نہیں
ہے لیکن اگر ہمیں مدد خاص طور پر تکنیکی مدد کی پیش کش کی جاتی ہے تو یقیناً ہم
خوشی سے اسے قبول کریں گے۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بینکاک میں زلزلے کی وجہ سے منہدم ہونے والی زیرِتعمیر عمارت کے قریب ہی ایک خیمے میں پولیس حکام نے لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے لیے ایک رجسٹریشن ڈیسک قائم کیا ہے۔
اس عمارت میں کام کرنے والے افراد
کے اہل خانہ جن میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے سنجیدہ اور افسردہ چہروں کے ساتھ اپنی
تفصیلات درج کروا رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی
ہیں، واضح طور پر یہ اپنے گمشدہ پیاروں کے لیے انتہائی فکر مند ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
میانمار کی فوج کا منڈلے ایئر پورٹ پر عارضی ہسپتال اور امدادی کیمپ قائم کرنے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہMyanmar's military regime
،تصویر کا کیپشنمنڈلے ایئر پورٹ پر ایک عارضی ہسپتال اور امدادی کیمپ قائم کر دیا ہے
میانمار کی فوجی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے زلزلہ زدگان کی
مدد اور امدادی کارروائیوں کے لیے منڈلے ایئر پورٹ پر ایک عارضی ہسپتال اور امدادی کیمپ قائم کر دیا ہے۔
تاہم اس بارے میں کوئی اطلاعات فراہم نہیں کی گئی کہ یہ ہسپتال
کتنا بڑا ہے اور یہاں کتنے افراد کا علاج ممکن ہے۔
زلزلے کے نتیجے میں منڈلے ایئرپورٹ کے رن وے کو نقصان پہنچا
تھا اور ہوائی اڈہ فی الحال فعال نہیں۔ تاہم فوج کا کہنا ہے کہ وہ پروازیں دوبارہ
شروع کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
دوسری جانب، تھائی لینڈ کے حکام کی جانب سے ایک بیان جاری کیا
گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملک کے ہوائی اڈوں بشمول بینکاک، چیانگ مائی، ہاٹ یائی،
چیانگ رائے اور فوکٹ کے ایئر پورٹ پر آپریشن معمول پر لوٹ آئے ہیں۔
آسیان کی تھائی لینڈ اور میانمار کی مدد
کا اعلان
جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کا کہنا ہے کہ وہ تھائی
لینڈ اور میانمار میں امدادی کارروائیوں میں مدد فراہم کرے گی۔
آسیان جنوبی ایشیائی ممالک کی 10 رکنی تننظیم ہے جس میں میانمار
اور تھائی لینڈ کے علاوہ انڈونیشیا، ملائیشیا، سنگاپور، برونائی، لاؤس، ویت نام، کمبوڈیا اور فلپائن بھی شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ انھیں زلزلے کے نتیجے میں جانی نقصان
اور بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد امداد کی فوری ضرورت کا احساس ہے۔
آسیان کا کہنا ہے کہ انسانی امداد اور امدادی کارروائیوں میں
سہولت فراہم کرنے کے لیے تھائی لینڈ اور میانمار کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔
بینکاک میں منہدم ہونے والی عمارت میں پھنسے افراد کے بچنے کے امکانات مدھم پڑنے لگے
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشنتھائی حکام کا کہنا ہے کہ وہ بچ جانے والوں کو نکالنے اور انہیں زندہ رکھنے کے لیے چھوٹے اوزار استعمال کر رہے ہیں۔
میانمار میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں تھائی لینڈ کے
دارالحکومت بینکاک میں زیرِ تعمیر عمارت کو زمین بوس ہوئے تقریباً 24 گھنٹے کا وقت
گزر چکا ہے تاہم امدادی کارکن اب بھی ملبے سے لوگوں کو زندہ نکالنے کی کوششیں
جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تھائی حکام کا کہنا ہے کہ وہ بچ جانے والوں کو نکالنے اور انہیں
زندہ رکھنے کے لیے چھوٹے اوزار استعمال کر رہے ہیں۔
حکام کے مطابق یہ ایک زیرِ تعمیر عمارت تھی جس کی وجہ سے یہاں
پانی کی سپلائی بھی نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عین ممکن ہے کہ پھنس جانے والوں کے پاس پینے کے لیے پانی
نہیں ہوگا۔
حکام کا کہنا ہے کہ انھیں ملبے تلے کم از کم 15 افراد کے زندہ
ہونے کا پتہ چلا تھا۔ حکام کے مطابق ان کا عمارت میں پھنسے کچھ افراد سے رابطہ ہوا جو ’چلانے اور شور مچانے‘ کے قابل تھے، جب کہ دیگر افراد کا انھوں نے ان کے حرکات اور
جسم کی حرارت کی مدد سے پتہ لگایا ہے۔
تھائی حکام کا کہنا ہے، ’گذشتہ رات ہمیں ملنے والے زندگی کے کچھ آثار
اب نظر نہیں آرہے تاہم ہم پھر بھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑ رہے، اور ہماری خواہش
ہے کہ ہمیں جلد اچھی خبر ملے۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک امدادی کارکن نے بتایا کہ گذشتہ رات کے اندازے کے مطابق 98 افراد لاپتہ تھے۔
تاہم ان کا کہنا ہے انھیں اب بھی حتمی طور پر معلوم نہیں کہ
ملبے کے نیچے کتنے افراد پھنسے ہوئے ہیں۔
’میں ماؤں کے رونے کی آوازیں سن سکتی تھی جن کے بچے اب بھی عمارت کے اندر پھنسے ہوئے ہیں‘, ریچل ہیگن، میلوری موئنچ۔ بی بی سی برما
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشناب تک کی اطلاعات کے مطابق جمعے کے روز آنے والے 7٫7 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں میانمار میں مجموعی طور پر 1,002 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
زلزلے کے بعد میانمار کے دوسرے بڑے شہر منڈلے میں امدادی کارکن اب بھی ایک بلند عمارت کے ملبے تلے پھنسے
سات افراد تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امدادی کاموں میں شامل ایک شخص کا کہنا ہے کہ انھوں نے رات بھر
اس عمارت سے 50 افراد کو زندہ نکالا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم اب بھی باقی پھنسے ہوئے لوگوں
کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس کے لیے ہمیں بڑی مشینوں کی ضرورت ہے۔ وہ اب بھی
چیخ رہے ہیں، اور ہم اب بھی ان کی آوازیں سن سکتے ہیں، لیکن ہم یہ نہیں جان پا رہے
کہ وہ کہاں ہیں۔‘
اس سے قبل ایک امدادی
کارکن نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ مدد کے لیے پکارتے لوگوں کو بچانے کے لیے وہ اپنے
ہاتھوں سے ملبے کو ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
’لوگ چیخ رہے ہیں
میری مدد کرو، میری مدد کرو۔ میں بہت ناامید محسوس کر رہا ہوں۔‘ وہ شہریوں پر مشتمل
ایک ریسکیو ٹیم کا حصہ ہیں جو زلزلے کے بعد امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہے۔
زلزلے میں زندہ بچ جانے والی ایک خاتون نے کہ وہ منہدم ہونے
والے ہوٹل کے اندر پھنسے لوگوں کی آوازیں کیسے سن سکتی تھی۔
خاتون جو کہ پیشے سے ایک ٹیچر ہیں کا کہنا تھا، ’میں ان ماؤں
کے رونے کی آوازیں سن سکتی تھی جن کے بچے اب بھی عمارت کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ
دیکھنے میں بہت تکلیف دہ تھا۔‘
زندہ بچ جانے والی ایک اور خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ منڈلے
’ایک سانحے کا منظر‘ بن گیا ہے۔
’یہ کسی تباہ شدہ
شہر کی طرح ہے۔ بہت سے لوگ اب بھی ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ زلزلہ بہت شدید تھا۔ ’میں نے کبھی کسی
چیز کو اتنی شدت سے ہلتے نہیں دیکھا ہے۔‘
اب تک کی اطلاعات کے مطابق جمعے کے روز آنے والے 7٫7 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں میانمار میں مجموعی طور پر 1,002 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
سب سے زیادہ ہلاکتیں میانمار کے دوسرے سب سے بڑے شہر منڈلے میں ہوئی ہیں جو زلزلے کے مرکز کے قریب واقع ہے۔
میانمار کی فوجی حکومت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 694 افراد منڈلے، 94 دارالحکومت نیپیئی داو، 30 کیاک سی اور 18 ساگائنگ میں ہلاک ہوئے ہیں۔
میانمار میں 7.7 شدت کا زلزلہ: گذشتہ 24 گھنٹوں میں کیا ہوا؟, یوویٹا تان، بی بی سی
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشنزلزلے سے اب تک میانمار میں 1,002 افراد کے ہلاک اور 2,376 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
جمعے کے روز میانمار میں آنے والے طاقتور زلزلے کو تقریباً
24 گھنٹے گزر چکے ہیں۔ زلزلہ اتنا شدید تھا کہ اس کے اثرات پڑوسی ملک تھائی لینڈ تک
محسوس کیے گئے۔
زلزلے کے بعد کی تازہ ترین صورتحال یہ ہے:
گذشتہ روز زلزلے کے بعد میانمار کی فوجی حکومت کی جانب سے
اموات اور زخمیوں کی تعداد بہت کم بتائی گئی تھی جس میں آج ڈرامائی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
فوجی حکومت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق زلزلے سے
اب تک میانمار میں 1,002 افراد ہلاک اور 2,376 زخمی ہو چکے ہیں۔
زیادہ تر ہلاکتیں میانمار کے دوسرے سب سے بڑے شہر منڈلے میں
ہوئی ہیں جو زلزلے کے مرکز کے قریب واقع ہے۔
امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ منڈلے میں کام کر رہی ایک ریسکیو
ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ ’اپنے ہاتھوں کی مدد سے کھود کر لوگوں کو نکال رہے ہیں۔‘
تھائی لینڈ میں سب کی نظریں زلزلے کے نتیجے میں زمیں بوس والی
ایک زیرِ تعمیر عمارت پر ہیں۔عمارت کے گرنے کی وجہ سے اس میں کام کر رہے تقریباً 100 کارکن
لاپتہ ہیں جن کے اہل خانہ بے چینی سے ان کے متعلق کسی بھی قسم کی اطلاع کے منتظر
ہیں۔ اب تک چھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
میانمار کے فوجی رہنماؤں نے بین الاقوامی امداد کے لیے ایک غیر
معمولی اپیل جاری کی ہے۔
میانمار کے پڑوسی ممالک چین اور بھارت امداد بھیجنے والے پہلے
ممالک میں شامل ہیں۔
’وہ جس حالت میں بھی ہو مجھے اسے دیکھنا ہے، وہ ہمارے خاندان کے واحد کفیل ہیں‘, ارونودے مکھرجی، بی بی سی نیوز، بینکاک
،تصویر کا ذریعہNeha Sharma
،تصویر کا کیپشننارومول اپنے 45 سالہ شوہر کے بارے میں کسی بھی قسم کی اطلاع کے لیے بے چین ہے
تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں زمین بوس ہونے والی
عمارت سے صرف چند میٹر کے فاصلے پر ایک خاتون کھڑی زاروقطار رو رہی تھیں۔
’وہ جس حالت میں
بھی ہو مجھے ایک آخری بار اسے دیکھنا ہے۔‘
نارومول اپنے 45 سالہ شوہر کے بارے میں کسی بھی قسم کی اطلاع کے لیے بے چین ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر اس عمارت میں کام کرنے والوں میں سے
ایک تھے جس کا اب تک کچھ پتہ نہیں چلا ہے۔
تاہم انھیں ابھی بھی اپنے شوہر کے زندہ بچ جانے کی امید ہے۔
’وہ ہمارے خاندان
کے واحد کفیل ہیں‘۔
قریب ہی کھدائی کر رہی والی مشینوں کے شور کے بیچ وقفے وقفے
سے نارومول کی رونے کی آواز سائی دے رہی ہے۔
کھدائی کرنے والے ملبے میں بچ جانے والوں تلاش کر رہے ہیں۔
تاہم ہر گزارتے لمحے کے ملبے سے کسی کے نکلنے کا مکان کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔
ریسکیو عملہ ملبے تلے دبے کر لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے مسلسل
کوششیں کر رہے ہیں۔
بریکنگ, میانمار زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی، 2300 سے زائد زخمی
،تصویر کا ذریعہTun Tun
،تصویر کا کیپشنزلزلے کے نتیجے میں منڈلے میں تباہ ہونے والی شدہ مسجد کی تصویر۔
میانمار کے فوجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کل آنے والے طاقتور زلزلے میں ملک بھر میں مجموعی طور پر 1,002 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق دو ہزار 376 افراد زخمی جبکہ 30 تاحال لاپتہ ہے۔
694 افراد منڈلے، 94 دارالحکومت نیپیئی داو، 30 کیاک سی اور 18 ساگائنگ میں ہلاک ہوئے ہیں۔
یاد رہے منڈلے میانمار کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے اور زلزلے سے خاص طور پر متاثر ہوا ہے، یہاں بجلی اور مواصلاتی لائنیں منقطع ہو چکی ہیں۔ اور زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ اور بی وائی سی رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف نکالے گئے لانگ مارچ کو کوئٹہ کی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا گیا, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی دیگر خاتون رہنماؤں
اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اخترمینگل کی
قیادت میں نکالے جانے والے لانگ مارچ کو ضلع کوئٹہ کی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا
گیا۔
انتظامیہ کی جانب سے ضلع مستونگ کی حدود میں لک پاس کو کنٹینر
لگا کر بند کرنے اور کوئٹہ آنے والے دیگر راستوں پر خندقیں کھودنے کے باعث لانگ مارچ
کے شرکا نے رات گئے کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ تفتان شاہراہ کے سنگھم پر دھرنا دیا۔
دوسری جانب لک پاس کی کوئٹہ والی سائیڈ پر لوگوں کو منتشر کرنے
کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔
ان شاہراہوں پر دھرنے اور لانگ مارچ کے شرکا کی بڑی تعداد میں
موجودگی کے باعث دونوں اہم شاہراہوں پر ٹریفک معطل ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے بتایا کہ
لانگ مارچ کی منزل کوئٹہ ہے تاہم حکومت انھیں آگے جانے نہیں دے رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ فی الحال پرامن لانگ مارچ کی راہ میں رکاوٹیں
ڈالنے کے خلاف شرکا نے مستونگ کی جانب کوہ چلتن کے دامن میں دھرنا دیا ہے۔
اختر مینگل کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے راستے نہیں کھولے تو
وہ آج دوپہر لانگ مارچ کے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
گزشتہ شب لک پاس ٹنل کی کوئٹہ والی سائیڈ سے لانگ مارچ کے شرکا
کے استقبال کے لیے جانے والوں کو اجازت نہ ملنے کے خلاف لوگوں نے مشتعل ہو کر پولیس
کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیے جبکہ پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے لوگوں کو
منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما ثنا بلوچ نے فون پر بی
نی سی کو بتایا کہ پرامن لوگوں پر طاقت کا استعمال کر کے حکومت حالات کو مزید خراب کرنا
چاہتی ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے لک پاس کی کوئٹہ والی سائیڈ
پر لانگ مارچ میں شریک ہونے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو گرفتار بھی کیا ہے تاہم
سرکاری حکام کی جانب سے کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
ثنا بلوچ کا کہنا تھا کہ یہ کسی سیاسی پارٹی کا احتجاج نہیں
بلکہ اس میں متعدد قبائلی رہنما بھی شامل ہیں۔ انھوں نے خبردار کیا کہ طاقت کے استعمال
سے اگر حالات کشیدہ ہوتے ہیں تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
ڈاکٹر ماہ رنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی دیگر خواتین رہنماؤں
اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف بلوچستان میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
گذشتہ روز سردار اخترمینگل کی قیادت میں ضلع خضدار کے علاقے
وڈھ سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کا آغاز کیا گیا تھا جس کی منزل سول سیکریٹریٹ کے قریب ہاکی
چوک ہے۔
اختر مینگل کا کہنا ہے کہ اگر خواتین کو رہا نہیں کیا گیا تو
کوئٹہ پہنچنے پر لانگ مارچ کو دھرنے میں تبدیل کر دیا جائے گا جو ان کی رہائی تک جاری
رہے گا۔
امریکی ایکسپورٹ کنٹرول قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں پاکستانی نژاد کینیڈین شہری گرفتار
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنامریکی محکمہ انصاف کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ انھوں نے سنہ 2003 سے مارچ 2019 کے دوران کینیڈا میں قائم ایک ڈائیورسیفائڈ ٹیکنالوجی سروسز نامی کمپنی کے ذریعے غیر قانونی خرید و فروخت کا نیٹ ورک قائم کیا۔
پاکستان کی فوج کے عسکری سازو سامان کے پروگرام سے منسلک
کمپنیوں کو
امریکی ایکسپورٹ کنٹرول قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لاکھوں ڈالر مالیت کی
امریکی ٹیکنالوجی مصنوعات مبینہ طور پر سمگل کرنے کے الزام میں ایک پاکستانی نژاد
کینیڈین شہری کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا
ہے کہ پاکستانی نژاد کینیڈین شہری پر الزام ہے کہ اس نے امریکی ایکسپورٹ کنٹرول
قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لاکھوں ڈالر مالیت کی امریکی ٹیکنالوجی سے متعلقہ
مصنوعات مبینہ طور پر پاکستان کی فوج کے عسکری پروگرام سے منسلک کمپنیوں کو سمگل
کی ہیں۔
امریکی محکمہ انصاف کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق 67 سالہ
دوہری شہریت کے حامل پاکستانی نژاد کینیڈین شہری کو 21 مارچ کو واشنگٹن کے مغربی
ڈسٹرکٹ سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ کینیڈا سے امریکہ داخل ہونے کی کوشش کر رہے
تھے۔
ملزم کو امریکی حکام نے منیسوٹا منتقل کرنے سے قبل زیر حراست
رکھا۔
امریکی محکمہ انصاف کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ملزم پر
الزام ہے کہ انھوں نے سنہ 2003 سے مارچ 2019 کے دوران کینیڈا میں قائم ایک
ڈائیورسیفائڈ ٹیکنالوجی سروسز نامی کمپنی کے ذریعے غیر قانونی خرید و فروخت کا نیٹ
ورک قائم کیا۔
اس نیٹ ورک کا مقصد پاکستان میں ممنوعہ اداروں کی جانب سے
امریکی نژاد سامان حاصل کرنا تھا جو ملک کے جوہری میزائل اور ڈرون پروگراموں سے
منسلک تھے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملزم پر عائد الزامات کے مطابق
انھوں نے کینیڈا میں قائم کمپنی کے ذریعے پاکستان کے عسکری پروگرام سے منسلک
کمپنیوں کے لیے کچھ ایسا حساس اور ممنوعہ سامان بھی حاصل کیا جو نہ صرف امریکہ کے
برآمدی قوانین کے خلاف تھا بلکہ وہ امریکی کمرشل کنٹرول لسٹ میں بھی شامل تھا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملزم اور اس کے معاونین نے سامان
کی ترسیل میں اصل کمپنیوں کی شناخت چھپانے کے لیے ’فرنٹ اینڈ‘ یعنی جعلی کمپنیوں
کا نام استعمال کیا اور اس سامان کو ان اداروں تک کسی تیسرے ملک کے ذریعے بھجوایا
گیا۔
امریکی محکمہ انصاف کے اعلامیے کے مطابق پاکستانی نژاد
کینیڈین شہری پر امریکہ کا انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاور ایکٹ اور امریکی
ایکسپورٹ کنٹرول قوانین کی خلاف ورزی کرنے کا الزام ہے اور دونوں قوانین کی خلاف
ورزی کے نتیجے میں انھیں پانچ سال اور 20 سال جیل کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
انھیں وفاقی ڈسٹرکٹ کورٹ کی جج مقدمے کی سماعت کے بعد یہ
سزائیں سنا سکتے ہیں۔
امریکہ کی ہوم لینڈ سکیورٹی انویسٹیگیشن کا ادارہ، ایف بی
آئی، امریکی محکمہ کامرس کا بیورو آف انڈسٹری اینڈ سیکورٹی اس معاملے کی چھان بین
کر رہا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کے اعلامیے کے مطابق مینیسوٹا ڈسٹرکٹ کے
لیے اسسٹنٹ یو ایس اٹارنی بریڈلی اینڈی کوٹ اور نیشنل سیکیورٹی ڈویژن کے کاؤنٹر
انٹیلی جنس اور ایکسپورٹ کنٹرول سیکشن کے ٹرائل اٹارنی نکولس ہنٹر اس مقدمے کی
کارروائی کر رہے ہیں۔ انھیں اس مقدمے میں امریکی اٹارنی آفس برائے ویسٹرن ڈسٹرکٹ
آف واشنگٹن اور ڈیپارٹمنٹ کے دفتر برائے بین الاقوامی امور سے اسسٹنٹ یو ایس
اٹارنی مشیل جینسن کی مدد حاصل کی۔
واضح
رہے کہ امریکی حکام کی جانب سے فرد جرم عائد کیے جانا صرف ایک الزام ہے اور تمام
ملزمان عدالت کی جانب سے جرم ثابت ہونے کا فیصلہ سنائے جانے تک بے گناہ یا معصوم
تصور کیے جاتے ہیں۔
میانمار میں آنے والے زلزلے میں 144 افراد ہلاک، تھائی لینڈ میں 100 مزدور لاپتہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنتھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں زلزلے کے مرکز سے سینکڑوں میل دور ایک زیرِ تعمیر عمارت کے گرنے سے اس میں کام کرنے والے 100 ،زدور لاپتہ ہیں۔
میانمار میں جمعے کے روز آنے والے7.7 شدت کے زلزلےکے نتیجے میں اب تک 144 افراد ہلاک اور 732 زخمی ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں زلزلے کے مرکز سے سینکڑوں میل دور ایک زیرِ تعمیر عمارت کے گرنے سے وہاں کام کرنے والے 100 مزدور لاپتہ ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز میانمار کے شہر
ساگانگ سے 16 کلومیٹر شمال مغرب میں تھا اور اس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی۔
یہ میانمار کے دوسرے سب سے بڑے شہر منڈلے کے قریب ہے، جس کی آبادی
تقریباً 15 لاکھ ہے اور دارالحکومت نی پی تو سے تقریباً 100 کلومیٹر شمال میں ہے۔
بی بی سی برما کی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار میانمار کے فوجی رہنما من آنگ ہلائینگ کی جانب سے سامنے آئے ہیں جن کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار میں اضافے کا خدشہ ہے۔
فوجی رہنما کا کہنا ہے کہ اب تک نئی پی تو نامی علاقے میں 96، سیگینگ میں
18 اور منڈلے میں 30 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
فوجی اعداد و شمار کے مطابق زخمیوں میں سے 132 نئی پی تو اور 300 سگنگ میں تھے جبکہ دیگر علاقوں میں اب بھی ان کی تعداد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں
زلزلے کے مرکز سے سینکڑوں میل دور ایک زیرِ تعمیر عمارت کے گرنے سے اس میں کام
کرنے والے 100 مزدور لاپتہ ہیں۔
بنکاک
میٹروپولیٹن انتظامیہ کے مطابق اس حادثے میں اب تک کم از کم سات افراد ہلاک ہو چکے
ہیں۔
یہ زلزلہ کتنا مہلک تھا؟
سرکاری طور پر ہلاکتوں کے اعداد و شمار سامنے آنے میں کچھ وقت لگے گا لیکن منڈلے میں قائم ایک ریسکیو ٹیم کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد ’کم از کم بھی ہوئی تو سینکڑوں میں ہوں گی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم اس وقت صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کیونکہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔‘
میانمار میں تازہ ترین صورتحال کا پتہ لگانا کتنا مشکل ہے؟
میانمار جسے پہلے برما کے نام سے جانا جاتا تھا سے معلومات حاصل کرنا اس وقت انتہائی مُشکل کام ہے۔
میانمار میں سنہ 2021 میں فوجی بغاوت کے بعد سے فوجی حکومت قائم ہے جس کی وجہ سے معلومات تک رسائی میں مُشکلات کا سامنا ہے۔
ریاست یعنی فوجی حکومت تقریباً تمام مقامی ریڈیو، ٹیلی ویژن، پرنٹ اور آن لائن میڈیا کو کنٹرول کرتی ہے اور میانمار میں انٹرنیٹ کا استعمال بھی محدود ہے۔
زلزلے کے بعد سے متاثرہ علاقوں میں موبائل نیٹ ورک خراب ہیں اور ہزاروں متاثرین بجلی کی بندش کی وجہ سے مُشکلات کا شکار ہیں۔ اس صورتحال میں بی بی سی کو بھی زمینی حقائق معلوم کرنے میں مُشکلات کا سامنا ہے۔
گوادر میں بم دھماکہ، کم از کم ایک شخص ہلاک اور دو زخمی
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں بم دھماکے
کے ایک واقعے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔
گوادر میں پولیس حکام نے اس بم دھماکے کی تصدیق
کرتے ہوئے بتایا کہ میرین ڈرائیو کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی کو نشانہ
بنایا گیا۔ گوادر پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دھماکے میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی
کو نقصان پہنچا۔
جب اس سلسلے میں گوادر کے ڈپٹی کمشنر حمودالرحمان
سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نےکسی سیکورٹی اہلکار کی ہلاکت یا زخمی ہونے کی تصدیق نہیں
کی۔
انھوں نے بتایا کہ دھماکے میں ایک عام شہری
ہلاک ہوا ہے جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔
جنوبی وزیرستان میں مقامی سماجی رہنما ڈاکٹر حسین احمد قتل
پاکستان کے صوبہ
خیبرپختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان لوئر کی تحصیل برمل میان اعظم
ورسک کے مقام پر کارے خیل ویلفئیر آرگنائزیشن کے نائب صدر ڈاکٹر حسین احمد کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا ہے۔
ڈاکٹر حسین احمد کو افطاری سے کچھ دیر قبل
نامعلوم افراد نے گولیوں کا نشانہ بنایا۔
ضلعی پولیس افسر لوئر وزیرستان آصف بہادر نے
اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
ڈاکٹر حسین احمد وزیر ایک مقامی سماجی تنظیم
کے سربراہ تھے۔ ڈاکٹر حسین نے کارے خیل قوم کے لیے بے شمار خدمات انجام دیں۔ وہ علاقے
میں تعلیمی ترقی، صحت کی سہولیات کی بہتری اور سماجی فلاح و بہبود کے لیے ہمیشہ سرگرم
رہے۔ ان کے قتل پر کارے خیل قوم سمیت پورے علاقے میں سوگ کی فضا ہے، اور لوگوں نے ان
کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔